Afsana 033 ضمیر از دلپسند سیال

ضمیر
از دلپسند سیال
(بہاولپور، پنجاب، پاکستان)

وہ ایک انتہائی ویران حویلی تھی جو اب تقریبًا منہدم ہوچکی تھی اس حویلی کا کچھ حصہ بس آثار قدیمہ کے طور پر موجود تھا ۔ہر طرف گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے جن سے اٹھنےوالی بدبو ناقابل برداشت تھی وہ ایسی جگہ تھی جہاں غلیظ سے غلیظ جاندار بھی جانا برداشت نہ کرتا ۔مگر ایک سوٹڈ بوٹڈ جوان اس غلاظت و بدبو سے بے نیاز اس حویلی کے کھنڈرات کی طرف جارہا تھا ۔اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہورہا تھا ۔اور یہ سرخ لالی اس کے چہرے پر کسی غصے کی وجہ سے نہیں تھی اورنہ ہی اس کا سبب وہ غلاظت یا اس کی بدبو تھی۔یہ غلاظت اور اس کی بدبو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی کیونکہ اس کے اندر اتنی غلاظت بھری ہوئی تھی اس سے اٹھنے والا تعفن اتنا تھا کہ کہ یہ غلاظت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی اس کے چہرے پر پھیلی سرخی و ہیجان اس کی کامیابی کی وجہ سے تھا اس نے بلآخر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔تھوڑی ہی دیر بعد وہ اس ویران حویلی کے ایک ایسے کمرے میں داخل ہوگیا جس کی چاروں دیواریں سلامت تھی اور آدھی چھت بھی موجود تھی۔اس کمرے میں پہلے سے ہی ایک شخص موجود تھا جس کی شکل انتہائی بھیانک و کریہہ تھی اس نے کالے رنگ کا چوغہ نما لبادہ پہن رکھا تھا ۔نوارد اس کے آگے تعظیمًا جھک گیا ۔
کافی دن کے بعد آئے ہو اتنے دن کیوں لگا دیئے؟"۔"
اس کریہہ شخص نے نوجوان سے پوچھا۔اسکی آواز اتنی بھیانک تھی کہ نوجوان جھر جھری لے کر رہ گیا۔
سرکار دیر تو ہوگئی مگر میں کامیاب لوٹا ہوں" نوجوان نے اس کے آگے دوزانوں بیٹھ کے سرجھکا کر انتہائی مودب انداز میں جواب دیا۔
ہاں مجھے یقین تھا کہ تم کامیاب لوٹے گے۔میں نے ایسے تو تمہارا انتخاب نہیں کیا تھا۔اس نے زور دار بھیانک قہقہ لگایا ایسے لگا جیسے اس ویرانے میں بہت سی بدروحیں چلا رہی ہوں اور اس کے منہ میں کوئی دانت نہیں تھے جب کہ اس کا پورا منہ غلاظت سے بھرا ہوا تھا۔
سرکار وہ بہت چیخا چلایا تھا پورا ایک مہنہ مجھے سونے نہیں دیا مجھے طرح طرح کے دلائل دیتا تھا ۔مجھے دوسرے بڑے لوگوں کی مثالیں دیتا اور مجھے بہت سے لالچ دیئے مگر میں نے اس کی ایک نہیں سنی آخر کار وہ میری منت زاری پہ اتر آیا اس کی آہ وزاری مجھ پر اثر انداز نہیں ہوسکی میں نے گویا کان ہی بند کرلیئے تھے۔آنکھیں بند کرلی تھیں اور پھر میں نے اسے قتل کر دیا
اس کی آخری چیخیں گویا میرے اندر ہی دم توڑ گئیں ۔اس کی فلک شگاف چیخیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں ۔آخری لمحوں میں میں ڈانواڈول ہوگیا تھا مگر آپ کے آشرباد کی وجہ سے بلآخر مجھے کامیابی ملی اور میں سیدھا آپ کی طرف دوڑا چلا آیا۔نوجوان تفصیل بتاتے بتاتے گویا ہانپ گیا تھا اور اب گہرے گہرے سانس لے رہا تھا اس کے چہرے پر ہلکا ہلکا سا احساس جرم عیاں ہونے لگا تھا۔
یہ اچھا ہوا ، بہت ہی اچھا ہوا ۔وہ ہم دونوں کی دوستی میں بہت بڑی رکاوٹ تھا اور آپ کی کامیابیوں کے لئے ایک سیسہ پلائی دیوار اس کی موت سے تیری کامیابی کے راستے کھل گئےہیں ۔اب جو توں چاہے گا وہ ملے گا کامیابیاں تیرے قدم چومیں گی۔ہر ملک کے سربراہ اور ہر محکمے کے بڑے میرے مرید ہیں اور میرے احکامات پر عمل کرتے ہیں بدلے میں میں نے انہیں اتنی آزائشیں دی ہیں کہ وہ پھولے نہیں سماتے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ توں میرے گروہ میں شامل ہوگیا ہے جی کرتا ہے مین کھل کر ناچوں جشن مناؤں ۔
سرکار میرا ایک دوست ہے وہ بھی بہت دولت کمانا چاہتا ہے اس کے لئے وہ آپ کے گروہ میں شامل ہونے کو تیار ہے۔نوجوان نے عاجزی سے کہا۔
ہر انسان کے لئے میرے دروازے کھلے ہیں ۔مگرہر انسان اور میرے بیچ بس ایک دیوار ہے اور یہ دیوار انسان کو خود گرانی ہوگی ۔
میں جو کہ اتنا زبردست ہوں اور جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں اس نادیدہ دیوار سے بے بس ہوں جاؤ اپنے دوست سے کہو پہلے اس دیوار کو گرائے اور تیری طرح دلیر بن کر اسے قتل کرے تو پھر میں اسے اپنے گروہ میں شامل کر لوں گا۔جاؤ جاؤ چلے جاؤ یہ بات سب لوگوں بتا دو ۔اپنے عمل سے اپنے کردار سے ثابت کردو کہ تم میرے ہوچکے ہو۔

