Afsana 032 عقلمند از ساحرہ

عقلمند
از ساحرہ (ورجینیا،امریکہ)

اچھا میری بات غور سے سنو۔ عامر اپنی نئی نویلی دلہن ایمن کو سمجھاتے ہوئے بولا!
"تمھیں آج سے بہت سے نئے سبق سیکھنا ہوں گے۔ یہاں جاب پر لوگ تمھاری خوبصورتی کی تعریف کریں گے تو برا مان کر چانٹا مت مار دینا اور نہ ہی بدلے میں یہ کہنے لگ جانا پلیزکہ " گھر میں تمھاری ماں بہنیں نہیں ہیں کیا " ۔
وہ ایمن کو بہت رسان سے سمجھانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دیکھو یہ امریکہ ھے اور یہاں کا سسٹم بالکل الٹ ھے، یہاں بات بات میں دوسرے کی تعریف کرنےکا بہت رواج ھے ۔اس تعریف میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی نہ ہی تمھاری تعریف کرنے والے کا مطلب تم سے فلرٹ کرنا ہو گا ،بس یہ لوگ یوں ہی ہر خوبصورت چیز کی تعریف کر دیتے ہیں اور چونکہ تم بہت خوبصورت ہو تو پہلے سے اسکے لئے ذہنی طور پر تیار رھو۔ تمھیں جواب میں مسکرا کر صرف شکریہ کہنا ھے اور کچھ نہیں ۔ اگر اس ملک میں سروائیو کرنا چاہتی ہو تو اپنے آپ کو بہت بدلنا پڑے گا اور یہی تمام امریکین مینرز تمھیں فوراً سیکھنے ہونگے ۔
مجھے دبو قسم کی جی حضوری کرنے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔۔ میں چاہتا ہوں مجھے تم پر اور تمھارے اپنی ذات پر اعتماد سے فخر محسوس ہو اور سب لوگ میری بیوی کی تعریف کریں۔ ویسے بھی اصل اہمیت تو یہاں صرف تمھارے کام کی ہی ہو نے والی ھے صورت کی نہیں کیونکہ وہ سب ثانوی باتیں ہیں تو گیند تمھارے کورٹ میں ھے اب دیکھنا یہ ھے کہ تم کونسے کونسے نئے سبق کتنی جلدی سیکھتی ہو"۔

-------------------------------------------------

عامر ایک انٹرنیشل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ وہ بہت ذیادہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ عورت صلاحتیوں میں مرد کے برابر ھے اور اِسے اسکے اظہار کا پورا پورا موقع ملنا چاہیئے، اسی لئے وہ کھبی بھی کسی بھی موقعے پر خود کو بہت جدت پسند کہلوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور خود اپنی بیوی پر بے جا پابندیوں کا قائل بھی ہرگز نہیں تھا۔
آج وہ اپنی بیوی کو اپنے آفس میں کام کرنے کے طریقے بتا رہا جسے وہ اپنے آفس میں خالی ہونے والی ویکینسی کے انٹرویو کے لئے لایا تھا اور اتفاق سے وہ فوراً ہی اسکے آفس میں اسی دن اپائینٹ بھی کر لی گئی تھی گو کہ ان دونوں کا ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھا مگر انکے آفس ساتھ ساتھ تھے اور بیچ میں شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو سن تو نہیں سکتے تھے مگر سارا دن اشاروں کی ذبان اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے ایک دوسرے کی حالت سے باخبر رہا کرتے تھے۔

