Afsana 030 آکاس بیل از سلمان سلو

آکاس بیل
از سلمان سلو

انتقام ایک منہ زور جذبہ ہے جب آتش انتقام بھڑک رہی ہو تو سب کچھ جل کر بھسم ہوجاتا ہے۔اسی لئے تو سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کرنے کو بدلہ لینے سے زیادہ افضل قرار دیا ہے۔

********************************

اس کے دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی۔سب کچھ بدل گیا تھا اس کا وہ پرانا تصور۔۔۔کچھ بھی تو نہیں رہا تھا اس کی یاداشت میں محفوظ ہرے بھرے کھیتوں کی جگہ اب آبادیاں بس گئی تھیں وہ گڑ بڑا گیا اب وہ اپنے گھر کو کس طرح ڈھونڈ سکتا تھا اپنا گھر اور اس کے ساتھ والا دوسرا گھر۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک آدمی سے پوچھا،اسے نشانیاں بتائیں حوالے دیئے۔''اچھا اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔پرانی کالونی کی بات کر رہے ہو'' اس نے سر ہلا کر تصدیق کی تھی اور پھر وہ اس کے بتائے ہوئے رستے پر چل پڑا تھا۔دوپہر ہوگئی تھی وہ اس گلی کے نکڑ پر پہنچ چکا تھا۔ جہاں اس نے آٹھ سال گزارے تھے۔ گلی کی حالت میں کافی تبدیلی آچکی تھی۔کچے مکانوں کی جگہ پکے مکانوں نے لے لی تھی،اسے اپنے گھر کا دروازہ یاد تھا،گھر کے در و دیوار پرانے ہوچکے تھے ہاں یہ وہی مکان تھا جو اس کے والد نے بیس برس قبل بڑے چاؤ سے بنوایا تھا۔اس وقت وہ اس گلی کا سب سے خوبصورت مکان ہوا کرتا تھا اور اب اس گلی کا سب سے پرانا و بدصورت مکان۔۔۔۔۔ کیا پتہ اس نے بھی مکان بدل لیا ہو،اس نے تو گذشتہ اٹھارہ برس سے اس شہر کی خبر تک نہیں لی تھی اگر وہ یہاں نہ ملا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ساری کوشش رائیگاں جائے گی یہی تو ایک سراغ ہے۔اگر یہ بھی نہ رہا تو ؟۔۔اچانک اس کی نظر اپنے دروازے کے ساتھ والے حصے پر پڑی اس پر وحشت سی طاری ہونے لگی،ہاں یہی وہ جگہ تھی جہاں اس کا باپ خون میں لتھڑا پڑا تھا،اس کے سر سے بھل بھل کرکے بہتا ہوا خون زمین پر پھیل رہا تھا،کچی زمین میں جذب ہو رہا تھا،وہ اور اس کی ماں چیخ رہے تھے اور وہ کچھ بھی تو نہیں کرسکے تھے ۔وہ پھر چند ہی روز بعد اس کی ماں اسے سینے سے لپٹائے کسی نامعلوم منزل کی طرف چل پڑی تھی۔وہ تو ننھا سا بچہ تھا اُس وقت،ہراساں اور خوفزدہ۔۔۔۔۔۔۔اب وہ چھبیس سال کا کڑیل جوان تھا ان ہاتھوں کو توڑنے کی طاقت رکھتا تھا جو اس کے باپ کی طرف اٹھے تھے۔۔۔۔
وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ کسی نے اس کے شانے پر پیچھے سے ہاتھ رکھ دیا وہ چونک کر پلٹا وہ کوئی سفید ریش تھا۔۔''کیا بات ہے میاں کسی سے ملنا ہے؟'' ''جج ۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔''اس طرح اچانک سوال پر وہ زرا دیر کے لئے گھبرا سا گیا تھا جیسے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔۔''
''کس سے؟'' بڑے میاں نے دوسرا سوال دغا۔۔۔
''زرمن گل سے۔۔۔۔۔۔''اس نے جواب دیا۔۔
''زرمن گل؟ کس زرمن گل کی بات کر رہے ہو؟''بڑے میاں سوچ میں پڑے گئے''کس عمر کا ہے؟''
''یہی آپ کی عمر کا''اس نے جلدی سے کہا۔
''وہ جو اس گھر میں رہتا تھا''بڑے میاں نے ساتھ والے گھر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
اسے یوں لگا جیسے اس کا دل باہر آجائے گا۔۔''ہاں ہاں۔۔۔۔۔۔۔بالکل وہی۔''
بڑے میاں نے اسے سر سے لے کر پاوں تک گھورا۔۔۔
''لیکن وہ تو کوئی سولہ سال پہلے فوت ہوچکا ہے تم کون ہو اس کے؟'' ان کے لہجے میں شک عود کر آیا تھا۔۔
