Afsana 029 پچھتاوا از رضوان

السلام و علکیم

یہ دونوں افسانے ان تمام پاکستانیوں کے لئے ہیں جو مسلمان تھے دیارغیر میں جان بوجھ کر ، حالات کی وجہ سے یا معاشرہ کی سنگینوں کا شکار ہو کر بے حس ہو گئے کہ انکو اپنوں کی موت بھی ان کو جھنجھوڑ نہ سکی اور وہ اپنوں کا آخری دیدار اور انکی کی میتوں کا کندھا بھی نہیں دے سکے
یا
وہ وہاں انجان موت مر گئے جن کی میت پر اپنوں کو رونا اور کندھا دینا بھی نصیب نہیں ہوا۔

ان دو افسانوں میں صرف ایک کردار پر ہی روشنی ڈالی گئی ہے اور وہ کردار ہے گھر سے باہر دوسرے ملک میں بسنے والا چاہے وہ اپنی مرضی سے آیا ہو یہ اس پر کوئی زبردستی کی گئی ہو۔

ضروری نہیں کہ ہر باہر رہنے والے انسان کے ساتھ ایسا ہی برا تجربہ ہوا ہو جیسا ان افسانوں میں ہوا ہے یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے اور اس کے بہت سے رخ ہو سکتے ہیں۔

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ہر انسان جو گھر سے باہر آتا ہے گو وہ بہت کچھ پاتا ہے مگر وہ رشتوں کے معاملے میں بہت کچھ کھوتا بھی ضرور ہے ۔

دونوں افسانوں کا نام ایک ہی ہے۔

پچھتاوا
از رضوان

"ہیلو پولیس اسٹیشن یہاں میں نے فٹ پاتھ پر ایک ڈیڈ مین دیکھا ہے پلیز آپ لوگ آ جائیں"۔ ایک 20 سالہ گورے نے صبح صبح فون کرکے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس آئی اور اردگرد کے لوگوں سے اینوسٹیگیشن کرنے پر معلوم ہوا کہ کوئی بھی اس ڈیڈ مین کو نہیں جانتا ہے کہ یہ کون ہے کہاں سے آیا ہے اس کا مذہب کیا ہے بس یہ بتایا گیا کہ یہ آدمی چند دنوں سے یہاں گھومتے پھرتے اور کوڑے کے ڈھیر سے کھانا نکال کر کھاتے دیکھا گیا ہے ۔ پولیس نے جانچ پڑتال اور کاغذی کاروائی کر کے میونسپل کو بلوا کر اسکو اٹھوایا اور ویران مقام پر جا کر بہت سے دوسرے انجان ڈیڈ مین کی طرح مٹی میں دبا دیا کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آیا یہ مسلمان ہے عیسائی ہے یا ہندو ہے ۔

********************

آج رات لندن میں اتنی سردی تھی کہ کوئی شخص کیا چرند پرند بھی باہر نکلنے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔ مگر وہ اس برف کے طوفان میں بس اسٹینڈ کے فٹ پاتھ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے جسم پر ایک بہت پرانا کوٹ تھا اور جینز کی انتہائی گندی پینٹ تھی اور پیروں میں وائٹ کلر کے ٹوٹے ہوئے جاگرز تھے جو کی ایک عام حالات میں سردی کو روکنے کے لئے ناکافی تھے اور اس سرد طوفاں میں تو یہ بالکل ہی ناکافی تھے۔ انتہائی لاغر پن اور سردی کی وجہ سے اسکی کھلی آنکھیں جم چکی تھیں اور دل کی دھڑکن اتنی ہلکی تھی کہ وہ خود بھی نہیں سن سکتا تھا اور وہ ہر احساس سے عاری جسم اور زخموں سے چور روح کی ترجمانی کر رہا تھا اگر اس میں کچھ زندہ تھا تو وہ اسکا ذہن جو اپنی زندگی اپنے ماضی کو سوچے جا رہا تھا اور اسکی بنجر آنکھوں سے آنسو کا تو قطرہ بھی نہیں نکل رہا تھا مگر اسکا دل خون کے آنسو رو رہا تھا، وہ ایک ہارے لوٹے ہوئے ایک مسافر کی طرح واپس جا رہا تھا، اس جہاں سے دوسرے جہاں میں اور وہ کتنا بدنصیب تھا کہ وہ نہ کچھ حاصل کر پایا اپنے لئے اس دنیا میں اور نہ ہی اسکے پاس کچھ تھا اگلے جہاں کے لئے ۔

