Afsana 031 پچھتاوا از رضوان

انسان کو ہمیشہ شرمندگی، ندامت، پچھتاوا، کیوں وقت کے گزر جانے کا بعد ہوتا ہے ۔ جو لوگ اپنے رشتوں (خاندان) کو پیار کی پھوار سے تر رکھتے ہیں اور انکو یاد رکھتے ہیں ان لوگوں کے رشتوں کے درخت ہمیشہ ہرے بھرے رہتے ہیں اور وہ آنے والی نسلوں دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

اور جو اپنی ان جڑوں کو کاٹ کر آگے جانے یا نیا خاندان بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہمیشہ اسے ہی حالات کا شکار ہوتے ہیں جیسے اس افسانے میں ایک کریکڑ ہوا۔

یہ افسانے بھی ہماری زندگوں سے جڑی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں جس میں کسی حد تک سچائی بھی ہوتی ہے امید ہے آپ کو میرے یہ دونوں افسانے اچھے لگے ہوں گے ، اگر میں یہ دونوں افسانے نہ لکھتا تو میرا وہ مقصد پورا نہیں ہونا تھا جو میں کہنا چاہتا تھا کہہ چاہے ضد باپ کی ہو یا بیٹے کی نقصان ہمیشہ رشتوں کو ہی ہوتا ہے

پچھتاوا
از رضوان

چلتی ریل کے ڈبوں کی کھٹکھڑہٹ سے پیدا ہونے والی آواز رات کے سناٹے میں، ایک عجیب سا ماحول پیدا کر رہی تھی ریل کے ڈبے میں جب سارے مسافر سو رہے تھے تو وہ پتہ نہیں باہر اندھیرے میں کیا ڈھونڈ رہا تھا، وہ بہت عرصے بعد واپس پاکستان آیا تھا اتنا عرصہ کہ اسکی جوانی کا سفر دیار غیر میں ہی گزر گیا اور بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر اس نے دوبارہ اپنے وطن کی مٹی پر قدم رکھا۔

********************

اسکی ہمیشہ سے ہی خواہش رہی تھی کہ وہ ٹرین کا سفر کرے اکیلے سفر کرنا اور سارے راستے کچھ نہ کچھ سوچتے رہنا اور خواب بنتے رہنا اسکی عادت تھی اور جب جوانی میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا تو وہ ہمیشہ اپنے گاؤں سے لاہور ٹرین سے آتا جاتا تھا اور اسکو اپنے گاؤں سے لاہور تک کے تمام اسٹیشن تمام راستے زبانی یاد تھے اور آج رات بھی لاہور ائیرپورٹ پر اتر کر اس نے ٹرین کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا اور ریلوے اسٹیشن کا رخ کیا اورپہلی فرصت میں ملنے والی ٹرین پر سوار ہو گیا۔ اسکی منزل تھی بہاولپور پھر اس سے آگے اس کا گاؤں علی پور جہاں اس نے اپنا بچپن اور جوانی گزاری تھی۔

********************

رات کا ٹائم تھا اسکو سیٹ ڈھونڈنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اس لئے وہ آرام سے کھڑی کی سائیڈ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پلیٹ فارم پر بہت شور تھا قلیوں کا، خوانچہ فروشوں کا اور ہر طرف مسافروں کی چہل پہل تھی بلکل ویسی ہی جیسی بہت عرصہ پہلے ہوا کرتی تھی اسے ایک دانا شخص کا قول یاد آ گیا کہ دنیا نہیں بدلتی انسان بدل جاتے ہیں اور اس وقت یہ بات اسکی شخص کی سچائی کی عکاسی کر رہی تھ وہ اپنی زندگی کی دو دہائیاں پردیس میں گزار کر آیا تھا مگر پھر بھی اس کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ہمیشہ سے ہی یہاں ہے اور وہ کبھی کہیں گیا ہی نہیں تھا۔

********************
وہ اکیلا ہی آیا تھا اسکی بیوی تو اس دنیا میں رہی نہیں تھی اور اسکے بچوں نے اس کے ساتھ آنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ تو جانتے ہی نہیں تھے کہ پاکستان کیا ہے وہاں انکا کون رہتا ہے یا پاکستان میں ان کے داد دادی یا کوئی اور رشتہ دار بھی ہیں۔ انسان کو رشتوں کی پہچان ہمیشہ انسان ہی کرواتے ہیں اگر کسی بچے کو رشتوں کی اہمیت کے متعلق کچھ بتایا ہی نہ جائے تو پھر کیسے ان میں کوئی ایسا جذبہ پیدا ہو یا پھر وہ کیوں ان سے ملنے کی ضد کریں اگر اسکے بچوں میں وطن سے محبت یا اپنوں سے ملنے کا جذبہ نہیں تھا تو یہ بھی اس کی ہی غلطی تھی شاید وہ اپنے ماضی کو کسی کے سامنے لانے سے ڈرتا تھا کہ وہ ایک گاؤں میں پیدا ہوا تھا اور وہ ایک کسان کی بیٹا تھا۔