''میں اس کا رشتہ دار ہوں ہم بہت عرصے بعد آئے ہیں ہمیں تو بالکل پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔کہ زرمن گل فوت ہوچکے ہیں۔''
اس کا بیٹا علی زرمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب تو وہ گھر پر نہیں ہوگا۔۔سہہ پہر کے بعد ہی آتا ہے۔''بڑے میاں گھڑی دیکھ کر بولے۔''اچھا آو تم میرے ساتھ بیٹھو یہاں ساتھ ہی میرا گھر ہے۔''بڑے میاں نے اسے پُرخلوص دعوت دی۔۔۔
''نن۔۔۔۔۔نہیں جی۔۔۔۔۔شکریہ۔۔۔۔۔۔۔بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔میں پھر آجاوں گا گھر دیکھ لیا ہے۔''اس نے نچلا ہونٹ چبالیا۔۔
اندھیرا کافی حد تک پھیل چکا تھا اس نے دروازے پر دستک دی تھوڑی دیر بعد ایک نوجوان باہر نکل آیا اس نے فورا'' پوچھا''آپ علی زرمن ہیں؟''
نوجوان حیرت زدہ ہوگیا پھر جلدی سے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے بولا۔۔''جی، میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔۔''
''جان پہچان بھی ہوجائے گی کہیں آرام سے بیٹھ تو لیں۔''
''اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔''نوجوان کھسیا سا گیا''ٹھہریئے میں بیٹھک کا دروازہ کھولتا ہوں۔''وہ اندر گھس گیا۔۔
کہیں اس نے مجھے پہچان تو نہیں لیا اس نے اپنے دل میں سوچا،پھر اس نے فورا'' ہی اپنے خیال کی تردید کر دی اس نوجوان کی عمر ہی کیا ہوگی اور پھر میں تو اٹھارہ برس بعد آیا ہوں۔۔
بڑے دروازے کے ساتھ ایک چھوٹا سا دروازہ کھل گیا۔۔۔
''آپ بیٹھیں میں کھانے کا کچھ انتظام کرتا ہوں۔''یہ کہہ کر نوجوان دوبارہ جلدی سے گھر کے اندر گھس گیا اور وہ اسے روکتا ہی رہ گیا۔۔۔
''ہونہہ۔۔۔۔۔۔اس گھر کا نمک مجھے کھلانا چاہ رہا ہے۔''اس نے ایک گہری سانس لی اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
بیٹھک میں چند کرسیاں اور ایک پلنگ پڑا ہوا تھا پلنگ پر بچھی صاف ستھری چادر اور آرائشی انگیٹھی پر رکھے تازہ پھولوں کے گلدستے گھر میں کسی نسوانی وجود کی موجودگی کا پتہ دے رہے تھے''تو گویا اس لڑکے نے شادی بھی کر رکھی ہے۔''اس نے سوچا۔۔۔دفعتاً' اس کی نظر سامنے دیوار پر لگی تصویر پر پڑی،ایک ناتواں درخت جسے آکاس بیل نے جکڑ رہا تھا اسے وہ تصویر بڑی بھیانک لگی اس کی کیفیت عجیب ہونے لگی۔۔۔
اچانک دروازے پر کھٹکا ہوا اور نوجوان اندر آگیا اور آتے ساتھ ہی سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔''مجھے تو آپ جانتے ہیں لیکن بخدا مجھے بڑی شرمندگی ہے کہ میں آپ کو ابھی تک نہیں پہچان سکا۔''نوجوان شرمندہ شرمندہ سا تھا اس نے نوجوان کا بغور جائزہ لیا وہ کھلتی رنگت کا ایک وجیہہ نوجوان تھا۔۔
اس نے اچانک اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پستول نکال کر نوجوان پر تان لیا ،نوجوان بھونچکا رہ گیا۔۔۔
''علی زرمن یہ ہے میری شناخت ''
''کک۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب ؟''علی زرمن نے غیر ارادی طور پر ہاتھ اوپر اٹھا لئے تھے۔
''بالکل صحیح مطلب جاننے کا واقعی تم حق رکھتے ہو کیا تمہیں پتہ ہے کہ تمہارا خبیث باپ ایک قاتل بھی تھا؟''
''خبیث'' کے لفظ سے نوجوان کے چہرے پر آزردگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
''مجھے بتاؤ اور تم کیا جانتے ہو؟''اس نے پستول کے ذریعے نوجوان کو بولنے کا اشارہ کرتے کہا۔۔۔
نوجوان نے تھوک نگلا۔۔۔''مم۔۔۔۔۔میرے والد نے آج سے اٹھارہ برس پہلے اپنے رشتہ دار اور پڑوسی کا خون کیا تھا۔۔وہ کوئی تھوڑی سی جائیداد کا تنازعہ تھا پھر اس کی بیوی اور بیٹا کہیں روپوش ہوگئے تھے میرے والد نے پانی کر طرح پیسہ بہا کر اپنے آپ کو قانون سے چھڑوا لیا تھا۔۔۔''
