Afsana 023 قسمت از مونا سید

قسمت
از مونا سید (کراچی، پاکستان)
یہ ایک بڑا شہر ہے 'ویسا ہی جیسے عموماً بڑے شہر ہوتے ہیں ۔۔ فٹ پاتھوں پر لوگوں کا ہجوم ' سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام 'فضا دھوئیں سے پُر ' اتنا دھواں چاروں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ پائیں ۔۔۔ شاید دھوئیں سے سب ایک جیسے ہوگئے ہیں یا نظروں میں اتنی دھند ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔۔

" وے فیکے ! جلدی کر کام پر دیر ہورہی ہے ۔۔ اور پتا ہے نا میرا چندا کہ کام نا کرےہیں تو کھاوے کیا ؟"
"پر ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! " فیکے نے اپنے ہاتھ میں موجود باسی پاپے کو دیکھا جو اس کی ماں شاید کسی کچرے کے ڈھیر سے چن کر لائی تھی اور چائے کے نام پر کالا میلا پانی جس میں شاید نام کو بھی دودھ نہیں تھا ۔۔

" پر ماں منے بھوک لگےہے اس سے مارا پیٹ نا بھرے ہے۔۔"

" وے فیکے نی ہڈ حرام چل اٹھ ۔۔۔ " سرپر پڑنے والا ہاتھ کافی بھاری تھا اور دیکھے بغیر بھی فیکے کو علم تھا کہ یہ کون ہوگا اس کا باپ ۔ " منے پتا ہے تو روج روج دیر کرے ہے اس کارن بھی پیسے کم ملے ہے ۔۔ نہیں کام کرے گا تو کھائے گا کیا ۔
مگر تو ہڈ حرام ۔۔" ایک اور دھموکا سات سالہ فیکے کی آنکھوں میں آنسو لے آیا ۔۔ یہ لوگ ذات کے کیا کہلاتے تھے یہ تو یاد نہیں مگر ہاں ماں کچرا چنتی تھی اور باپ چرس پی کر زندگی کے دن گزار رہا تھا ۔۔ اور بچوں کا ڈھیر زندگی گزارنے کی کوشش میں تھا کم عمری سے یہ کسی نا کسی کام میں لگ جاتے تھے تاکہ اپنا پیٹ اور اپنے باپ کی چرس کا خرچہ اٹھا سکیں ۔۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
" ٹھیک ہے جی بچے وقت پر پہنچ جائیں گے ۔۔ جی جی آپ بالکل فکر مت کریں ۔ ایک دم ٹائم پر ۔ بس ہم کو یاد رکھئے گا۔۔ جانتے ہیں نا کہ خدمت کا ہم کتنا ہدیہ لیتے ہیں ۔۔ جی جی بالکل ایک دم صاف ستھرے ہوں گے بچے ۔۔"

یہ تھے اسی شہر کے ایک یتیم خانے کے منتظم ۔۔ نام وہ کیا پوچھتے ہیں کچھ فرض کر لیجئے ۔۔ ہاں بچے حاجی صاحب حاجی صاحب کہتے تھے ۔۔ خشخشی داڑھی مہندی سے رنگی ۔۔ درمیانی قدوقامت' حلیہ وہی جو عموما ایسے حضرات کا ہوتا ہے ۔۔
" فضلو ۔۔۔۔۔ ارے اور فضلو ۔۔۔۔! کہاں مر گیا کم بخت ۔۔" چند لمحے پہلے شیرینی میں ڈوبی آواز اب کرخت ہوچکی تھی ۔۔ داڑھی میں جلدی جلدی چلتے ہاتھ ان کے اضطراب کو ظاہر کر رہے تھے ۔۔فضلو فوراً ہی حاضر ہوگیا تھا مگر حاجی صاحب کو پل بھر بھی دشوار تھا ۔۔

" بچے تیار ہیں ؟ " انہوں نے کڑک کر پوچھا ۔"

" جی ۔۔۔ حاجی صاحب ۔۔!"

" اچھےسے دیکھ لینا ' لباس صاف ستھرا ہو ان کا ۔۔بڑی پارٹی ہے جہاں آج انہوں نے جانا ہے ۔۔"

" بہتر صاحب ۔۔" فضلو نے کہا ۔ حاجی صاحب اپنے آگے کسی کا بولنا پسند نہیں کرتے تھے ۔۔

"اور ہاں ۔۔ اس عبدالقادر کو ضرور لے جانا ' لونڈے کی آواز بڑی پیاری ہے ویسے ۔۔۔"

یہ تیاری تھی ایک بہت بڑے گھر میں بچوں کو قرآن خوانی کے لیے بھیجنے کی ' جہاں کسی کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور آج سوئم تھا ۔۔ ظاہر آج کے تیز رفتار دور میں کس کے پاس ٹائم کے بیٹھ کر فاتحہ خوانی کرے ۔ تو بس ایک رواج چل نکلا تھا یتیم خانوں نے بچوں کو بلایا جاتا اس کا معقول منافع دیا جاتا اور دیگ کی بریانی ہوتی جو ان بچوں کا نصیب بنتی ۔ اللہ بھی خوش ' ذمےداری بھی پوری اور ثواب کا ثواب ۔۔ یتیم خانے کے منتطم اعٰلی کو بچوں کی خدمات کا بھرپور معاوضہ ۔۔ چلو جی یہاں بھی فوراً کا فوراً صلہ مل جاتا ۔۔اللہ اللہ خیر صلہ ۔۔۔
حاجی صاحب دانتوں میں خلال کرتے ہوئے مسکرارہے تھے ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
ٹریفک جام تھا ۔۔ اور یہ فیکے کے لیے نعمت ہوتا تھا ۔ وہ اس لیے کہ اس کا کام ہی تھا کہ گاڑیوں کے ونڈ اسکرین صاف کرنا ۔اس کے لیے ان کے پاس ایک بالٹی میں سرف ہوتا تھا اور دوسرے میں ایک چھوٹا وائپر جیسے ہی سگنل بند ہوتا فیکا اور اس جیسے کئی بچے گاڑیوں کے ونڈ اسکرین پر سرف والا پانی پھینک کر فوراً وائپر سے صفائی شروع کردیتے کچھ گاڑی والے مہربان ہوکر ہاتھ میں کچھ رکھ دیتے اور کچھ صرف گالیاں ۔۔
ایسے ہی ٹریفک جام میں یتیم خانے کی ہائی ایس بھی رکی ۔۔ فیکے نے فورا ہاتھ بڑھا کر اس پر پانی ڈالا اور صفائی شروع کردی ۔عموماً لوگ کچھ نا کچھ ہاتھ پر رکھ ہی دیتے تھے مگر اس بار عجیب ہوا ۔ ڈرائیور نے اتر کے فیکے کو ایک جھانپڑ رسید کیا ۔۔

