Afsana 024 مومن از مرمیڈ

مومن
از مرمیڈ

مسٹر یہ کوئی مین شاہراہ نہیں ہے جو آپ اس طرح فل اسپیڈ سے گاڑی دوڑائے جارہے تھے۔ وہ تو شکر ہے کہ بچی کو زیادہ چوٹ نہیں آئی ورنہ۔۔۔۔"
وہ اور بھی نجانے کیا کچھ کہہ رہی تھی مگر علی کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
وہ بت بنا اسے دیکھ رہا تھا۔ "کتنا فرق ہے اس میں اور باقی لڑکیوں میں ۔ ایک "مومنہ " کو ایسا ہی ہونا چاھیے۔اس نے دل میں سوچا۔
اس دن وہ آفس سے گھر ہی آرھا تھا، جب روڈ بلاک ہونے کے سبب اسے قریب کے اس رستے سے گزرنا پڑا، کہ اچانک ایک بچی اسکی گاڑی کے نیچے آتے آتے بچی ۔ "وہ اگر بروقت بریک نہ لگاتا توشاید ۔۔
اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ سکا۔ یہ کوئی 'دینی مدرسہ' تھا ،جہاں اس وقت چھٹی کا ٹائم ہورہا تھا۔

"دیکھیں محترمہ"۔ میں مانتا ہوں کہ میری اسپیڈ تیز تھی مگر بچی خود میری گاڑی کے سامنے آئی تھی، جس میں بہرحال میرا قصور نہیں"۔
وہ کہنا چاھتا تھا ۔ ۔ مگر کہہ نہیں سکا۔ زبان جیسے تالو سے چپک کے رہ گئی تھی۔ کالے برقعہ میں ملبوس وہ لڑکی غالبا ان بچوں کی "معلمہ" تھی ، جو اس پہ اپنا غصہ نکال کے بعد اب بچی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔

"
۔۔۔۔+۔۔۔۔۔+۔۔۔۔
"
۔
"مومنہ" اس پیکر کا نام تھا جسے اس نے اپنے ذہن میں تراشا تھا، جس سے اسکی مراد ایک ایسی لڑکی سے تھی جو 'باحیا، باکردار، باپردہ اور دیندار ہو'۔ وہ کم و بیش اپنے آپ کو بھی "مومن" ہی گردانتا تھا ۔ اس کی ایک وجہ مذہب کی طرف اس کا جھکاؤ زیادہ تھا دوسرا پانچ وقت نماز کی پابندی کی بدولت وہ بہت سے گناہوں سے بھی ہمیشہ دورہی رہا تھا۔ مذہب میں خاص دلچسپی اور پھر ایک اچھی نسل کی تکمیل کے لیے اسے ہمسفر کے طور پر ایسی ہی لڑکی کی تلاش تھی، پہلے کبھی اس نے اس بارے میں نہیں سوچا تھا اس خیال سے کے اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ماں باپ کی خواہش ہوگی کہ بہو وہ اپنی پسند سے لائیں وہ انہیں اپنی پسند بتا کر دکھ نہیں دینا چاھتا تھا۔ مگر ماں نے یہ کہہ کر اسے مشکل میں ڈال دیا کہ:
" وہ جلداز جلد اس کی شادی کرانا چاہتی ہیں اور یہ بھی کہ بیوی وہ خود اپنی پسند سےچنے اس کی مرضی اور خوشی ان کو زیادہ پیاری تھی"
ماں کی یہ بات پریشان ہوکر اس نے کاشف کو بتائی ، کاشف اس کا کالج کے زمانے سے دوست تھا ایک ہی کالونی میں رہتے ہوئے اور ایک ہی طرح کے عادات واطوار ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی دوستی گہری ہوگئی تھی۔
"یار تم ایسے پریشان ہورہے ہو جیسے تمہیں صرف اپنے لیے نہیں سب باراتیوں کے لیے بھی دلہنیں ڈھونڈنی ہیں "۔اس کا چہرا دیکھ کر کاشف کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔

" اچھا تم ایسا کرو اپنے آفس کی ہی کسی لڑکی سے شادی کرلو۔ انڈرسٹیندنگ بھی ہوگی اورہر وقت کا ساتھ بھی رہے گا"۔اب کے قدرے سنجیدگی سے کاشف نے کہا۔

"نہیں یار " علی نے جواب دیا۔" میرے آفس میں کوئی بھی لڑکی اس قابل نہیں جسے میں اپنی بیوی بنا سکوں"۔
اچھا"؟ کاشف حیران ہوا۔
" سارا دن تو ان سب سے گپیں ہانکتے رہتے ہو،سب کی پسند ناپسند ،اسٹائل اور ہر بدلتے ہوئے رویے پر بھی تمہاری نظر ہوتی ہے اور اب کہتے ہو کہ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔"چل چھوڑ اُن سب کو"علی کا کوئی جواب نہ پاکر وہ پھر شروع ہوا۔۔

