Afsana 034 مقصدِ حیات از وش

مقصدِ حیات
از وش

"دیکھو میرے بچو! میں جانتی ہوں کہ تمہارے یہ لب خاموش ہیں لیکن تم لوگ بہت کچھ کہنا چاہتے ہو، بہت سے وسوسے ہیں اس وقت تمہارے دلوں میں۔ میں جانتی ہوں وہ سارے سوال جو تم دونوں کے لب پر ہیں لیکن زبان اُنہیں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ یقین جانو۔ ۔ ۔ کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں ماں ہوں! میں آنکھوں کی تحریر دلوں کی دھڑکن یہ ساری زبانیں جانتی ہوں۔ میں جانتی ہوں تم لوگ کیا کہنا چاہتے ہو۔ مجھے غلط مت سمجھو میرے بچو کہ میں اپنے حالات کی کسی تنگی کی وجہ سے ایسا کر رہی ہوں۔ میں مجبور ہوں حالات کے ہاتھوں نہیں بلکہ دل کے ہاتھوں۔ ۔ ۔ مقصدِ حیات کے ہاتھوں۔ ۔ ۔ ۔"
---------------------------------------------

"اچھا بھئی بیگم کافی وقت ہو گیا۔ اب میں نکلتا ہوں۔ اور آج تو جمعہ المبارک ہے نا۔ آج اسکول سے چُھٹی کے بعد ایک جماعت کو درس دینا ہو گا تو آتے آتے کچھ وقت ہو جائے گا۔"
"جی جی جانتی ہوں بہت شوق ہے آپکو بچوں کی تعلیم و تربیت کا۔"
"ارے بیگم شوق کہاں؟ یہ تو کچھ قرض اُتار رہے ہیں۔"
"قرض، کیسا قرض؟"
"ہوتے ہیں نا انسان کی ذات پر بہت سے قرض۔ اُن میں سے ایک قرض ہوتا ہے نام کا قرض۔ تو بس میں بھی اپنا نام ماسٹر چراغ دین ہونے کا قرض چُکا رہا ہوں۔ اب رب نے جتنا بھی تھوڑا بہت علم کا چراغ جلایا ہے اس دل میں تو اُس سے ارد گرد روشنی کرنا فرض تو بنتا ہے نا۔"
"ہاں واقعی۔ ۔ ۔ آپکا کیا قصور؟ قصور تو شاید بس ناموں کے ہوتے ہیں۔ ہر نام کا اپنا مطلب، اپنا مفہوم ہوتا ہے جس کا حق ادا کرنا بھی واجب ٹہرتا ہے۔ چاہو تب بھی نہ چاہو تب بھی۔"
"کیسی باتیں کر رہی ہیں بیگم۔ نہ کیوں نہ چاہو؟ بھئی میں تو خوشی خوشی کرتا ہوں یہ حق ادا۔"
"نہیں، میں نے آپ کی نہیں اپنی بات کی۔ دیکھیں نا میرا نام رکھتے ہوئے میرے والدین نے تو سوچا تک نہ ہو گا کہ اس کا حق ادا کرتے کرتے میری حیاتی کم پڑ جائے گی۔"
"اوہو صابرہ بیگم! کیا ہو گیا آج صبح صبح ایسی باتیں، خیریت تو ہے نا۔"
"نہیں کچھ خاص نہیں۔"
"تو عام ہی بتا دیں، ہم بھی تو کچھ خاص نہیں۔ ۔ ۔ ۔"
"بس آج تیسرا دن ہے۔ وہی خواب مسلسل اور اُس کے بعد جب میں جاگوں تو وہی کیفیت ہوتی ہے جیسی خواب میں ہوتی ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں نا کہ مجھے خواب نہیں آتے، اور جب جب آئیں تب تب۔ ۔ ۔ ۔"
"بیگم چھوٹی چھوٹی باتوں کا اثر نہ لیا کریں۔ اب دراصل آپ کی عُمر ہو گئی ہے۔ اس لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کا اثر لینے لگی ہیں۔ چلیں اب میں چلتا ہوں ورنہ آپکی تو باتیں کبھی ختم ہی نہیں ہوں گی۔ اپنا خیال رکھئے گا۔ اور زیادہ سوچئے گا مت۔
اللہ نگہبان۔"
---------------------------------------------

