Afsana 025 عظمت، عالیہ، اور آئمہ از آمنہ خورشید احمد

آپکے ارد گرد بھی ایسے واقعات اور لوگ ہوں گے جو نسل در نسل روایات کے نام پر رویوں کو نہیں بدلتے۔ان رویوں کی وجہ سےاکثر مصائب کا شکار بھی عورت ہوتی ہے اور ان رویوں کی علمبردار بھی عورت ہی ہوتی ہے۔اور جب کوئی عورت خود مصائب کا شکار ہوتی ہے تو اپنے ساتھ کئی نسلوں کی بربادی کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی جس کے پس منظر میں حقیقی زندگی کے کردار ہیں۔

عظمت، عالیہ، اور آئمہ
از آمنہ خورشید احمد (امریکہ)

عظمت خاموشی سے صوفے پر بیٹھی تھی۔ عالیہ بھی فون رکھ کر درمیان میں آکر بیٹھ گئی۔ آئمہ پچھلے آدھ گھنٹے سے کھڑکی سے باہرمنجمند منظر دیکھتے دیکھتے تھک چکی تھی مگر وہ وہاں سے نظریں نہیں ہٹانا چاہتی تھی۔ اس کمرے میں بکھری حقیقت بہت تلخ اور جان لیوا تھی۔ تینوں عورتیں اپنی اپنی سوچ میں گم تھی کے اچانک ایک ننھی سی آواز نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ یہ دو سال کی عینی تھی جسے بھوک لگی تھی اور وہ ماں سے دودھ کا تقاضا کر رہی تھی۔

آئمہ نے کھڑکی سےباہرپھیلی ویرانی سے نظریں ہٹا کر بیٹی کیطرف دیکھا۔ باقی دونوں عورتیں بھی قالین پر بیٹھی بچی پر نظریں جمائے ہوئے تھیں۔ جیسے انکے ہر مسئلے کی وجہ یہ بچی ہو ، جیسے اسطرح دیکھنے سے سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔ عورت ہونا تو خود ایک مسئلہ ہے، وہ سب مل کر مسائل کا انبار ہیں۔ وہ یہ بات جان کر بھی نہیں جاننا چاہتی تھیں۔
آئمہ کچن مین گئی تو عظمت نے جلدی سے عالیہ سے پوچھا کے کس کا فون تھا۔ عالیہ نےسرگوشی میں ماں کو جواب دیا کے نائمہ کے رشتے کے سلسلے میں فون تھا۔ وہ لوگ آنا چاہ رہے تھے مگر عالیہ نے منع کر دیا۔وہ اس معاملے کے سلجھنے تک کوئی اور کام نہیں شروع کرنا چاہتی تھی اور ویسے بھی رشتے کے سلسلے میں آنے والوں کے سوالوں کا جواب بھی تو چاہئے ہوتا ہے۔

آئمہ کچن سے نکلی تو وہ دونوں یکدم خاموش ہو گئیں۔ آئمہ نے مشکوک نظروں سے ماں اور نانی کو دیکھا مگر منہ سے کچھ نہیں کہا۔ عینی دودھ کی بوتل دیکھ کر خوشی سے کھلکھلائی۔آئمہ اسے دودھ کی بوتل دیکر صوفے کی خالی جگہ پر جا بیٹھی۔ اب وہ تینوں عورتیں اس چھوٹی سی بچی کو کشن پر سر ٹکائے دودھ پیتے دیکھ رہی تھیں – اور تینوں ایک ہی بات سوچ رہی تھیں کے کیا اسکی قسمت ہم سے فرق ہو سکتی ہے؟تینوں اپنی اپنی زندگی کا احاطہ کر رہی تھیں اور چوتھی ابھی ایسی بے فکری کی عمر میں تھی جب پیٹ بھرنے اور کھیلنے کے اور کسی بات کی فکر نہیں ہوتی۔

ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ــــ

عظمت نے گردن گھما کر ساتھ بیٹھی بیٹی کو دیکھا جو وقت سے پہلے بوڑھی ہو گئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کے کہاں غلطی ہوئی، کیا خطا ہوئی۔ آخر اس نے اور اسکے شوہر نے مذہب اور روایات کی پاسداری ہی تو کی تھی۔اسے اپنا ماضی یاد آنے لگا۔ اسکی اپنی شادی بھی پندرہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔عظمت پچیس سال کی عمر تک دو بیٹوں کی چاہ میں چار بیٹیوں کی بھی ماں بن چکی تھی۔ اب سے پہلے اسے چار بیٹیوں کے ہونے پر کوئی ملال نہیں تھا، مگر اب وکیل صاحب بیمار رہنے لگ گئے تھے اور بیٹیاں بانس کی طرح بڑھ رہی تھیں۔ جب پندرہ سال کی بیٹی کیلئے پینتیس سالہ نعمان کا رشتہ آیا جو عظمت سے چند سال بڑا ہی تھا تو وکیل صاحب نے فوراً ہاں کر دی۔ لڑکا خوش شکل اور امریکہ میں رہتا تھا۔ بھلا اس سے بہتر رشتہ اور کیا مل سکتا تھا، لڑکے کی عمر کون دیکھتا ہے؟ عالیہ کی شادی عظمت نے پندرہ سال کی عمر میں میڑک کرنے سے پہلے کر دی تھی۔