"کالج اور یونیورسٹی کا زمانہ یاد کرکتنی،لڑکیاں مرتی تھیں تم پہ ،تمہارا نام لیتے نہیں تھکتی تھیں ان میں سے ہی کوئی سلیکٹ کرلے"۔

علی کو اب بھی یاد تھیں وہ سب لڑکیاں جو صرف اس کے مسکراکر بات کرنے پر بھی جان نچھاور کرتی تھیں، اونچا لمبا قد، پر کشش شخصیت اور نیلی آنکھیں، خوبصورت تو وہ تھا ہی اوپر سے اسکافیشن کے ساتھ بدلتا ہیئر اسٹائل ، اس کی ڈریسنگ ٹائٹ جینز، ٹی شرٹس سے جھلکتی اس کی سکس پیک جیسی باڈی جو اس نے بڑے محنت سے اور باقائدگی سے جم جاجا کے بنائی تھی ۔ ان سب چیزوں کے ساتھ وہ کسی ہالی وڈ ہیرو سے کسی طوربھی کم نہیں دکھتا تھا۔ آج بھی اس کا اسٹائل وہی تھا۔ آفس سے گھر آکر وہ پھر وہی کالج بوائے بن جاتا تھا، اس سحر انگیز پرسنالٹی کے ساتھ اس کی پر کشش جاب، اس کے ایک اشارےپر کوئی بھی لڑکی اس سے شادی پر راضی ہوجاتی مگر وہ کوئی رسک نہیں لینا چاھتا تھا۔ سوال ساری زندگی کا تھا ، وہ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاھتا تھا

"نہیں یار ، مجھے ان میں سے بھی کسی لڑکی سے شادی نہیں کرنی ، مجھے اپنے ہی جیسی ایک شریف لڑکی سے شادی کرنی ہے "۔ وہ خیالوں سے نکل کر بولا۔

"تمہارے جیسی؟تم اور شریف؟"۔کاشف بے ساختہ ہنستے ہوئے بولا۔

"کیوں ؟" " میری شرافت پرتمہیں کوئی شک ہے؟" اُسے غصہ آنے لگا
"تمہیں پتہ ہے نہ کالج میں کیسے لڑکیاں مجھ سے دوستی کے لیے ترستی تھیں ، تو میں بھی صرف ان کا دل رکھنے کے لیے ان سے دوستی کرلیتا تھا، وہ خود میری طرف بڑھتی تھیں ، میں پہل نہیں کرتا تھا ،مگر میں نے کبھی کسی کی دوستی کا ناجائز فائدا نہیں اُٹھایا ، کسی سے جھوٹے وعدے نہیں کیے ،جو بھی بات کرتا تھا سب کے سامنے کرتا تھا ،چھپ کر نہیں کرتا تھا اور گفٹس بھی مناسب مواقع پر ہی دیتا تھا بلاوجہ نہیں دیتا تھا۔ تم لوگ ہی مجھے بُرا سمجھتے تھے ورنہ میری 'نیت' تو ہمیشہ صاف ہی ہوتی تھی۔ آج بھی آفس میں میرا رویہ وہی ہے تبھی سب لوگ میری شرافت کے گن گاتے ہیں "۔
کاشف کی سچائی کا وہ ہمیشہ قائل رہا تھا مگر آج اسے اسکی باتوں پر غصہ آرہا تھا

۔۔" ارے یار میں تو مزاق کررہا تھا" کاشف نے اسکے بگڑتے ہوئے موڈ کو دیکھ کر کہا۔
"میں تمہیں نہیں سمجھوں گا تو اور کون سمجھے گا"۔۔اور ویسے بھی تمہاری نیت صاف نہ بھی ہو تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماری شرافت تو ہماری نوکری ،گاڑی اور بنگلے کے پیچھے کہیں چھپ جاتی ہے ۔ جسے کوئی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا کوئی غلطی سےدیکھ بھی لے تو یہ کہہ کر پردہ ڈالا جاتا ہے کہ "لڑکا ذات ہے شادی سے پہلے تو سب لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں شادی کے بعد ذمہ داری پڑے گی تو خود بخود ٹھیک ہوجائے گا"۔ شرافت ناپنے تولنے کے سارے پیمائشی آلات تو صرف لڑکیوں کے لیے ہیں ، کسی کی معصومیت اور بے خبری میں کی گئی چھوٹی سی غلطی بھی اسکے کردار کو ہمیشہ کے لیے داغدار بنادیتی ہے"۔ معاشرے کی اس دوغلی سوچ پر کاشف کو ہمیشہ کی طرح افسوس ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔+ ۔۔۔۔۔۔۔۔+۔۔۔۔۔۔۔۔