-------------------------------------------------

شروع شروع میں ایمن کو بہت مشکل ہو رھی تھی کیونکہ وہ پاکستان میں ایک قدامت پسند فیملی سے تعلق رکھتی تھی مگر اسکو زندگی بھر یہی بتایا گیا تھا کہ اسے ایک مشرقی بیوی کی طرح آنکھیں بند کر کے صرف اپنے شوہر کا کہا ماننا ھے۔
ایمن خود کو اس نئے معاشرے میں ڈھالنے کے لئے اور اپنے شوہر کی خوشی کی خاطر یہ سب نا پسندیدہ کام بھی کرتی جا رھی تھی اور تیزی سے خود کو اسی جدید طرز زندگی کا عادی بنا رھی تھی ۔
آفس میں کوئی بھی مرد یا عورت ایسا نہ تھا جس نے ایمن کی حسن اور ذہانت کی تعریف نا کی ہو اور سب لوگ بار بار عامر کو بہت خوش قسمت بھی کہتے جسکی بیوی نہ صرف بہت ذہین و فطین اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوش اخلاق تھی بلکہ بچوں کی طرح جاب پر عامر کا خیال بھی رکھتی تھی۔ کھبی اسکے لئے کام کے دوران کچن سے چائے بنا کر لا دیتی ۔کھبی لنچ گرم کر کے ٹرے میں رکھ کر اسکے آفس میں رکھ آتی ۔سب لوگ عامر کا مذاق اڑاتے تھے کہ ایمن تمھاری بیوی سے ذیادہ تمھاری بےبی سیٹر لگتی ھے۔ کتنے لکی ہو تم! کاش ہمکو بھی ایسی بیوی مل سکتی لائف میں مگر امریکن کلچر میں یہ تو ناممکن ھے۔
عامر یہ سب سن کر خوشی سے پھولے نا سماتا اور بہت غرور سے اپنی پیاری بیوی کو دیکھتا جو اسکی پسند تھی اور کتنی قربانیاں دینے کے بعد اسکو ملی تھی۔ پورے خاندان کو ناراض کرنے کے بعد کہیں اسکو پا سکا تھا۔ اب وہ ڈھیروں خوشیاں ایمن کی گود میں بھر دینا چاہتا تھا اور پہلا ثبوت یہی تھا کہ اس نے ایمن کو اپنے آفس میں بالکل اپنی برابری کی سطح پرلا بیٹھایا تھا اور اب پورے عالم میں ایمن کی شکل میں اسکی پسند کا ڈنکا بج رہا تھا اس لئے اسکا فخر کرنا اتنا بےجا بھی نہیں تھا ۔

عامر نے ایمن کی وارڈروب امریکن کپڑوں سے بھر دی اور صبح شام اسے امریکن لہجے میں انگلش بولنا سیکھا رہا تھا۔ کھبی تو خود اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہن کر اٹھنا بیٹھنا اور چلنا سیکھاتا اور کھبی کسی ماڈل کی طرح فائلیں پکڑے امریکن لہجے میں انگلش بول بول کر آداب گفتگو سمجھانے کی کوشش کرتا۔
کھبی ایمن سنجیدگی سے عامر کو سنتی اور کھبی اسکی ایسی حرکتوں پر ہنستے ہنستےلوٹ پوٹ ہو جاتی۔ ایک دن ایسے ہی صبح صبح جب ان دونوں کے علاوہ آفس میں ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا اور موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ اسکو ایک ھاتھ میں فائل پکڑے اور دوسرے میں کافی کے کپ میں پانی بھر کے اس کپ کو بڑی ادا سے پکڑے آہستگی سے چلتے ہوئے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو مسکرا مسکرا کر گڈ مارننگ کہنا سیکھا رہا تھا کہ جذبات میں بظاہر سامنے نظر نا آنے والی شیشے کی دیوار کو خالی جگہ سمجھ کر دھم سے ٹکرا گیا اور کافی کے کپ والا سارا پانی بھی اسکے کپڑوں پر گر گیا اور خود بھی چاروں شانے چت ہو گیا۔
ایمن کو پہلے تو سمجھ نا آیا کہ اس بات پر ہنسے یا جا کر اسکو اٹھائے ۔ پہلے تو وہ جی بھر کے ہنستی رھی اور پھر جب عامر کی تکلیف کا احساس ہوا تو اسکو اٹھانےکے لئے بھاگی اور جب نیچے جھکی تو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔

"عامر ! یہ مت بھول جانا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیشہ پاکستانی ہی رہیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسے ملک کے کپڑے پہنیں اور کونسے لہجے میں انگلش بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔"۔

