Afsana 019 مہلت از حرف دعا

مہلت
از حرف دعا (نیو یارک، امریکہ)

آہ۔ ۔ میں تو سب جانتا تھا۔ پھر بھی۔ ۔ پھر بھی میں نے۔ ۔
اور اب۔ ۔ اب مجھے منوں مٹی تلے دفنایا جاچکا ہے۔ ہر طرف اندھیرا ہے۔ گھپ اندھیرا اور میرے علاوہ اس گھپ اندھیرے میں کوئی نہیں۔ میں اپنے ساتھ کچھ نہ لا سکا۔ میں بالکل خالی ہاتھ ہوں۔ میری دولت، شہرت مرتبہ کچھ میرے ساتھ نہیں۔ ۔ ۔ اور اعمال؟
ہر طرف مٹی ہے اور یہ مٹی میرے نتھنوں میں گھستی چلی جارہی ہے۔ اور اس کے بعد کیا ہونا ہے؟ چند لمحوں میں مجھ سے حساب مانگا جائے گا۔ حساب۔ ۔ ہاں حساب۔ اور میں کیسے دوں گا حساب؟ کیا کسی بات کا میرے پاس کوئی جواب ہے؟ یقیناً نہیں!
مجھ سے کلمہ سنانے کا کہا جائے گا۔ ہاں کلمہ۔ کلمہ تو یاد ہے مجھے۔ لیکن۔ ۔ ۔لیکن یہ میری زبان اکڑتی کیوں جارہی ہے۔ اگر میں کلمہ نہ سنا پایا تو۔ ۔ ۔ تو پھر۔ ۔ ۔ پھر کیا ہوگا؟
میں نہ کلمہ سنا پاؤں گا۔ نہ کسی بات کا حساب دے پاؤں گا۔ پھر ۔ ۔ ۔ پھر میری قبر تنگ کردی جائے گی۔ مجھ پر دوزخ کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ اور میں ۔ ۔ ۔میں قیامت تک اپنے اعمالوں کی سزا بھگتتا رہوں گا لیکن پہلے تو مجھے حساب بھی دینا ہے۔ مجھے اپنے جسم پر کیڑے رینگتے محسوس ہورہے ہیں۔ ہاں یہ معمولی کیڑے جنہیں میں قدموں تلے روندتا گزر جاتا تھا۔ آج مجھے کس اذیت سے دوچار کر رہے ہیں۔ تو کیا واقعی عذابِ قبر شروع ہوچکا ہے؟ مگر ابھی تو حساب دینا ہے۔ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟
آہ۔ ۔ ۔ہاں شاید مجھ جیسوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ کاش ۔ ۔کاش مجھے ایک موقع اور مل سکتا۔ صرف ایک موقع۔ تو میں۔ ۔ ۔ تو میں سب جانتے بوجھتے یہ سب نہ کرتا۔ ۔
یا اللہ! تو تو معاف کرنے والا ہے۔ کیا۔ ۔ ۔کیا اب بھی میری معافی قبول ہوسکتی ہے؟ تو مجھے معاف کردے! صرف ایک بار معاف کردے! لیکن شاید نہیں۔ معافی کے دروازے تو موت کے ساتھ ہی مجھ پر بند ہوچکے ہونگے۔
"سبحان!"