********************

پھر جیسے گاڑی اسٹیشن سے نکلی اور گاڑی کا پہیہ آگے کو چلنا شروع ہوا ویسے ہی اسکی زندگی کا پہیہ الٹے رخ چلنا شروع ہو گیا۔

********************

تین بہنوں کا لاڈلا بھائی اور ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہونے کا اس نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا اپنی ہر جائز اور ناجائز ضد منوائی اور ہر بار اسکے والدین کو اسکی ضد کے سامنے ہار ماننی پڑی، جب اس نے گھر میں آ کر یہ اپنے ماں باپ اور بہنوں کو یہ بولا کہ وہ باہر جانا چاہتا ہے تو ایک پل کے لئے تو سب گھر والوں کی آواز تھم گئی اور وہ حیران و پریشان اسکو دیکھ رہے تھے کہ گھر کا اکلوتا یہ کیا خبر سنا رہا ہے وہ گھر کو چھوڑ کر پردیس میں بسنے کا اعلان کر رہا ہے۔

********************

سب نے اسکو بہت روکا بہت سمجھایا کہ وہ کیوں جانا چاہتا ہے یہاں کس چیز کی کمی ہے سب کچھ اپنا ہے تو اسکا جواب ہوتا کہ میرا یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے میں گاؤں کا سب سے پڑھا لکھا نوجوان ہوں اتنا پڑھ لکھ کر میں کھیتی باڑی کیوں کروں اگر آپ لوگوں نے مجھے سے یہی کام کروانا تھا تو مجھے اتنا پڑھایا کیوں اس نے اپنے مستقبل کی فکر میں خاندان کے کسی فرد بھی نہ سنی اور تو اور اس پر اپنی ماں کی اور بہنوں کی سسکیوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور نہ ہی باپ کی کسی فریاد اسکے ارادے کے آڑے آ سکی، اور وہ سب کو روتا چھوڑ کر اپنے روشن مستقبل کے لئے ان کا حال اور مستقبل تاریک کر کے انگلینڈ چلا آیا ماں باپ کے لئے تو اولاد ہی انکا مستقبل ہوتی ہے اگر وہ ہی ساتھ چھوڑ جائے تو انکی زندگی میں باقی کیا بچتا ہے۔

********************
شاید تب اسکو اپنی اس بے حسی کہ ماں باپ کو اولاد سے بچھڑنے کا کتنا غم ہوتا ہے کا احساس نہیں تھا اس لئے اسکو اپنے ماں باپ کو چھوڑتے ہوئے کوئی ملال محسوس نہیں ہوا تھا لیکن اب جب اسکی کی اپنی اولاد اسکو چھوڑ کر کہیں اور اور علیحدہ اپنے اپنے گھروں میں جا بسی اور اسکو تنہا چھوڑ گئی تو تب اسکو احساس ہوا کہ اولاد کے بچھڑنے کا کیا دکھ ہوتا ہے ، اولاد کے ہوتے ہوئے اولاد سے دوری کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے جس طرح اس نے نے پچھلے چند سال تنہائی میں گزارے تب سے اسکو اپنی جوانی کی سب سے بڑی غلطی اندر ہی اندر سے کھائے جا رہی تھی اور وہ ہی پچھتوا تھا جو اسکو اتنے سالوں کے بعد واپس لے کر آیا تھا۔

********************

گاؤں میں اسکا کوئی بھی تو نہیں تھا ماں باپ تو ایک ایک کر کے کب کے دنیا چھوڑ گئے گاؤں سے کتنے ہی فون آئے مگر وہ دیار غیر میں اپنی مصروف زندگی سے اتنا بھی ٹائم نہ نکال سکھا کے انکا آخری دیدار کر لیتا انکی میتوں کا کندھا اور انکو لحد میں اتار سکتا اور اسکی بہنیں بھی شادیوں کے بعد اپنے گھروں کی ہو گئی تھیں جن سے بھی اسکا کوئی تعلق نہیں رہا۔