-------------------------------------------------

دن تیزی سے پر لگا کر اڑنے لگے۔ اب تو ایسا لگتا تھا جیسے عامر کہیں پس پشت چلا گیا ھے دور بہت دور کہیں پیچھے رہ گیا ھے، پورے آفس میں ایمن کی ذھانت اور خوبصورتی کا سکہ چلنے لگا تھا ۔ وہ صرف اپنی من موہنی صورت سے ہی نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور انتہائی محنتی ہونے کی وجہ سے بہت جلدی ترقی کی منزلیں طے کر تے کرتے جب ایک سال بعد ہی عامر کی باس کے عہدے پر فائز ہوئی تو پہلی دفعہ جیسے عامر کے اندر ایک چھناکہ سا ہوا اور اسکی انا اور خود داری کا بت جیسے تڑاخ سے ٹوٹ گیا۔
بجائے خوش ہونے کے وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا، وہ یہ بات برداشت نہیں کر سکتا تھا جسکو ہاتھ پکڑ کر قدم قدم چلنا سیکھایا تھا وہی اسکی بیوی جو گھر میں اسکے جوتے پالش کرتی تھی اسکے کپڑے دھوتی تھی اور اکثر اسکے پیروں سے موزے بھی اتارتی تھی-------۔اب وہی بیوی آفس میں باس بن کر اس کو بتانے والی تھی کہ تمہیں کیا کرنا ھے اور کیا نہیں اور کونسا کام کس طرح سے کرنا ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیتھیٹیک---------- وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور ناراضگی کے اظہار کے طور پر زور سے ایک مکہ میز پر مارا اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا۔

-------------------------------------------------

یہ بات عامر کی برداشت سے باہر تھی اور وہ کسی بھی طرح خود کو اس کے لئے تیار نہیں کر پا رہا تھا۔ عامر کو ایسا لگتا تھا جیسے پہلے اس کی مردانگی کالے ناگ کے پھن کی طرح بڑے غرور سے پھیلی ہوئی تھی اور وہ خود ایمن جیسی مستانی بین پر مست ہو ہو کر پھنکارا کرتا تھا مگر اب ہر لمحے جیسے وہی مستانی بین ایک بھیانک جوتے کی نوک میں بدل گئی تھی جو ہر لمحے اور ہر گھڑی اس مردانہ پھن کو اپنے اعتماد کے زنانہ بوجھ تلے کچلتی جا رھی تھی ۔ ایمن کا وہی اعتماد جو کھبی اس کے شوہر کی پہلی آرزو ہوتا تھا اب اسکے شوہر پر بار ناتواں بن رہا تھا۔

عامر جتنی بار بھی سوچتا اتنی بار تیز درد کی ایک لہر جیسے دل میں اٹھتی اور ہر بار وآپس جاتے ہوئے ایمن کے لئے اس کے دل میں موجود پرانے پیار کا کچھ حصہ اپنے ساتھ بہا لے جاتی تھی اور اسکے بدلے میں کچھ شکوک و شبہات نفرت اور بےزاری کا جھاڑ جھنکار ساحل پر چھوڑ جاتی تھی۔
یہ اذیت ناک عمل دن میں کئی بار دہرایا جاتا ۔ وہ جب بھی اپنی تمام تر بچی کھچی ہمت جمع کر کےاپنی انا کے اس پھن کو لہرانے کی کوشش کرتا تو بدلے میں ایسا لگتا جیسے عینی کی طرف سے ہر بار پہلے سے بھی ذیادہ بے دردی سے اس پھن کو اپنے جوتے کی نوک تلے کچلنے کا عمل دہرایا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اب تو عامر کی پرغرور پھنکاریں بھی جیسے کراہوں میں بدلنے لگی تھیں۔