آہ۔ ۔ہاں یہ مجھ بد نصیب کا ہی نام ہے۔ شاید اب حساب دینے کا وقت آگیا ہے۔

"دن کی روشنی کی قسم ہے اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے اور البتہ آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے اور آپ کا رب آپ کو (اتنا) دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا تھا؟ پھر جگہ دی اور آپ کو شریعت سے بے خبر پایا پھر (شریعت کا) راستہ بتایا اور اس نے آپ کو تنگ دست پایا پھر غنی کردیا پھر یتیم کو دبایا نہ کرو اور سائل کو جھڑکا نہ کرو اور ہر حال میں اپنے رب کے احسان کا ذکر کیا کرو۔" (سُورۃُالضحٰی)
"یہ آپ مجھے ہر وقت اس طرح کے ترجمے کیوں سناتے رہتے ہیں؟ میں جانتا ہوں آپ مجھے بہت برا انسان سمجھتے ہیں ۔"
اس کے طنزیہ انداز کے باوجود وہ مسکرادیئے تھے۔
"یہ تو تمہاری اپنی سوچ ہے کہ تم میری عام سی باتوں کو بھی طنزیہ سمجھنے لگے ہو۔ ورنہ اس طرح کی آیات اور ترجمے تو میں تمہیں بچپن سے سناتا آرہا ہوں۔"
"بابا! مجھے سب سمجھ آتی ہے۔ آپ بار بار ایسی باتیں کرکے مجھے میری اوقات یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے مان تو لیا ہے آپ کا احسان۔ لیکن کیا ضروری ہے کے ہر دفعہ میرے دکھ تازہ کردیئے جائیں؟ کتنی دفعہ اعتراف کروں کے ہاں اگر آپ مجھے گھر نا لاتے تو میں آج بھی کسی کچرے کے ڈھیر پر زندگی گزار رہا ہوتا۔ آج بھی لوگوں کا بچا سڑا ہوا کھانا کھارہا ہوتا یا فاقے کرتے ہوئے کب کا مرچکا ہوتا۔ اگر آپ مجھے بیٹوں کی طرح نہ پالتے تو میں آج اس مقام پر نہ ہوتا جہاں ہوں۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود میں صرف آپ کا شکر گزار ہوں۔" اس نے "آپ" پر زور دیتے ہوئے کہا اور اپنی بات ختم کرتے ہوئے ناراضگی سے انہیں دیکھنے لگا۔
"اور یہیں مجھے تمہاری بات سے اختلاف ہے۔ آخر تمہیں اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونے میں کیا تکلیف ہے؟ دینے والی ذات صرف اس کی ہے۔ مجھے تو اس نے صرف ایک وسیلہ بنایا تھا۔" وہ اب بھی بہت تحمل سے اس کی بات کا جواب دے رہے تھے۔ وہ جس راہ پر چل پڑا تھا وہ انہیں تکلیف میں مبتلا کررہی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی ہمیشہ ایسے ہی میٹھے لہجے میں بات کرتے تھے مگر پتا نہیں کیوں اب ان کے بیٹے کو ان کی باتیں طنز لگنے لگی تھیں۔
"ہونہہ۔۔۔دینے والی ذات۔ میرے لیے تو صرف چھیننے والی ذات ہے۔ اگر وہ دینے والا ہوتا تو مجھ سے میرے ماں باپ کیوں چھینے؟ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کو خون میں لتھڑے دیکھا تھا۔ کیا قصور تھا اس کا جو اس کو رکشے سمیت آگ لگادی گئی تھی؟ مگر میں اس وقت کچھ نہیں کرسکتا تھا!
