Afsana 018 ٹھیس مصنف نامعلوم

ٹھیس

مصنف نامعلوم

"ایک دن کی چھٹی ہوجاتی تو کون سا بقراط بننے سے رہ جاتیں۔ ۔ ۔"اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی اماں نے ایک ناراض نظرڈال کر خفا لہجے میں کہا۔ ۔
وہ چادر اتارتی کمرے میں چلی آئی۔ کچھ دیر میں اماں کھانا لے آئیں گی۔ وہ جانتی تھی۔ ۔
"پتا بھی تھا آج بہت کام ہوگا۔ ۔ ۔" اسےپتا تھا۔ ۔ ۔ بات کام کی نہیں تھی۔ ۔ ۔
"ابھی کروادیتی ہوں اماں۔ ۔ "اماں کا جواب معلوم ہوتے بھی اس نے کہا۔
"نہیں اب رہنے دو۔ ۔ پہلے ہی اتنی دھوپ میں پیدل چل کر آئی ہو۔ ۔ اب چولہے کے آگے جھلسنے کی ضرورت نہیں۔ ۔"
"تھوڑی دیر آرام کرلو۔ ۔ پھر نہا کر کپڑے بدل لینا۔ ۔ "اماں نے اس کے ہاتھ سے برتن لے کر کہا اورباہر نکل گئیں۔ ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
"ماشاءاللہ بہت ہی سمجھدار بچی ہے آپ کی۔ ۔ ۔ اور سگھڑ بھی۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ "وہ کھڑکی سے ہٹ کرکچن میں آگئی۔ ۔پوری بات سننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ۔ وہ سنے بغیر بھی جانتی تھی۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
کیا رہا پھر نیک بخت؟"ابا اماں، چھت پر تھے۔لائٹ نہ ہونے کیوجہ سے۔ ۔ ان کی مدھم آواز صحن میں صاف سنی جارہی تھی۔
"وہی جو پہہلے 5،6 مرتبہ۔ ۔ ۔"اماں کی آدھی بات کا مفہوم پورا تھا۔
"مگر یہ تو خداکی طرف سے۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ اپنی فری ماشاءاللہ، ۔۔پڑھی لکھی سمجھدار۔ ۔ ۔"اماں کی نظر نے ابا کو بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ۔ ۔
"فری کیا کہتی ہے؟"اب کے ان کا لہجہ تھکا ہوا سا تھا۔ ۔
"وہی بےجا ضد۔ ۔ ۔"اماں نے ٹھنڈی آہ بھر کے آسمان کو تکا۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
لائٹ آگئی تھی۔ وہ کمرے میں آکر لیٹ گئی"بے جاضد؟۔ ۔ اس نے سوچا۔ ۔ "As Is قبول کیے جانے کی خواہش کیا بےجا ہے؟۔ ۔ اماں کیوں نہیں سمجھتیں۔ ۔ اگر یہ خامی ہے تو میری اختیاری تو نہیں۔ ۔ ۔ پھر اس کےلیے میں معتوب ہوں۔ ۔ ۔تو جس غلطی میں میرا ہاتھ ہوگا۔ ۔ ۔ اس پر کیسا سلوک کریں گے۔ ۔ ۔ "
ذہن بٹانے کو اس نے ڈائجسٹ اٹھالیا۔ ۔
"گھور سیاہ آنکھیں۔، گلابی نازک لب۔ شہد گھلی رنگت، سانچے میں ڈھلا سراپا۔ ۔ ۔ "اس نے اکتا کر ڈائجسٹ بند کردیا۔ ۔ "یہ سب ہیروئنز یا تو رشتےدار ہیں یا جڑواں بہنیں۔ ۔ "وہ سوچ کر ہنسی۔ ۔ اور ٹی وی لگا لیا۔ ۔ اس وقت کسی پروگرام کے وقفے میں کسی بیوٹی کریم کا اشتہار آرہا تھا۔ ۔ ۔ وہ کچھ دیر دیکھتی رہی۔ ۔ پھراماں کے سیڑھیاں اترنے کی آواز آئی ۔ ۔۔ ۔تو وہ ٹی وی آف کرکے آنکھیں موند کر سوتی بن گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اماں نے آہستہ سے دروازہ کھول کر اسے دیکھا۔ ۔ ۔ پھر دھیرے قدموں قریب آ کر۔ ۔ اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ۔ ۔ اور دودھ کا خالی گلاس اٹھا کر باہر نکل گئیں۔ ۔
اس کی آنکھوں کے گوشے جانےکیوں بھیگ گئے۔ ۔
بچپن میں بھی جب کوئی نیا ملنے والا اسے دیکھ کر "فصیحہ! یہ تمہاری بیٹی ہے؟" کہتا ۔ ۔ تو اماں اسی طرح اسے ساتھ لگا کر پیشانی چوما کرتیں۔ ۔ ۔ شاید دوسرے کی نگاہوں کے مفہوم کی تلافی کے لیے۔ ۔ ۔ وہ جیسی ہے ان کے لیے سب سے پیاری اور اہم ہے۔ ۔
"پر اب میں بچی نہیں رہی اماں۔"وہ تلخی سے دل میں خود پر ہنسی۔ ۔ ۔اس نے کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کی۔ ۔ ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
"25 کو شاکرہ آرہی ہے۔ ۔ "اماں نے ابا کو ناشتہ دیتے ہوئے اطلاع دی۔ ۔ "ایک ہی بیٹا ہے۔ ۔ خیر سے اچھی نوکری لگا ہوا ہے۔ ۔ "خوشی ان کے چہرے، لہجے ہر انداز سےچھلک رہی تھی۔ ۔ اس نے گھر سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔ ۔ ۔ اماں ابا دونوں ہی اسے دیکھ رہے تھے۔ ۔ اس نے دھیرے سے سلام کیا اور باہر نکل گئی۔ ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
بس سےاتر کر اس نے رومال سے پیشانی پر بہتا پسینہ خشک کیا۔ ۔ ۔ اور گھر کی طرف قدم بڑھادیے۔ ۔
"ارے بلاوجہ بلیک انک خریدنے کا خرچہ کیا۔ ۔ ۔ 'کسی سے'رومال مانگ کر نچوڑ لیتے"۔ ۔ دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے دو لڑکوں مین سے کسی نے جملہ کسا۔
اس کے قدم ایک لمحہ کو تھمے۔ ۔ ۔ پھر لب بھینچ کر اپنی گلی کی طرف مڑ گئے۔ ۔ ۔
"آپ کی بیٹی بہت سگھڑ ہے مگر۔ ۔ ۔ "
"کسی سے رومال لےکر نچوڑ لیتے،۔۔ "
"شاکرہ 25 کو آرہی ہے۔ ۔ ۔"
اس نے دل میں حساب لگایا۔ ۔ آج انیس تھی۔۔ ۔
اسے اماں کا نشتہ بوسہ۔ ۔ ابا کا تھکا ہارا لہجہ۔ ۔ اور صبح کی فکرمند نگاہیں یاد آئیں۔ ۔
"جی بی بی!"دکاندار کی آواز پر وہ چونکی۔ ۔ وہ موڑ پر کھلی دکان پر کھڑی تھی۔ ۔ ۔
اس نے کاؤنٹر پر لٹکتے کارڈز اور پوسٹرز کو دیکھا۔ ۔ اور ایک نوٹ نکال کر کاؤنٹر پر رکھا۔ ۔
اور دھیرے سے کہا:"فیئر اینڈ لولی"