-------------------------------------------------

وہ گھر میں بات بات پر اپنی بیوی کو جھاڑ پلا کر مردانگی کی دھوم مچانے والا مرد آفس میں اپنی بیوی کے سامنے سر جھکا کر داخل نہیں ہو سکتا تھا اس حالت نے انکے درمیان ایک اجنبیت کی دیوار سی کھڑی کر دی تھی۔ سارا پیار جیسے کہیں جا سویا تھا یا پھر کسی ویرانے میں منہ چھپا کر پڑا اپنی بد نصیبی پر ماتم کناں تھا۔ عامر نے بہت خیال رکھنے والے شوہر کی بجائے اب ایک خطرناک دل جلی ساس کا روپ دھار لیا تھا اور ہر وقت اپنی بیوی کو طعنوں کی زد میں رکھ لیا تھا۔
ان دونوں کے درمیان ایک شدید سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایمن سب دیکھ رھی تھی سب سمجھ رھی تھی مگر اس معاملے کو سلجھانے میں بری طرح ناکام ہو رھی تھی۔ اس نے بار بار عامر کو اپنی محبت کا یقین دلانے اور خود کو جان بوجھ کر ہر بات میں عامر سے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرنا شروع کر دی تھی۔
اس باس کی پوسٹ کو بھی محض ایک اتفاق کہ کر اسکا دل صاف کرنا چاہا بلکہ اب تو وہ پہلے سے بھی ذیادہ عامر کا خیال رکھتی تاکہ عامر کو ایسا کچھ محسوس نہ ھو مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر قدرت کی اس ستم ظریفی کو سہ نہیں پا رہا تھا وہ بار بار خود کو ہی مورد الزام ٹھہراتا کہ جسکی غلط لائف پلاننگ نے یہ دن دیکھائے تھے۔ نا وہ ہنس کی چال چلنے کی کوشش کرتا اور نا ہی وہ اپنی بیوی سے جاب کرواتا تو یہ سب بھی نا ہوا ہوتا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔
اگر وہ زبردستی کسی بھی اور بہانے سے اب ایمن کی جاب چھڑوا بھی دیتا تو بھی وہ زندگی بھر ایمن کے سامنے اسکا سر جھکا ہی رھتا کیونکہ وہ اپنی اپنی جگہ وہ دونوں ہی جاب نا کروانے کی اصل وجہ سے خوب واقف تھے ۔ وہ انا گزیدہ ہر وقت ادھر ادھر تڑپتا پھرتا تھا اورکسی پل بھی چین نہیں پاتا تھا ۔
ایمن کی مصالحت کی ساری کوششیں جب بےکار جانے لگیں تو اس نے بھی جیسے ہمت ہار دی اور ہر وقت کا طنز سہتے سہتے خود کو واقعی عامر کے مقابلے پر سچ مچ لے آئی اور وہ بہت چڑ کر وہ سب کچھ بے فکری سے کرنے لگی جسے دیکھ دیکھ کر عامر کے تن بدن میں مزید آگ بھر جاتی تھی۔

-------------------------------------------------

ایمن کو کمپیوٹر میں کام کرتے کرتے اچانک اپنے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا تو ڈر کر زور سے چیخ مار کر اچھلی تو جِم بے اختیار قہقہے لگانے لگا۔ جِم اسکا نیا باس تھا بہت ہینڈسم اور بہت جولی سا تھا۔ جہاں بیٹھتا ہنسا ہنسا کر سب کی آنکھوں میں پانی لے آتا ابھی اسے آفس جوائن کئے پندرہ دن بھی نہیں ہوئے تھے مگر آفس میں جیسے اسکے ہونے کا احساس خوشی اور ہنسی بن کر ہر کونے میں پھیلا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اور ان پندرہ دنوں میں جم نے کم سے کم ایک سو دوست بنا لئے تھے اور پچاس بار ایمن کے حسن کی نہ صرف بہت بےباک تعریف کی تھی بلکہ کئی بار اپنے ساتھ لنچ پر بھی انوائیٹ کر چکا تھا۔ ہر بار ایمن نے اس سے معذرت کر لی کہ اسکا کلچر اسکی اجازت نہیں دیتا اور ویسے بھی وہ اپنے ہیسبینڈ کے علاوہ کسی کے ساتھ باہر نہیں جایا کرتی۔
یہ سن کر جم برا سا منہ بناتا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا واپس چلا جاتا مگر ہر آدھے گھنٹے بعد پھر کسی نا کسی بہانے اسکے آفس میں آ دھمکتا اور کہتا
" تم کس قدر خوبصورت ہو مجھے انڈین بیوٹی بہت انسپائیر کرتی ھے۔ کاش کہ تم شادی شدہ نا ہوتیں تو میں ابھی اسی وقت تمھیں اغوا کر کے تم سے شادی کر لیتا"
یہ سن کر وہ غٍصےٍسے لال ہو جاتی اور کہتی پہلی تو بات یہ کہ میں انڈین نہیں بلکہ پاکستانی ہوں ، کتنی بار تمکو یہ بات بتاؤں ،تم لوگ کیوں اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو اور دوسری بات کہ تم اپنے آفس میں جاؤ ۔مجھ سے ایسی فضول باتیں مت کرو کیونکہ میں بہت ھیپیلی میریڈ ہوں اور ھمارے کلچر میں کسی سے بھی ایسی باتیں نہیں کی جا سکتیں۔
ہوں! ھیپیلی میریڈ?
وہ طنزیہ ہنکارا بھرتا وہ بھی اس سڑیل کوے کے ساتھ? وہ ایک آنکھ بند کر کے عامر کی طرف اشارہ کرتا۔۔۔۔۔
"تم جیسی بیوٹی کوئین کا اس کوے کے ساتھ ہونا ایک ظلم ھے اس پر بھی اور تم پر بھی۔۔۔۔۔۔ اسکو چھوڑ کر مجھ سے شادی کر لو پلیز۔ میں تمھیں دنیا میں جنت دیکھا دوں گا تم کو مجھ سا قدردان نہیں ملے گا۔ میں تمھارے لئے اپنا مذہب بھی بدل ڈالوں گا ۔ جو تم کہو گی زندگی بھر وہی کروں گا۔ میں تو تمھیں ایک نظر دیکھنے کو ترستا ہوں اور وہ کوا تمھیں کتنی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتا ھے ہر وقت۔ کیا تم مجھے اس سے بےخبر سمجھتی ہو؟ میں سب جانتا ہوں تمھارے اس کے ساتھ اس بے بنیاد تعلق کوٹوٹنے سے اب کوئی نہیں روک سکے گا۔"
یہ کہ کر وہ خباثت سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ"
جمممممممممممم وہ غصے سے دھاڑی