میں نے ۔ ۔ ۔ میں نے اپنے سامنے اپنی بیمار ماں کو سسکتے اور مرتے دیکھا تھا۔ میں بے بس تھا۔ میں تب بالکل بے بس تھا۔ میں انہیں نہیں بچاسکا۔ تب۔۔تب میری ماں بھی کہتی تھی کے وہ دینے والی ذات ہے۔ نوازنے پر آئے تو پھر کچھ ناممکن نہیں۔ مگر اس نے مجھے نہیں نوازا۔ اللہ نے مجھے کبھی بھی نہیں نوازا۔ غربت میں پیدا کیا۔ ۔ ۔ اور غربت کھاگئی میرے ماں باپ کو۔" وہ ہزیانی انداز میں چیخنے لگا تھا۔ "نفرت ہے مجھے غربت سے۔ ۔ ۔ اور وہ دینے والا۔۔۔کہاں تھا اللہ جب میں نے اسے پوری شدتوں سے پکارا تھا؟ کیا گناہ تھا میرا جو اس نے مجھ سے سب کچھ چیھن لیا؟ نہیں کرسکتا میں اس کا شکر۔ اور کروں بھی کیوں؟ اس نے مجھے کچھ نہیں دیا جس کا شکر کرنا مجھ پر فرض ہو۔" وہ خود ہی تھک کر چپ ہوگیا اور زمین کو گھورنے لگا۔
انہوں نے اسے بولنے دیا تھا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کے وہ غصے میں کسی کی نہیں سنتا۔ مگر انہیں اس کے الفاظ سے افسوس بھی ہورہا تھا۔
"تم ہمیشہ ایسی ہی کفر کی باتیں کرکے اللہ کے عذاب کو آواز دیتے ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو تمہارے ساتھ بہت برا ہوا؟ اور بقول تمہارے اللہ نے تمہیں کسی چیز سے نہیں نوازا۔ اب اگر میں تمہیں نا شکرا کہوں گا تو برا مان جاؤ گے۔ ورنہ اگر ایمان داری سے سوچو تو اس وقت تمہارے پاس کس شے کی کمی ہے؟ اعلٰی تعلیم ہے۔ اپنا بزنس ہے۔ پھر تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟" انہیں اس کا نا شکرا پن رنج میں مبتلا کرگیا تھا۔
"ماں باپ کی خواہش ہے! دے سکتا ہے وہ مجھے میرے ماں باپ؟" اس کے انداز میں اب چیلنج آگیا تھا۔
"بڑے افسوس کی بات ہے۔ کیا میں نے تمہیں باپ بن کر نہیں پالا؟ شاید میں نے ہی کوئی کمی چھوڑ دی۔ ورنہ میں تو تمہیں اپنا سگا بیٹا ہی سمجھتا ہوں اور تمہاری تربیت۔ ہاہ۔ میں وہ بھی اچھی نہ کرپایا ورنہ آج میرے سامنے بیٹھے تم ایسے کفریہ کلمات نہ کہہ رہے ہوتے۔" انہوں نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔
"آپ مت کیا کریں مجھ سے ایسی باتیں۔ اسی لیے میں نے الگ رہنا شروع کیا تھا۔ اب کیا ملنے بھی نہ آیا کروں؟" پتا نہیں کیوں وہ آج کچھ زیادہ ہی چڑ چڑا ہورہا تھا۔
"اور تم میرے سامنے ایسی باتیں مت کیا کرو۔ بہت دعا کرتا ہوں میں تمہارے لیے کے اللہ تمہارے دل میں اپنی محبت ڈال دے۔ اور پریشان کیوں ہو سب خیریت ہے نا؟" ان کے متفکر انداز پر وہ کچھ دیر چپ رہا۔
"بس وہ ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ وہیں جارہا تھا سوچا پہلے آپ کی طرف چکر لگالوں۔"
"ہاں اچھا کیا۔ کونسی لوکیشن ہے؟ وہی کچی آبادی کے پاس والی نا؟"
"جی وہی۔ وہی مسئلہ نمٹانے جارہا ہوں۔ وہ لوگ قبضہ تو ایسے جمائے بیٹھے ہیں جیسے ان کی خریدی ہوئی پراپرٹی ہو۔" اس کا موڈ مزید خراب ہوگیا تھا۔