وہ اپنا چوغہ اتار کر برہنہ ہوکر ناچنے لگا ۔اور ساتھ ساتھ چیخ چیخ کر بولے جارہا تھا ۔ کہ وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا پر میری حکومت ہوگی۔لیکن ناچتے ناچتے وہ اچانک رک گیا جیسے ناچتے مور کی نگاہ اپنے بھدے پیروں پر پڑ جاتی ہے تو وہ ناچنا بھول جاتا ہے۔اسی طرح شیطان بھی ناچنا بھول چکا تھا کیونکہ اس کی کامیابی کے بیچ وہ نادیدہ دیوار اس کا منہ چڑا رہی تھی۔
یہ یہ ضمیر کیا چیز ہے اس میں اتنی طاقت کیسی ہے کہ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس کے ہوتے میں کسی انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا گویا کہ یہ ضمیر جب تک انسان کے اندر زندہ ہے میں اس انسان کے اندر اپنی غلاظت نہیں پھیلا سکتا ۔شیطان غصے میں اپنے سر کے بال نوچنے لگا غصے کے ارےاس کے منہ سے غلاظت بہہ رہی تھی۔
چیختے چیختے وہ پھر قہقہے لگانے لگا میں بھی شیطان ہوں انسان کب تک مجھ سے بچ سکے گا میں نے بھی اپنی حکمت عملی طے کرلی ہے میں انسانوں پر حکومت کرنے والےانسانوں کو اپنا چیلا بناؤں گا اور وہ حکومت کرنے والے چاہے ملکوں کے سربراہ ہوں یا ایک ادنا سے محکمے کے سبھی میرے چیلے ہوں گے اور میں اپنے چیلوں سے عام انسانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دوں گا انہیں مصنوعی قحط پیدا کرکے دانے دانے کو محتاج کردوں گاپھر میرے چیلوں کے حکم سے انسان میرا غلام بنتا جائے گا۔
اس نوجوان کی غلط فہمی تھی کہ اس نے اپنے ضمیر کو قتل کردیا ہے وہ اس بات کو بھول گیا تھا کہ اس کے گھر میں صبح شام اللہ کا ذکر ہوتا ہے ہر صبح کو قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہےاور یہ کہ اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون حرام کی کمائی سے نہیں بنا بلکہ خون پسینہ ایک کرکے اور کما کر ماں باپ نے اسے کھلاپلا کر بڑا کیا ہے بھلا اس کا ضمیر اتنا کمزور کیسے ہوسکتا تھا کہ نوجوان کے ایک دو غلط کام کرنے سے وہ مرجاتا ۔
شیطان کی لاف زنی سن کر ضمیر انگڑائی لے کر جاگ اٹھا اور نوجوان کی زبان پر ادا ہوا ۔۔۔۔۔ لاحول ولااقوتہ ۔
یہ الفاظ سنتے ہی شیطان کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور وہ چیخیں مارتا ہوا وہاں سے غائب ہوگیا۔
جب ضمیر زندہ ہے۔انسانیت مر نہیں سکتی ۔
زبان پر ذکر خدا ہے تو شیطان ، مومن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا چاہے وہ جیسے بھی ہتھ کنڈے استعمال کرے ۔