عالیہ کی شادی کیا ہوئی وکیل صاحب اور انکے خاندان کیلئے مسائل کا تانتا شروع ہو گیا۔ وکیل صاحب جو دوسروں کے مقدموں کی پیروی زور شور سے کرتے تھے اور جج اور فریق مخالف کو اپنے دلائل سے قائل کر لیتے تھے ، اب آئے دن عالیہ کی سسرال میں لگی کچہری میں حاضر ہونے لگے تھے۔ ایک بیٹی کی شادی نے ہی انکی کمر توڑ دی تھی۔اور ابھی تو تین اور لائن میں لگی ہوئی تھیں۔
عظمت نے وکیل صاحب کی گرتی صحت کے پیش نظر عالیہ سے دو چھوٹی بیٹیوں کی بات بھی جلدی ٹھہرا دی اور انکی شادی بھی اسی طرح ہائی سکول پاس کرنے سے پہلے ہو گئی۔ بڑا بیٹا اب کالج تک آ گیا تھا مگر اسکے آثار پڑھنے والے نہیں تھے۔ چھوٹا بیٹا ابھی سکول میں ہی تھا۔ وکیل صاحب کا جما جتھا تیزی سے ختم ہو رہا تھا اور ساتھ میں صحت بھی۔ بیٹوں کے کر توت ابھی سے عظمت بیگم کیلئے مستقبل کی تصویر کشی کر رہے تھے۔

اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جب وکیل صاحب عظمت بیگم کو روتا دھوتا چھوڑ کر چلے گئے۔ ایک بیٹی بیاہنے والی رہتی تھی۔ وکیل صاحب کی وفات کے کچھ عرصے بعد ہی عظمت بیگم کے تیسرے نمبر والا داماد اپنے کسی دوست کا رشتہ سب سے چھوٹی بیٹی کیلئے لایا جو پہلے سے شادی شدہ تھا – نعمان جو کے بڑا داماد تھا، اسکی طرف سے تو کوئی آسرا نہیں تھا ۔ اپنے بیٹے پہلے ہی باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر نظر رکھے بیٹھے تھے اور بار بار کاروبار کیلئے گھر کو بیچنے پر اصرار کرتے تھے۔عظمت نے طوہاًو کرہاً چھوٹی بیٹی کی شادی کر دی۔ مگر یہ فیصلہ عظمت بیگم کیلئے مسائل کا خاتما نہیں تھا۔ ابھی تو ان کے اپنے خون نے انکو اپنا رنگ دیکھانا تھا۔

ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــ

عالیہ کی سوچ بھی اسے بہت سال پہلے گزرے وقت میں لے گئی۔ وہ بھی اسی سوچ میں گم تھی کے کہیں سے تو اپنی غلطی پکڑ سکے، کوئی تو سرا ہاتھ آئے، کسی طرح تو اس زندگی کی گتھی سلجھے۔اس نے پہلے ایک طرف بیٹھی ماں اور دوسری طرف بیٹھی اپنی بیٹی پر ایک نظر ڈالی۔ اسے حیرانی کا ایک جھٹکا لگا۔ اسکی بیٹی اتنی چھوٹی عمر میں ہی اسکا عکس لگنے لگ گئی تھی۔اس نے بیچارگی سے سر صوفے کی پشت پر ٹکایا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اسے بہت کچھ یاد آنے لگا۔

عالیہ کو نعمان سے شادی پر کوئی اعتراض نا تھا کیونکہ اسکے ماحول نے اسے ایک اچھی ہاوس وائف بننے کیلئے تیار کیا ہوا تھا۔وہ چھوٹی سی عمر میں شادی کے خواب دیکھتی تھی اور ذہنی طور پر تیار تھی۔ شادی کے چند دنوں بعد ہی اسے سسرال کے رویے کا اندازہ ہو گیا جب ہنی مون پر اسکی کنواری نند کو ان دونوں میاں بیوی کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ وہ تلملائی تو مگر اس نے سوچا کے چند مہینوں کی بات ہے، وہ امریکہ چلی جائے گی۔ پھر کس نے واپس آنا ہے۔چلو جب تک سسرال سے تعلقات اچھے رکھے جائیں اور انکی جتنی خدمت ہو سکے کرنی چاہئے۔طبیعت میں کام چوری نہیں تھی توگھریلو کام کاج سے وہ نہیں گھبراتی تھی۔