"اب سو جاوٴ بچوں۔ کافی رات گزر چکی ہے اور میں نے تم دونوں کو ساری بات سمجھا دی ہے۔ ہم حسبِ معمول صبح صادق جاگ جائیں گے اور کئے گئے فیصلے کو اپنے انجام تک پہنچا دیا جائے گا۔ میرے لئے یہ سب کرنا آسان نہیں۔ لیکن اب میں اس سوچ اور فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ زندگی میں ہر انسان کو ایک بار ایسا موقع ضرور ملتا ہے جہاں اُس کا ایک فیصلہ اُس کے دونوں جہاں بنا یا بگاڑ دیتا ہے۔ وہی ایک فیصلہ آپ کا مقصدِ حیات ہوتا ہے اور وہ فیصلہ لینا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ بھی ایسا ہی وقت ہے۔ فیصلہ تو اپنے سوہنے رب کے کرم سے میں کر چُکی ہوں، آگے راہیں ہموار کرنے والی بھی اُسی کی ذات ہے۔ اب تم دونوں سو جاوٴ اور میرا یقین ہے کہ اس شب کی صُبح اپنے سُنہرے رنگوں سے ہمارے نصیب میں کامیابی ہی لکھے گی۔"
---------------------------------------------

"صابرہ بیگم، میں نے ہماری رفاقت کے اس طویل عرصے میں کبھی آپکو یوں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے نہیں دیکھا۔ بہت بہت بُرا وقت بھی آیا، لیکن صابرہ کا صبر کبھی نہ ڈگمگایا تو اب کیا ہوا؟"
"آپ نہیں سمجھ سکتے ماسٹر جی، اب میں تھکنے لگ گئی ہوں۔ بڑی طویل اور تنہا سی ہے یہ زندگی۔ اور صبر کا روزہ رکھتے رکھتے اب میں نڈھال ہو چُکی ہوں۔ مجھے اپنا آپ کسی دشت کسی ویرانے میں بھٹکتا محسوس ہوتا ہے۔ پیاسا اور جلتا ہوا۔ انسان جتنی بھی خشوع خضوع سے روزہ رکھے، ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اُس کی ہمت ٹوٹنے لگتی ہے۔ میری بھی ہمت اب ساتھ نہیں دیتی۔"
"اور کیا آپ جانتی ہیں کہ وہ وقت کون سا ہوتا ہے جب انسان کی ہمت جواب دینے لگتے ہے؟ وہ صبر کی انتہا ہوتی ہے۔ اور اُس کے بعد رب کریم کی طرف سے منظوری آ جاتی ہے اُس روزے کو افطار کرنے کی۔ آپ بھی صبر رکھیں، جو ہمارا رب ہے اُس نے ہمارے لئے کوئی نہ کوئی انتظام کر ہی رکھا ہو گا۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھئے گا۔ کہ افطار کا وقت بھی معینہ ہوتا ہے۔ اُس کے بعد آپکو واپس روزے کی کیفیت میں ہی آنا پڑتا ہے۔"
"جانتی ہوں۔ ۔ ۔ جانتی ہوں یہ مشکل بھی ہے لیکن مجھے پرواہ نہیں۔ مجھے ابھی پھل چایئے ۔ ۔ ۔ مجھ سے مزید صبر نہیں ہوتا۔"
"اللہ ہی ہر ایک کو اُس کے صبر کا پھل عطا کرنے والا ہے۔ وہ ضرور کچھ بہتر کرے گا۔ آمین۔"
"آمین۔"
---------------------------------------------

