Afsana 014 ایفائے عہد سے لحد تک از منہا ملک

ایفائے عہد سے لحد تک
از منہا ملک (لاہور، پاکستان)

میری نظریں اس درخت پر جمی تھیں اور ذہن بیتے وقت کے کھلے، ہوا سے لرزتے کواڑوں سے اندر جھانک رہا تھا۔ ایک طاقچے پر بچپن کی یادیں ڈھیر کی صورت نظر آئیں اور میں بھاگ کر اس کی جانب لپکا۔ ۔۔

"اماں! اسے کیا ہوا؟" میں نے اس دو فٹ کے مرجھاتے ہوئے پودے کے سامنے دوزانو بیٹھتے ہوئے فکرمند انداز میں پوچھا۔ ۔ ۔
اماں میری فکرمندی دیکھ کر دھیرے سے مسکرائیں اور بولیں ۔۔ ۔۔ "بیٹا! پہلے مجھے یہ تو بتاؤ۔ ۔ ۔کتنے دن پہلے تم نے اسے پانی دیا تھا؟"
"ہممم۔ ۔ ۔" میں سوچنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ پودا لگائے مجھے ایک ماہ ہو چلا تھا۔ ۔ ۔شروع شروع میں بہت شوق سے روز پانی دیتا اور اس کے بڑھنے کا انتظار کرتا رہتاتھا۔ ۔ ۔اور اب۔ ۔ ۔ ۔کئی دن ہوئے اس کھیل سے اکتا گیا تھا اس لئے دوسرے کھیلوں میں مشغول ہوگیا تھا۔ ۔
"اماں کافی دن ہوگئے میں پانی نہیں دے سکا اسے۔ ۔ " میں نے کچھ شرمندہ شرمندہ سے انداز سے وضاحت کی۔
"دیکھو فادی! جب تم نے اس پودے کو پہلی بار زمین میں لگایا۔ ۔ ۔اسے پیار اور توجہ دی۔۔ ۔ اس کا خیال رکھا۔ ۔ ۔تو اسے تم سے انسیت ہوگئی ۔ ۔ پھر یکدم تم نے اسے چھوڑ دیا۔ ۔اس کی طرف سے توجہ ہٹا لی۔ ۔۔ ۔تب یہ اداس ہو گیا اور اس لئے اب یہ مرجھانے لگا ہے ۔ ۔۔"
"
اماں۔ ۔ ۔پودے کو بھی محبت کی ضرورت ہوتی ہے؟" میں نے حیرانی سے پوچھا۔
"ادھر آؤ میرے پاس۔ ۔ ۔" اماں نے مسکرا کر کہا اور میں جھٹ سے ان کی گود میں گھس گیا ۔ ۔
"بیٹا! ہر جاندار کو محبت، توجہ اور دعا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ چاہے وہ معصوم جانور ہوں یا پودے۔ ۔یہ جذبے صرف انسان کی ملکیت نہیں ہیں۔۔۔ ۔ ۔ جب ان کا کوئی ساتھی بچھڑ جائے تو یہ بھی ہماری طرح غمگین ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ان کا دل بھی محبت و توجہ کا طالب ہوتا ہے۔ ۔
جب ہم اس سے بے توجہی برتتے ہیں تو اس کا دل سمٹ جاتا ہے وہ کہتا کچھ نہیں لیکن اندر ہی اندر گھلتا رہتا ہے۔ ۔ ۔اور ہمیں اس کا احساس تب ہوتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ لیکن تمہیں ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ ۔ ۔ ابھی اس پودے کو تم اپنی توجہ اور محبت سے دوبارہ زندگی کی طرف لا سکتے ہو ۔ ۔۔ "
"
اماں! پودے کا دل کہاں ہوتا ہے؟ ہمارا دل تو یہاں ہے۔" میں نے سینے پر انگلی رکھتے ہوئے ایک اور سوال داغا۔ ۔
"ہممم۔ ۔ ۔ جیسے دل بند ہوجائے تو انسان مر جاتا ہے نا۔۔ اسی طرح اگر جڑیں سوکھ جائیں تو پودا ختم ہوجاتا ہے۔ ۔ ۔مطلب۔ ۔۔ ؟" اماں نے اپنے لاڈلے مگر کھوجی طبیعیت والے بیٹے کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا۔
"مطلب یہ کہ۔ ۔۔ ۔ ۔جڑیں ہی پودے کا دل کہلاتی ہیں؟" میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
"ہاں۔ ۔۔ ۔" اماں نے میرا ماتھا چوما۔ ۔ "اور میرے بچے۔ ۔ ۔! ہمیشہ یاد رکھنا۔ ۔ ۔ کبھی کسی کو اپنی بے توجہی سے مت مارنا۔ ۔ ۔۔ زندگی میں کبھی کسی کو اپنی ذات سے تکلیف یا دکھ مت پہنچنے دینا۔ ۔سب سے محبت کرنا۔ ۔ ۔ کوئی کیسا بھی ہو۔ ۔۔ تم ہمیشہ کانٹوں کے جواب میں بھی پھول ہی بکھیرنا۔ ۔ "

