Afsana 015 بازگشت از نویم

بازگشت
از نویم
کیا وقت اتنی جلدی بیت جاتا ھے۔آج جب میری دوست ثمینہ میری بیٹی ماہین کے لئے اپنے بھتیجے حارث کا رشتہ لے کرآئی تو ایک لمحے کے لئے تو میرے دل میں آئی کہ دنیاداری کو رکھوں طاق پر ابھی جاؤں کچن میں اور وہاں سے چینی لے کرابھی ثمینہ کا منہ میٹھا کروا دوں اور کہوں کہ مجھے یہ رشتہ منظور ھے لیکن جب میں بولی تو وہی روایتی سا جملہ کہا کہ ٹھیک ھے میں ماھین کے پاپا سے بات کروں گی اور جو فیصلہ ھوا اسے جلد آگاہ کر دوں گی۔لیکن ایسا کہتے ھوے میں نے اس کے ہاتھ کوگرم جوشی سے دبایا تاکہ وہ اطمینان رکھے کہ جیسا اس نے چاہا ھے ویسا ھی ھوگا۔
آپ لوگ سوچ رہے ھوں گے کہ میں اس رشتے پر اتنی اتاولی کیوں ھو رھی ھوں خدانخواستہ میری بیٹی اتنی گئ گزری ھے کہ میں اسے جلدازجلد دھکا دینے کی فکر میں ھوں تو ایسی کوئی بات نہیں میری بیٹی ماشاءاللہ لاکھوں میں ایک ھے۔
چلیں میں آپ کو شروع سے ساری بات بتاتی ھوں۔
ثمینہ اور میں بچپن کی سہیلیاں ہیں ہم ایک ھی محلے میں رہتی تھیں ہم نے ایک ھی سکول سے میڑک کیا ایک ھی کالج سے ایف اے کیا۔ھم مل جل کر نوٹس بناتیں اور جہاں کہیں مشکل پیش آتی تو ثمینہ کا بھائی احمد ہماری مدد کر دیا کرتا تھا۔احمد ھم سے چار پانچ سال بڑا تھا تعلیمی میدان میں ہمیشہ اول رہتا تھا اپنے کام سے کام رکھنے والا سادہ مزاج بندہ تھا۔میں جب کبھی ان کے گھر جاتی ثمینہ اپنے بھائی کو کسی ناں کسی کھانے والی چیز کی فرمائش کرتی اور وہ لا کر دے دیتا لیکن اگر یہی کام وہ اپنے چھوٹے بھائی کو کہتی تو وہ بہانے بنا کر غائب ھوجاتا۔
میں نے اپنے بارے میں تو بتایا ہی نہیں میرا نام راحیلہ ھے اپنے اماں ابا کی لاڈلی اور تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ھوں۔ خاندان میں پہلی لڑکی تھی جو کالج تک گئی اس لئے خود کو کافی عقلمند سمجھتی تھی اور اپنی بات کو حرف آخر۔شاعری سے دلچسپی تھی بیسیوں ڈائریاں شاعری سے کالی کر رکھی تھیں اپنی شاعری نہیں بلکہ اپنے پسندیدہ اشعار اور نظمیں لکھ رکھی تھیں۔
کالج سے عید کی چھٹیاں تھیں بازار جاؤ تو ہر طرف سجے عید کارڈ دیکھ کر دل کرتا کہ کاش مجھے بھی کوئی سرخ گلابوں اور خوبصورت شعروں سے سجا عید کارڈ کوئی ارسال کرے۔
عید کے دن میرا خالہ زاد فراز عید ملنے گھر آیا اماں محلے میں کسی کے گھر شیر خورمہ دینے گئی تھیں ابا بھائیوں کو لے کر باہر گئے ھوے تھے میں کچن میں تھی فراز وہیں چلا آیا میں نے عید کی خوشی میں خوبصورت سا سوٹ اور سوٹ سے ہم رنگ خوبصورت سے کنگن پہنے ھوے تھے۔ فراز نے میرا ہاتھ پکڑ کر نظم بولنی شروع کر دی