جاوٴ بچوں! یہ رات ہماری آخری رات تھی جو گُزر گئی۔ آج کی صُبح ہماری زندگیوں کو روشنیوں سے بھر دے گی۔ بس میری اتنی بات یاد رکھنا! ہم سب کو، تمام انسانوں اور جانوروں کو اس دنیا میں کسی نہ کسی مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے۔ اُس مقصد کی پہچان ہم پر چھوڑ دی گئی ہے۔ میں جس مقصد کے لئے تم دونوں کو بھیج رہی ہوں اُس سے پیچھے مت ہٹنا۔ ڈر مت جانا۔ یہ دُنیا تو ویسے بھی فانی ہے۔ انسان کی زندگی کسی کام آ جائے تو وہ فنا سے بقا تک کا سفر طے کر لیتا ہے۔ جاوٴ میرے بچو! میرا یہ فیصلہ تمھیں آزاد بھی کر رہا ہے اور باندھتا بھی ہے۔ اب یہ تم دونوں پر ہے کہ اسے اپناوٴ یا جھٹلاوٴ۔ ۔ ہمارا ساتھ یہیں تک کا تھا۔ جاوٴ کہ رب تمھارا حامی و ناصر ہو۔"
---------------------------------------------

"میں کافی دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ یوں گُم صُم سے بیٹھے نہ جانے کیا سوچتے رہتے ہیں۔ خیریت تو ہے نا؟"
"نہیں نہیں، ایسا تو کچھ نہیں۔ سب ٹھیک ہے۔ خیریت ہی خیریت ہے۔"
"اتنے سال ہو گئے ہماری شادی کو۔ ہماری تو کوئی اولاد بھی نہیں کہ میں اُن کی طرف لگ کر آپ سے غافل ہو گئی ہوں۔ اس کتاب کے ایک ایک صفحے کی ایک ایک سطر پڑھی ہے میں نے۔ بند آنکھوں سے بھی محسوس کر سکتی ہوں کہ آپ پریشان ہیں۔"
"نہیں بس ایسے ہی کچھ طبیعت بوجھل سی ہو رہی ہے۔ آپ ایسا کریں کہ چائے بنائیں میں بازار سے جا کر پکوڑے لے کر آتا ہوں۔ پھر دونوں ساتھ میں چائے پئیں گے۔
---------------------------------------------

"کیا بتاوٴں اُسے؟ کیا بتاوٴں کہ جو خواب اتنے دنوں سے اُسے پریشان کر رہا ہے، وہی خواب۔ ۔ ۔ وہی ادھورا خواب مجھے بھی راتوں کو جگاتا ہے۔ کیا کہوں کہ مجھے لگتا ہے اُس خواب کے ذریعے شاید کچھ بتایا جا رہا ہے۔ کچھ تو ہے۔ ۔ ۔ جو خود نہیں سمجھ پا رہا وہ اُسے کیسے بتاوٴں؟"

"السلام علیکم ماسٹر صاحب!"
"وعلیکم السلام شرفو میاں۔ کہیئے کیسے مزاج ہیں؟ اور یہ کون ہیں؟"
"پتہ نہیں ماسٹر صاحب آج سے پہلے ان کو اپنے قصبے میں نہیں دیکھا۔ مجھے لگتا ہے یا یہ بھٹک گئے ہیں یا ان کا اس دُنیا میں کوئی نہیں۔"
"تو اب آپ کیا کریں گے؟"
"کرنا کیا ہے، مسجد میں اعلان کروانے جا رہا تھا۔ اور جب تک کوئی اتا پتہ نہیں چل جاتا وہاں ہی رہ لیں گے۔ اب میں ان کو لے کر کہاں پھرتا رہوں؟"
"اور اگر کوئی نہ آیا، تو یہ کب تک مسجد میں بے یار و مددگار پڑے رہیں گے؟"
"میں کیا کہہ سکتا ہوں ماسٹر صاحب، یہ تو مولوی صاحب ہی بتائیں گے کہ کیا ہو سکتا ہے۔ آخر کار اس قصبے کا ہر فیصلہ مولوی صاحب کی مشاورت سے ہی ہوتا ہے۔"
"چلو ٹھیک ہے۔ آئیں دونوں چلتے ہیں۔"
---------------------------------------------