میں نے آنکھوں سے امڈتی نمی کو دل میں اتارتے ہوئے اس گٹھڑی کو واپس طاقچے میں رکھا اور چلتے چلتے ایک اور طاقچے کے سامنے آ رکا۔ یہاں بھی کچھ رنگ برنگی یادوں کی گٹھڑیاں پڑی تھیں۔ ۔ ۔میں نے ایک گٹھڑی کو ٹٹولا۔۔۔

سارا گھر برقی قمقموں سے جگر جگر کر رہا تھا۔ ۔ ۔مہمانوں کی آمدورفت جاری تھی۔ آج میری شریک حیات آصفہ جو کہ پھپھو کی بیٹی اور اماں کی آنکھ کا تارا تھی، نے پہلی بار بہو کی حیثیت سے قدم رکھا تھا۔ ۔ ۔ اور اماں کے کہے گئے الفاظ میرے دل پر نقش تھے ۔ ۔کہ زندگی میں اپنی ذات سے کبھی کسی کو دکھ نہ پہنچنے دینا۔ ۔ اور آنے والے وقت میں میں نے اماں کی اس نصیحت کو حرف بہ حرف نبھایا۔ ۔۔آصفہ اور میری محبت پورے خاندان میں مثالی تھی۔ ۔ دو بچوں کے آجانے کے بعد بھی میں نے اماں سے کیا ہوا کسی کو دکھ نہ دینے کا عہد نبھایا اور آج جب بچے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں تو مجھے ایک آئیڈیل شوہر اور آئیڈیل باپ کا خطاب دیا جا چکا ہے ۔

"اوہ۔ ۔۔ " میں نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں۔ ۔ "یہ ماضی کی گٹھڑی میں حال کیونکر مخل ہوا۔ ۔ ؟" بڑبڑاتے ہوئے میں نے پھر سے اس درخت کی جھکی ہوئی عمر رسیدہ شاخوں کو دیکھا۔ ۔ ۔وہ ہوا سے یوں جھول رہی تھیں جیسے میرے لئے پنکھا جھلا رہی ہوں۔ ۔اس کے اس طرح ہلنے پر مجھے اماں کا فکرمند آنچل یاد آیا۔ ۔جب میں اماں کے ساتھ اس پودے کے پاس بیٹھا کرتا تھا تو اماں مجھے اپنے دوپٹے سے یونہی ہوا دیا کرتی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔تازہ ہوا کا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا تو ماضی کی ایک اور گٹھڑی میرے پیروں میں آ گری۔ ۔