********************

نہیں ابا جان میں اپنے ملک میں ہی رہوں گا مجھے کہیں باہر نہیں جانا جتنا قسمت میں لکھا ہو گا میں کما لوں گا ابھی میری عمر ہی کیا ہے اس نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا۔ جس پر اسکو اپنے والد کے سخت الفاظ سننا پڑے اور انہوں نے اسکو جھڑکتے ہوئے بولا کہ میں نے تمھارے ویزہ کے لئے ایجنٹ سے بات کر لی ہے اور بہت جلد تمھارا ویزا آ جائے گا تم اپنی تیاری مکمل کر لو اور یہ میرا حکم ہے یہ بول کر اسکے والد گھر سے نکل گئے۔
********************
وہ بے اختیار اپنی ماں کے گلے لگ پر رو پڑا اور روتے ہوئے بولا اماں کیا پیسہ ہی ہر چیز ہے کیوں ابا جان ہر چیز کو پیسوں میں تولتے ہیں اگر انکے دوست کا بیٹا باہر چلا گیا ہے اور وہ امیر ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں بھی باہر جاؤں میں آپ لوگوں کے سامنے رہنا چاہتا ہوں، اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ پیاری اماں جان برائے مہربانی ابا کو سمجھائیں اور مجھے یوں آپ لوگوں سے جدا نہ کریں، میں کیسے رہوں گا آپ کے بغیر اسکی ماں اسکو گلے لگا کر خاموشی کے آنسو روتی رہی اور تپھکیاں دیتی رہی، وہ جانتی تھی کہ اسکے شوہر نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اٹل ہے اس لئے اسکو کچھ بھی بولنا فضول ہے۔

********************

آخر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے والد کی نافرمانی کے ڈر سے باہر جانے پر مجبور ہو گیا۔ اور انگلینڈ آ کر نوکری پر لگ گیا شروع میں تو اسکو پاکستان کی اپنی ماں چھوٹی چھوٹی بہنوں اور بھائی کی بہت یاد آتی اور وہ گھنٹوں انکو یاد کر کے روتا وہ تو ایسا شخص تھا کہ اسکو دنیا کی رنگینوں کا پتہ ہی نہیں تھا اور اس طرح کی زندگی میں کیسے رہنا ہے وہ تو سرے سے جانتا ہی نہیں تھا وہ تو بس اپنے باپ کی خواہش یعنی پیسہ کمانے آیا تھا اور وہ یہ کام بڑی ایمانداری سے کرتا تھا ہر ماہ جب تنخواہ ملتی تو وہ صرف اپنا خرچ رکھ کر باقی سارے پیسے اپنے والد کو پاکستان بھیج دیتا اور وہ ہر ممکن کوشش کرتا کہ اسکا باپ اس سے ناراض نہ ہو ۔

********************

اسکا والد پاکستان میں بہت خوش تھا ہر مہینے شہر جا کر ہنڈی والے سے وہ جیبیں بھر کے پیسہ لے آتا اور اپنے دوستوں کو شیخی دکھاتا کہ اسکے پاس اتنے پیسے آ گئے ہیں اور اس نے اتنی زمیین خرید لی ہیں اور اسکو کوئی پروا نہیں تھی کہ اسکا بیٹا وہاں کرتا ہے کیسے پیسے کماتا ہے اسکو تو غرض تھی تو صرف پیسوں کی کبھی کبھی لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے کہ وہ آنے والے حالات سے بے خبر ہو جاتا ہے
********************

ایسے ہی سلسہ چلتا رہا اور اسکو انگلینڈ میں رہتے ہوئے 2 سال گزر گئے وہ اتنا پڑھا لکھا تو تھا نہیں کہ کوئی اچھی نوکری مل جاتی بس جو بھی جاب ملتی وہ کر لیتا، کیا ڈش واشنگ، کیا ہوم کلینگ غرض کہ اس نے ہر قسم کی محنت مزدوری کی پیسہ کمانے کے لئے اور اپنے باپ کو خوش کرنے کےلئے۔