اس ایکسڈنٹ والے واقعے کے بعد بارہا اُس نے اس رستے کے چکر کاٹے ،کبھی آتے ہوئے تو کبھی جاتے ہوئے آفس آف ہونے پر بھی وہ اسی رستے پر موجود پایا جاتا ، مسلسل نگرانی اور کچھ ذرائع سے اس نے یہ تک پتا کرالیا تھا کہ وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی ۔ دونوں بھائی چھوٹے تھے اور والد صاحب ایک سرکاری ادارے میں ملازم تھے۔ کافی قدامت پسنداور مذہبی گھرانہ تھا ۔ ان سب باتوں سے جہاں اسے مکمل اطمنیان حاصل ہوا تھا ، وہیں پر اُس لڑکی کی نظروں میں اُسنے اپنے لیے نفرت کی جھلک دیکھی تھی ۔ شاید اس کے اس طرح گھر تک پیچھا کرنے کو اس لڑکی نے بھی نوٹ کیا تھا، اس کے اسی انداز نے علی کے دل میں اس کے لیے عزت اور احترام بڑھادیا تھا۔ حالانکہ وہ بہت زیادہ خوبصورت نہیں تھی پر اُس کے پرسکون چہرے پر ایک نور سا تھا ۔ اسکا جھکا ہوا سر اور ہمیشہ جھکی ہوئی نظریں دیکھ کر ہی علی نے کچھ ارادہ کیا تھا آج اتفاق سے اُسے اکیلا دیکھ کر علی نے گاڑی سائیڈ پر کی اور اس کے پیچھے ہولیا۔

"سنیے ۔ دیکھیے ۔ سنئیے " علی کے تین ، چار بار پکارنے پر وہ رکی۔چہرے پہ ناگواری تھی ۔

" جی میرا نام علی ہے ، علی بن حشام ، میں ایک آٹو موبائل کمپنی میں بطور ڈیزائن انجینئر کام کرتا ہوں میں بہت دنوں سے آپ سے ایک بات کہنا چاہ رہا تھا وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔"۔
لڑکی کے چہرے پہ آتے غصے کے تاثرات دیکھ کر وہ اچانک ہی بوکھلا گیا تھا۔

"جی میں یہ کہنا چاھتا ہوں کہ۔۔۔۔"
وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا

"کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟"

"جی ؟" لڑکی نے بے یقینی سے اُسے دیکھا

"جی میں آپ سے شادی کرنا چاھتا ہوں "۔ علی نے اُسے یقین دلانے کی کوشش کی۔

"مگر میں آپ کو اس کے لیے مجبور نہیں کروں گا ، فیصلہ بہرحال آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہوگا"
"نہیں "۔ وہ لڑکی غصے سے کہتی جانے لگی ۔

"نہیں؟"۔علی کو جیسے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا ۔ وہ پھر سے اسکی طرف بھاگا۔

"دیکھیے میں نے اندازا لگایا ہے کہ آپ بہت شریف اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں"۔ پتہ لگایا کے بجائے اُس نے اندازا لگایا کہنا مناسب سمجھا۔
"یقینا آپ نماز ،روزے کی بھی پابند ہونگی مجھے اپنے لیے 'شریک حیات' کے طور پر آپ کے جیسے ہی ایک 'مومنہ' کی تلاش تھی، اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنی فیملی کو آپ کے گھر بھیجوں؟
"آپ چاھیں تو سوچ سجھ کے جواب دیں "۔

۔"میں نے کہا نہیں "۔ اس نے پلٹتے ہوئے کہا۔ اُس کا انداز قطعی تھا۔

"یہ سچ ہے کہ میں نماز ،روزے کی پابند ہوں اور اسکے ساتھ ایسی بہت سی باتوں کی بھی جس کا حکم میرے 'اللہ' اور اس کے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم ' نے دیا ہے۔ پر میں اتنی اچھی مسلمہ نہیں ہوں جتنا کہ آپ سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی کبھی بن سکتی ہوں"۔ وہ پل بہر کو رُکی۔
"مگر میں اتنی بری بھی نہیں ہوں کہ مجھے آپ کے جیسا 'شریک حیات' ملے"۔
تیزی سے کہتی ہوئی مڑی اور چلی گئی۔

اب علی کا اُس کے پیچھے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ کیا کہہ کر گئی ہے اس نے سمجھنے کی کوشش کی۔

اس کے دوسرے دن ایک امریکن کلائنٹ کے ساتھ اسکی میٹنگ تھی ۔واپسی میں اس امریکی کو لیکر وہ آفس سے نکلا کہ اسکو آفس کے " گیسٹ ہاؤس" تک چھوڑنا بھی اسی کی ذمے تھا۔دانستہ نا دانستہ وہ پہر اسی رستے سے گذرا ، آج بھی وہ اکیلی تھی ۔ اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کا پہر شاید موقع نہ ملے یہ سوچ کر اس نے جلدی سے گاڑی سائیڈ پہ کی اور اسکے پیچھے گیا۔