"کچھ وقت دے دو۔ اب تو تم نے خرید لی نا۔ اب تو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ بس کہہ دو کچھ دن تک اپنے رہنے کا کہیں اور بندوبست کرلیں۔ وہ لوگ بھی کیا کریں۔ غربت اتنی ہے۔ ایسے تھوڑی کہیں بھی جھونپڑیاں لگا کر بیٹھ جائیں گے۔"
"جو کرنا ہے کرتے رہیں۔ میری طرف سے بھاڑ میں جائیں۔ مجھے تو کل سے کنسٹرکشن شروع کروانی ہے وہاں۔ پورا شہر پڑا ہے جہاں دل چاہے چلے جائیں۔" وہ کچھ زیادہ ہی بیزار تھا۔
"اب تم پھر غلط بات کررہے ہو۔ کچھ دن کا وقت دینے سے تمہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ مگر ان غریبوں کا سوچو ایک دن میں اٹھ کر کہاں چلے جائیں؟" انہیں اس کا یہ انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
"غریب۔۔غریب۔۔غریب۔ نفرت ہے مجھے غربت کے نام سے۔ کرلیں گے کچھ نا کچھ ۔ میں نے بھی تو کرلیا تھا نا جب میرے ماں باپ کے مرتے ہی مجھ سے وہ جھونپڑی تک چھین لی گئی تھی۔" وہ پھر سے تلخ ہونے لگا۔
"میں تمہارے لیے دعا کے علاوہ کچھ نہین کرسکتا۔ تم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلا باقی سب سے کیوں لے رہے ہو؟"
" میں کسی سے کوئی بدلا نہیں لے رہا۔ بس مجھے ان غریبوں سے کوئی سروکار نہیں رکھنا۔ آپ کے انہی خدمتِ خلق کے کاموں کی وجہ سے گیا تھا میں یہاں سے۔ مگر آپ کو پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔"
"اب اس میں بھی میرا قصور ڈھونڈ لو۔ میں اگر غریب بچوں میں علم بانٹ کر خوش ہوجاتا ہوں تو اس سے بھی تم چڑتے ہو۔" وہ اب ناراض ہونے لگے تھے۔
"اچھا اب میں چلتا ہوں۔ آپ کا بھی غریبوں میں علم بانٹنے کا ٹائم ہوگیا ہے۔ آپ کرتے رہیں اللہ کو خوش اب تک تو اس نے کچھ دیا نہیں آپ کو۔ جہاں آج سے بیس سال پہلے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ اور میں نے اللہ سے مانگے بغیر بھی سب حاصل کرلیا۔"
"تم نے خود حاصل کیا؟ تمہیں ایسی باتیں کرتے دیکھ کر مجھے شدید افسوس ہوتا ہے اپنے نام کا مطلب پتا ہے تمہیں؟ پاکی، حمد، تعریف! اور تمہارے منہ سے کیسے الفاظ نکلتے ہیں؟
اس کی مرضی کے بغیر ایک تنکا بھی نہیں ہل سکتا۔ لیکن چھوڑو اس وقت یہ بحث فضول ہے۔ میں صرف یہی کہوں گا کے اللہ تمہیں ہدایت دے اور تماری ایسی باتوں کو معاف فرمائے۔" انہیں بات سمیٹتا دیکھ کر وہ بھی اٹھ گیا تھا۔

وہ سارے راستے یہی سوچتا آیا تھا کے جلد سے جلد اپنی پراپرٹی خالی کروانی ہے۔ یہ اس کا تیسرا بڑا پروجیکٹ تھا۔ اور پچھلے دو کی طرح وہ اسے بھی بالکل پرفیکٹ بنانا چاہتا تھا۔ پراپرٹی خریدی جاچکی تھی۔بلڈنگ بلو پرنٹ وغیرہ سب تیار تھا بس اسے ان جھونپڑی میں رہنے والوں کو وہاں سے ہٹوانا تھا پھر وہاں شہر کی سب سے بڑی کمرشل بلڈنگ بننی تھی۔ اس نے کنسٹرکشن سائٹ پر ہی اپنے آفس کے کچھ لوگوں کو بلایا تھا۔ اب وہاں پہنچا تو وہ لوگ پہلے سے لوگوں میں گھرے ہوئے تھے۔ وہ بھی تیز تیز چلتا چند ہی لمحوں میں ان تک پہنچ گیا تھا۔
