Afsana 013 قصور وار کون از دانیہ

قصور وار کون
از دانیہ

ٹرن ٹرن!!!!

"ارے دیکھو تو کس کا فون ہے ۔۔بس یہ کان سے لگا موبائل ہٹائیں تو کچھ سنائی دے کون بیچارا اتنی دیر سے گھنٹیاں بجائے چلا جا رہا ہے ۔۔" دادی جان نے فروا کو پکارا۔۔
فروا نے بادل نخواستہ سیل فون بند کر کے رسیور اٹھایا" کون ہے "۔۔اس نے آواز سے حتیٰ الامکان بیزاری ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا اور اچانک اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی ۔۔فون انگلینڈ سے اس کے بڑے بھائی زاہد کا تھا ۔

" جی بھائی! وعلیکم السلام، میں ٹھیک ہوں اور آپ سے سخت ناراض ۔۔جب سے آپ گئے ہیں مجھے بھول گئے ہیں عابد کو اسکوٹر لے دی ۔ ابا اماں نے گھر کو خوب سجا بنا لیا اور میں تو آپ کو یاد ہی نہیں رہتی۔۔" پھر دوسری جانب سے جواب کا انتظار کئے بغیر گویا ہوئی، " اماں ابا کچھ نہیں دیتے مجھے اپنے خزانے سے "

ابھی اس کی شکایتیں مزید جاری رہتیں کہ دادی نے فون ہاتھ سے لے لیا۔ فروا منہ بنا کر الگ بیٹھ گئی ۔
"کیسے ہو بیٹا" دادی نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا " کھانا پینا تو اچھا ملتا ہے ناں۔۔ ہاں میں بھی ٹھیک ہوں تمہارے ابو نے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا ہے اب آرام ہے مجھے بس تم اپنا خیال رکھو"۔

دادی کی بات ابھی یہیں پہنچی تھی کہ کمرے سے فریدہ بیگم لاؤنج میں آئیں اور دادی کے ہاتھ سے فون لے لیا،
"لائیں اماں آپ بھی بس نصیحتوں کی پٹاری کھولے رکھتی ہیں"۔
دادی نے انہیں دیکھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اٹھ کر اپنے تخت پر جا بیٹھیں۔
" ہاں بیٹا کیسے ہو۔۔بیٹا اس مہینے کے پیسے ملے نہیں ہیں اب تک ۔۔تمہارے ابو اسٹور کو سپر اسٹور کی شکل دینا چاہ رہے تھے اس لئے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔۔ اور عارفہ کا جہیز اس کے لئے بھی انتظام کرنا ہے فروا تو ہے ہی۔۔۔بڑی ہو گئی ہے تم گئے تھے تو کتنی چھوٹی تھی ۔۔بس بیٹا یہ فو ن پر پیسے ضائع نہ کیا کرو پیسے جمع کرو ابھی بہت ذمہ داریاں ہیں"۔

"ہیلو ہیلو!!!۔" ابھی فریدہ بیگم نے کچھ اور بھی کہنا تھا کہ لائن کٹ گئی
فریدہ بیگم نے فون رسیور پر رکھا اور وہیں بیٹھ گئیں ۔۔دادی نے ناراضگی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا،" کبھی بیٹے کی خیریت بھی پوچھ لیا کرو اسے بھی لگے اس کا خیال کرنے والے ابھی ہیں"۔
"اماں اسے کس چیز کی کمی ہے اور آپ پوچھ تو لیتی ہیں خیریت۔"
فریدہ بیگم نے جواب دیا۔

*******************************
زاہد، غیور حسین اور فریدہ بیگم کا پہلا بیٹا تھا۔ وہ روزگار کے سلسے میں انگلینڈ میں مقیم تھا ۔۔غیور حسین ایک جنرل اسٹور چلایا کرتے تھے لیکن اکثر تنگی کا شکار رہتے ۔ گھر کے حالات کو دیکھتے زاہد گھر کے حالات کو بہتر بنانے کی نیت سے کسی نہ کسی طرح انگلینڈ پہنچ گیا تھا۔۔شروع میں تو گھر والے اس کی طرف سے تھوڑا فکر مند رہے مگر جب لمبی رقمیں آنا شروع ہوئیں تو پہلے لائف اسٹائل بدلا پھر غیور حسین اور فریدہ بیگم نے کھلے ہاتھوں پیسا خرچ کرنا بلکہ اڑانا شروع کر دیا۔۔گھر کی رینوویشن کروائی گئی ۔۔ غیور حسین نے بجائے کاروبار کو مزید بڑھانے کے آرام طلبی کی راہ اپنائی ۔ زاہد سے چھوٹا عابد بھی کسی کام کا نہ رہا۔ اس نے پہلے پہل آوارہ گردی شروع کی پھر پڑھائی بھی چھوڑدی۔ ادھوری تعلیم کے ساتھ نوکری بھی نہ ملی اور نوکری کرنے کی ضرورت بھی کیا تھی ، بھائی وہاں سے رقمیں بھیج رہا تھا۔ اس سے چھوٹا بھی پڑھائی سے دل چرانے لگا۔۔ ان کی بیٹیاں بھی آہستہ آہستہ آرام طلب ہوتی جا رہیں تھیں غرض سب بیٹھ کر کھانے کے عادی ہوتے جا رہے تھے ۔ زاہد کا خیال تھا کہ ابو کو اسٹور کو بڑھا لینا چاہیئے اور چھوٹے بھائی کو ان کا ساتھ دینا چاہئیے مگر یہاں کسی کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا ۔ اس سے مختلف ہیلے بہانے کر کے لمبی رقموں کا تقاضا کیا جاتا۔۔ شادی کی عمر زاہد کی بھی تھی لیکن گھر والوں کو اس کا خیال نہ تھا۔ اس نے اپنی کسی پسند کا بھی امی سے ذکر کیا مگر فریدہ بیگم کا خیال تھا کہ اگر اس کی ابھی شادی کر دی تو تمام رقم کی حقدار ان کی آنے والی بہو ہو جائے گی لہذا ان کا زاہد کی شادی کے متعلق دور دور تک خیال نہ تھا اور مختلف حیلے بہانوں سے اسے ٹالے جا رہی تھیں۔