۔"سنئیے ۔ دیکھیے ۔ سنئیے" علی نے پتا نہیں کتنی بار اسے پکارا ۔ تبھی وہ پلٹی چہرے پہ وہی ازل کا غصہ۔
"دیکھیے آپ یقینا مجھے غلط سمجھ رہی ہیں ، میں ویسا نہیں ہوں جیسا کہ آپ سمجھ رہی ہیں" وہ بولا
"دیکھیے آپ میرے ظاہر پر مت جائیں ، میں اندر سے بہت اچھا اور شریف انسان ہوں، اور میں بہت اچھا مسلمان بھی ہوں "
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے ؟

"مجھے تیاری کرکے آنا چاھیے تھا "۔ اسے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔

"ثبوت؟"۔ دفعتا اسے لڑکی کی آواز سنائی دی۔

"ثبوت؟۔۔۔"
" لااللہ الاللہ محمد"۔ اس نے آنکھیں بند کرکے کلمہ پڑھنا شروع کیا۔

"نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا"۔ لڑکی نے کہا
"تو ؟۔" " اپنا شناختی کارڈ دکھائوں ؟" اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔

"آپ کا یہ دوست بھی مسلمان ہے؟" لڑکی نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے دائیں جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔ تبھی علی کو احساس ہوا کہ وہ اس امریکن کو جو گاڑی میں چھوڑ آیا تھا وہ اس کے پیچھے یہاں تک چلا آیا تھا۔

" نہیں یہ مسلمان نہیں ہے"۔علی نے اس کی جانب غصے سے دیکھتے ہوئے کہا ۔

" کیسے؟۔۔" لڑکی نے پوچھا ۔

"کیسے کا کیا مطلب؟۔۔" "یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا پر میں مانتا ہوں"۔
"اور؟۔"۔
"اور میں نماز بھی پڑھتا ہوں " علی صرف اپنی بات کرنا چاھتا تھا۔۔
"اور؟۔۔۔"۔
"اور ۔۔۔۔ ہاں یاد آیا میں رمضان میں روزے بھی پورے رکھتا ہوں "۔

"اور؟۔" وہ پتہ نہیں کیا پوچھنا چاہ رہی تھی۔۔

"اور؟" ۔۔ "اور۔۔"اس کے آگے علی کو اپنے اعمال خانے میں کچھ نظر نہیں آیا۔

"میں یہ بھی کیسے مانوں کے آپ مسلمان ہیں" اس کے لہجے میں طنز تھا۔

"مجھے تو آپ میں اور آپ کے اس غیر مسلم دوست میں کوئی فرق نہیں دکھائی دے رہا "
ایک استہائیہ نظر علی پڑ ڈال کر وہ تیزی سے مڑی اور چلی گئی۔
غیر ارادی طور پر علی نے ساتھ کھڑے ہوئے امریکن کے کلین شیو چہرے کو دیکھا ۔۔ جو اب مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا جیسے ہر بات سمجھ گیا ہو۔

وہاں سے 'گیسٹ ہاؤس'اور گیسٹ ہاؤس سے گھر تک اسنے باربار اسکی باتوں کو دہرایا۔ وہ کیا کہہ کر گئی تھی؟ ،وہ کیا کہنا چاھتی تھی؟ اسکی پہلے اور اب کی باتوں کا کیا مطلب تھا؟ بار ہا سوچنے پر بھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرھا تھا۔پھر
ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکے اندر کا خلفشار بڑھنے لگا وہ اب جتنی شدت سے اس لڑکی کی باتوں کو بھولنے کی کوشش کرتا اتنی ہی شدت سے اسکی باتیں کانوں میں گونجنے لگتیں۔

"سمجھتی کیا ہے خود کو؟ ، ایک وہ ہی دیندار ہے بس، اور میں ؟ میں تو جیسے کسی پجاری کا بیٹا ہوں نہ؟"۔
کاشف کے سامنے بیٹھا وہ روز کی طرح اپنا غصہ نکال رہا تھا۔
" بس۔ اب نہیں جاؤں گا اس کی طرف"۔

"اللہ تعالٰی خود فرماتا ہے قرآن پاک میں ' نیک مردوں کے لیے ، نیک عورتیں ۔' مل جائے گی مجھے بھی اپنے جیسی کوئی 'مومن' عورت"۔
اس کا غصہ کسی طور ٹھنڈا نہیں ہورہا تھا۔
"وہ دیکھ یار ۔ مل گئی تیرے پسند کی لڑکی "۔ کاشف جو اس کی باتوں سے بیزار بیٹھا تھا۔ اچانک بولا،
اس کافی شاپ میں اسکے بالکل ساتھ والی ٹیبل پر برقعہ میں ملبوس ایک لڑکی بیٹھی تھی۔
"کیسی ہے"؟۔ شرارت سے ہاتھ مارتے کاشف نے اس سے پوچھا۔