اپنی اتنی انسلٹ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ غیر بھی اب جاننے لگے ہیں کہ اسکے اور عامر کے درمیان کچھ کھٹ پٹ چل رھی ھے۔

"اب تم مجھے " ہیریس" کر رھے ہو۔ میں تمھاری بےکار باتوں کو مذاق سمجھ کر برداشت کر رھی ہوں اور تم حد سے باہر ہو رھے ہو۔اگر تم ابھی میرے آفس سے نہیں نکلے تو ایچ آر کو فون کر کے ابھی تمھیں "ہراسمینٹ" کے کیس میں اندر کروا دوں گی"

یہ سن کر جم آفس سے تو باہر نکل گیا مگر جاتے جاتے کہ گیا ۔ میری پیشکش پر غور ضرور کرنا........ زندگی بہت خوبصورت ھے اور اس طرح سرد جنگ میں نہیں گزاری جا سکتی جیسے تم اور عامر گزار رھے ہو اور اس بات کا آفس میں بھی سبکو علم ہو چکا ھے۔
ہیراس تو تم نے بھی مجھے اپنی بیوٹی سے کیا ہوا ھے میں اب کس سے شکایت کروں؟ کیا اب 911 والوں کو کال کروں? یا پھر اجازت ہو تو شادی کا کیک بک کروانے کے لئے فون کر دوں؟"
-------------------------------------------------

عامر یہ سب کچھ شیشے کو دیوار کے پار سے شاکی نگاہوں سے دیکھا کرتا۔ وہ کچھ بھی سن تو نہیں سکتا تھا مگر سب سمجھتا تھا اسکو صاف صاف اندازہ ہو رہا تھا کیا چل رہا ھے۔۔ جم کے بار بار ایمن کے آفس کے چکر لگانے کا کیا مطلب تھا؟ یہ بات ایک شوہر سے ذیادہ کون سمجھ سکتا تھا مگر ذیادہ تر وہ بدلے میں ایمن کو خوش ہونے کی بجائے بہت غصے میں بھرے ہوا دیکھتا تھا اور اسکو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایمن جم کو آفس سے نکل جانے کا کہ رھی ہوتی ھے۔ چونکہ شیشے کی دیوار کی وجہ سے وہ کچھ سن نہیں سکتا تھا اس لئے صرف ان دونوں کی حرکات و سکنات سے اپنے اندازوں کی عمارت بناتا اور توڑتا رہتا تھا۔ بہرحال کم سے کم اسکو یہ اطمینان تو حاصل تھا کہ اسنے ایمن کو کبھی بھی جم کے ساتھ ایک منٹ کے لئے بھی آفس سے باہر جاتے نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں کے درمیان بھلے کوئی بات چیت نہیں بھی تھی مگر پھر بھی عامر کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر اتنا ہی بھروسہ تھا جتنا سورج کے مشرق سے نکلنے پر ہو سکتا تھا۔
اس کے باوجود ایک دو بار ہزاروں شکوک شبہات اور نفرت لہجے میں سموئے عامر نے ایمن سے جم کے بارے میں پوچھنے کی کوشش بھی کی مگر وہ صاف مکر گئی کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ھے اور عامر کو صرف وہم ہو رہا ھے ورنہ جم تو ہر ایک کے ساتھ ایسے ہی فرینکنیس سے بات کرتا ھے۔