"دیکھیں فائنل ڈسیژن تو سر کا ہی ہوگا۔ آپ لوگ انہی سے بات کرلیں۔" اس کے پروجیکٹ مینجر نے ان لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبزول کروادی تھی۔
"کیا مسئلہ ہے بھئی؟ سلیم صاحب نے بتا تو دیا ہوگا تم لوگوں کو کے بس آج کا دن ہے۔ کل یہاں کنسٹرکشن شروع ہورہی ہے۔ آج ہی اپنا سامان سمیٹو ورنہ پھر کل ہم ذمہ دار نہیں ہونگے۔" اس نے تیز لہجے میں بولتے ہوئے حکم صادر کیا۔
"صاحب۔ کچھ تو مہلت دیں۔ ہم غریب لوگ کچھ گھنٹوں میں کہاں جائیں گے؟ بس کچھ دنوں کا وقت دے دیں ہم تب تک کوئی اور جگہ ڈھونڈلیں گے۔ بلکہ یہاں کی صفائی بھی کرجائیں گے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔" ایک ذرا ادھیڑ عمر کے آدمی نے جو سب کا لیڈر بنا کھڑا تھا ملتجی انداز میں اس سے کہا۔ مگر وہ ان کی طرف دیکھ تک نہیں رہا تھا۔ اسے آس پاس گھومتے پھٹے پرانے کپڑے پہنے بچے اور گند سے اٹھتی بو پر شدید غصہ چڑ رہا تھا۔
"دیکھو۔ میرے پاس فالتو ٹائم نہیں ہے جو میں یہاں کھڑے ہوکر ایک ایک کی بکواس سنوں۔ ابھی دس بجے ہیں۔ پورا دن پڑا ہے۔ شام تک اپنا سامان سمیٹو اور دفعہ ہوجاؤ یہاں سے! اس سے زیادہ مہلت کی مجھ سے توقع مت رکھنا۔ کل صبح جب ہم یہاں آئیں تو یہ جگہ خالی ملنی چاہئیے۔ ورنہ میرے پاس اسے خالی کروانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔" اس نے نہ سامنے والے کی عمر دیکھی تھی نا اپنے بات کرنے کا انداز۔ اس کے لہجے میں اتنی حقارت تھی کے کچھ دیر کو اس کا ساتھ دیتے آفس ورکرز بھی شرمندہ ہوگئے تھے۔
"صاحب آپ ہماری بات تو پوری سن لیں۔ برابر والی زمین پر بھی کام شروع ہوگیا ہے ابھی ایک ماہ پہلے ہم نے ادھر سے ہٹاکر یہاں جھونپڑیاں لگائی تھیں۔ تب تو آپ کی بلڈنگ کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ یہ برابر والوں نے بھی ہمیں دو ہفتے کی مہلت دی تھی۔ آپ کچھ تو خیال کریں۔ ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جائیں گے؟"
"میں نے کہا نا! تمہیں سمجھ نہیں آئی میری بات۔ تم سب چاہے بھاڑ میں جاؤ۔ مجھے یہ جگہ کل تک خالی چاہیئے اور بس!" وہ غصے سے چیخنے لگا تھا۔
"آپ نے تو حکم دے دیا ہے۔ ہم کوشش بھی کریں گے۔ ہمارا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ وہی مدد کرے گا۔ آپ جیسے لوگوں سے کیا مہلت مانگنی۔" اب وہ آدمی بھی اس کی طرف سے نا امید ہوچکا تھا اس لیے سب کو تسلیاں دینے لگا۔
"ہاں اللہ ہی مدد کرے گا تم جیسوں کی۔ مانگ کیوں نہیں لیتے اللہ سے؟ میری منتیں کیوں کررہے تھے؟ اگر اللہ ہی دے گا تو اس سے مانگا کرو نا۔" یہاں بھی اللہ کا ذکر آنے پر وہ ویسے ہی چڑ گیا تھا جیسے صبح میں بابا کے منہ سے سن کر ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ سے غریبوں سے نفرت کرتا آیا تھا۔ ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں گھومتے۔ اپنی جیب نوٹوں سے بھری ہونے کے باوجود اس نے کبھی کسی فقیر کے ہاتھ پر ایک سکہ تک نہ رکھا تھا۔ وہ ہمیشہ انہیں حقارت سے جھڑک دیا کرتا تھا۔