" الو کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" جانے کہاں سے آجاتے ہیں حرام کے پلے ۔۔ چل ہٹ مردود یہاں سے ۔۔"

سرخ گال کے ساتھ آنسو بھری آنکھوں سے فیکے نے اس کو دیکھا ۔ یہ ذلت تو اس کا روز کا مقدر تھی ۔۔۔ مگر آج کچھ زیادہ ہی ہوا تھا ۔۔صبح باپ کے ہاتھ سے اور اب یہاں ۔ صبح بھی چائے کی پیالی گر گئی تھی اور دوسرا کپ ملنے کا تو سوال ہی نہیں تھا اور ابھی بھی بھوک نے جیسے اپنے پنجے گاڑھ لیے تھے ۔۔سب بچوں نے یہ منظر دیکھا اور ان میں عبدالقادر بھی شامل تھا ۔۔۔ جس نے بڑی نخوت سے سر جھٹکا تھا ۔۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔٭
حسب معمول محفل میلاد و قرآن خوانی کی تقریب شاندار رہی ۔۔۔عبدالقادر نے حسب معمول تلاوت کر کے سماء باندھ دیا تھا ۔۔ اس کا معاوضہ بھی الگ سے ملا کئی لوگوں نے واہ واہ کی ۔۔ صاحب محفل کو بھی داد ملی کہ واہ جی کیا شاندار سوئم کیا اپنی والدہ کا ۔۔ حالانکہ صاحب خانہ اپنے ایک بہت امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑ کر آئے تھے دعا میں شریک ہونے اوربچے ان کو پیٹ بھر کر بریانی اور ان کے ساتھ بھی کردی گئی ۔ ایک دیگ بریانی کی ۔فضلو بھی خوش تھا کہ آج تو اوپر کی کمائی ہوئی تھی ۔بھئی وہی نا جو عبدالقادر کو ملا تھا معاوضہ اس پر سب سے زیادہ حق اسی کا تو تھا ۔۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔٭
گاڑی حسب معمول اسی ٹریفک سنگل پر رکی تھی ۔۔ فیکا حسب معمول دوڑا تھا اپنا رزق سمیٹنے کو ۔۔ مگر ڈرائیور کو دیکھ کر صبح پڑنے ہونے والی عزت افزائی یاد آگئی تھی ۔۔عبدالقادر کو حسن اتفاق سے شیشے کی طرف والی سیٹ ملی تھی اس نے ایک میلے الجھے ہوئے بال جن کا رنگ دھوپ میں رہ رہ کر سنہرا ہوگیا تھا جھلسی ہوئی رنگت اور نہایت کمزور جسامت والے فیکے کو جس کے ہاتھ غلیظ ہورہے تھے اس کو ایک دم کراہیت کا احساس ہوا ۔۔
بے بسی سے فیکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ صبح سے آج فاقہ ہی چل رہا تھا ۔۔ہر طرف گاڑیوں کا شور تھا کہ ٹریفک جام معمول تھا آئے دن کا ۔۔ فیکے کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر عبدالقادر کا دل پیسجا ۔۔ اس کے دل میں پہلی بار اس گندے غلیظ بچے کے لیے ہمدردی جاگی ۔

" کیوں رو رہے ہو ۔۔؟ "فیکے نے تقریباً اپنے ہم عمر بچے کا سوال سنا ۔۔ بھوک نے اس کی آنتوں کو ایک بل دیا اور ایسی اینٹھن ہوئی کہ آنسو بھرآ ئے ۔
عبدالقادر پھر بے چین ہوا کہ معصومیت ابھی باقی تھی ۔۔

" بولو نا ۔۔۔ ! کیا ہوا ہے ؟"

" آج صبح سے ایک روپے کی بھی کمائی نہیں ہوئی ۔۔"

" تو ۔۔۔ ! عبدالقادر نے حیرانی سے کہا ۔۔

" گھر جاؤں گا تو بابا مارے گا اور یہ بھی کہ۔۔۔۔۔" اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر ان کو تر کیا ۔۔

" آج صبح سے مجھ کو کچھ کھانے کو بھی نہیں ملا ۔۔"

" تم اپنے گھر جا کر کیوں نہیں کھالیتے کھانا ۔۔؟ " عبدالقادر اپنی پیٹ کی آسودگی محسوس کر کے بولا ۔۔" کیوں بھوکے ہو تم ۔۔؟

فیکے نے ایک قہر بھری نظر اس پر ڈالی اور بولا ۔۔
"وہ اس لیے کہ میرے ماں باپ زندہ ہیں ۔۔ میں یتیم نہیں ہوں ۔۔۔"