الٹا ایمن نے عامر کا دل صاف کرنے کی کوشش بہت تیز کر دی تھی۔ اس سے صاف لفظوں میں بات کرنے اور یہ آفس چھوڑنے کی پیشکش بھی کی اور یہ بھی کہا وہ کسی دوسری سٹیٹ میں موو ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنا گھر بچانا چاہ رھی تھی مگر عامر کے دل میں ، جوکہ شک سے ایسے بھر چکا تھا جیسے گلاس پانی سے بھر جاتا ھے اور اس میں شاید ایمن کے لئے کوئی جگہ نا بچی تھی۔
عامر اسکو بات بات پر طعنے دیتا ،کوستا، گالیاں دیتا ۔عامر کی ایمن سے نفرت اور دوری جیسے جیسے بڑھتی جا رھی تھی ویسے ویسے جم کی مہربانیاں اور بونسیز ایمن کے لئے بڑھتے جا رھے تھے۔ کھبی کھبی تو وہ بھی عامر کے روئے سے اتنا اکتا جاتی اور مایوس ہو کر سوچتی کہ عامر کو چھوڑ کر واقعی جم سے شادی کر لے جو اسکی خاطر اپنا مذھب تک چھوڑنے کو تیار تھا ۔ اتنی بری زندگی سے وہ بھی اب اکتا رھی تھی اور اسکے دل میں جم کے لئے جیسے روزانہ کچھ نا کچھ جگہ بننے لگی تھی۔

-------------------------------------------------

آہستہ آہستہ اسکا دل جم کے لئے جیسے ہموار ہونے لگا تھا ۔ کافی حد تک وہ اپنے آپ کو منانے میں کامیاب ہو تی جا رھی تھی حالانکہ وہ عامر سے بہت محبت کرتی تھی مگر اسکو علم ہو چکا تھا بد نصیبی نے انکے گھر کا رستہ دیکھ لیا تھا اور انکی زندگی میں وقت کا پہیہ الٹا گھوم چکا تھا۔ زندگی کو دوبارہ سے شروع نہیں کیا جا سکتا تھا تاوقتیکہ کوئی معجزہ نا ہو جاتا اور خود عامر اسکے ساتھ ملکر دوبارہ ایسی کوئی کوشش کرتا مگر وہ تو خود اب راتوں کو بھی گھر سے باہر رھنے لگا تھا۔ پتہ نہیں کہاں جاتا تھا۔ کچھ بتاتا بھی تو نہیں تھا۔ اگر وہ پوچھنے کی کوشش کرتی تو مغلغات کا طوفان ابل پڑتا ۔اس لئے وہ ڈر کے مارے خاموش ہی رھتی۔
-------------------------------------------------