اس گٹھڑی کو دیکھ کر مجھے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ کا احساس ہوا۔ اس کے کھلے حصوں میں سے دو پتھرائی ہوئی آنکھوں کا انتظار، لبوں پہ مچلتی ہوئی ان کہی حسرتیں، اور آہٹوں کے انتظار میں تھک کر بے جان ہو جانے والی سماعتیں جھانک رہی تھیں۔ ۔ میں نے ان سے نظریں چرا کر آگے بڑھ جانا چاہا۔ ۔ مگر ان منتظر سماعتوں، اور کرب آمیز پکار نے میرے قدموں کو جکڑ لیا۔ ۔ ۔ اور اب کی بار مجھے وہ گٹھڑی کھولنی نہیں پڑی ۔۔ ۔ اس میں بندھی ان کہی باتیں۔ ۔ ۔خود ہی میرے چاروں طرف چکرانے لگیں۔

"سنیئے ۔ ۔ " میں نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ آصفہ کی آواز سنائی دی۔ ۔میں نے پلٹ کر استفہامیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔ ۔
"آج آپ نے بچوں کو پارک لے جانے کا پرامس کیا تھا نا۔ ۔ ۔آپ بھول گئے کیا؟"
"اوہ ۔۔ ۔ ۔میرے ذہن سے نکل گیا۔ ۔ ۔لیکن ابھی تو میں اماں کی طرف جا رہا ہوں ان کی طبیعیت ٹھیک نہیں ہے۔ ۔ ۔اسد(چھوٹے بھائی) کا فون آیا تھا۔ ۔ ۔اور ویسے بھی کافی دیر ہوئی میں گیا نہیں ہوں وہاں۔ ۔ " میں نے کچھ وضاحتی انداز میں کہا۔۔۔ لیکن کہتے کہتے میرے قدم اندر کی جانب مڑ گئے تھے۔ ۔۔ کہ اماں کا لیا ہوا کسی کو دکھ نہ دینے کا وعدہ ذہن میں گردش کرنے لگا تھا۔۔۔اور شام کو بچوں کے خوشی سے چمکتے چہرے دیکھ کر مجھے خود پر فخر محسوس ہوا کہ میں نے اماں سے کیا ہوا وعدہ نبھایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرے ہاتھ پر پانی کا ایک قطرہ گرا تھا۔ ۔ ۔ ۔
میں نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ ۔۔ آسمان کی طرف دیکھا ۔ ۔
سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ۔ میں نے حیرت سے اپنے ہاتھ پر گرے قطرے کو دیکھا اور کچھ نا سمجھ آنے پرمیں نے آنکھیں دوبارہ موند لیں۔ ۔

"پاپا۔ ۔ ۔ ۔! آج اپنی کولیگ ثنا کو ڈنر پر بلایا ہے میں نے۔ ۔ ۔آپ نے کہا تھا نا اسے آپ سے ملواؤں ۔ ۔" میں شام کی چائے پینے کے بعد اسٹڈی میں آیا تھا کہ کچھ دیر میں ریان چلا آیا۔ ۔ اس کی بات سن کر میں نے چشمہ اتار کر آنکھوں کو مسلا۔
"ریان۔ ۔۔ کل کا پروگرام رکھ لو ۔۔ ۔ آج مجھے آپ کی دادو کی طرف جانا ہے۔ ۔ انہوں نے بلوایا تھا ۔ ۔ ۔ " میں نے ہاتھ میں پکڑی کتاب میز پر ڈالتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کرکہا۔
"نہیں پاپا۔ ۔ ۔دیٹس ناٹ فیئر۔ ۔ ۔ دادو کی طرف آپ پھر کبھی بھی جا سکتے ہیں۔۔ ۔ ۔ ۔میں ثنا کو منع نہیں کر سکتا۔ ۔ ۔ ۔" ریان نے روٹھے ہوئے لہجے میں کہا تو میرے دل کو کچھ ہوا ۔ ۔ ۔۔ ۔اماں کی بات ذہن میں چکرانے لگی۔ ۔ ۔ ۔ اور رات کو ڈائننگ ٹیبل پر سب قہقہے لگاتے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ ۔ ۔اور میں بہت مطمئن تھا کہ میری ذات سے کسی کو دکھ نہیں پہنچ پایا ۔ ۔ ۔

