Afsana 017 پہچان از ارم نذیر

پہچان

از ارم نذیر

پہچان ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا لفظ ہے جس کی وسعت صرف انسان اور انسانیت تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایزادی اور دسترس کچھ ایسی ہے کہ یہ دوسرے"غیر معمولی"معاملات کو بھی اپنی پکڑ میں لے لیتی ہے ہر چیز کی اپنی اہمیت ہوتی ہے جو بالآخر اس کی پہچان بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری نظر سے روز ایسی چیزیں گزرتی ہیں جو کہیں نہ کہیں اپنی اہمیت رکھتی ہیں اور اپنی اسی خصوصیت کی وجہ سے ہم ان کے بارے میں اندازہ لگا سکتے ہیں پھر چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان!
جانداروں کے زمرے میں آئیں تو ان میں انسان آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اشرف المخلوقات ۔ ۔ ۔ ۔
آجکل ہر انسان کے نزدیک اسکی پہچان کا مطلب ہے، اس کا نام، اس کا کام، اس کا رتبہ اور اسکی وقعت ۔ ۔ ۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہماری پہچان اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ایک قوت جو دنیا کے ہر گوشے کے مسلمان کو ایک مضبوط رسی سے باندھے ہوئے ہے وہ"اسلام"ہے!بھائی چارے، دوستی، باہمی تعاون، ادب، محبت اور امن والا دین۔
ہر پیدا ہونے والے مسلمان بچے یا بچی کو اسلام کی تعلیمات دی جاتیں ہیں، ایک ایسی اینٹ جو مضبوط ہو کر لازوال ہو جاتی ہے یا کمزور اور کھوکھلی ہو کر گر جاتی ہے۔
میں ۔ ۔ ۔ ارم ۔ ۔ ۔
میں نے بھی عام مسلمان بچیوں کی طرح اپنی طفلی کے ایام ماں کی گود میں دینی اور ادبی تعلیمات حاصل کرتے پوئے گزارے ۔ ۔ ۔ وہ دن جب میں اپنے آپ اور زندگی سے ناواقف، کھیلتے گودتے خوشیاں سمیٹتی ۔ ۔ ۔ ۔ نادانی میں گزرے وہ پل جو بڑوں کے دکھائے گئے راستے پر چلتے چلتے بیتے ۔ ۔ ۔ ۔!
اب اسے خوش بختی کہیئے یا پھر مغموم ماھیت ۔ ۔ ۔انسان گر جانوروں سے بہتر ہے تو وہ صرف اس کی سوچ کی بنا پر ۔ ۔ ۔ انسان کی قوت تفکیر اس کو مختلف مرتبوں تک پہنچاتی ہے اور پھر وہ مرتبے انسان کی حقیقت کا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر وہ انسان کی پہچان کا مرتبہ اختیار کر لیتے ہیں۔ مجھے بھی اللہ تعالٰی نے غوروفکر کی نعمت سے نوازا پر اسکا احساس مجھے دیر ہوا۔ آج بھی میرے سکول کا پہلا دن میری آنکھوں کے سامنے رات کے سیاہ اندھیرے کی طرح گھومتا ہے، امی نے تیار کیا، لنچ دیا، جوتے پہنائے، بال بنائے اور کہا کہ بیٹی ٹیچر نے جو پوچھا اس کا کھڑے ہو کر جواب دینا، سب سے تمیز سے پیش آنا اور جھوٹ مت بولنا۔ ماں کی نصیحتوں نے مجھے کامیابی سے دو چار کروایا، اور میں خود کو کامیاب سمجھنے لگی ہی تھی کہ آخر کار وہ دن آ گیا، وہ سوال پوچھا گیا، اس حقیقت کا مطالبہ ہوا جسے میں میٹھا سچ سمجھ کر اکثر گنگنایا کرتی ۔ ۔ ۔ میں کون ہوں؟ میرے خیال میں اس سوال سے وابستہ جواب آسان اور بنیادی تھا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن سب بھرم ٹوٹ گئے جب چھٹی کلاس کا پہلا دن تھا اور سب کا تعارف کروایا جا رہا تھا، نام پکارے گئے۔ سمن، ثوبیہ، وردہ، زینب اور پھر میں ۔ ۔ ۔ ۔ کلاس میں ہمیشہ اول اور سب کی چہیتی! پوچھا گیا
" آپکا نام؟"
"ارم نزیر"
"آپکے پاپا کیا کام کرتے ہیں؟"
والد کا نام سن کر میری آنکھوں میں مسرت، دل میں سکون اور لبوں پر ہلکی سی مسکراھت آئی اور میں نے قناعت محسوس کرتے ہوئے کہا کہ " میرے پاپا باربر (نائی) ہیں"
جواب دیتے ہی قہقھوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ میرا سر جو امتیاز میں اونچا تھا شرم کے مارے جھک گیا۔ ۔ ۔ بیٹھتے ہی میں نے کانپتے ہاتھوں سے قلم اٹھائی اور سہمی سی چپ چاپ بیٹھی رہی۔ قہقھے ابھی تک جاری تھے جو میرے لیئے ایک بچے کی چیخ کی مانند تھے اور جن کی تسبیح بے ہنگام سے کان کے پردے پھٹے جا رہے تھے۔ یہ میری ناکامی کا عرصہ تھا۔ ۔ ۔ میں ان قہقہوں کی وجہ سوچتی رہتی اور مجھ سے یہ سوال بار بار کیا جاتا۔ ۔ ۔ اب یہ میری "پہچان"تھی، ایک غریب نائی کی بیٹی!پھر میری ذات کے بارے میں بھی سوال اٹھایا گیا، ذات؟ میں تو اس کے مطلب تک سے انجان تھی۔ ۔ ۔ ۔ امی سے پتا چلنے پر میں نے جانا کہ میں "مغل" ہوں۔ ۔ ۔ اس کے بعد جو سوال میں نے امی سے کیا وہ یوں تھا جیسے کوئی اضطراب میں الجھی ہوئی بچی اب بس صحیح، غلط میں تمیز چاہتی ہے۔
امی اسکا مطلب کیا ہے؟ ہم اچھے ہیں یا برے؟
امی نے مجھے سمجھایا کہ ذات پات کچھ نہیں ہے بیٹا، اگر کسی چیز کی اہمیت ہے تو وہ آپکا کردار، آپکا اخلاق اور دوسروں کے ساتھ آپکا رویہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
اتنا آسان ہے؟ تو پھر مجھ سے اور کچھ کا تقاضا کیوں؟
میرے دل میں آئے سوالوں کے جواب مجھے نا ملے، دل میں بیٹھا ملال بڑھتا جا رہا تھا۔ اب میں ہر چیز میں "کیوں" کا اسیعمال کرنے لگی ۔ کیوں میرے پاس اچھا بستہ نہیں ہے؟ کیوں میرا یونیفارم الگ ہے؟ کیوں میرے پاس لنچ باکس نہیں ہے؟ کیوں میرے پاس اچھی قلم نہیں ہے؟ کیوں میں ایسی ہوں؟ کیوں سب ویسے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔ میری تعلیم کا معیار کم سے کم تر ہوتا گیا اور ذین میں سوالوں کا ہجوم لمحہ بہ لمحہ بڑھتا رہا۔ اب میرے سب دوستوں کی پہچاں ۔ ۔ ۔"آرائیں" ، "راجپوت" اور "چودھری" تک آ کر ٹھہر جاتی ۔ ۔ ۔ میری زندگی پیچیدہ ہوتی جا رہی تھی۔ کہا جاتا ہے الجھا ہوا انسان نہ آر ہوتا ہے اور نہ پار ۔ ۔ ۔ میں نے جھوٹ کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ اپنے اپ کو دوسروں کے معیار پر اتارنے کے لیئے یہی ایک راستہ نظر آیا ۔ ۔ ۔ میں ایک لیمپ کی طرح جب تک جلتی میرے گرد ہر چیز عیش پرست لگتی اور جب بجھتی تو اکیلی اور تنہا۔ جو دوست میں نے کھوئے جھوٹ کے بل بوتے پہ پائے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن جھوٹا کب تک جھوٹ بکے گا۔ ۔ ۔ میں نے ایک مضبوط ارادہ کر کے اپنے قرابت داروں کے سامنے سچ اگلا۔ کئی سر جھکائے خاموشی کے ساتھ اپنے راستے بدل گئے اور کئی نے مجھ میں اپنی جھلک دیکھ کر میری "پہچان" کو اپنایا۔