چند ماہ جیسے تیسے گزار کر وہ امریکہ کیلئے پرواز کر گئی۔ اسکے ساتھ اسکے دو اور جیٹھوں کی بھی شادی ہوئی تھی اوروہ بھی امریکہ میں تھے۔ امریکہ آنے کے کچھ دنوں بعد ہی اسکے ہوش ٹھکانے آ گئے جب ساس اور نندیں بھی وہاں تشریف لے آئیں۔ ایک جیٹھ اور جیٹھانی پہلے سے ہی امریکہ میں موجود تھے۔ ایک نند شادی شدہ اور اپنے شوہر کے ساتھ وہاں موجود تھی۔ یعنی پاکستان سے سارا سسرال اٹھ کر امریکہ پہنچ گیااور سسرال سیاست کا اکھاڑہ بن گیا۔ خود وہ بھی لمبے چوڑے خاندان سے آئی تھی مگر اسکی سسرال کا ماحول اس جیسی ہوشیار لڑکی کے حواس گم کرنے کیلئے کافی تھا۔

پاکستان سے آنے سے پہلےاسکے سسرال والے اس پر عجیب وغریب الزام لگاتے رہے۔ نند جو ٹیرس پر چڑھ کر ہمسائے میں کسی سے افئیر چلا رہی تھی، اسکا الزام اس پر لگا۔ایک رات جب وہ سونے کیلئے لیٹی تو اسے لگا کے کوئی دروازہ کھول کر کھڑا ہے۔ اسکی چیخ نکل گئی۔ اسکے مطابق اسکا سسر دروازے میں کھڑا تھا۔ دوسرے دن اس نے سامان باندھا اور میکے آ گئی۔ میاں نے فون پر لعن طعن کی اور اسے طلاق کی دھمکی تک دے ڈالی۔عالیہ نے لاکھ اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی کے وہ جھوٹ نہیں بول رہی مگر نعمان کی ایک ہی رٹ تھی کے وہ واپس سسرال جائے اور سب سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے۔ابھی تو شادی ہوئے تین ماہ ہوئے تھے صرف۔آخر تھوکا چاٹ کر واپس آنا پڑا۔ نعمان کو امریکہ سے بلوایا گیا اور ساری سسرال کے سامنے عالیہ کے ساتھ ساتھ اسکے والدین کوبھی ہاتھ جوڑ کر سب سے معافی مانگنی پڑی۔

عالیہ کے ساتھ شادی ہوئی دونوں جیٹھانیوں کے جب بیٹے ہو گئے اور ادھر ایسے کوئی آثار پیدا نا ہوئے تو سبکو فکر ہوئی۔ نعمان نے اسکا چیک اپ اور علاج وغیرہ کروایا تو تین سال بعد اسکی بیٹی ہوئی۔بیٹی ہونے سے پہلے وہ کافی مسائل کا شکار رہی۔بیٹی کے بعد وہ والدین سے ملنے پاکستان آئی تو ساس نے بہانے سے پاسپورٹ اور گرین کارڈ لے لیا۔ جب واپسی کا ٹائم آیا تو میاں نے پھر سے الزامات کی بوچھاڑ کر کے ٹکٹ بھیجنے سے انکار کر دیا۔ساس نندوں کا مشورہ تھا کے اس جیسی بےلگام عورت کیلئے یہی سزا ہونی چاہئے کے وہ سسرال میں بغیر شوہر کے رہے اور سبکی خدمت کرے۔

پھر ہر سال اسکا شوہر آتا رہا اور اسے بچے کا تحفہ دیکر جاتا رہا۔ اس نے بھی اپنی ماں کیطرح دو بیٹوں کے شوق میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا کر لئے مگر نعمان کی عالیہ کو امریکہ لیجانے کی نا ہاں میں نا بدلی۔ اسکے ساس سسر سال میں ایک بار امریکہ کا چکر ضرور لگاتے مگر اسکے لئے امریکہ شوہر کے پاس جانا شجر ممنوعہ تھا۔ باقی جیٹھانیوں نے اس سے سبق سیکھ لیا تھا، اسلئے کسی نے والدین سے ملنے کے لئے بھی پاکستان میں قدم نہیں رکھا۔ عالیہ اب چڑچڑی اور حاسد ہو گئ تھی۔ اسے کوئی اچھا نا لگتا مگر منہ پر وہ سب کی خدمت کرتی ہی نظر آتی۔شادی کے دس سال بعد اتنا ہوا کے نعمان نے والدین اور چھوٹے بھائی سے کسی جھگڑے کی وجہ سے اسکا کچن الگ بنوا دیا۔

