Afsana 012 محبت یا نادانی از عتیق ماسٹر

محبت یا نادانی
از عتیق ماسٹر
کردار: ذیشان ، رمشہ

"تم تو ہو ہی ڈرپوک، میں ایک لڑکی ہو کر تم سے کہہ رہی ہوں کہ آؤ بھاگ چلیں یہاں ہمارا ملنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور تم ہو کہ لوگوں کا ڈر، لوگوں کی فکر۔ میں چاہے ایسے ہی مر جاؤں۔دیکھو ہم بھاگ کر شادی کر لیں گے تو پھر ہمارے گھر والے ہمیں کچھ نہیں کہہ سکیں گے۔ اور ہاں دو تین مہینوں کی ہی تو بات ہے۔ پھر ہم واپس آ جائیں گے" رمشہ نے ذیشان سے کہا جو کے بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا۔

" تم کیوں نہیں سمجھتی بھاگ کر شادی کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں۔ گولیاں چل جاتی ہیں خاندان کے خاندان برباد ہو جاتے ہیں، اور سوچو تو سہی کہ اگر ہم بھاگ جائیں گے تو ہمارے گھر والوں کا کیا بنے گا۔ روز اخبار میں نت نئی خبر آئی ہوتی ہے کہ لڑکی لڑکے نے گھر سے بھاگ کر شادی کی اور بعد میں ان دونوں کو قتل کر دیا گیا" ذیشان نے رمشہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔

ذیشان اور رمشہ پچھلے دو سالوں سے ایک دوسرے کو پیار کرتے ہیں اور ان کی ملاقات یا تو کسی فنکشن میں ہوتی ہے یا رمشہ کبھی کبھار ہمسائیگی کی بنا پر ذیشان کے گھر آ جاتی ہے۔ دونوں کا ہی تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ ذیشان گریجویشن مکمل کرکے کسی پرائیوٹ فرم میں کام کرتا ہے جبکہ رمشہ ابھی تھرڈ ائیر کی اسٹوڈنٹ ہے۔ دونوں کے گھر والوں کو ان کے پیار کا یا تو علم ہی نہیں یا کوئی انہیں یہ جتانا نہیں چاہتا کہ وہ ان کے پیار کے متعلق جانتا ہے۔ ان دونوں کی شادی میں رکاوٹ جو حائل تھی وہ تھی ذیشان کی دو بہنیں جن کی منگنیاں ہو چکی تھیں اور سال کے اندر ہی اندر ان کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ اور دوسرا مسئلہ رمشہ خود تھی یعنی وہ بہن بھائیوں میں بڑی تھی اور اس کی منگنی ہو گئی ہوئی تھی اور گریجویشن مکمل کرنے سے پہلے ہی اس کی شادی ہو جانی تھی۔ اس لئے رمشہ نے سوچا کہ اسے اگر اپنی زندگی ذیشان کے ساتھ گزارنی ہے تو ابھی کوئی فیصلہ لینا پڑے گا۔ اوپر والی بات چیت بھی اسی فیصلے کا رد عمل ہے اور بقایا بات چیت درج ذیل ہے۔

"تو اس کا مطلب تم چاہتے ہو کہ ہم بھاگیں نہیں اور میں انتظار کروں کہ کب میری شادی ہو جاتی ہے اور اس کے بعد تم دیوداس بن جانا، ٹھیک ہے نا۔ یاد رکھنا میں خود بھی مر جاؤں گی اور مرتے ہوئے تمہارا نام لے کر میری موت کا ذمہ دار ٹھہرا دوں گی"۔ رمشہ نے دھمکی آمیز طریقے سے ذیشان سے کہا۔

" نہیں ایسی باتیں مت کرو۔ پلیز ایسی باتیں مت کرو۔" ذیشان نے اسے روہانسے لہجے میں کہا۔

"اچھا نا کروں ایسی باتیں، ٹھیک ہے نہیں کرتی لیکن میں نے سوچ رکھا ہے کہ ہم بھاگ جائیں گے۔ اگر تم نہیں بھی چلو گے تو پھر بھی میں تمہیں لے چلوں گی"

"مطلب تمہارے دماغ کی سوئی اسی بات پر اڑ گئی ہے کہ اب بس بھاگنا ہے اور کچھ نہیں کرنا۔"

"کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔ اور ہاں آٹھ تاریخ کو ہم بھاگ رہے ہیں۔ میں آتے ہوئے گھر سے کچھ زیورات لیتی آؤں گی۔اور تم بھی اپنے دفتر سے کچھ روپے لے آنا تاکہ دو تین مہینے جو ہم نے باہر رہنا ہے ہمیں کوئی مشکل پیش نا آئے۔"

"تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو۔ آج تین تاریخ ہے اور پیسوں کا بندوبست کیسے ہوگا، اور وقت بھی کیا چنا ہے رات کا۔ کیا بات ہے۔ تمہیں پتا ہے نا کہ جو رستہ ہمارے گاؤں سے باہر کی طرف جاتا ہے کس قدر ویران ہے اور وہاں پر آئے دن وارداتیں ہوتی رہتی ہیں"

"میں نہیں جانتی۔ ویسے بھی اگر تم نا مانے تو یاد رکھنا کہ زہر کی ایک عدد شیشی میں نے گھر میں رکھی ہوئی ہے"

"یہ کیا تم بات بات پر مرنے کی دھمکی دے دیتی ہو۔ اچھا ٹھیک ہے میں کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن سوچ لو گھر والوں کی عزت خاک میں مل جائے گی اور اوپر سے یہ بھی نہیں پتا کہ ہم کہاں جائیں گے۔"

"مجھے کچھ نہیں پتا۔ ہم جا رہے ہیں اس کا مطلب جا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ نا مجھ کچھ سننا ہے اور نا ہی کہنا ہے۔"

"ٹھیک ہے۔ "

آٹھ تاریخ آتی ہے اور دونوں کسی نا کسی طرح سے روپوں اور زیورات کا بندوبست کر کے کسی طرح سے گھروں سے نکل آتے ہیں۔ کسی قسم کی سواری میسر نا ہونے کی وجہ سے انہیں ایک گھنٹہ پیدل ہی چلنا پڑا۔ رستے میں جب وہ تقریبا" نصف راستے تک پہنچتے ہیں تو انہیں دو ڈاکو گھیر لیتے ہیں۔ ذیشان صرف رمشہ کے معاملے میں ہی تھوڑا کمزور دل کا تھا۔ ویسے تو وہ ایک گبھرو جوان تھا۔ سو اس نے ان سے مقابلے کی ٹھانی اور ایک ڈاکو کو قابو کر لیا۔ لیکن دوسرے ڈاکو نے اس پر گولی چلا دی۔ ذیشان پھرتی سے سائیڈ پر ہو گیا لیکن وہ گولی رمشہ کو جا لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی اب تو ذیشان کے جسم سے جیسے سکت ہی ختم ہو گئی تھی۔ لیکن اس نے اس دوسرے ڈاکو کو ایک زور دار لات رسید کی جس سے وہ دور جا گرا اور اس کی پستول بھی گر گئی۔ لیکن پھر بھی چونکہ ڈاکو دو تھے اس وجہ سے وہ کسی طرح وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن ان کی پستول وہیں رمشہ کی لاش کے پاس پڑی رہی۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد ذیشان کے پاس رمشہ کی لاش کو دیکھ کر رونے کے علاوہ کوئی اور کام نا تھا۔ صبح پولیس آئی۔لاش اور آلہ قتل قریب ہی پاکر ذیشان کو گرفتار کر لیا۔ اور اس پر تشدد کی انتہا کر کے ناجانے کون کون سے الزامات اس سے منوا لئے۔ ذیشان کو سزا سنا دی گئی ۔ گھروں کے آپس کے تعلقات ختم ہو گئے۔ اس کی دو بہنیں جن کی منگنیاں ہو چکی تھیں ان کے سسرال والوں نے بدنامی کے ڈر سے منگنیاں توڑ دیں(جن کی خبر بعد میں ذیشان کو جیل میں دی گئی)۔

اب ذیشان کے پاس رمشہ کی یادیں اور آنسوؤں کی نا رکنے والی ایک لہر ہے۔ اور وہ آج بھی بس یہی سوچتا ہے کہ آخر اس نے (جو کے گھر والوں کا بہت پیارا تھا۔ اور ماں باپ کی باتیں مان کر چلتا تھا) ان سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم کیونکر اٹھا لیا۔

اور ایک سوال اس کے ذہن کھٹکتا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے کیا ہے وہ اس کی محبت تھی یا نادانی۔