Afsana 026 میری ادھوری محبت از حرا قریشی

میری ادھوری محبت
از حرا قریشی

میں مسلسل تین دن سے اسی جگہ اس کے انتظار میں آکر کھڑا ہوجاتا تھا اور وہ خاموشی سے میرے سامنے سے آنکھیں نیچی کیے گزر جاتی تھی۔ اس کے جانے کے بہت دیر بعد تک میں وہیں کھڑا اس کے خیال میں گم رہتا تھا۔ اس کی ستواں ناک، گہرے سیاہ بال، بڑی بڑی آنکھیں جن پر گھنیری پلکیں سایہ فگن رہتی تھیں۔

وہ اس سے پہلے مجھے اپنی گلی میں نظر نہیں آئی تھی۔ تین دن پہلے میں نے اسے سامنے والے گھر کے آنگن میں ٹہلتے دیکھا تھا اور دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔ شام کے وقت وہ چہل قدمی کے لیے نکلنے کی عادی تھی اور میں صدا کا کاہل، صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس کے گھر سے نکلنے سے بھی ایک گھنٹہ پہلے باہر ٹہلنا شروع کردیتا تھا کہ شاید آج بات کرنے کا موقع مل جائے، مگر ایسا کوئی موقع ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اس کے انداز بتارہے تھے کہ وہ ایسی ویسی نہیں ہے، اس لیے اس طرح گلی میں کھڑے ہوکر بات کرنا مجھے بھی کچھ مناسب نہیں لگا۔ میرا گھر بھی سامنے ہی تھا اگر گھر والوں کو میرے کارناموں کی بھنک بھی پڑگئی تو میرا حشر کردیا جاتا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔٭

آج مجھے یہاں آئے ہوئے پورے تین دن ہوگئے تھے۔ پہلے پہل میں یہاں آنے پر بہت خوش تھی لیکن پہلے ہی دن مجھے اندازہ ہوگیا کے یہ دنیا ایک جیسی ہی ہے۔ جہاں میں پہلے رہتی تھی وہاں ایسے کتنے ہی تھے جو ٹکٹکی باندھ کر مجھے گھورتے تھے اور میرا دل چاہتا تھا کہ ان کی آنکھیں نوچ لوں۔ یہاں آنے پر میں نے سکون کا سانس لیا کہ ماحول بہت بہتر ہے۔ پہلے دن میں گھر کہ ایک بچے کی فرمائش پر اس کے ساتھ باہر نکلی تھی۔ گھر سے نکلتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی مجھے بہت دیر سے گھور رہا ہے۔ میں نے نظریں اٹھائیں تو وہ مجھے سامنے والے گھر کے باہر ہی بیٹھا نظر آیا۔ پہلے حیرانگی اور پھر اس کی پر شوق نظروں سے گھبرا کر میں نے فوراً نظریں نیچی کرلیں تھیں اور اس بچے کے ساتھ گلی کے کونے تک کا چکر لگا کر واپس آگئی۔ گھر میں گھسنے سے پہلے میں نے پیچھے مڑکر دیکھا، وہ اب کھڑا ہوچکا تھا اور اب تک اس کی نگاہیں مجھ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ شدید اشتعال کے مارے میں گھر میں گھس گئی تھی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔٭

سامنے والوں کا دروازہ جب بھی کھلتا تھا وہ ہمیشہ سامنے ہی نظر آتی تھی، مگر کچھ دن سے میں نوٹ کررہا تھا کہ وہ پہلے کی طرح مجھے اگنور کرنے کے بجائے بے قراری سے دروازہ کی طرف ہی دیکھ رہی ہوتی تھی اور جیسے ہی دروازہ کھلتا تھا دروازے سے آلگتی تھی۔ میری بھی کچھ ہمت بندھی اور میں نے اس سے بات کرنے کی ٹھانی۔ آخر مجھے اس کے بارے میں کچھ جاننا بھی تو تھا۔