********************

وہ تو بس اس لئے وہاں جا رہا تھا کہ وہ پچھتاوا وہ غلطیاں جو اس نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر کی، ماں باپ کے وہ سب حققوق جو اس نے جانتے ہوئے بھی پورے نہیں کئے تھے انکا سب کا اقرار انکی قبروں پر جا کے کر سکے اور ان سے معافی مانگ سکے گو بہت دیر ہو چکی تھی مگر پھر بھی اس کا مردہ ضمیر اسکو ملامت کرتا تھا اور اسکو راتوں کو سونے نہیں دیتا تھا وہ اس مٹی کو اپنے لوگوں کو ملنا چاہتا تھا۔

********************

صبح فجر کے وقت وہ پہا ولپور اسٹیشن پر پہنچا، مسجدوں سے اذانوں کی آوازیں آ رہی تھی اور زندگی نکلنے والے دن کے لئے انگڑیاں لے رہی تھی آٹھ گھنٹوں کا سفر اپنے ماضی کو سوچتے سوچتے ہی گزر گیا پہالپور اسٹیشن پر اتر کر اس نے اپنے گاؤں کا رخ کیا۔

********************
وہی راستہ وہی، وہ اینٹوں سے بنی سڑک، وہی کھیت کھلیان ، وہی پرندے ، وہی گاؤں وہی لوگ جو کبھی اسکے اپنے ہوا کرتے تھے ، وہ بس بے اختیار انکو دیکھے جا رہا تھا اور اسکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، ندامت کے ، یا اپنی کھوئی چیزوں کو پانے کے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اسے یاد تھا جوانی میں جب وہ گاؤں کی بس میں بیٹھتا تھا تو سب مسافر اسکو جانتے تھے اور وہ کیسے اس سے باتیں کرتے تھے ، مگر آج وہ ایک اجنبی مسافر کی طرح بس کی آخری سیٹ پر بیٹھا تھا تبھی ہی پاس بیٹھے ایک بزرگ نے اس کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ کیا بات ہے تم رو کیوں رہے ہو تو فورا اس نے اپنی آنکھیں پوچھ ڈالی اور بولا کچھ نہیں اور ایک اندرونی خوشی کا احساس ہوا جو کہ کبھی اسکو پردیس میں نہیں ہوا تھا کہ اگر کوئی کسی کو روتا دیکھ لے تو پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتا کہ یہ کیوں رو رہا ہے اب وہ اسکو کیا بتاتا کہ وہ اپنوں کے ساتھ کیا کر کے گیا تھا اور اس نے زندگی میں کتنا بڑا گھاٹا کھایا ہے۔

********************

گاؤں پہنچ کر سب سے پہلے اس نے قبرستان کا رخ کیا ، وہ جلد از جلد اپنے ماں باپ کی قبروں پر جانا چاہتا تھا، وہ اتنی تیزی سے قبرستان کی طرف جا رہا تھا کہ جیسے کچھ اسکے اختیار میں نہ ہو ۔ قبرستان پہنچ کر اس نے گورکن سے پوچھا کہ عنائت اللہ اور فاطمہ بی بی کی قبریں کون سی ہیں گورکن کچھ لمحے تو اسے اجنبی شخص کو دیکھتا رہا اور پھر اس کو بولا کتنا عرصہ ہوا ہے انکی وفات کو تو وہ بولا 9 سال اور 12 سال تو گورکن بے اختیار بولا صاحب اتنی پرانی قبروں کا پتہ تو مرنے والے کے رشتہ دار رکھتے ہیں اور پہلے تو میرا باپ یہاں گورکن تھا مگر اسکی وفات کے بعد میں نے یہ کام شروع کیا ہے اس لئے مجھے انکے بارے میں معلوم نہیں ہے تم ایسا کرو کہ گاؤں میں انکے کسی رشتے دار سے پتہ کر لو وہ تم کو بتا دیں گیں۔

********************

آہ کیا سزا ملی اسکو اپنی غلطیوں کی کہ اسے اپنے ماں باپ کی قبروں کا بھی پتہ نہیں کہ وہاں جا کر فاتحہ پڑھ سکے رو کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لے اسکو گاؤں کے کچھ لوگوں کے نام یاد تھے اس میں ایک چاچا احمد دین بھی تھا وہ لوگوں پوچھتے ہوئے اس کے گھر پہنچ گیا جب اس نے چاچے احمد دین کو بتایا کہ وہ عنائیت اللہ کا بیٹا ہے تو وہ اس سے بے اختیار لپٹ پڑا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اس نے چاچے احمد دین کو بتایا کہ وہ اسکو ابے کی قبر پر لے جائے چاچا احمد دین لب ہلائے بغیر اور سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ قبرستان چل پڑا اور پھر قبرستان کے عین بیچ کیکر کے درخت کے نیچے دو پرانی اور بوسیدہ خستہ حال قبروں کی طرف اشارہ کر کے بولا دائیں ہاتھ والی تیرے ابے کی ہے اور بائیں ہاتھ والی تیری بے بے کی ہے وہ بے اختیار جا کر ان قبروں سے لپٹ گیا اور کتنی ہی دیر وہ دھاڑیں مار مار کر روتا رہا اپنی غلطیوں کا زیادتیوں کو اقرار کرتا رہا، معافیاں مانگتا رہا۔ پھر چاچے احمد دین نے اسکو اٹھایا اور واپس گھر لے آیا۔

