Afsana 028 خالی ہاتھ از رفعت

خالی ہاتھ
از رفعت

آج میرے ہاتھ کتنے خالی ہیں ،یہ کلائیاں جو کبھی سونی نہیں رہی تھی یہ ہاتھ جن پر سے میں نے کبھی مہندی کا رنگ ماند نہیں پڑنے دیا تھا ۔آج کتنے روکھے سے ہیں ،یہ ہاتھ جن کو میں کبھی دینے والا ہاتھ نہ بنا پائی تھی آج لینے کے لیے کیسے پھیلائے بیٹھی ہوں ۔آج تک جن لوگوں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی آج وہ مجھے یوں نظر انداز کر کے گزر جاتے ہیں گویا میرا وجود ان کو نظر ہی نہ آتا ہو۔مجھے تو آرام دہ بستر پر سونے کی عادت تھی مجھے یہاں اس فقیرانہ دری پر نیند کیسے آجاتی ہے۔شاید اسے ہی مکافات عمل کہتےہیں لوگ۔
۔کاش کہ میں نے کسی کی سنی ہوتی ،کسی سمجھانے والے کو اپنے سے مخلص سمجھا ہوتا،یہ روز روز کا مرنا اتنی ذلت اتنی رسوائی۔آہ مجھے موت کیوں نہیں آجاتی اس عذاب بھری زندگی سے تو اس قبر کی خاموشی اچھی ہو گی۔کم از کم اس ضمیر کی آواز سے تو چھٹکارا پا سکوں گی ۔لیکن کیا معلوم وہاں بھی سکون میسر نہ ہو،جو کچھ میں اپنے غرور میں مست ہو کر کر چکی ہوں کیا میرا اللہ مجھے معاف کرے گا۔

لیکن کیسے وہ تو کہتا ہے کہ میں حقوق اللہ معاف کر سکتا ہوں حقوق العباد نہیں ۔اور میری زیادتیوں کے شکار لوگ تو جانے کہاں ںہیں کچھ کو تو اپنے ہاتھوں ہی مار دیا میں نے کہاں ڈھونڈوں ان کو۔کاش کہ وقت کا پہیہ الٹا گھوم سکتا تو میں ان کے سامنے گڑگڑ ا کر پاؤں پکڑ کر معافی مانگ لیتی ۔کاش۔۔۔۔۔