ان دونوں کے درمیان اسی کشمکش میں دو سال بیت گئے تھے۔ پورے دن میں چند ضروری جملوں کا تبادلہ بھی ہوتے ہوتے اب نا ہونے کے برابر رہ گیا تھا اسی دوران میں ملک میں بری طرح ریسیشن کا دور پیدا ہونے لگا تھا۔ انکے آفس سے بھی دو سو لوگ نکالے جا چکے تھے مگر اتفاق سے ان تینوں کا نمبر نہیں آیا تھا ابھی ۔ ملکی معشیت تیزی سے گرتی جارھی تھی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوتے جا رھے تھے۔ حکومت لوگوں کے گھر چھین چھین کر انکو سڑکوں پر لا رھی تھی۔ غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ پورا ملک نا امیدی کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں کوئی بھی اپنی جاب کھونا منظور نہیں کر سکتا تھا۔
کسی نا کسی طرح یہ تینوں اپنی جگہ پر جاب کر رھے تھے۔ ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ اب انکے ڈیپارٹمنٹ کی باری بھی آ گئی ھے اور ایمن یا جم میں سے ایک کو جانا پڑے گا۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو لے آف کیا جانے والا تھا آنے والے مہینے کے آخری فرائڈے کو اور ان میں سے ایک کو ہمیشہ کے لئے گھر چلے جانا تھا۔
ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ جم اور ایمن میں سے کون جائے گا۔ دونوں کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ تمام بڑے آفیسیرز کی اہم میٹینگ ہونے والی تھی جس میں وہ دونوں کی خدمات کا جائزہ لے کر کسی ایک کو گھر بھیجنے والے تھے۔ اس فیصلے میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا اور یہ وقت دونوں کے لئے بہت بھاری تھا۔ ان دنوں جم کا موڈ بھی کچھ بگڑا بگڑا تھا اور وہ ایمن کے آفس کے چکر بھی نہیں لگا رہا تھا۔ جب بھی دیکھو کسی نا کسی باس کے ساتھ آفس میں بند مذاکرات کر رھا ہوتا۔ دو تین بار ایمن نے خود اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو جم نے رکھائی سے جواب دیا۔ ایمن کو تو یقین نہیں آتا تھا کہاں وہ اسکی ایک نظر کا طالب اور کہاں یہ انتہائی روکھا پھیکا سا بندہ ?
خوف کے مارے ایمن کی حالت تو ایسی ہو چکی تھی کاٹو تو بدن مہں لہو نہیں۔ عامر سے تو ویسے بھی چند لفظوں کا ناطہ رہ گیا تھا پہلے بھی اور اب تو وہ بھی نہیں رہا تھا مگر جم? وہ تو کسی حد تک اسکے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں واقعی سنجیدگی سے غور کرنے لگی تھی۔ لیکن اب اس وقت عامر اور جم میں سے کوئی بھی اسکا سہارا بنتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ جائے تو جائے کہاں?

-------------------------------------------------

اسی ایک مہینے کے وقفے میں جب ایمن کی زندگی کا فیصلہ کیا جانے والا تھا اچانک جاب پر ایسا کچھ غلط کام ہوا جو اس نے ہرگز نہیں کیا تھا نا اسکا کوئی قصور تھا مگر کاغذات کے حساب سے سب قصور اسی کا بن رہا تھا اور ایمن کی وجہ سے ریسیشن کے دور میں کمپنی کو ایک کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رھا تھا۔ یہ سب اسکی ذرا سی غلطی اور لاپرواہی سے ہوا تھا۔
سب بڑے لوگ میٹینگ میں تھے اور وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس پر طرح طرح کے الزام لگ رھے تھے۔ ہر وقت اسکی تعریفیں کرنے والے لوگ آج جیسے وعدہ معاف گواہ بن کے اسکے خلاف ہو گئے تھے۔ اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ وہ ان کاغذات کو جھٹلا نہیں سکتی تھی اسکے اپنے اصلی سیگنیچر بھی موجود تھے حلانکہ حقیقت میں وہ اس پورے معاملے میں سرے سے انوالو ہی نا تھی ۔ اس نے کسی اور بات کے لئے سائن کیا تھا مگر وہ پیپر اب کہیں اور استعمال ہو چکا تھا بلکہ کچھ لوگ تو اسکو نوکری سے نکالنے کی بجائے سیدھا جعل سازی کے الزام میں جیل بھجوانے کی باتیں کر رھے تھے اور دکھ کی بات تو یہ تھی کہ جم اس وقت ان سب کا سرغنہ بنا ہوا تھا۔ وہ حیران ہو رھی تھی یہ کیسی محبت ھے جو انسان کو ایک نوکری کے کھو جانے کے خوف سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کر گئی ہے?

-------------------------------------------------

ایمن ان دنوں بری طرح ٹوٹ رھی تھی ۔ جم جیسی محبت کا یہ روپ کس نے دیکھا ھو گا آج تک? کیا مغرب میں محبت ایسے کی جاتی ھے? وہ کئی بار اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ چکی تھی?