"السلام علیکم مولوی صاحب۔"
"وعلیکم السلام، کیسے ہیں شرفو میاں آپ ماسٹر صاحب آپ کیسے راستہ بھول گئے آج بنا نماز کے وقت کے۔"
"وہ مولوی صاحب مجھے آج یہ دونوں ہمارے قصبے میں یہاں وہاں گھومتے ہوئے ملے ہیں۔ میں نے اپنے طور پر پتہ کرنے کی کوشش کی کہ کس کے ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا۔ تو میں نے سوچا کہ مسجد میں اعلان کروا دیا جائے۔ اور جب تک انھیں کوئی لینے نہ آ جائے تب تک ان کے کسی معقول ٹھکانے کا بندوبست بھی کر دیجیئے۔"
"ایسا ہے کہ اعلان تو ہم کرو دیتے ہیں اور آس پاس کے قصبوں میں بھی کرا دیں گے لیکن تب تک ان کی رہائش کا انتظام ایک کٹھن کام ہے۔ اور یہ اندیشہ بھی کہ اگر کوئی بھی نہ آیا لینے تو کیا کریں گے ان کا؟"
"مولوی جی اگر آپ کی اجازت ہو تو میں انھیں اپنے گھر لے جاوٴں اور جب تک انھیں لینے کوئی نہ آئے انھیں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔"
"ارے ماسٹر صاحب آپ نے تو مسئلہ ہی ختم کر دیا۔ بالکل نیکی اور پوچھ پوچھ۔ یہ تو ایک نیک کام ہے۔ آپ کو اجازت ہے جب تک ان کے لواحقین کا پتہ نہیں چلتا آپ ان کو اپنے پاس رکھیں۔ اور اگر کبھی بھی ان کو لینے کوئی نہ آئے تو آپ ہمیشہ کے لئے بھی ان کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔"
"بہت بہت شکریہ مولوی صاحب۔ آپ نے بڑا احسان کیا مجھ پر۔ اللہ آپ کو اس کی جزا دے۔ میں اب چلتا ہوں۔ آپکا شکریہ۔"
---------------------------------------------

"صابرہ بیگم، صابرہ بیگم کہاں ہیں۔ جلدی سے یہاں آئیں۔ دیکھیں میں کسے لے کر آیا ہوں اپنے ساتھ۔"
"کیا ہو گیا، کیوں چّلا رہے ہیں۔ ارے! یہ کیا۔ یہ کون ہیں؟"
"رحمتِ الہیٰ ہے۔ میں آسمان تلے گزر رہا تھا کہ نازل ہو گئی۔"
"ایک تو آپ کو ہر وقت مذاق کی سوجھی رہتی ہے، سچ سچ بتائیں نا۔"
"بتا دوں گا، بتا دوں گا۔ ابھی تو آپ ان کو سنبھالیں اور میں ان کے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر کے آتا ہوں۔ یہ کون ہیں اور یہاں کیسے یہ باتیں تو کبھی بھی ہو سکتی ہیں۔"
"ٹھیک ہے آپ کھانے پینے کا انتظام کریں اور میں ان دونوں کو دیکھ لوں ذرا۔"
---------------------------------------------

جہاں تک نگاہ جاتی تھی اُس سے بھی کہیں دُور تک پھیلا ہوا ویران و بنجر، زندگی سے محروم صحرا میں صابرہ کسی بُھولے بھٹکے پنچھی کی مانند یہاں سے وہاں دوڑ رہی تھی۔ شدید گرمی۔ ۔ ۔ جُھلساتا سورج اور بڑھتی پیاس۔ وہ پانی کی طلب، اُسکی تلاش میں یہاں وہاں دوڑتی لیکن وہاں اگر کچھ تھا تو فقط سراب۔ یُوں لگتا تھا کہ اب وہ اس جان لیوا صحرا سے کبھی نکل نہ پائے گی۔ ۔ ۔ ۔ وہ موت کے اس ویرانے میں زنگی کی طلب لیئے یہاں وہاں بھٹک رہی تھی کہ یک دم بدل کے ایک ٹکڑے نے اٌسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اور پھر وہ بادل برسنے لگا۔ قدرت کی اس عنایت پر دشت و بیاباں سب حیران تھے۔ اُسکی تشنگی مٹانے کو جب یہ بھی کافی نہ ہوا تو اُسی آسمان سے دو خوبصورت سے پھول اُس کے قدموں میں آ گرے۔ اُس نے جنون اور دیوانگی کے عالم میں اُن دونوں گُلابوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا اور اُنھیں خوب پیار کرنے لگی۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔
---------------------------------------------