میں رشیدہ بیگم ،آج سے کوئی 30 ،35 سال پہلے بہت خوبصورت اور جوان تھی ،میری خوبصورت میرے لمبے بالوں میں تھی ،جب لوگ میرے بالوں کی تعریف کرتے تو میں اس تعریف پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کو اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی اور میری گردن فخر سے تن جاتی کہ میں سب کی نگاہوں کا مرکز ہوں ۔میرے مزاج میں لوگوں کو ایک عجیب سا تکبر نظر آتا تھا،لیکن مجھے تو کبھی نظر نہیں آیا مجھے لگتا تھا کہ لوگ مجھ سے جلتے ہیں ۔اسی مزاج کی بدولت میں کبھی اپنے بہن بھائیوں سے بھی گھل مل نہ سکی۔
وقت گزرتا گیا میری شادی ہو گئی ،میرا شوہر مجھ سے بہت پیار کرتا تھا،میری ایک ایک خواہش کو وہ اپنا فرض سمجھ کر پورا کرتا۔میں اس پر جتنا بھی اتراتی کم تھا۔میرے شوہر کے بہن بھائی ان کی فیمیلیز اگر ہم سے ملنا چاہتے تو میں ان سے کنارہ کرتی کہ یہ لوگ میرے شوہر کو مجھ سے بانٹنا چاہتے ہیں۔
اللہ نے یہاں بھی میرے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن جب غفلت کا بھاری پردہ پڑا ہو تو کچھ نظر کہاں آتا ہے۔اللہ نے میرے گناہوں کے سبب مجھے بے اولاد رکھا،لیکن میرے شوہر نے مجھے کبھی اس بات کا طعنہ نہیں دیا وہ ایک شریف اور نیک طبیعت کا شخص تھا۔اس کو اپنے رشتے داروں سے محبت تھی ان کے بچوں کو اپنی اولاد سمجھتا تھا،اور جب وہ ان کو پیار سے سینے سے لگاتا تو میرے سینے پر سانپ لوٹتے تھے۔جی چاہتا تھا سب کچھ تہس نہس کر دوں۔
آخر میری روز و شب کی محنت رنگ لے آئی اور میں نے ان سب فضول لوگوں کو اپنے شوہر سے دور کر دیا۔اب وہ صرف میرا تھا،صرف میرا۔۔
اس نے میرے لیے ایک عالی شان گھر بنوایا۔اور مجھ کو رانی کی طرح اس میں رکھا۔
لیکن وہ خود آہستہ آہستہ گھلتا گیا۔میں تو اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی خوب بن سنور کر اس کے ساتھ رہتی لیکن یہ کون سا غم تھا جو اس کو کھائے جا رہا تھا۔
اور ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔اب تو عمر بھی ہو چکی تھی ۔اس کی روز روز کی بیماری مجھ کو کھلنے لگی ۔میں اس دنیا میں کسی کی خدمت کرنے نہیں آئی ہوں یہ سوچ مجھے اس سے دور کرتی رہی ۔پہلے تو اس کو ہسپتال لے جاتی تھی اب میں نے یہ بھی چھوڑ دیا وہ گھر میں پڑا تکلیف کے مارے کراہتا رہتا اور میں مزے سے تیار ہو کر اپنی سہیلیوں کے ساتھ گپیں لگاتی۔کبھی یہ نہ سوچا کہ اس کو پیاس لگے گی تو پانی کیسے پیے گا وہ تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا۔میں سارا سارا دن گزار کر جب واپس آتی تو وہ بڑی حسرت بھری نظروں سے میری جانب دیکھتا اور میں اس کو کچھ نہ کچھ کھلا پلا دیتی۔
میری سہیلی کے میاں کو پتا چلا تو اس نے مجھے ورغلانا شروع کیا کہ یہ کمزور وجود جو بیڈ سے اٹھ نہیں سکتا تمہیں کیا دے سکتا ہے ۔یہ چلا جائے گا تو اس کے تمام رشتہ دار شہد کی مکھیوں کی طرح اس کی جائیداد پر قابض ہو جائیں گے اور تم جو اس کا خیال رکھتی ہو اس کی بیماری جھیلتی ہو خالی ہاتھ رہ جاؤ گی۔یہ لوگ تم کو پائی پائی کا محتاج بنا کر سڑک پر پھینک دیں گے۔ میں نے اپنے اس ہمدرد سے پوچھا اب مجھے اس کا حل بھی بتاؤ میں تو اس عیش وعشرت کو ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی ،میرے اس ہمدرد نے مجھے ایک نہایت آسان مشورہ دیا کہ اس بڈھے سے جان چھڑوالو اور جائیداد فی الحال میرے نام کر دو تاکہ تم پر کسی کو شک نہ ہو۔میری تو عقل پر پردہ تھا میں اس کی باتیں من و عن مانتی گئی۔
میں نے آہستہ آہستہ اس بیمار انسان کو پوائزن دینا شروع کیا ،جانے اس کے رشتے داروں کو کس نے خبر کی سب آموجود ہوئے اور اس کی حالت دیکھ کر ہسپتال لے جانے کی بات کرنے لگے۔میں نے اس دن ان کو بہت مشکل سے روک لیا،اور اس سے اگلے دن۔۔کاش کہ اس دن مجھے موت آجاتی مجھ سے یہ گناہ سرزد نہ ہوتا۔نہ ہی میں یوں پچھتاووں کی آگ میں جلتی رہتی۔کاش۔۔۔
اگلے دن میں نے اس کے کھانے میں اچھے سے پوائزن ملایا اس کو کھانا کھلایا اور باہر چلی گئی۔آخر کو اپنے مخلص دوستوں کو بتانا تھا کہ کام ہو گیا ہے ،جب شام کو واپس آئی تو وہ بیمار وجود اب حرکت میں نہیں تھا ،اس کی جگہ بستر پر بس ایک ساکت وجود تھا جس کی آنکھیں کھلی تھیں ۔لیکن کچھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔
مجھے اپنی جیت کی خوشی تھی ،دل چاہتا تھا کہ زور زور سے قہقہے لگاؤں،مگر دنیا داری نبھاہنے کے لیے مجھے رونا تھا اور میں زاروقطار رو رہی تھی۔
آج کا سورج میرے لیے جیسے نئی خوشیاں لے آیا،اب تو سب میرا تھا،لیکن یہ کون لوگ ہیں جو اپنا حق جتانے آگئے تھے ،آہ یہ تو وہی میرے مخلص دوست تھے جن کے کہنے پر میں نت اپنے سر کا سائبان خود ہٹا دیا تھا،اور اب وہ میری اس جنت سے مجھے نکال کر خود قبضہ چاہتے تھے،میں روئی گڑگڑائی مگر کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا
بہن بھائیوں کی طرف دیکھا وہ منہ موڑ گئے،جب اپنے شوہر کے بھائی بہنوں کو مدد کے لیے بلایا تو وہ پرائے مسئلے میں پھنسنے کو تیار نہ ہوئے،اور آج صرف تن کے کپڑوں میں مجھے میرے گھر ،میرے محل سے نکال دیا گیا۔
میں اپنی شناخت چھپا کر فقیروں کی زندگی جینے لگی تھی کسی کا دل کرتا تو ترس کھا کر کچھ دے دیتا ورنہ سارا دن یونہی پڑی رہتی تھی،اب تو ضمیر کی آواز چین بھی نہیں لینے دیتی۔اب اس بیمار شخص کی بھوک پیاس کا احساس ستاتا ہے ،اور ایک پل کے لیے بھی اس کا مجبور چہرہ اور سسکتی بلکتی آہیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔
آہ گلے میں کانٹے سے چبھ رہے ہیں شاید مجھے پیاس لگ رہی ہے ،پانی ،،پانی،پانی،کوئی تو میری آواز سنو،یاخدا یہ لوگ میری آواز کیوں نہیں سنتے ،یہ پیاس مجھے مار ڈالے گی۔کوئی تو ایک بوند پانی پلا دو،میں ہل کیوں نہیں پا رہی، پاؤں کیوں شل ہو گئے میرے۔لیکن میں تو ابھی زندہ ہوں تو پانی تک کیوں رسائی نہیں ہو رہی ۔شاید اس نے بھی آخری وقت میں پیاس محسوس کی ہو گی شاید وہ بھی پانی کے لیے تڑپا ہو گا،میری آنکھوں کے آگے اندھیرا کیوں ہو رہا ہے،پانی۔۔پانی۔۔پانی

اور دوسری صبح وہ ایک لاوارث لاش کی صورت سڑک کے کنارے پڑی تھی۔ بے یار و مددگار۔ شاید اسی کو مکافاتِ عمل کہتے ہیں۔