بچے بڑے ہو رہے تھے اور مسائل کا انبار بھی۔ سسرال میں رہتے ہوئے بھی، دودھ دہی، راشن پانی، گوشت سبزی، سب اسے خود کرنا پڑتا۔ جو دیور نند وہاں رہ رہے تھے، کبھی پلٹ کر نا پوچھتے کے کسی چیز کی ضرورت ہے مگر اسکے گھر سے باہر نکلنے پر ہجت ضرور کرتے۔نعمان کا کچھ پتا نہیں چلتا تھا، کبھی مہر بان کبھی نا مہربان۔ایک کمرے میں پانچ بچوں کے ساتھ زندگی گزارتے وہ تنگ آ گئی تھی۔ اسکے والد کافی عرصہ بیمار رہنے کے بعد وفات پا گئے تھے۔ بہنوں کی شادی ہو گئی تھی۔مگر بڑا بھائی بی اے نا مکمل چھوڑ کر کسی اعلٰی پیمانے کی نوکری کی تلاش میں تھا – چھوٹا بھائی ابھی پڑھ رہا تھا۔میکے کیطرف سے بھی کوئی سپورٹ نہیں تھی۔ وکیل صاحب کی پریکٹس سے چلنے والا گھر انکے بعد خود مسائل کی آماجگاہ تھا۔

اس بار جب نعمان آیا تو بڑی بیٹی جو اب تیرہ سال کی تھی نے سکول جانے سے انکار کر دیا کے میں اگر اب سکول جاوں گی تو امریکہ میں اپنے باقی کزنز کی طرح نہیں تو نہیں۔ نعمان کو اپنی یہ بیٹی بہت پیاری تھی۔ وہ اسے چند ماہ کیلئے امریکہ لے گیا۔شاید عالیہ کی قسمت بدلنی تھی۔کچھ عرصے بعد اس نے باقی بچوں اور بیوی کو بھی بلا لیا۔ عالیہ کو سترہ سال کی مشقت کے بعدایک گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نصیب ہو گیا۔ مگر اسکی یہ خوشنصیبی بس کچھ ہی دنوں کی تھی۔

ماں بہنوں کے کہنے میں آ کر نعمان نے بیوی بچوں کو پھر پاکستان بھیج دیا کے خرچہ پورا نہیں ہو پا رہا۔ اس سے پہلے تو وہ ایک کمرے کے اپارٹمنٹ کو چار لوگوں کے ساتھ شئیر کرتا تھا اور باقی بل بھی بنٹ جاتے تھے مگر اب تو کرائے بل، کپڑے، گروسریز کے چکر ہی ختم نہیں ہو رہے تھے۔اوپر سے ماں ہر وقت کہتی رہتی تھی کے بیوی بچوں کیلئے کتنی محنت مشقت کرو گے۔ وہ آذادی کی زندگی کا عادی تھا، یہ پابندی مشکل لگ رہی تھی۔عالیہ نے کہا کے مجھے جاب کرنے دو تو وہ جنجھلا اٹھا کے اس سے ایک جملہ انگریزی کا تو بولا نہیں جاتا جاب کیا کرے گی۔ اس نے کہا بھی کے کسی دیسی سٹور پر جاب کر لیتی ہوں یا کوئی کورس کر لوں تونعمان نے اسکی خوب بے عزتی کی کے اب تم جوان بیٹی کے ہوتے پر پرزے نکال رہی ہو۔ میری ماں ٹھیک کہتی ہے کے تم پاکستان رہنے کے ہی قابل ہو۔

عالیہ اور بچوں کے پاکستان آنے کے چند مہینوں کے بعد جب نعمان پاکستان آیا تو عالیہ کو لگا کے وہ بہت پریشان ہے۔ عالیہ نے ایک بار پھر مزید کمرے بنوانے کا ذکر کیا تو نعمان غصے سے پھٹ پڑا اور اسے بے نقط سنا ڈالیں۔ تب عالیہ کو نعمان کی باتوں سے اندازہ ہوا کے نعمان کا سارا پیسہ ماں اور چھوٹے بھائی کے بینک اکاونٹ میں ہے اور اب وہ تقاضے پر ٹال مٹول کر رہے ہیں۔
اس دن عالیہ نعمان کی فرمائش پر مچھلی بنا رہی تھی جب اسے نعمان کی درد میں ڈوبی پکار سنائی دی۔عالیہ بھاگتی ہوئی کچن سے آئی تو نعمان فرش پر گرا ہوا تھا اور اسکا ایک ہاتھ آنکھوں پر تھا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا۔ جب تک وہ اسے ہسپتال لیکر پہنچی نعمان دم توڑ چکا تھا۔نعمان کو برین ہیمرج ہوا تھا۔