دادی اکثر و بیشتر ان لوگوں کو تنبیہہ کیا کرتیں لیکن نقار خانے میں طوطے کی آواز کون سنتا ۔
اسی بیچ بڑی بیٹی عارفہ کی بات طے ہو گئی تو نام کی خاطر بے پناہ پیسا خرچ کیا جا رہا تھا۔۔

********************************
" شکر ہے ایک کے فرض سے تو فراغت ہوئی ۔۔ارے کافی دنوں سے زاہد کا بھی کوئی فون نہیں آیا "۔
عارفہ کی رخصتی کے بعد سب ایک کمرے میں جمع تھے تو غیور حسین کو خیال آیا
فریدہ بیگم نے انہیں دیکھا اور بولیں،
" ہاں پندرہ دن پہلے آیا تھا فون وہی کہہ رہا تھا کہ امی آ جاتا ہوں بہن کو اپنے ہاتھ سے رخصت کر نا چاہتا ہوں۔۔میں نے کہا پاگل ہوئے ہو وہاں سے آنا کوئی آسان ہے ۔۔جتنا پیسا ٹکٹ میں اٹھے گا وہ بھیج دو ہم شادی اچھے طریقے سے کر لیں گے بس اس کے بعد فون نہیں آیا نہ پیسا "۔

"امی بھائی سائرہ کے متعلق بھی کچھ کہہ رہے تھے "۔ فروا نے بیچ میں لقمہ دیا
" ہاں کہہ رہا تھا امی اس کے گھر رشتے کی بات چلائیں۔۔میں نے کہا لو سائرہ کی امی تو آج منگنی کل شادی کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں ۔۔ تم پر ابھی اتنی ذمہ داریاں ہیں تمہارا تو چار پانچ سال سے پہلے تو سوچ ہی نہیں سکتے ۔۔دیکھو آج کل میں فون نہیں آیا تو آپ ہی کر لیں"۔
بات مکمل کرنے کے بعد فریدہ بیگم نے غیور حسین کو مخاطب کیا۔
" ہاں ہاں۔ " غیور حسین بولے " اس سے کہنا بھی ہے کچھ رقم کا انتظام کرے پہلے جو پیسے بھیجتے تھے وہ پلاٹ کی قسط اور عارفہ کی شادی میں ہی خرچ ہو گئے ۔۔اب تعمیر بھی شروع کروانی ہے "
"ابو بھائی کو میرے انٹرنیٹ کیفے کا بھی کہیئے گا ۔۔میں اب وہی کھولنا چاہ رہا ہوں"
عابد نے بھی فرمائش نوٹ کروائی ۔
************************

" ٹرن ٹرن "
" ارے کوئی فون سننے والا بھی ہے یا نہیں " دادی نے بمشکل اٹھتے ہوئے کہا
"اٹھا رہی ہوں اماں "
فریدہ نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے کہا
" ایک تو آپ اے سی آن نہیں کرتیں اتنی گرمی ہوتی ہے یہاں"،۔فریدہ بیگم بڑبڑاتی ہوئیں جب تک فون کے پاس پہنچیں وہ بند ہو چکا تھا۔
وہ وہیں بیٹھ گئیں ۔ دادی بھی اپنی نشست پر واپس بیٹھ چکی تھیں۔ دوبارہ فون کی گھنٹی بجی۔
" ہیلو کون، ہاں زاہد بیٹا! ابو سے بات ہوی تمہاری۔ "
فریدہ بیگم کی آواز بیٹے کا فون سن کر پر جوش ہوئی ۔
" کیا"۔ دوسری جانب سے جانے کیا کہا گیا کہ فون فریدہ بیگم کے ہاتھ سے گر گیا اور بے ہوش ہو گئیں۔
" ارے فروا دیکھو تو تمہاری امی کو کیا ہوا"۔ دادی نے پریشانی سے فروا کو آواز دی اور فون اٹھایا۔۔ وہاں زاہد کہہ رہاتھا
" دادی امی کو بتا دیں میں نے یہاں اپنے ساتھ ایک کام کرنے والی ہی ایک لڑکی سے شادی کر لی ہے ۔ گھر بھی لے لیا ہے اب اخراجات بڑھ گئے ہیں میں مذید پیسے نہیں بھیج سکتا"۔