''میں اسی سلسلے میں اپنا قرض چکانے آیا ہوں۔۔''
نوجوان کے چہرے پر زلزلے کے آثار نمودار ہوئے۔
''تت۔۔۔۔۔تم ضمیر ہو ضمیر خان؟''
''بالکل صحیح پہچانا''تمہارا خونی باپ تو مردار ہوچکا لیکن تم تو ہو، تم اس کا قرض چکاؤ گے نا۔''اسے خود اپنی آواز اجنبی سی لگنے لگی تھی۔۔
''تم نہیں جانتے میرا باپ قانون سے تو بچ گیا تھا لیکن اپنی ضمیر کی قید سے چھٹکارا نہیں پا سکا تھا اس نے دو سال بعد خودکشی کر لی تھی۔''
''مجھے اس سے کیا۔۔۔۔۔ میرا قرض تو باقی رہا نا''اس کا لہجہ انتہائی سرد تھا۔۔
اچانک بیٹھک کو گھر سے ملانے والے دروازے پر کھٹکا ہوا وہ چوکنا ہوگیا۔۔۔
''کھانا تیار ہے''اندر سے ایک نسوانی آواز آئی۔۔
اب حیرت زدہ ہونے کی باری اس کی تھی اسے یوں لگا جیسے اس کی ماں نے آواز دی ہو آواز اور لہجے میں زرا فرق نہ تھا۔۔۔
''یہ کس کی آواز ہے؟''اس نے علی زرمن سے پوچھا۔
''بلاؤ اسے اندر'' اس نے پستول سے اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا۔۔۔
'نن۔۔۔۔۔نہیں تم اسے کچھ نہیں کہو گے۔'' علی زرمن نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس نے پستول کی نال بالکل اس کے سر سے لگا دی،چپ کر کے بیٹھے رہو''اور خود اندرونی دروازے کی طرف کھسکنے لگا پستول اس نے علی زرمن پر تان رکھا تھا اس نے اندرونی دروازے کو لات مار دی دروزے کے دونوں پٹ کھل گئے پیچھے کھڑی جواں سال عورت چونک گئی وہ صورتحال کو نہیں سمجھ سکی تھی،اس نے اسے بالوں سے پکڑا اور اندر کھینچ کر شوہر کے قدموں میں پھینک دیا اور دونوں پر پستول تان لیا عورت خوفزدہ تھی ''یہ۔۔۔۔۔یہ کیا ہے؟''وہ اپنے شوہر سے پوچھ رہی تھی جس کا سر جھکا ہوا تھا ضمیر کو ایسا لگا جیسے اٹھارہ سال پہلے کی کہانی پھر دہرائی جارہی ہو کیسی عجیب بات تھی ،اندرونی دروازے پر کھٹکا ہوا ایک تین سالہ بچہ دروزے میں کھڑا نظر آیا اس کے ہاتھ کانپنے لگے اسے یوں لگا جیسے اس کا بچپن اس کے سامنے ہے یہی سب کچھ تو ساتھ والے گھر میں بھی ہوا تھا کیا اب وہ سب کچھ یہاں بھی ہونے والا تھا کل شاید یہی وہ کچھ تین سالہ بچہ بھی کرتا۔کیا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا؟ اس کے ذہن میں اتھل پتھل ہونے لگی اک عجیب سے وحشت اس پر طاری ہونے لگی وہ عورت آنکھوں میں خوف لئے اسے تک رہی تھی علی زرمن کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا کچھ بھی تو مخلتف نہیں تھا۔۔۔۔۔لیکن کیا کل کو اس کے بچے پر بھی ایسا موقع آتا۔۔۔کیا یہ وہ آکاس بیل تھِی جو سدا ان کا خون نچوڑتی رہتی۔۔۔
باپ کا خون میں لتھڑا جسم ،بھل بھل کرتا ہوا بہتا خون اور ماں کی چیخ و پکار کئی منظر تیزی سے اس کے نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ اور وہ، وہ تو کچھ بھی نہیں کرسکا تھا اسوقت۔۔۔۔۔۔ایسا موقع پھر کہاں ملتا ایسے، اس نے پستول کی مہیب نال کو دیکھا اور پھرنال شعلے اگلنے لگی۔پستول پر سائلنسر چڑھا ہوا تھا صرف کھٹکے ہی ہوتے رہے اور پستول خالی ہوگیا ۔پستول اس کے ہاتھ سے نکل گیا وہ کرسی پر ڈھے گیا اور بلک بلک کر رونے گا اس نے گولیوں سے آکاس بیل کو چھلنی کر ڈالا تھا۔تصویر کا فریم نیچے گرکر پاش پاش ہوگیا تھا یہ چند لمحے صدیوں پر محیط تھے اس کی سسکیوں کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں تھی وہ گھنٹوں میں سر دیئے ہوئے تھا اسے اپنے شانے پر کسی کے ہاتھ کا دباو محسوس ہوا اس نے سر اٹھا کر دیکھا وہ علی زرمن تھا۔۔۔۔۔۔