********************

کتنا بد قسمت انسان تھا وہ کہ جب اسکے ماں باپ تھے وہ انکے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا اور اب جب وہ انکے ساتھ رہنا چاہتا تھا انکو دیکھنا چاہتا تھا تو وہ دونوں اس کے پاس نہیں تھے جو انسان اپنے ایسے خونی رشتوں پر کسی بھی اور چیز ترجیح دیتا ہے وہ بعد میں ایسے ہی پچھتاتا ہے۔

********************

پھر چاچا احمد دین اسکو اپنے گھر لے آیا کچھ دیر بعد جب اسکی حالت تھوڑی سنبھلی تو وہ چاچے احمد دین سے بولا کہ چاچا مجھے کچھ بتاؤ کیا ہوا تھا ابا اور بے بے کو اتنی جلدی کیسے چلے گئے کیا ابا مجھے یاد کرتا تھا، کبھی اس نے میرا ذکر کیا تھا تو وہ بولا تم کو پتہ ہی نہیں تھا کہ تیرا ابا اور بے بے تجھے کتنا پیار کرتے تھے اور تم سے دوری کو ہی انہوں نے روگ لگا لیا پہلے تو عنیتا تیری بےبے کو تسلیاں دیتا تھا کہ انکا پتر ضرور آئے گا مگر جب وہ بھی مر گیا تو تیری بے بے کو کوئی تسلیاں دینے والا بھی نہیں تھا اور اس طرح چند سالوں میں وہ تجھے یاد اور تیرا انتظار کرتی ہوئی مایوس ہو کر تیرے ابے کے پاس چلی گئی تم نے بہت دیر کر دی پتر تم نے بہت دیر کر دی تمیں پتہ ہے کہ عنیتا روزانہ شام کو تیری باتیں کیا کرتا تھا اور وہ سب کو بولا کرتا تھا کہ اسکا بیٹا ایک ضرور واپس آئے گا ، ہمیشہ کے لئے یہاں رہنے سب کچھ چھوڑ کر اپنے گاؤں میں رہنے آئے گا یہ اسکی خواہش تھی کہ اس کے مرنے کا بعد کوئی اسکا نام لینے والا ہو، کوئی اسکے خاندان کو آگے بڑھانے والا ہو مگر اسکی یہ خواہش بھی پوری نہ ہو سکی اور تم آئے بھی تو تب جب وہ دونوں اس دنیا سے چلے گئے۔ تم نے بہت دیر کر دی پتر تم نے بہت دیر کر دی یہ بولتے ہوا چاچا وہاں سے اٹھ گیا ۔

********************

وہ پوری رات سوچتا رہا اور بہت کچھ سوچتا رہا چاچے احمد دین کی ایک بات اسکے زہن میں اٹک گئی تھی کہ اسکے ابے کی خواہش تھی کہ اسکا پتر واپس آ کر دوبارہ اس گاؤں میں رہے پھر دوبارہ کبھی واپس نہ جائے اس کا ذہن بہت سی الجھنوں میں تھا پھر وہ کچھ فیصلہ کر سو گیا۔

********************

صبح اٹھ کر اس نے سب سے پہلے اپنا پاسپورٹ بیگ سے نکالا اور اسکے پرزے پرزے کر کے ہوا میں اچھال دیا رات کو اس نے اپنے گاؤں میں ہمیشہ رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور صبح اپنے پاسپورٹ کو پھاڑنا اسکی عملی شکل تھی وہ اپنے ماں باپ کے جیتے جی تو انکی خواہش پوری نہ کر سکا مگر اب وہ اپنے ابے کی خواہش کو پورا کر کے اپنے گناہوں کا کچھ مداوہ کرنا چاہتا تھا۔ آج بڑے عرصے بعد اسکو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ آزاد فضاؤں میں سانس لے رہا ہے اور اسکو اپنے دل پر سے تھوڑا سا بوجھ ہلکا ہوتا محسوس ہوا اور اسکو ایسے لگا جیسے اسکو گاؤں میں پا کر اور جان کر کہ انکا پتر واپس آ گیا ہے اسکے قبر میں لیٹے ہوئے ماں باپ کو بہت خوشی ہوئی ہے۔