اس کی باتیں سن کر وہ آدمی مزید بولا تھا۔
"صاحب اسی سے مانگ رہے ہیں۔ اس کے حکم کے آگے تو کچھ نہیں چلتا۔ جب تک اس کا حکم نہ ہو آپ یہاں سے نہ ہمیں نکال سکتے ہیں نہ کچھ بنا سکتے ہیں۔" اپنی منتوں کا کوئی فائدہ نہ ہوتے دیکھ کر اب وہ ادھیڑ عمر شخص بھی دو بدو جواب دے رہا تھا۔
"اچھا واقعی؟" وہ طنزیہ انداز میں بولا تھا۔

"اس کے حکم کا غلام نہیں ہوں میں۔ سنا تم سب نے! روک کر دکھاؤ مجھے۔ بلکہ اب مجھے یہ جگہ ابھی اور اسی وقت خالی چاہیئے۔ مانگو اللہ سے۔ کہو اس سے کے روک کر دکھائے میرا پروجیکٹ۔ یہ میری پراپرٹی ہے۔ یہاں کے فیصلے میں کروں گا۔ تم غریبوں کے ساتھ یہی مصیبت ہے۔ کام نہ ہوتا دیکھ کر اللہ کو بیچ میں لے آتے ہو۔ وہ سن تک نہیں رہا تمہاری۔ ۔ ۔کہو اس سے کے روکے مجھے! " شاید ابھی وہ اور چیختا مگر اس کے سامنے کھڑے لوگ ایک دم اوپر کی طرف دیکھ کر چیخنے لگے تھے مگر اس سے پہلے کے وہ مڑ کر دیکھتا کوئی نوکیلی چیز اس کے سر میں گھستی چلی گئی تھی۔ اور پھر اس کے ہر طرف اندھیرا چھاگیا۔

اندھیرا۔۔۔ ہر طرف اتنا اندھیرا ہے۔ اور اس اندھیرے میں مجھے کوئی بچانے نہیں آرہا۔ میں بہت عزیت میں ہوں۔ عذابِ قبر کیا ہے یہ تو میں نے سن رکھا تھا۔ مگر یقین کب کیا تھا میں نے؟ میں تو اللہ پر ہی یقین نہیں رکھتا تھا۔ کیوں ہوگیا تھا میں ایسا؟ شاید پہ در پہ پڑنے والی مشکلات نے مجھے ایسا بنادیا تھا۔ مگر بابا تو کہتے تھے کے ہر حال میں شکر کرو۔ میں نے ان کی بات کیوں نہیں مانی تھی؟ میں اتنا نا شکرا کیوں ہوگیا تھا۔ اور خالی نا شکرا ہی نہیں۔ میں نے تو اپنے آپ کو سب کچھ سمجھنا شروع کردیا تھا۔ میں سمجھتا تھا میں ہر چیز پر قادر ہوں۔ اپنے سارے معاملات میں صرف میری مرضی چلے گی۔
میں سمجھتا تھا۔ ۔ ۔میں سمجھتا تھا کہ زندگی میں ملنے والی آسائشات میں نے خود حاصل کی ہیں صرف اپنے بل بوتے پر۔ مگر میں یہ کیوں بھول گیا تھا کے یہ سب بھی اسی دینے والے کی ذات تھی۔ اس نے مجھے نوازا تھا اور اتنا نوازا تھا کے میں اپنی اصلیت ہی بھولتا چلا گیا تھا۔
ہاں! اس نے مجھ سے میرے ماں باپ لے لیے تھے۔ مگر اس نے مجھے اس کچرے پر سسکنے کے لیے نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے بابا کو رحمت کا فرشتہ بنا کر بھیجا تھا۔ مگر وہ رحمت کا فرشتہ بھی مجھے بربادی سے نہ بچاسکا۔
آہ۔ ۔ ۔پھر تو ٹھیک ہوا میرے ساتھ! کتنی فرعونیت در آئی تھی میری باتوں میں۔ میں نے کیسے چیلنج کیا تھا اس ذاتِ باری تعالٰی کو۔ کے روک کر دکھائے مجھے۔ اور اس نے واقعی مجھے روک دیا تھا۔ اس نے مجھے ہمیشہ کے لیے روک دیا تھا!
"سبحان!"