میں ہمت کرکے گھر سے نکلا اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا سامنے والوں کے گھر کی طرف چل پڑا۔ برابر والے گھر سے کسی نے فل والیم پر "اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے" چلا دیا تھا۔ مجھے لگا سنگر نے میرے دل کی آواز اس تک پہنچادی ہے۔ ویسے وہ ہمیشہ ہی کالے جوڑے میں نظر آتی تھی، اور نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگتی تھی۔ شاید اسے بھی میری طرح کالے رنگ سے عشق تھا۔ مگر مجھے پورا یقین تھا وہ ہر رنگ میں ہی حسین لگ سکتی تھی۔

میں دروازے کے پاس پہنچا ہی تھا کہ سامنے والوں کے بچے نے بھاگ کر اپنا دروازہ بند کرلیا۔ اس عزت افزائی پر میرا خون کھول گیا اور میں نے دروازے پر ایک زور دار ٹھوکر مار کر اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کی اور واپس پلٹ گیا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

شروع شروع میں مجھے اس کی گھورتی نگاہیں زہر لگتی تھیں مگر اس بیچارے نے گھورنے کے علاوہ کبھی مجھ پر آواز نہیں کسی تھی۔ پہلے تجربے کے بعد میں نے بہتر سمجھا کہ گھر سے ہی نہ نکلا جائے۔ مگر جس گھر نے مجھے پناہ دی تھی ان لوگوں کے احسان کے بدلے میں اتنا تو کر ہی سکتی تھی کہ ان کے بچے کی معصوم خواہش کا ہی خیال رکھ لوں۔ وہ میرے ساتھ باہر جانے پر اتنا خوش ہوتا تھا کہ میں بغیر کسی اعتراض کے اس کے ساتھ چل پڑتی تھی۔

مسلسل تین دن بعد مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی نگاہوں میں میرے لیے احترام تھا۔ شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔ میں بھی اس روز روز کے ڈرامے سے تنگ آچکی تھی اس لیے سوچ رکھا تھا کہ ایک دفعہ اس کی بات سن لینی چاہیے۔ دل ہی دل میں مجھے بھی وہ اچھا لگنے لگا تھا۔ اگر فلرٹ ہوا تو دماغ درست کردینے کا پکا ارادہ کرلیا تھا۔

آج دروازہ کھلا تو میں بھی دروازے کی طرف آگئی۔ وہ بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ بچے نے ایک اجنبی کو دیکھ کر کھٹ سے دروازہ بن کردیا۔ اس نے دروازے کو ایک زور دار ٹھوکر رسید کی تھی۔ شاید بلکہ یقیناً اسے یہ اپنی توہین لگی تھی۔ مجھے بھی افسوس ہوا۔ افسوس، مگر مجھے کیوں افسوس ہورہا ہے؟ میں نے اپنے آپ کو ڈپٹا۔ انجانے میں ہی، مگر شاید میں اس سے محبت کرنے لگی تھی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

آج آر یا پار، میں گھر سے سوچ کر نکلا تھا اور وہ بھی اسی وقت گھر سے نکلی تھی۔ اس سے پہلے کے میں اس کی طرف جاتا، وہ اس بچے کے ساتھ میرے قریب ہی رک گئی تھی۔ ہم آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کے دل کی بات جان گئے تھے مگر اقرار محبت ضروری ہوجاتا ہے۔ وہ آج بھی کالے رنگ میں ہی تھی بلکہ آج مہندی بھی لگا رکھی تھی۔ آج چاند رات اور کل عید جو ہے۔

اس نے میری نظروں سے گھبرا کر نظریں جھکالی تھیں اور اس کی لرزتی پلکیں عارضوں پر سایہ فگن تھیں۔ میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اس کے ساتھ آئے بچے نے اس کی رسی کھینچی اور دوسرے بچے سے کہنے لگا،

"تم نے ہماری بکری دیکھی؟ تین دن پہلے ابو کے ساتھ بکرا منڈی سے میں خود لایا ہوں۔ یہ تمہارا بکرا ہے؟ روز باہر کھڑا نظر آتا ہے تم اسے ٹہلاتے نہیں ہو؟" اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

دونوں بچوں کی باتیں شروع ہوچکی تھیں اور وہ بچہ میری محبوبہ کو کھینچتے ہوئے آگے چلا گیا تھا۔ وہ بار بار مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی اور میں حسرت زدہ آنکھوں سے اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔

ہاہ۔ میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ یہ تھی میری ادھوری محبت!

ویسے آپ کیا سمجھے تھے؟