وہ لڑکی بلاشبہ بہت خوبصورت تھی ۔کالے اسکارف میں اسکا چہرہ کسی چاند کی مانند چمک رہا تھا۔ اس طرح گھورنے پر اس لڑکی نے ان دونوں کی طرف دیکھا کچھ نہ سمجھتے ہوئے مسکرائی۔علی اچانک ہی بددل ہوا ۔
"نہیں یار"۔ "بات خوبصورتی کی نہیں ہے بات شرافت کی ہے اور ایسی لڑکیاں شریف نہیں ہوتیں جو غیر مردوں کو مسکراکر دیکھتی ہیں"۔
" اچھا"۔ کاشف حیرت زدہ لہجے میں بولا۔
"اور ہم ؟ ۔"ہم جو اتنی دیر سے ٹک ٹکی باندھے اسے دیکھے جارہے ہیں ، مسکرائے جارہے ہیں ہم کس کیٹگری میں آتے ہیں ؟"۔
علی کی اس سوچ پر کاشف کو دکھ ہوا تھا ، مگر اسے کچھ پریشان سا دیکھ کر الجھنا مناسب نہیں سمجھا۔
" میرے خیال میں اُس لڑکی کی فضول سی باتوں کو تم نے کچھ زیادہ ہی ذہن پر سوار کرلیا ہے۔ آج تم نے نماز بھی باجماعت ادا نہیں کی۔ ایک تبلیغی جماعت آئی ہوئی ہے مسجد میں وہیں پر کچھ دن کے لیے ٹھرے ہوئے ہیں وہ لوگ ، کل سے مغرب کی نماز کے بعد بیٹھیں گے ان کے پاس ، کچھ ایمان بھی تازہ ہوجائے گا اور کچھ تمہاری یہ بےچینی بھی کم ہوجائے گی۔ ٹھیک ہے؟"۔
"ٹھیک ہے"۔ علی نے مختصر سا جواب دیا۔

۔۔۔۔+۔۔۔۔۔+۔۔۔۔
۔
سچ کہتے ہیں زبان سے نکلنے والے الفاظ اگر کلام کرنے والے کی شخصیت سے بھی مطابقت رکھتے ہوں تو آنکھیں بند کرکے اس پہ ایمان لانے کو دل کرتا ہے، علی نے سامنے بیٹھے جماعت کے ' امیر' اس باریش بزرگ کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ جسے سب 'مولوی صاحب ' کہہ رہے تھے۔ ان کی صرف باتیں ہی نہیں نرم لہجہ، نیچی نظریں سادہ لباس ، داڑھی اور سر پر پہنی ٹوپی ،ہر چیز ان کے پختہ ایمان کا ثبوت دے رہی تھی۔
علی کاشف کے ساتھ پچھلے دودن سے ان کی بیٹھک میں شامل ہورہا تھا۔ مولوی صاحب کی باتیں سن کر اسے بہت سکون ملتا ،آج عشاء کی نماز کے بعد سب لوگ جانے لگے پر وہ بیٹھا رہا ،اسکا دل نہیں کررہا تھا وہاں سے جانے کو۔ کاشف کو بھی اس نے جانے دیا اور وہ خود مولوی صاحب کو اکیلے بیٹھا دیکھ کر ان کے پاس چلا آیا۔
"محترم، اگر آپ کو زحمت نہ ہوتو میں کچھ وقت آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں؟' اس نے اجازت طلب کرتے ہوئے کہا۔۔انہوں نے سر ہلاکر اسے بیٹھنے کو کہا۔
" آج آپ جیسے کہ جہاد پر بات کرتے ہوئے فرمارہے تھے۔ کہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا ،دین کی دعوت دینا بھی 'جہاد ' ہے . میں بھی آپ کی اس تبلیغی جماعت میں شامل ہونا چاھتا ہوں . میں بھی جہاد کرنا چاھتا ہوں"۔
اسے اپنے آپ سے فرار ہونے کا یہی راستہ سجھائی دیا تھا۔

۔۔"کیا آپ مجھے ایک موقع دینگے کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ۔۔۔۔۔"
اس نے بات ادھوری چھوڑ کر ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے سکون سے اسکی باتیں سنیں اور پہلی بار نظر بہر کر علی کو دیکھا اور فرمایا۔
"الحمد للہ ۔۔ نیکی سے رغبت اور جہاد کا شوق یقینا ایمان کی علامتیں ہیں ، ہمیں خوشی ہوگی اگر آپ اس جہاد میں ہمارے ساتھ شریک ہوں تو مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ " کچھ توقف کے بعد وہ پہر گویا ہوئے۔
"دعوت دینے والے کہ قول و فعل میں اگر تھوڑا سا بھی تضاد ہو تو لوگوں کا ایمان بجائے بڑھنے کے کم ہوجاتا ہے، لوگ اسے 'منافق' سمجھنے لگتے ہیں"۔
"میں ' منافق ' ہوں؟ کیا میں اچھا مسلمان نہیں ہوں؟" علی کے اندر کچھ ٹوٹا تھا۔
"مسلمان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم زبان سے کہیں کہ ۔ ہم مسلمان ہیں "۔
انہوں نے جیسے علی کے دل کی بات پڑھ لی تھی۔
"مسلمان ہونے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہمارا لباس ، ہمارا انداز، اٹھنا بیٹھنا خود اس بات کی گواہی دے کہ ہم مسلمان ہیں"۔ وہ بظاہر نظریں نیچی کیے ہوئے تھے مگر علی کو ان کی نظریں اپنے اندر کھبتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