"کیا ہوا؟ سوتے میں کیوں کراہ رہی ہیں؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟"
"وہی خواب۔ پھر سے وہی خواب۔ ۔ ۔ لیکن آج خواب اُتنا ادھورا نہیں تھا جتنا پہلے ہوتا تھا۔ آج میں نے دیکھا کہ مجھے اُس جلتے صحرا کی جلن سے نجات مل گئی۔ میں جل تھل ہو گئی۔ اور مجھے دو پھول عطا کیئے گئے۔ دو پھول۔ ۔ ۔ کچھ سمجھے آپ؟"
"ہاں بیگم۔ سمجھ تو میں کل شام ہی گیا تھا۔ لیکن بس سوچا وقت اپنے فیصلے خود ہی کر دے گا۔"
"تو بس فیصلہ ہو گیا نا۔ اب یہ دونوں یہیں رہیں گے، ہمارے پاس۔ ہم انھیں بالکل اپنے بچے بنا کر رکھیں گے۔ ویسا ہی پیار اور ویسی ہی تربیت کریں گے جیسے ہم اپنے بچوں کی کرتے۔"
"صابرہ بیگم! ہم کون ہوتے ہیں فیصلے کرنے والے؟ وہ تو اوپر ہی کہیں سے ہو کر آتے ہیں۔۔ ۔ ہمیں تو صرف عمل کرنا ہوتا ہے۔"
"آپ ہمیشہ ہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ جو بھی ہو بس میں اب ان بچوں کو خود سے دور نہیں کروں گی۔ انھیں اپنے پاس ہی رکھوں گی۔"
"ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ میں نے کب منع کیا؟ میں تو خود ان کو یہاں لایا ہوں۔ لیکن آپ جانتی ہیں۔ ۔ ۔اس دنیا میں کچھ بھی دائمی نہیں ہوتا۔ آپکو خود کو ان سے بچھڑنے کے لئے بھی تیار رکھنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے جلد ہی ان کے لواحقین آ جائیں اور۔ ۔ ۔ "
"نہیں، میرا دل کہتا ہے کہ یہ اب یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔ انھیں یہاں ہمارے لئے ہی بھیجا گیا ہے۔"
"چلیں ٹھیک ہے۔ اب سو جائیں کیونکہ کل اب آپ کا کام بڑھ گیا ہے۔ اور کام کرنے کے لئے آرام بہت ضروری ہوتا ہے۔"
---------------------------------------------

آٹھ ماہ بعد

---------------------------------------------

"کہاں ہیں بیگم۔ یہ سودا پکڑیں، اور یہ بچوں کے کھانے کا کچھ سامان لایا ہوں۔"
"بہت دیر کر دی آپ نے آتے آتے؟"
"ہاں وہ راستے میں ایک صاحب نے روک لیا تھا۔ خیر وہ دونوں کہاں ہیں نظر نہیں آ رہے؟"
"وہ ہمسایوں کی لڑکی لے کر گئی ہے تھوڑی دیر کو۔ سارے محلے والے ہی بہت محبت کرتے ہیں۔"
"ہاں وہ دونوں ہیں ہے اتنے پیارے کہ بے اختیار پیار آتا ہے۔"
"صورت تو جو پیاری ہے ہی، سیرت بھی تو دیکھیں نا۔ کبھی کسی کو تنگ نہیں کرتے، کوئی شرارت نہیں کرتے۔ سب باتیں مانتے ہیں۔"
"اوریہ سب آپکی رات دن کی محنت، پیار محبت اور تربیت کا نتیجہ ہے۔ جس طرح سے آپ نے اُن دونوں کو تربیت دی ہے ویسے شاید ہی کوئی اور دے۔"
"محنت تو ہر ماں کرتی ہے اپنے بچوں پر، اب اگر مجھے ایسے بچے ملے تھے جن پر مجھے زیادہ محنت کرنا پڑی تو یہ میرے لئے خوشی کی بات ہے۔ اور اس میں آپ نے بھی تو میرا بھرپور ساتھ دیا۔"
"یہ تو ہے، چلیں اب کھانا لگا دیں۔ میں اُن دونوں کو دیکھ کر لے کر آتا ہوں، اب تو تھوڑی دیر کو نہ دکھیں آس پاس تو اُداسی سی ہونے لگ جاتی ہے۔ اُن کے بغیر رہنا ناممکن سا لگتا ہے۔"
---------------------------------------------