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

عامر اس سے کوئی بات نا کرتا تھا اور پورے آفس کو علم ہونے کے باوجود وہ اس پورے معاملے سے قطعی لا تعلق نظر آتا تھا۔ ایک لفظ بھی ھمدردی کا نہیں بولا اورنا اس نے ایک بار بھی ایمن سے اس پورے معاملے کے بارے میں ایک لفظ بھی پوچھا تھا۔ الٹا وہ ان دنوں ہر وقت کسی نہ کسی کام میں بہت مصروف نظر آتا تھا ۔ عامر شاید اس لئے خود کو ہر وقت بہت مصروف ظاہر کرتا کہ اسکو بھی بے کار جان کر جاب سے فارغ نا کر دیا جائے۔ آجکل وہ ڈو نتھنگ لک بزی کی عملی تصویر بنا ہوا تھا۔ وہ سارا سارا دن فائل روم میں گھسا ہزاروں فائلیں الٹتا پلٹتا رھتا۔ اسکو تو جیسے ایمن کے ہونے نا ہونے کا احساس تک مٹ چکا تھا۔ کھبی کھبار فائلوں کے پلندے اٹھا کر گھر لے آتا اور ساری ساری رات ان میں پتہ نہیں کیا چھانا کرتا۔
آخر وہ فرائڈے آ ہی گیا جس کے آنے کے خوف سے ایمن کا وجود کانپ رھا تھا۔ اسکو آفس میں بلوا لیا گیا اور ساتھ ھے اسکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صرف لے آف کیا گیا اور جیل بھیجنے کا ارداہ ترک کر دیا گیا تھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے ان کاغذات پر سائن کر رھی تھی جب عامر ہاتھ میں ہزاروں فائلوں کے پلنڈے پکڑے بلا اجازت زبردستی آفس میں گھس آیا اور بولا
"میں بلا اجازت اندر آنے کی معافی بعد میں مانگ لوں گا مگر پلیز آپ لوگوں کے لئے جو اہم معلومات لایا ہوں انکو پہلے غور سے دیکھ لیں۔ وہ سب لوگوں کو کچھ ہینڈ آؤٹس پکڑانے لگا۔ یہ سب قصور دراصل جم کا ھے اور اس نے اپنی جاب بچانے کی خاطر کاغذات میں رد وبدل کر کے اسے ایمن کی غلطی بنا دیا ھے"
یہ سن کر جم نے آفس سے بھاگنے کی کوشش کی مگر عامر نے پہلے ھی ڈور لاک کر دیا تھا۔
------------------------------------------------

ایمن نے تشکر سے بھیگی آنکھوں سے عامر کو دیکھا۔ اب اسکی سمجھ میں یہ راز بھی آ گیا کہ عامر صبح شام ان فائلوں میں سر کھپا کر ایمن کی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈ رہا تھا۔ اسکا دل عامر کے لئے پیار سے لبالب بھر گیا اور بے اختیار اسکی طرف لپکی تو راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑی۔ عامر نے آگے بڑھکر اسکو زمین سے اٹھایا اور بولا

"ایک دن ایک سبق تم نے مجھے دیا تھا،" کوا چلا ھنس کی چال والا " جب میری سمجھ میں اسکا مطلب آنے لگا تو تم خود اسکا مقصد بھولنے لگی تھیں۔ اب وہ تو ھم دونوں کی سمجھ میں اچھی طرح آ گیا ھے۔
آج ایک اور سبق میں تمھیں دینا چاہتا ہوں اور بہتر ھے تم بھی اچھی طرح سے سمجھ لو اوروہ ھے،
اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔
نہیں نہیں وہ بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے ہنس دی اور بولی "مگر میں نےتو اس سے کچھ اور ہی سبق سیکھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ یہ کہ اسلامی تعلیمات کھبی غلط ہو ہی نہیں سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرد ہمیشہ عورت سے ذیادہ عقلمند ہوتا ھے چاھے وہ ایجوکیشن یا جاب میں اپنی بیوی سے کتنا ہی پیچھے کیوں نا رہ جائے پھر بھی جب جب عورت پر کوئی مشکل وقت آتا ھے تو اللہ کے بعد صرف اسکا شوہر،باپ ،بھائی یا بیٹا جیسے رشتے ہی ہیں جو اسکو مصیبت سے بچا سکتے ہیں۔