میں نے ہر لحاظ سے مکمل زندگی گزاری۔ ۔ ہر رشتے میں مجھے پرفیکٹ مانا گیا۔ ۔ ۔ اور یہ سب اس ماں کی ایک نصیحت ۔ ۔ ۔ایک وعدے کی وجہ سے تھا۔ ۔ ۔مجھے پرفیکٹ بناننے میں جس ماں کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔ ۔ ۔ میں سب کو خوش رکھنے کے چکروں میں ایسا پھنسا کہ اسی کو وقت نہ دے پایا۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اماں سے ملے چار سال گزر چکے تھے۔ ۔ ۔اگر درمیان میں کبھی گیا بھی تو کھڑے کھڑے۔ ۔ ۔ اماں سے حال احوال پوچھ کر ۔ ۔ "کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ۔ ۔" کا گھسا پٹا جملہ بول کر لوٹ آتا تھا۔ ۔ ۔
اماں ہر بار جیسے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتیں۔ ۔ ۔ پھر میری جلدی دیکھ کر خاموش رہ جاتیں۔ ۔ ۔ ۔ اور "نہیں فادی بیٹا۔ ۔ ۔ کچھ نہیں چاہیئے" کہہ کر خاموش نگاہوں سے مجھے تکنے لگتیں۔ ۔ ۔ میں ان کی نظروں سے الجھن محسوس کرتا اور واپسی کے لئے قدم بڑھا دیتا۔ ۔

پھر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے بہت فرصت سے اماں کے پاس جا کر ڈھیر سارے دن گزارے۔ ۔ ۔
"اماں۔ ۔۔ ہائے میری اماں۔ ۔ " میں اماں کے سرھانے کھڑا زارو قطار رو رہا تھا۔ ۔ ۔اماں کی منتظر آنکھیں ابھی بھی نیم وا تھیں۔ ۔ ۔ ان کے ڈھلکے ہوئے شانے مجھے پچھتاووں کے سمندر میں دھکیل رہے تھے۔ ۔ ۔ان کے ادھ کھلے ہونٹ کچھ کہنے کی سعی کرتے محسوس ہو رہے تھے۔ ۔ ۔اور میرے دل و دماغ میں اماں کی وہی ایک نصیحت ۔ ۔ ۔ ۔ جس نے مجھے پرفیکشن کا خطاب دلایا تھا۔ ۔ ۔ گونج رہی تھی۔ ۔ ۔"میرے بچے ۔ ۔۔ کبھی کسی کو اپنی ذات سے دکھ مت پہنچنے دینا۔ ۔ ۔ "

اب مجھے اپنے گالوں پر نمی کا احساس ہوا ۔ ۔۔ ۔ ۔آنکھیں کھول کر ایک بار پھر سے آسمان کی طرف دیکھا۔ ۔۔ آسمان اسی طرح شفاف تھا اور سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ ۔ ۔میں نے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا۔ ۔ ۔ مگر مجھے اس نمی اور پانی کے قطروں کا ماخذ نہ پتہ چل سکا جو میرے چہرے کو بھگو رہے تھے۔ ۔ ۔
میں نے سامنے لگے درخت کو دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ دن بدن کمزور ہوئے جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ میں اس کی مکمل دیکھ بھال کرواتا ہوں۔ ۔ ۔ روز اس کے ساتھ بیٹھ کر ماضی کا سفر کرتا ہوں۔ ۔ ۔ پھر بھی پتا نہیں کیوں ۔ ۔ ۔ جب سے اماں گئی ہیں۔ ۔ ۔ یہ روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ایسا لگتا ہے جیسے اسے کوئی روگ لگ گیا ہے۔ ۔ ۔ یہ کسی سوگ کی کیفیت میں نظر آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ لگتا ہے جیسے اس کی جڑیں سمٹنا شروع ہو گئی ہیں۔ ۔