پھر وہی خواب۔ صحرا کی ہولناک گرمی، پیاس کی شدت اتنی بڑھی ہوئی تھی اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ پیاس زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو گی۔ پھر یک دم بادل اس کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور بارش شروع ہو جاتی ہے۔ آسمان سے دو پھول گرتے ہیں۔ صابرہ اُن کو بے ختیار محبت اور دیوانگی کی حالت میں اپنا لیتی ہے، اُٹھا لیتی ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ اس سب میں وہ یہ دیکھ ہی نہیں پاتی کہ اُن پھولوں کی حقیقت کے ساتھ کانٹوں کی حقیقت بھی وابستہ تھی جو اُسے لہو لہان کر گئی۔ اور اُس کے ہاتھوں سے بہت سارا خون ٹپک کر بارش کے پانی کے ساتھ ساتھ زمین کو سیراب کر رہا تھا۔ پھر اُسی مینہ برسانے والے بادل میں سے روشنی کا ایک ھالہ آتا ہے اور صابرہ سے وہ پھول لے کر چلا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔
---------------------------------------------

"کیا ہوا۔ ۔۔ آپ جاگ کیوں گئیں۔"
"وہ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ خواب۔ ۔ ۔"
"وہی خواب آج اتنے عرصے بعد پھر آیا نا؟"
"ہاں"
"اور وہ بھی مُکمل؟"
"آپ کو کیسے پتہ؟"
"بس کچھ باتیں پتہ چل ہی جاتی ہیں۔ آپ ابھی سو جائیں۔ کل اس بارے میں بات کریں گے۔"
"کیا بات کریں گے؟"
کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ بس ایسے ہی۔ ابھی آپ سو جائیں، اپنی صحت کا خیال رکھا کریں۔"
"آپ کیسے جاگے؟"
"بس ایسے ہی جاگ آ گئی، آپ بھی سو جائیں میں بھی سونے لگا ہوں۔"
---------------------------------------------

کیا کروں۔ کیسے بتا دوں اُسے اس سب کا مطلب۔ ۔ ۔ میں اپنے اندر حوصلہ نہیں کر پا رہا تو وہ تو پھر عورت ہے۔ جذباتی ہے۔ کیسے کہوں یہ سب اُس سے۔ ۔ ۔ یا اللہ تُو ہی راہ دکھانے والا اور اُس کے بعد اُس پر چلنے کی توفیق دینے والا ہے۔ ہمیں بھی ہمت و توفیق دینا کہ زندگی کے اس دور میں کہیں کمزور نہ پڑ جائیں اور جو کام ہمارے ذمہ پڑا ہے اُسے پورا کر سکیں۔ بے شک تُو ہی بڑا مددگار اور صبر و ہمت دینے والا ہے۔
---------------------------------------------