چالیسویں تک تو عالیہ کواپنا ہوش نہیں تھا مگر پھر اپنا آپ سنبھال کر اس نے بچوں کی فکر کی۔ اسکے بعد نعمان کے چھوڑے ہوئے پیسے کی فکر ہوئی۔ نعمان کا گھر میں باقی بھائیوں کی طرح حصہ تھا جس میں سے کچھ اسکی وفات کے بعد والدین کو چلا گیا۔ یہ کوٹھی سب بھائیوں کی مشترکہ کمائی کی تھی اور والدین کا اس میں کوئ حصہ نہیں تھا۔ والدین کا اپنا آ بائی گھر تھا جو خالی پڑا تھا۔جب عالیہ نے پیسوں کا تقاضا کیا تو پھر ٹال مٹول شروع ہو گیا۔ عالیہ نے سال بھر کی تنگی کے بعد صرف بڑی بیٹی کے ساتھ امریکہ آنے کا فیصلہ کیا۔ باقی بچے اس نے اپنی ماں عظمت کے پاس چھوڑے جو اب خود بھی بیوگی کی زندگی گزار رہی تھِی اور نکھٹو بیٹوں سے عاجز تھی جنہوں نے کاروبار کے چکر میں باپ کی واحد جائیداد کوٹھی بھی بیچ دی تھی۔

عالیہ کو پتا نہیں تھا کے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ جب وہ امریکہ واپس آئی تو ایک جیٹھ کے سوا سب نے اسکی مخالفت کی کے وہ یہاں آ کر کیا کرے گی۔انکا کہنا تھا کے وہ اسکو وہاں ہی مدد کر دیں گے مگر اسکے اپنے شوہر کے پیسوں کے تقاضے کو ہر کسی نے ٹال دیا۔ تعلیم اسکے پاس تھی ہی نہیں اور نا ہی کوئی ہنر۔ نعمان نے کبھی اسکی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی کے وہ تعلیم پوری کر لے۔ ویسے بھی وہ بھی عام مشرقی عورت کیطرح اپنے گھر اور بچوں کو ہی سب کچھ سمجھتی تھی۔ اس نے کب سوچا تھا کے زندگی کا ساتھی اسے بیچ منجھدھار میں چھوڑ جائے گا۔ اب جب سر پر پڑی تو اسکے شوہر کو خراب کرنے والے اور مشورے دینے والے سب منظر سے غائب تھے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ تن تنہا دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے رہ گئی تھی۔
کچھ دن اس نے اپنے بڑے جیٹھ کے گھر میں گزارے پھر خواتین کی مدد کرنے والے ایک ادارے کے توسط سے اسے ایک کمرہ رہنے کیلئے مل گیا۔ جاب کا مسئلہ ہنوز باقی تھا۔ چند ٹوٹے پھوٹے انگریزی کے الفاظ کے ساتھ تو کسی امریکی سٹور پر جاب ملنے سے رہی۔ دیسی سٹور والے اپنی من مانی تنخواہ دینا چاہتے تھے اور اسکے ساتھ کئی پیٹ لگے ہوئے تھے۔ پھر اسکی نظر ایک اشتہار پر پڑی جس میں ایک پاکستانی خاندان کو بےبی سٹر کی ضرورت تھی۔ عالیہ کیلئے یہ امداد غیبی تھی اور کچھ دن بعد اس نے جاب شروع کر دی۔ جاب شروع کرنے کے بعد اسکی ساری خوش فہمیاں آہستہ دور ہو گئیں۔ یہاں کام کروانے والے پاکستانی اسکو مجبور سمجھ کر بے بی سٹر سے شروع ہوتے اور بات ہانڈی روٹی اور برتن دھونے اور صفائی پر ختم ہوتی۔ جس کے گھر میں خود دو دو ملازمائیں تھیں ، وہ اب لوگوں کی جوٹھ صاف کر رہی تھی۔

عالیہ کبھی اپنی کم علمی پر روتی اور کبھی اپنی کم نصیبی پر۔کبھی ساتھ آئی بیٹی کیلئے فکر مند ہوتی اور کبھی پاکستان چھوڑے ہوئے بچوں کیلئے۔ پیسوں کا مسئلہ بھی ہنوز ویسا ہی تھا۔سال بھر کی دن رات مشقت کے بعد آخرکار وہ ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لینے میں کامیاب ہو گئی۔ اس نے باقی بچوں کو بھی پاکستان سے بلا لیا۔اسکی مشقت اب پہلے سے بھی بڑھ گئی۔ اب جو نوکری اسے ملی اس میں اسے ایک ضعیف خاتون کی سارا دن تیماداری کرنی پڑتی مگر وہ اس بات پر اللہ کی شکر گزار تھی کے اسکے بچے اسکے پاس ہیں اور انکے پیٹ میں روٹی ہے۔