********************

پھر کچھ ایسا ہوا کہ جس نے اسکی زندگی بدل دی یوں کہنا کے اسکا زندگی کا سب سے برا دن آیا جب انگلینڈ میں بننے والے دوستوں میں سے ایک نے اسکو ایک نئی راہ دکھائی اور وہ ایک رات اپنے دوست کے ساتھ ایک ہوٹل میں گیا جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گیا تھا وہ تھوڑا ڈرا ڈرا اور سہما ہوا انکے ساتھ جا کر ایک ہال میں بیٹھ گیا جس کے چاروں طرف دیکیے اور نرم نرم قالین بچھے ہوئے تھے ۔ وہاں اس نے بہت سے لوگ دیکھے اور زیادہ تر پاکستانی ہی تھے پھر اچانک ہال کی لائٹس گل کر دی گئی اور ہلکی سی لائٹ میں بہت سی پاکستانی خوبصورت لڑکیاں نیم عریاں کپڑے پہنے اسٹیج پر بے ہنگم تھرکنا شروع ہو گئیں وہ حیرانگی سے انکو دیکھ رہا تھا اور اسکی زندگی میں پہلی دفعہ ایسا ہوا کے وہ کسی ایسی جگہ پر آیا پھر وہ لڑکیاں اسٹیج سے اتر کر ہال میں پھیلانا شروع ہو گئیں اور ہر طرف سے نوٹوں کی بارش ہونے لگی ہر کوئی نوٹ ہاتھ میں پکڑا کا اسکو اونچا کرتا تو کوئی نہ کوئی لڑکی وہ لینے آ جاتی اور ساتھ ہی کوئی بہیودہ سا اشارہ کر کے واپس اسٹیج پر چلی جاتی۔ وہ بہت شرمندہ اور پانی پانی ہو رہا تھا اس نے سرگوشی سے اپنے دوست سے پوچھا یہ کہاں لے آئے ہو مجھے تو وہ اسکو ہنستے ہوئے بولا کہ اسکو کینڈی کلب بولتے ہیں جہاں پوری دنیا کی قومیت کے علیحدہ علیحدہ ہال ہیں جہاں مجرہ ہوتا ہے ، پھر کچھ دیر بعد ویٹرز بڑے بڑے تھالوں میں بھرے بھرے جام لائے اور تمام تماش بینوں کو تقسیم کرنا شروع ہو گئے اسکا خیال تھا شاید یہ پیسی یا کوکا کولا ہے مگر جب اس نے پہلا گھونٹ لیا تو وہ اسکے حلق میں اٹک گئی ، یہ زندگی کا پہلا موقع تھا جب اس نے شراب کو ہاتھ لگایا تھا اس نے جام واپس رکھنا چاہا تو اسکے دوست نے اسکو زبردستی وہ پلا دیا جس کہ بعد وہ اپنے حواس میں نہ رہا، پوری رات یہ محفل سجتی رہی اور پو پھوٹنے سے پہلے وہ اور اسکا دوست نشے کی حالت میں لڑکھڑاتے واپس اپنے کمرے میں آئے ۔

********************
اسکو شروع شروع میں تھوڑا سا ڈر لگا کہ کوئی دیکھ نہ لے یا کوئی اس کے باپ کو خبر نہ کر دے وہ تھوڑا سا گھبرایا بھی کہ کہیں اسکے والد کو پتہ چل گیا کہ وہ مجرہ سننے جاتا اور اسطرح کی محفلوں میں بیٹھتا ہے تو وہ میری جان نکل دیں گے۔ لیکن پھر اسکو خیال آیا کہ اسکا باپ تو تو صرف پیسے کی زبان سمجھتا ہے اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اسکا بیٹا کیا کرتا ہے کیا نہیں کرتا۔ بس اسی سوچ نے اسکو بے حس بنا دیا جب اسکے گھر والے ہی اسکو نہیں چاہتے تو وہ کیوں انکا خیال رکھے۔ اور وہ اسطرح کے ماحول کا عادی ہو گیا ہے جہاں پر اسکو دولت کے بدلے مصنوعی محبت ملتی تھی جو کہ وقتی طور پر اسکو دلاسہ دینے اور اکیلے پن کو دور کرنے کے لئے کافی تھی اب وہ اسی جگہوں پر مسلسل جانے کا عادی بن چکا تھا اور اب اس نے پاکستان پیسہ بھیجینا بھی بہت کم کر دیا تھا بلکہ اب اسکے پاس کچھ ہوتا ہی نہیں تھا جو ہوتا وہ ایسے اڈوں پر اجاڑ دیتا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ ہر اس برے کام میں دھنستا گیا جو انسان کو پستی کے طرف لے کر جاتے ہیں اور وہ گرتا گیا۔ وہ رشتوں کی پہچانا بھول گیا ماں کیا ہوتی ہے باپ کیا ہوتا ہے اور بہن بھائی کیا ہوتے ہیں اسے کچھ یاد نہیں تھا۔