"آج بہت دیر کر دی فجر پڑھ کر واپس آنے میں؟ میں کب سے راہ دیکھ رہی تھی۔ کہاں رہ گئے تھے؟"
"کہیں بھی نہیں بس ایسے ہی۔"
"کیا ایسے ہی؟ کب تک مجھے ایسے ہی بہلاتے رہیں گے، جو بات ہت بتا کیوں نہیں دیتے؟"
"بتاتا ہوں، پہلے آپ سکون سے بیٹھیں تو سہی۔ ۔ ۔ یہاں بیٹھیں۔
اب سُنیں دھیان سے۔"
یاد ہے نا آپ نے ہی ایک بار کہا تھا کہ انسان کو اُس کے نام کا حق ادا کرنا پڑتا ہے۔ مجھے لگتا ہے۔ ۔۔ ۔ اب وہ وقت آگیا ہے۔"
"کیا مطلب؟"
مطلب یہ کہ صابرہ کا صبر اور چراغ دین کا علم، جو تھوڑا بہت ہے، اُسکی روشی نے ہم سے اپنا حق مانگ لیا ہے۔"
"آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔"
"آپ وہ خواب یاد ہے جو رات آپ نے دیکھا؟"
"ہاں بالکل یاد ہے، بہت اچھے سے۔"
"تو سُنیں اب، یہ خواب صرف آپکو ہی نہیں، مجھے بھی تب سے آ رہا ہے جب سے آپکو آ رہا ہے، لیکن میں نے آپکو بتانا مناسب نہ سمجھا کہ آپ پریشان ہوتی رہیں گی۔ اور دوسرا یہ کہ وہ خواب ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ ادھوارا تھا۔ پھر ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ آپکو دو پھول ملتے ہیں اور یہ دو پھول ان کی صورت میں ہمارے آنگن میں اُتر آئے۔ ۔ ۔ خواب تب بھی ادھوار تھا۔ لیکن یہ اُدھورا خواب کل مکمل ہو گیا۔ اپنے ایک واضح مطلب کے ساتھ۔"
"کون سا مطلب۔"
"صابرہ بیگم آپ کا خواب ختم کہاں ہوا تھا؟"
"کیا مطلب ہے آپکا کہ جو خواب میں ہوا تھا وہی اب اصل میں ہو گا؟"
"آپ کو کیا لگتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیئے؟"
"نہیں۔"
"آپ جذباتی ہو رہی ہیں۔"
"میں جذباتی ہی ہوں۔"
"جذبات میں آ کر ہم اپنے فرائض سے منہ نہیں موڑ سکتے۔"
"کیسا فرض؟"
"فرض یہ کہ اس سے پہلے تک ہم صاحب استطاعت نہ تھے تو ہم کچھ فرائض تھے جو ہم پر معاف تھے۔ حیثیت اب بھی ہماری اُتنی ہی ہے لیکن۔۔۔۔"
"لیکن۔ ۔ ۔۔ لیکن کیا؟"
"یہ کہ۔ ۔ ۔ اب ہم قربانی کرنے کی استطاعت تو رکھتے ہیں۔"
"قربانی۔ ۔ ۔؟ ہاں تو ضرور کریں۔ مجھے بھی خوشی ہو گی کہ ہم قربانی کر پائے۔"
"لیکن یہ پریشانی کیوں؟"
"کیا آپ واقعی نہیں سمجھ پا رہیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں؟"
"میں کچھ سمجھنا نہیں چاہتی۔ آپ قربانی کریں بڑے شوق سے کریں۔ مجھ سے کوئی اُمید نہ رکھیں۔"
"کیا آپ زندگی کے اس موڑ پر آ کر میری مخالفت کر رہی ہیں؟ مجھے کمزور کر رہی ہیں؟"
"کیونکہ آپ میری مامتا کی قربانی مانگ رہے ہیں۔ کوئی ماں اپنے بچوں کی قربانی دیتی ہے؟"
"وہ آپ کے بچے نہیں ہیں صابرہ۔ یہ سچ ہے کہ میں نے بھی ہمیشہ اُنہیں اپنی اولاد ہی سمجھا۔ آپ نہیں سمجھ پائیں گی کہ میں یہ سب کس دل سے کہہ رہا ہوں۔ لیکن کچھ حُکم ہوتے ہیں اُن کو چاہتے نہ چاہتے ماننا ہی پڑتا ہے۔ خُدا کبھی اپنے بندے کو دے کر آزماتا ہے تو کبھی لے کر۔ پہلے اُس نے نواز دیا۔ اور دینے والے کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جب چاہے اپنی چیز واپس لے لے۔ ہر کوئی اس دُنیا میں ایک مقصد لے کر آتا ہے۔ اپنا مقصد پہچانیں اور آگے بڑھ کر اپنا فرض ادا کریں۔ کہ اسی میں انسانیت کی معراج ہے۔ کہ یہی زندگی کا حاصل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