اب اسکے لئے بڑی بیٹی کی صورت میں مسئلہ تیار تھا۔ کسی چچا کو یہ توفیق تو کبھی نا ہوئی کے بچوں کے بارے میں خبر رکھیں مگر تنقید چلتی رہتی۔ عالیہ نے اسکا حل یہ نکالا کے آئمہ کی شادی کر دی جائے ۔آئمہ نے ابھی ہائی سکول پورا نہیں کیا تھا کے عالیہ نے پاکستان اسکا رشتہ اپنے چچا کے بیٹے سے ٹھرا دیا اور چند ماہ میں وہاں جاکر بیٹی کی شادی کر دی۔ مقصد یہ تھا کے لڑکا جو وہاں کچھ نہیں کرتا تھا، تعلیم بھی معمولی تھی اور شکل و صورت بھی پوری سوری تھی تو وہ یہاں آکر انکا سہارا بن جائے گا اور گھر میں ایک مرد ہونے سے باقی بچوں پر اچھا اثر پڑے گا۔ ویسے بھی وہ پڑھے لکھے لڑکے کیلئے ہاتھ پاوں مار چکی تھی اور کوششوں کے بعد اسے اندازہ ہو گیا تھا کے اسے آئمہ کیلئے ان حالات میں اس سے بہتر رشتہ نہیں ملے سکتا – عالیہ کے خیال میں ان حالات میں مزید انتظار کرنا اور بیٹی کی تعلیم پوری کرنا بعد میں مزید مسائل کا باعث بنے گا – آئمہ کی عمر ذیادہ ہو گئی تو پھر کوئی اسے پوچھے گا بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئمہ نے سسکی کی آواز پر سر اٹھا کر ماں کیطرف دیکھا۔ ماں کے چہرے پر آنسووں کے نشان تھے اور اسکی آنکھیں بند تھیں۔آئمہ کی آنکھوں میں ماں کیلئے عجیب سا تاثر تھا۔عالیہ نے آنکھیں کھولی تو آئمہ نے جلدی سے منہ پھیر کر اپنی بیٹی کو دیکھنا شروع کر دیا۔ آئمہ سوچ رہی تھی، کیا میری بیٹی کا نصیب بھی میرے جیسا ہی ہو گا، جیسے میرا اپنی ماں جیسا، اور میری ماں کا نانی جیسا؟ ایک کمرے میں چار نسلیں موجود تھیں اور چاروں کا مستقبل ایک سوالیہ نشان کیطرح آئمہ کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہا تھا۔
آئمہ بیٹی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کے وہ ایک سال کتنا خوبصورت اور اطمینان بخش تھا جب وہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کیساتھ ہنسی خوشی یہاں رہ رہی تھی۔ کھڑکی سے باہر نظر آنے والے ریسٹورنٹ میں انکا ہر دوسرے دن چکر لگ جاتا تھا اور ابو شاپنگ بھی خوب کرواتے تھے۔ ان دنوں ابو کے دادی،دادا اورپھپھووں، چاچووں کے ساتھ تعلقات خراب تھے۔ پھر آہستہ آہستہ انکا آنا جانا شروع ہوا اور ان لوگوں کا سکون رخصت۔

آئمہ کو یاد آنے لگا کے پاکستان آنے کے بعد باپ کا غصہ آہستہ آہستہ مایوسی میں بدل رہا تھا۔اس دن وہ دادی کے پورشن سے واپس آیا تھا کے رات کے کھانے کے بعد اسکی طبیعت گبھرانے لگی اور وہ عالیہ کو آوازیں دینے لگا۔ عالیہ بھاگتی ہوئی کچن سے آئی تو نعمان فرش پر گرا ہو تھا اور اسکا ایک ہاتھ آنکھوں پر تھا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا۔ جب تک وہ اسے ہسپتال لیکر پہنچی نعمان دم توڑ چکا تھا۔نعمان کو برین ہیمرج ہوا تھا۔

آئمہ سوچ رہی تھی کے اسکے باپ کی زندگی کے ساتھ ہی اسکی خوشیوں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اسکی ماں ہمیشہ کی طرح نا اپنے لئے کچھ کر سکی نا ہی اسکے لئے۔ اور اب باقی بھائی بہنوں کا حال بھی اسکے جیسا ہی ہونا ہے۔ اسے اچھی طرح پتا تھا کے اسکی ماں اس سے چھوٹی بہن کا رشتہ ڈھونڈ رہی ہے۔ چند ماہ پہلے تک وہ چھوٹی بہن کی شادی کی زبردست حامی تھی مگر اب نہیں۔اس نے پہلو بدلا، ساتھ ہی ٹیس کی ایک لہر اسکی کمر سے اٹھی۔ یہ درد تو اب روز کا معمول تھا۔ جسکو باپ نے کبھی غصے میں ایک لفظ نہیں کہا تھا اسے اب روز اس بات پر مار پڑتی تھی کے وہ روز گھر میں کس کیلئے بن سنور کر بیٹھتی ہے۔