"ہمارے آقاء دو جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :۔ " جو شخص لباس وانداز میں کسی اور قوم کی نقالی کرے وہ انہی میں سے ہے"۔
علی کو اپنے کانوں میں کسی کی بازگشت سنائی دی۔
"مجھے تو آپ میں اور اس غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں دکھ رہا"۔
" ہمیں سب سے پہلے اپنے 'نفس' کے خلاف جہاد کرنا چاھیے کہ جو بات ہم کہتے ہیں اور کرتے نہیں یہ ' منافقت' ہے اور منافق کی جگہ جہنم ہے"۔ مولوی صاحب کی باتیں سن کر اسے اپنا آپ زمین میں دھنستا ہوا محسوس ہوا۔مسجد سے گھر تک کا سفر اس نے جیسے انگاروں پہ کیا تھا۔

وہ جو کسی کا ظاہر دیکھ کر اس کی شرافت اور دینداری کا اندازہ لگاتا تھا۔ آج خود اس کا ظاہر اس کے لیے باعث ندامت بنا تھا۔کوئی بڑے آرام سے اسے آئینہ دکھا گیا تھا اور اس نے اس آئینے میں اپنا آپ برہنہ دیکھا۔
۔۔۔+۔۔۔۔۔+۔۔

۔"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔”ٹخنوں کا وہ حصہ جو پائجامہ کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں جائے گا"۔
۔ مولوی صاحب کی بات سن کر وہ جیسے کانپ کررہ گیا اس نے جلدی سے جینز کے پائنچے اوپر کیے۔
" اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس شخص کی طرف رحم کی نظر سے نہیں عتاب وغضب کی نظر سے دیکھے گا کہ جو اپنے پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹکائے گا"۔

"ایک حدیث کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے تھے ۔ آپ ' صلی اللہ علیہ وسلم ' نے اس شخص کو دوبارہ نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا زمانہ جاہلیت کا دستور تھا، جس کی سزا دوزخ مقرر کی گئی ہے۔ اگر نیت اترانے یا تکبر کی نہ ہو تو بھی یہ مکروہ عمل ہے ۔ اس کا مطلب ہے اللہ تعالٰی کے نزدیک نہ پسندیدہ چیز"۔

مولوی صاحب کا ایک ایک لفظ علی کے کانوں میں سیسہ بن کر اتررہا تھا۔

"سورہ اعراف" میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ" ہم نے تمہارے لیے ایسا لباس اتارا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپادیتا ہے اور تمہاری زینت کا سبب بھی بنتا ہے"۔
"اللہ تعالٰی نے جو ہمارے لیے لباس چنا ہے اس کے مطابق لباس ایسا ہوکہ جو شریعت کے مقرر کیے ہوئے ستر کے حصوں کو چھپالے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو اتنا باریک ہوکہ جسم جھلکے اور نہ ہی اتنا چست ہوکہ جسم کی بناوٹ ظاہر ہو۔ جو لباس کے ان شرطوں کو پورا نہ کرے شریعت کی نگاہ میں وہ لباس ہی نہیں"۔

علی کو پہلی بار اپنے کپڑوں پر شرم آئی اس نے کبھی اس بات کو اہمیت نہیں دی تھی۔کہ سجدہ کرتے وقت اس کا ستر کھل جاتا تھا اور جو لباس وہ پہنتا تھا اس سے اس کی جسم کی بناوٹ ظاہر ہوتی تھی۔
مولوی صاحب اس کا اضطراب بھانپ گئے تھے تبھی ہر روز اس پر خاص توجہ رکھتے ۔

۔"جس طرح ایک عورت کا پردہ اسے نظربد سے بچاتا ہے بلکل اسی طرح ایک مسلمان مرد کے چہرے پہ داڑھی بھی اسے بدنگاہی سے بچاتی ہے۔ ایک مسلمان کے چہرےپہ سجی داڑھی اس کے مضبوط ایمان اور شرافت دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔ داڑھی رکھنا اور سر پر ٹوپی رکھنا انبیاء ،سابقین اور خصوصا ہمارے آقا 'صلی اللہ علیہ وسلم ' کی مبارک سنتیں ہیں اور ان سب اصحابہ کرام اور اللہ کے پیارے بندوں کی بھی جنہوں نے رسول پاک 'صلی اللہ علیہ وسلم' کی ایک ایک ادا کو عملی شکل میں محفوظ رکھا"۔
" کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم دنیا کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ، حکومت کے مقرر کردہ ' یونیفارم ' کو تو بخوشی اپناتے ہیں مگر جس لباس اور پوشاک کو ہمارے مقدس رسول کریم 'صلے اللہ علیہ وسلم' نے مقرر کیا ، جس لباس کو ہمارے اللہ نے قبول کیا اس کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
جو حرف قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار

مولوی صاحب کی باتیں علی کے دل پر نقش ہوتی جارہی تھیں۔
یہ نہیں تھا کہ یہ سب باتیں وہ پہلی بار سن رہا تھا۔ اس نے بارہا یہ باتیں کتابوں میں پڑھیں تھیں اور سنیں بھی تھیں، مگر دین کے ان علمبرداروں سے جن کا ظاہر خود ان کے باطن کی نفی کررہا ہوتا جو صرف باتیں ہی کرتے تھے عمل نہیں۔ خود وہ بھی کالج کے زمانے میں ایک مذہبی جماعت سے وابستہ رہ چکا تھا۔ وہ اس جماعت کا ایک سرگرم رُکن تھا۔ اور اس جماعت کے امیر اور دیگر علماءکرام سے بہت عقیدت بھی رکھتا تھا۔ کوئی اگر ان کے خلاف ایک لفظ بھی بولتا تو اس کا خون کھول اٹھتا تھا۔ مگر تب بھی اس نے یہ کبھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ محترم ہستیاں لیکچر کے ذریعے نہیں بلکہ صرف"کرنے" کے عمل سے ہی واظح طور پر ہمیں کیا کچھ سکھانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ لاشعوری طور پر وہ یہ سوچتا تھا کہ ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد وہ بھی ایسا حلیہ اپنالے گا۔ اس کے نزدیک جماعت سے وابستگی کا مقصد صرف اور صرف لمبی چوڑی پرجوش تقریریں کرنا یا پھر جلسہ جلوس میں حدیث اور سنتیں لکھے 'بینر' اٹھاکر بلند وبانگ نعرے لگانا تھا۔
پر اب اس کے برعکس نہ صرف یہ کہ وہ ہر بات غور سے سنتا بلکہ اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرتا ،کچھ مولوی صاحب کی باتوں میں ایسا اثر تھا اور کچھ اللہ تعالٰی کا اس پہ خاص کرم کہ وہ اٹھنے ، بیٹھنے سے لیکراپنے ہر عمل میں قرآن، حدیث اور سنت کو مدنظر رکھنے لگا تھا۔ اس نے اپنے وارڈروب سے بھی ہر چست ، باریک ، ریشم و سلک کے کپڑے اور زعفرانی رنگ کا ہر لباس نکال پھینکا تھا کہ، جسے اللہ اور اس کے رسول' صلے اللہ علیہ وسلم' نے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
تبلیغی جماعت کے ایک اور شہر جانے پر وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہوگیا واپسی پر تو جیسے اسکی دنیا ہی بدل گئی تھی، کاشف تو پہلے ہی ہر کام میں اس کا ہم نوا تھا، آفس والوں نے بھی اس کے اس بدلے ہوئے حلیے کو سراہا تھا۔ منافق تو اس سے دور ہی بھاگتے تھے کہ کہیں اسے نصیحت کا دورہ نہ پڑجائے ، مگر اب وہ کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا کہ یہ رستہ تو اللہ تعالٰی خود دکھاتا ہے ۔ اور جنہیں نہ دکھانا چاھے ان کے کانوں پر پردہ اور دلوں پر مہر لگادیتا ہے۔

جمع کے دن امام صاحب کے دیے ہوئے خطبے نے تو جیسے اسکے نفس کے تابوت پر آخری کیل ٹھونک دی تھی۔
"ارادے سے کسی نامحرم عورت کی جانب دیکھنا ، نظروں کی زنا ہے اور زنا گناہ کبیرہ ہے"۔
"آنکھوں کی آوارگی ،بد کرداری کی پہلی سیڑھی ہے، اسی لیے اسلام میں سب سے زیادہ زور نظروں کی پاکیزگی اور عصمت پر دیا گیا ہے"۔

قرآن پاک میں بھی پردے کا حکم کرتے ہوئے سب سے پہلے مردوں کو ہی تنبیہہ کی گئی ہے کہ:۔
"کہہ دو مومن مردوں سے کہ اپنی نظریں نیچی کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ،یہ ان کے لیے بہت ہی پاکیزہ ہے۔ بیشک اللہ ان کے کاموں سے باخبر ہے"۔

"ایک موقع پر آنحضرت 'صلی اللہ علیہ وسلم' نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :۔ " اے علی۔۔ کسی اجنبی عورت پر دوبارہ نظر نہ ڈالنا کہ پہلی نگاہ تمہاری ہے ، دوسری نگاہ کا تمہیں حق نہیں"۔