" یہ آسان نہیں۔ یقین مانیں۔ اپنی جان دینا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ میری جان لے لیں، لیکن میری مامتا کا خون نہ کریں۔ یہ ممکن نہیں۔ یہ دستور نہیں۔"
"میں جانتا ہوں یہ آسان نہیں یہ میرے لئے بھی آسان نہیں۔ ۔ ۔ لیکن یہ بھی تو دیکھیں نا خُدا کی راہ میں تو وہی چیز دینا زیب دیتا ہے نا جو اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہو۔ مجھے کمزور نہ کریں صابرہ بیگم، میں نے بہت مشکلوں سے خود کو جوڑا ہے۔ آپ عورت ہیں رو سکتی ہیں۔ میں تو وہ بھی نہیں کر سکتا۔"
"تو مت کریں نا یہ سب۔"
"میں اپنے فرض سے سبکدوش بھی نہیں ہو سکتا۔ اور نہ میں یہ توقع کرتا ہوں کہ راہِ حیات پر میرے ساتھ چلنے والی میری ہمسفر ہمارے مقصدِ حیات میں کمزور پڑ جائے اور پلٹ جائے۔ فیصلے کا وقت آ گیا ہے بیگم۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو آپ سے سب کچھ لے کر بھی آپ کو سب کچھ نواز جائے گا، اور اگر نہ کیا گیا تو سب کچھ پاس رہ کر بھی کچھ نہ ہو گا۔"
"میں جانتی ہوں، سب جانتی ہوں۔ لیکن کیسے اپنے ہاتھوں سے اپنا کلیجہ نوچ لوں؟ کیسے اپنے سامنے اپنے۔ ۔ ۔ ۔"
"صبر کرو صابرہ، ہمت کرو، بے شک اللہ صبر اور ہمت کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔"
"صبر ہی تو کیا آج تک۔"
"تو آج بھی کریں۔ ھاں کر دیں۔"
"نہ کرنے کی استطاعت ہی نہیں۔ جو حُکم ہے اُس پر عمل تو کرنا ہی کرنا ہے۔ لیکن میں مر جاوٴں گی ۔ ۔ ۔ زندہ نہ رہ پاوٴں گی۔"
"یہاں ہر آنے والے نے جانا ہی ہے۔ سب اپنا اپنا وقت پورا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ آپ آرام کریں۔ دو دن ان کے ساتھ جی لیں جتنا جی سکتی ہیں۔ رب ہمیں ہمت و توفیق عطا فرمائے۔"
---------------------------------------------

اور ٹھیک دو دن کے بعد ایک ایسا سورج چڑھا جس نے ایک ماں کی مامتا اور ایک باپ کی شفقت کا امتحان یوں امتحان لیا کہ باپ کو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے جگر گوشوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا پڑا اور ایک ماں کو اپنے ہاتھوں سے اپنا کلیجہ پکا کر کھانا اور سب کو کھلانا پڑا کہ حجِ اکبر پر سب سے فضیلت والا کام جانور کی قربانی کرنا ہوتا ہے۔ اور قُربانی تو ہوتی ہی بہترین چیز کی ہے۔ جس ذی رُوح کو اُنھوں نے جانور کی طرح نہیں بلکہ اُسی طرح پالا جیسے کوئی اپنے بچوں کو پالتا یا چاہتا اُسی وجود کو اپنے رب کی رضا کے آگے قربان کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور بکروں کے اُن بچوں نے بھی اپنے مقصدِ حیات کو پہچان لیا۔ اپنی ماں اور اپنے ان والدین کے جذبے اور ایثار کے آگے قُربان ہونے کے لئے اپنا آپ یوں پیش کیا جیسے کوئی خود کو کسی تاج پوشی کے لئے پیش کر دے۔ ۔ ۔