اب مجھ سے کلمہ سنانے کو کہا جارہا ہے۔ کلمہ ہاں۔ ۔ ۔لَا اِلَہَ اِلّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہ
میری آواز میرے حلق میں ہی دم توڑ رہی ہے۔ میں سنا سکتا ہوں! لَا اِلَہَ اِلّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہ
میں نے اپنی پوری جان لگادی تھی مگر کلمہ صرف میرے کانوں میں گونج پایا تھا میرے ہونٹ فقط ہل کر رہ گئے تھے۔
"سبحان! آنکھیں کھولیں! سر شاید انہیں ہوش آرہا ہے۔ یہ بار بار کلمہ پڑھ رہے ہیں۔"
میں کسی کے ہلانے پر بامشکل آنکھیں کھول پایا اور اپنے آپ کو ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑا دیکھ کر بے یقینی سے آنکھیں جھپک کر دیکھا۔ مگر وہاں کا منظر نہیں بدلا تھا۔ تھک کر میں نے ایک دفعہ پھر آنکھیں موند لیں تھیں۔ "کیا میں زندہ ہوں؟"
اس کی بڑبڑاہٹ سن کر پاس کھڑا ڈاکٹر پھر سے بولنے لگا تھا۔
"آپ ہاسپٹل میں ہیں۔ آپ کے سر میں لوہے کا سریا لگا تھا۔ آپ کے آفس کے لوگ بتارہے تھے کے برابر والی بلڈنگ میں کنسٹرکشن ہورہی تھی وہیں اوپر سے گرا تھا۔ آپ کے آفس کے لوگ آپ کو زخمی حالت میں یہاں لائے تھے۔ اور اب مسلسل اٹھارہ گھنٹوں کی کوششوں کے بعد آپ کو ہوش آیا ہے۔ آپ کے والد صاحب بھی یہیں موجود ہیں۔ نماز پڑھنے گئے ہیں ابھی میں بلا کر لاتا ہوں۔" اس کے جاتے ہی وہاں بالکل خاموشی چھاگئی تھی۔ اور سبحان کو اپنے اندر بھی ایسی ہی خاموشی سنائی دے رہی تھی۔
کیا مجھے ایک موقع اور دے دیا اللہ نے؟ کیا میری غلطیاں معاف کرنے والی تھیں؟ میں تو بہت گناہ گار تھا اس کا۔ پھر بھی اس نے مجھے نئی زندگی دے دی۔ نئی زندگی۔ ہاں! واقعی یہ نئی زندگی ہی تو ہے۔ ایک نیا سبحان۔ وہ حقارت سے بولتا، اپنے سے کمتر لوگوں کو جھڑکتا، اللہ سے نا امید رہنے والا سبحان مرگیا ہے۔ ان اٹھارہ گھنٹوں میں میں نے زندگی سے موت اور پھر موت سے زندگی کا سفر طے کیا ہے۔ اور بے شک وہ نہایت ہی رحیم ہے۔ اور اب مجھے وہ بلڈنگ بنانی ہے۔ مگر کسی کمرشل بزنس کے لیے نہیں ان لوگوں کے لیے جو پکی چھت کو ترستے ہیں، جنہیں صاف پانی میسر نہیں ہوتا، جو میرے ماں باپ کی طرح سسکتے، ترستے ہوئے زندگی گزارتے ہیں اور تڑپتے ہوئے یہ دنیا چھوڑنے پر مجبور کردیئے جاتے ہیں۔
اس نے مجھے معاف کردیا تھا۔ وہ لوگ مجھ سے مہلت مانگ رہے تھے مگر میں نے سفاکی سے انکار کردیا تھا اور اب جب میں نے اللہ سے مہلت مانگی تو میں نا امید نہیں لوٹا تھا۔ واقعی وہ نوازنے والا ہے!
مُحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ “اللہ تعالٰی کو گناہگار توبہ کرنے والے بندے سے زیادہ کسی کی آواز محبوب نہیں۔ جو کہہ رہا ہو کہ، “اے میرے رب!“ تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ، “اے میرے بندے میں سامنے ہوں، مانگ جو مانگتا ہے تو میرے نزدیک ایسا ہے جیسے میرے بعض فرشتے، میں تیرے دائیں، بائیں، اوپر اور تیرے دل سے بھی قریب ہوں، اے میرے فرشتوں گواہ رہو، میں نے اسے بخش دیا۔ (مکاشفۃ القلوب)