"ہم "مسلمانوں" کی زندگی اتنی ہی رہ گئی ہے؟ آرائیں۔آرائیں کے ساتھ، موچی۔ موچی کے ساتھ؟ امیر۔امیر کے ساتھ، غریب۔غریب کے ساتھ ۔ خدا کی رسی کو جو ایک ساتھ تھامنا تھا اس کے ٹکڑے کر کے سب نے اپنے انداز سے راستے بنا رکھے ہیں۔ دکھ کی بات ہے کہ قوموں کا زوال "انتشار" کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور افراد جو قوم بناتے ہیں وہ ایک ہو کر بھی ایک نہیں۔ میں نے اپنے خیالات سے کئی سوچوں کو بدلا لیکن جب حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی تو انسان کا کیا بھروسہ۔ کچھ لوگوں کے لیئے میں آج بھی پرانی ارم ہوں اور چند کے نزدیک میری "پہچان" میرے قیمتی کپڑے، میرا گھر، میری ذات، میری کار، میرے ابو کی جاب اور میری استطاعت تک محدود ہے۔
آج دوستوں کے ساتھ میں شفاف ہوں، اور "جان پہچان" والوں کے ساتھ شرمندگی میں لپٹی ہوئی میری ایک "پہچان" ہے اور بالآخر میں ارم ہی ہوں اور مسلمان ہونے کے علاوہ آج میری بھی "پہچان" ہے۔ تو بتائیں آپکی "پہچان" کیا ہے؟