آئمہ جو خوبصورت بھی تھی اور کم سن بھی ، نے شادی کا سن کر ماں کے آگے سر جھکا دیا تھا۔ آئمہ سوچ رہی تھی کے اسکی ماں نے کیسے اپنی مجبوری کا نقشہ کھینچ کر اسے شادی پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر اس سے بھی پہلے اس کی ماں نے گھر کا ماحول بھی ایسا ہی رکھا تھا جہاں ان بہنوں کوتعلیم کی کوئی افادیت نظر نہیں آتی تھی۔ انکے خیال میں امریکہ آنے سے انہیں انگریزی بولنی آ گئی ہے اور یہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔شادی کے شروع کے دن اچھے گزرے مگر پھر سال کے اندر اندر بچی بھی ہو گئی اور ساتھ ہی شادی کا سارا چارم بھی ختم ہو گیا۔ اب آئمہ کے ذہن میں ایک ہی بات آتی جب وہ اپنی کزنز سے ملتی کے یہ سب تو ہر طرح کی ذمہ داری سے آزاد ہیں مگر وہ ایک پنجرے میں قید ہے۔کھانا وقت پر بنے، کپڑے وقت پر دھلیں،گھر صاف و شفاف ہو اور ساتھ میں بچی کا بھی خیال –اب اسے لگتا کے وہ وقت دور نہیں جب وہ اپنی ماں اور نانی کیطرح لوگوں کے برتن مانجھے گی اور پھر اپنی بیٹی کی تربیت بھی ویسی ہی کرے گی جیسی اسکی ماں نے اسکی اور اس سے پہلے اسکی ماں کی اسکی نانی نے کی تھی۔ یہ تو نسلوں کا عذاب ہے ایک دن میں کیسے ختم ہو گا، آئمہ نے افسردگی سے سوچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ عرصے بعد عالیہ نے اپنی ماں عظمت کو بھی سپانسر کرکے امریکہ بلا لیا تھا۔ کہنے کو وہ سب کو یہ بتاتی تھی کے گھر میں کوئی تو ہو جو سمجھداری سے گھر کو چلا سکے۔ مگر اصل میں تو اسکی ماں کی حالت اور اسکے میکے کی حالت بھی کم بری نہیں تھی۔ ایک بہن کو پہلے طلاق ہوئی اور پھر حلالہ کے بعد پھر وہیں نکاح کیا۔ دوسری بہن کا شوہر جوئے کی لت میں پڑ کر اپنا کاروبار تباہ کر چکا تھا اور اب کسی عورت کے چکر میں تھا۔تیسری بہن کا شوہر تیسری شادی کے شوق مین بیوی بچوں کو بھولا بیٹھا تھا۔ عالیہ کا بڑے والا بھائی بھی کم نہیں تھا۔کچھ عرصہ اس نے نوکری کی اور اسی دوران اسکی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد جیسے جیسے ذمہ داری بڑھی ویسے ہی اس نے رنگ دیکھانے شروع کر دیئے۔ آخر کچھ عرصے بعد کام چھوڑ کر تبلیغی جماعت میں شامل ہوگیا۔ کوٹھی بیچ کر پیسہ وہ پہلے ہی برباد کر چکا تھا۔عالیہ کی بھابھی نے روز روز کی چخ چخ سے تنگ آ کر دو بچوں کے بعد طلاق لے لی اور بچوں کو بھی چھوڑ گئی ۔عظمت پر بغیر کسی ذریعہ آمدنی کے دو کم سن بچوں کی ذمہ داری آن پڑی تھی اور اسکے لئے بھی پیسہ چاہئے تھا۔عظمت کے لئے بھی اب اسکے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا کے وہ یہاں آکر ضعیف عمر لوگوں کی ٹیک کئیر کرے اور پاکستان اپنے پوتا پوتی کیلئے پیسہ بھیجے۔

عالیہ کا بڑا بیٹاجو آئمہ سے چار سال چھوٹا تھا ہائی سکول میں تھا۔ وہ سکول تو کم جاتا مگر ادھر کی آوارہ گردی میں تاک ہو گیا تھا۔ کزنز اور دوستوں کے ساتھ ملکر سیگریٹ نوشی اور نشے وغیرہ میں پڑ چکا تھا۔ماں کو تنگ کرکے نئی کار بھی لے چکا تھا اور دو بار اسکا ایکسیڈنٹ بھی کر چکا تھا۔عالیہ یہاں کی پڑھائی کی اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتی تھی کے سکول جاکر بیٹے کا پتا کر سکے۔ داماد صاحب نے سسرال کو کیا سپورٹ کرنا تھا، انکو اپنے کنبے کو پیچھے پالنے کی فکر تھی۔ انہیں سب باتوں کی وجہ سےگھر میں تناؤ بڑھنے لگ گیا اور ہر وقت تو تکار رہنے لگ گئی۔آئمہ کا تقاضا تھا کے وہ گھر میں بیٹھ کر سب کی ہانڈی روٹی نہیں کر سکتی۔ اسے بھی ٹائم چاہئے اپنے لئے اور وہ پھر سے پڑھائی شروع کرنا چاہتی ہے۔ اسکا شوہر یہ سن کر پھپھر اٹھا اور بات ہاتھا پائی تک آ گئی۔وہ تو پہلے ہی آئمہ کے آنے جانے پر نظر رکھتا تھا – بہانے بہانے سے فون کر کے اس کا پتا کرتا تھا۔ گھر کے باہر کھڑا ہو کر چیک کرتا تھا کے وہ اسکی غیر موجودگی میں کہیں آتی جاتی تو نہیں۔ جب بات ذیادہ بڑھ گئی تو وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔

آج آئمہ کے شوہر کو گھر چھوڑے تیسرا دن تھا۔تینوں عورتیں اپنی کم نصیبی اور کم علمی کو رو رہی تھیں۔تینوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کے انہوں نے کیا کھویا کیا پا یا۔ جس معاشرے کے رسم و رواج وہ نبھانے کی کوشش کرتی رہیں، اس نے انکو کیا دیا۔ عالیہ کو اپنا پیسہ ٹکڑوں میں واپس ملا۔ گھر میں حصہ دیور نے دباو ڈال کر اونے پونے خرید لیا۔ساس سسر اس عرصے میں وفات پا گئے تو انکے نام لگنے والا حصہ آگے بہن بھائیوں کو لگ گیا۔امریکہ میں رہنے والی نندوں نے پاکستانی چند ہزار بھی اپنے یتیم بھتیجے بھتیجیوں کیلئے نہیں چھوڑا۔جو دیور جیٹھ تہذیب اور مذہب کے ٹھیکےدار بن کر اس پر کیچڑ اچھالتے تھے، انہوں نے اسکے گھر گھر جاکر لوگوں کی جوٹھ اور گندگی صاف کرنے پر کوئی غیرت نہیں دیکھائی۔
آئمہ جو اتنے دنوں سے ٹینشن کا شکار تھی ماں پر پھٹ پڑی۔ " یہ سب آپکی وجہ سے ہے۔ آپکو تو پتا تھا کے زندگی اتنی آسان نہیں تو پھر آپ نے مجھے دنیا میں جینا کیوں نہیں سیکھایا – آپ نے خود ساری زندگی تہمتیں سہی اور مجھے بھی اس سب کےلئے تیار کر دیا۔ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتا یا کے تعلیم کتنی ضروری ہے ایک عورت کیلئے۔آپ نے مجھے کوئی ہنر بھی نہیں سیکھنے دیا۔ کیا اب میں بھی آپکی طرح لوگوں کے برتن مانجھوں اور انکی نجاست صاف کروں۔ آپ کیسی ماں تھی کے آپ کو درد سہہ کر بھی سمجھ نا آئی کے آپکی اولاد کو آپ سے بہتر ہو نا چاہئے۔ عورت کو ہر ناگہانی کیلئے تیار ہو نا چاہئے۔" آئمہ سانس لینے کیلئے رکی اور پھر بولی "اب آپ یہی کچھ نائمہ کے ساتھ بھی کرنا چاہتی ہیں ۔آپ نے نا ہی خالاؤں کی زندگی سے اور نا ہی ایک بیٹی کو بربار کر کے کچھ سیکھا ۔ مگر میں اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ میں اپنی تعلیم پوری کروں گی اور اپنی بیٹی کو اپنے دین اور دنیا کا ایسا شعور دوں گی جو اسکے کام آ سکے۔" آئمہ کا چہرہ آنسووں سے بھیگا ہوا تھا۔ اسکی بیٹی عینی یہ دیکھ کر گبھرا گئی اور بھاگ کر اس سے لپٹ گئِ۔

کمرے میں سسکیوں کی آواز کے دوران فون کی گھنٹی بجی۔ عالیہ نے فون اٹھایا اور کسی سے کچھ دیر بات کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد آئمہ کے چھوٹے تایا تائی اور اسکے شوہر کی آمد ہوئی۔ اب کمرے کا منظر وہی پرانا تھا۔ تایا آئمہ کو سمجھا رہے تھے کے وہ شوہر سے معافی مانگے۔ آئمہ بمشکل کہہ پائی یہ مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے ، میں اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی عالیہ نے اسکو ایک تھپڑ دے مارا۔ "خبردار بدذات جو تو نے ایسی بات منہ سے نکالی، بے غیرت عزت دار عورتیں ایسی باتیں نہیں کرتی"۔

عظمت خاموشی سے اپنے خاندان کو پھلتا پھولتا دیکھ رہی تھی۔ اب صرف آئمہ، عالیہ، اور عظمت ہی اس خاندان کی عزت کی پاسدار نہیں تھیں بلکہ ان میں ایک اور کا اضافہ ہو چکا تھا یعنی عظمت، عالیہ، آئمہ اور عینی۔۔۔۔۔۔۔۔