"مگر ہم یہ سب جانتے ہوئے بھی نظریں نیچی نہیں کرتے اور نامحرم عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں یہ کہہ کر کہ:۔ 'ہماری نیت تو صاف ہے'۔ یہ جہل مرکب ہے اور نفس کی غلامی ، کہ درپردہ ہم اپنے آپ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے زیاہ پارسا اور بلند کردار سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں"۔

اس رات فجر نماز کے بعد وہ بے اختیار رودیا تھا۔ اسے آج اپنے رب سے بے حد خوف آرہا تھا۔ اتنے دن وہ نظروں سے زنا کرتا رہا ، منافقت کرتا رہا مگر کبھی اس نے اللہ سے اس کی معافی نہیں مانگی اور وہ مانگتا بھی کیسے وہ تو اپنے عمل کو جائز سمجھتا تھا۔

"مجھے معاف کردے میرے اللہ ، مجھے معاف کردے ، تو رحمان ہے تُو رحیم ہے ، تُو کیا نہیں کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرتا ہے۔ چاھتا تو مجھے میرے گناہوں کی بہت بڑی سزا دیتا ، مگر تُو نے مجھے سدھرنے کا ایک موقع دیا ، معافی مانگنے کا ایک موقع دیا۔
مجھے معاف کردے میرے اللہ ، اس دنیا میں تیرے کتنے نیک بندے ہیں پر مومن کہلانا تو شاید ان کا بھی مقسوم نہیں اور میں گناہگار اپنے آپ کو مومن سمجھتا رہا ، کاش کہ میں ایک مسلمان ہونے کے معیار اور شرائط پرہی کبھی پورا اترپاتا۔
دوسروں کی طرف انگلی اٹھاتے وقت میں یہ بھول گیا کہ تین انگلیاں خود مجھے گناہگار ٹھرا رہی ہیں ۔ میں یہ کیوں بھول گیا کہ عورتوں کے لیے اگر کچھ حدیں مقرر ہیں تو کچھ حدیں ہمارے لیے بھی مقرر کی گئی ہیں۔ جو قرآن عورتوں پر اُتارا گیا ہے وہی قرآن ہمارے لیے بھی اُتارا گیا ہے ہر برائی کی جڑ عورتوں کی 'بے پردگی' کو ٹھراتے وقت میں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ میں بھی اب تک بے لباس ہی رہا "۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔۔ ۔ اپنے گناہوں کو یاد کرتے ہوئے۔

۔"میں بھٹک گیا تھا میرے اللہ ، میں بھول گیا تھا کہ جب ہم صراتہ المستقیم سے بھٹک کر کوئی اور راہ اختیار کرتے ہیں اور ان حقوق و فراِئض سے نگاہ چراتے ہیں کہ جو ہم پہ واجب کردیے گئےہیں تو زندگی میں سواء پچھتاوے کے کچھ باقی نہیں رہتا ۔
"برے مردوں کے لیے بری عورتیں "۔۔ یہ خیال ہی اُسے تڑپا گیا۔
" نہیں میرے اللہ نہیں " ۔ "میری لغزشوں کی مجھے اتنی بڑی سزا نہ دے ، میں نے اپنی زندگی میں اگرکبھی بھی کوئی نیکی کی ہے تو اس کے بدلے، مجھے میری اصلاح کے اس رستے پہ چلنے کے لیے ایک نیک عورت کا ساتھ دے دے، مجھے بخش دے میرے اللہ ، مجھے بخش دے"۔ وہ رورہا تھا اور آنسو اس کے چہرے کا وضو کررہے تھے۔

مٹادے اپنی ہستی کو اگرکچھ مرتبہ چاہے
کہ دانا خاک میں مل کر گل وگلزار ہوتا ہے

۔۔۔۔۔+ ۔۔+۔۔۔

آج بھی روڈ بلاک تھا چاہتا تو اس رستے سے گزر سکتا تھا ، مگر اس کے سامنے جاکر وہ خود کو اور اس کو گناہگار نہیں بنانا چاھتا تھا۔
"جب وہ خود کو میری امانت سمجھ کہ نفس کے خلاف جہاد کر رہی ہے تو ، جہاد تو اصل میں مجھ پر ہی فرض ہے۔ میں کیوں کر اسکی امانت میں خیانت کروں "۔
اس نے مسکراتے ہوئے سوچا۔

اس کے اس اطمینان کا سبب وہ خوشخبری تھی جو ابھی کل ہی ماں نے اسے دی تھی۔ بجاء غلط طریقہ اپنانے کے اس نے جائز طریقے سے اسکے گھر رشتہ بھیجا تھا اور فیصلہ اللہ پہ چھوڑ دیا ۔ اور اللہ تعالٰی نے اسکی معافی قبول کرتے ہوئے اس " مومنہ " کو بطور تحفہ اس کی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