********************

جب انسان کو آگے راستہ نہ دکھائی دے اور کوئی رہنمائی کرنے والا نہ ہو تو وہ اسطرح بھٹکتا ہے، خاص کر اس کچی عمر کے نوجوانوں کو جب انکو صیح راہ کی ضرورت ہوتی ہے باپ کے غصے ، ڈر اور ماں کی شفقت کی ضرورت ہوتی ہے اگر توجہ نہ ملے تو صرف گمراہیاں ہی مقدر بنتی ہے اور ایسا ہی اسکے ساتھ ہوا۔

********************

ان غلط راستوں پر چلنے کی وجہ سے اسکی یہ حالت ہو گئی ہے وہ پیسے پیسے کا محتاج ہو گیا جو کماتا وہ جا کر لٹا آتا، اب تو اس کنگلے کو کہیں گھسنے بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ سارے یار دوست بھی چھوڑ گئے تھے اگر وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا تو کوئی اسکو ایک پینی بھی نہیں دیتا تھا آخر نوبت یہاں تک آ گئی کہ بھوک کی وجہ سے اس نے اپنا خون بیچنے کا فیصلہ کہ خون بیچ کر چلو کچھ کھا تو سکے گا۔ جب اسکا خون لینے کے لئے ٹیسٹ کیا گیا تو اس کو بتایا گیا کے وہ (HIV AIDS) ایڈز کا مریض ہے ، یہ سن کر اسکو اپنی پاؤں سے زمین سرکتی دکھائی دینے لگی۔ وہ بے اختیار رو پڑا اسے اپنے وہ سارے برے کام یاد آنے لگے جو اسکو اس حال میں پہچانے کے ذمہ دار تھےمگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب پانی منوں سر سے گزر چکا تھا اب تو اسکو اپنی زندگی کے دن گننے تھے۔

********************

اور وہ ان تمام حالات کا ذمہ دارکبھی اپنے آپ کو کبھی اپنے باپ کو کبھی معاشرہ کو ٹھہراتا تھا۔

********************

ایسی اذیت ناک بیماری کی وجہ سے وہ گھر واپس بھی نہیں جاسکتا تھا شرمندگی اور ندامت کے ساتھ اسکو اپنے باپ کی عزت کا بھی خیال تھا اور واپس جا کر وہ اپنے گھر والوں کا پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اس نے گمنام زندگی گزارنا شروع کر دی جب تک اسکی ہمت تھی وہ کام پر جاتا کچھ کماتا جو کہ اسکے کھانے پینے کے لئے کافی ہوتے تھے اور جب وہ ہمت بھی نہ رہی تو کسی کوڑے دان سے کچھ ڈھونڈ کر کھاتا کسی کو اسکی کوئی خبر نہیں تھی اس نے ماں باپ چھوٹے بہن بھائی دوستوں سب کو بھلادیا تھا یا وہ انکو بھولنے کی کوشش کر رہا تھا اب تو اسے بس انتظار تھا تو اپنی موت کا جو آہستہ آہستہ اس کے قریب تر آتی جا رہی تھی اور آج کی رات ایسا لگ رہا تھا کہ وہ موت جس کا وہ انتظار کر رہا تھا اس کے سر پر آن پہنچی ہے وہ بس اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنے سے پہلے ان تمام رشتوں کو محسوس کرنا چاہتا تھا ، وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا اب بھی اسکے ماں باپ بہن بھائی اسکی راہ تکتے ہیں کیا اب بھی میں انکو یاد آتا ہوں وہ اپنے بہن بھائی کو پکارنا چاہتا تھا ، دوستوں کو بلانا چاہتا تھا اپنے باپ کو دیکھنا چاہتا تھا اور اپنی ماں کو ملنا چاہتا تھا اسکی آغوش میں سر رکھ کر سکون سے سونا چاہتا تھا۔ مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں تھا ہاں تھا صرف اسکا اکیلا پن اپنے آپ کو موت کے سپرد کرنے سے پہلے ان غلطیوں کی ندامت جو اس سے سرزد ہوئی پھر اسکو اپنا انجام نظر آنا شروع ہو گیا صبح ہونے سے پہلے اسکو یہاں سے رخصت ہونا تھا ایک انجان موت مرنا تھا جس کو یہ بھی پتہ تھا کہ مسلمان ہونے کے باوجود کوئی اس کے جنازہ میں شامل ہونے والا نہیں ہو گا، کوئی اسکی لاش پر رونے والا نہیں ہو گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ۔ ۔