کاش میں تیرے ہاتھ کا کنگن ہوتا۔
میں شاعری کی دلدادہ اس وقت تو گبھرا کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی مگر مجھے فراز کی یہ حرکت بری نہ لگی کچھ دن بعد خالہ میرا رشتہ مانگنے آ گئیں۔ابا کے اس رشتے کے بارے میں تحفظات تھے کیونکہ فرازاپنے ابا کے ساتھ ان کے جنرل سٹور پر بیٹھتا تھا وہ قدرے غیرذمہ دار اور لاپرواہ طبیعت کا تھا مگر میں نے اماں پر واضح کر دیا تھا کہ مجھے یہ رشتہ منظور ھے۔
ایک دن ثمینہ مجھ سے ملنے گھر پر آئی اور مجھ سے اپنے بھائی احمد کے بارے میں میری رائے پوچھی۔
بزرگ کہتے ھیں بڑا نوالہ کھا لو مگر بڑا بول نہ بولو میں نے احمد کی سادہ مزاجی کو لے کر اسے بدھو کہا اور ثمینہ سے کہا کہ وہ اپنے بھائی کے لئے اس کی طرح کی لڑکی ڈھونڈے یہ تو ثمینہ کی محبت ھے کہ اس نے پھر بھی مجھ سے دوستی ختم نہ کی۔
اس وقت میں فراز کے فلمی سٹائل سے متاثر تھی اور سمجھتی تھی کہ میں کیوپڈ کے تیر کا شکار ھو گئی ھوں مجھے پتہ نہیں تھا کہ میں سٹوپڈ کے تیر کا شکار ھوئی ھوں۔جلد ھی میری اور فراز کی شادی ھو گئی وہ اکثر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے وہی نظم سناتا
کاش میں تیرے ہاتھ کا کنگن ھوتا
یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اسے بس یہی ایک نظم آتی ھے اور سٹور پر آنے والی ایک دو لڑکیوں کو یہی نظم سنانے کی پاداش میں وہ ان لڑکیوں کے لواحقین سے مار بھی کھا چکا ھے اور بعد میں جب اس نے میرے سونے کے کنگن بھی بیچ کھائے تو مجھے اس نظم سے ہی نفرت ھو (گئی( وصی شاہ سے معزرت
باپ بن کر بھی اس میں ذمہ داری نہیں آئی ۔خدا نے ہم کو صرف ماہین سے نوازا اور اس کی تربیت کرتے ھوے میں نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ وہ میری طرح صرف ظاہری حسن کی دلدادہ نہ بنے۔
ماشاءاللہ میری بیٹی حسن صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کا مرقع ھے یونہی تو نہیں آج اس کے لئے احمدبھائی کے لائق فائق بیٹے کا رشتہ آیا۔احمدبھائی نے بہت ترقی کی ان کا بہت خوبصورت کشادہ سا گھر ھے جس کا ڈیزائن خود احمد بھائی نے بنایا ھے اور اسے دیکھ کر پتہ چلتا ھے کہ شاعر کا خیال کس کو کہتے ہیں۔
احمدبھائی کے تمام بچے تعلیمی میدان میں آگےآگے اور حسن اخلاق سے مالا مال ہیں۔حارث برسرروزگارھے وہ نرم طبیعت کا رشتوں کی پرواہ کرنے والا اور رشتوں سے محبت کرنے والا انسان ھے۔
یوں تو ماہین کے لئے کئی رشتے آئے ھوے ہیں مگر میں نے اس کے لئے ایک محبت کرنے والا انسان پسند کیا ھے اور مجھے یقین ھے اسے میری پسند پر کوئی اعتراض نہیں ھو گا۔
آپ کا کیا خیال ھے میں نے ٹھیک کیا ناں۔