Afsana 016 ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوا از روشنی

ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوا

از روشنی

فجر کی نماز پڑھ کر ڈاکٹر قندیل معمول کی طرح (ریحان کامپلیکس) ہسپتا ل کے احاطے کی طرف چلی آئی اور وہاں متوازی بنی دو چھوٹی چھوٹی قبروں کے سرھانے بیٹھ گئی ۔آنسو کے قطرے اسکی آنکھوں سے بہہ کر اسکے اسکارف میں جزب ھوتے گئے۔ذھن میں ماضی کے مناظر اک عکس کی صورت امڈ آئے۔

مئی کی روشن صبح تھی جب قندیل کے پانچ سالہ جڑواں بیٹوں روحیل اور شرجیل اپنے اسکول ٹرپ کے لئے جانے کے لئے تیار ھو رہے تھے ،دونوں ھم رنگ لباس پہنے ھوئے تھے ،روحیل ناشتہ نہ کرنے کی ضد کر رہا تھا۔

"ممی،ھمیں دیر ھو جائے گی ،ھمیں جانا ھے" روحیل نے منہ بسور کر کہا۔
"ممی ،جلدی کریں نا ،ھمیں جلدی جاناھے۔" شرجیل نے بھائی کی ہاں میں ہاں ملائی

اسکول وین مقررہ وقت پہ روحیل اور شرجیل کو لے گئی حسب عادت وہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے ،لیکن ففقط تین گھنٹوں بعد وہ گھر لوٹ آئے،ھمیشہ کے لئے جانے کے لئے۔۔

کسی ٹریلر ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے ٹریلر وین سے ٹکرا گیا ،وین ڈرائیور اور سات بچے موقع پہ ہلاک ھو گئے جن میں روحیل اور شرجیل بھی تھے۔

ان دو ننھی ننھی قبروں کی وجہ سے آج وہاڑی کے اس قصبے میں ریحان کامپلیکس کھڑا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر روڈ ایکسیڈنٹ ایمر جنسی کیس آیا ھے،”،نرس کی آواز قندیل کو حال میں لے آئی۔

خرم اور اسکے دوست اور سپیڈنگ کی وجہ سے حادثے کا شکار ھو گئے۔

قندیل پیشنٹ کا معائنہ کر کے آئی۔

"ڈاکٹر آپ جتنا چاہیں پیسہ لے لیں ،میرے خرم کو بچا لیں "۔
خرم کے والد نے روتے ھوئے کہا

"زندگی موت اللہ کے ھاتھ میں ھے ،ھم اپنی سی کوشش کر سکتے ھیں ،پیشنٹ کے دماغ کی ھڈی ٹوٹ گئی ھے، حالت سنگین ھے ،آپ دعا کریں اللہ بہتر کرے گا”
قندیل نے پرائویٹ روم کی طرف جاتے ھوئے کہا۔

"ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوا" خرم کے والد نے خود کلامی کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرائیویٹ روم کی پیشنٹ صاعقہ کو برین ٹیومر ھے ،اسکا مرض خطر ناک حد تک بڑھ چکا ھے۔ ایک موھوم سی امید ھے کہ آپریشن سے اسکے بچنے کے چانسز بڑھ سکتے ھیں ،لیکن صاعقہ کے والد صاعقہ کا علاج میل سرجن سے نہیں کرانا چاہتے۔

"ڈاکٹر صاحبہ ،میری بچی کا بال بھی کسی نامحرم نے نہیں دیکھا"۔ چوھدری صاحب نے افسوس سے سر ہلاتے ھوئے کہا۔

“چوھدری صاحب آپکی بیٹی مر جائے گی” قندیل نے زور دے کر کہا اور صاعقہ کے روم کی طرف چلی آئی ،لیکن وہاں مکمل خاموشی تھی،خون کی باریک سی لکیر صائقہ کے ناک اور کان سے بہہ رہی تھی،چوھدری صاحب کی مشکل آسان ھو گئی۔

صاعقہ کی ماں رو رو کر فریاد کر رہی تھی،”ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوا”
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہ پہر ایک اور ایمر جنسی کیس آیا،دس سال کا بچہ پتنگ اڑاتے ھوئے تین منزلہ مکا ن کی چھت سے گر گیا۔اسکے دونوں بازو اور ٹانگوں کی ھڈیاں ٹوٹ گئی ،

“بچے کے ماں بار بار کہے ۔”ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھار ھماری زندگی میں اتنا بڑا سپیڈ بریکر آتا ھے جو زندگی کی گاڑی کو یکدم تھما دیتا ھے ،ایسے محسوس ھوتا ھے ،جیسے کائنات کی گردش رک گئی ھے ھماری خطائیں اور گناہ مجسم ھو کر ھمارے سامنے آتے ھیں اور زندگی کی بدصورت حقیقت ،بے ثباتی کو دکھاتے ھیں ھم جھکنا نہیں چاہتے اور منہ کے بل گرائے جاتے ھیں تا کہ اپنی اصل کو لوٹیں اور سوال کا جواب ھماری نگاھوں کے سامنے آتا ھے ،ایسا ھمارے ساتھ ھی کیوں ھوا ۔
اس کا جواب جو لوگ پالیتے ھیں ،وہ ھدایت یاب ھو جاتے ھیں ،اور جو نہیں پاتے وہ گمراہی کے اندھیرے میں ھی عمر گزار دیتے ھیں۔