Afsana 035 عید قربان از دل پسند سیال

یہ افسانہ عید قربان کی مناسبت سے لکھا ہے ۔میں نے جس پہلو پر لکھا ہے امید ہے لوگ اس طرف توجہ دیں گے ۔کیونکہ ڈیپ فریزر نے غریبوں کا حق چھین لیا ہے ۔اور یہ خالی افسانہ نہیں ہے اس میں، میں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے جوکہ اکثر عید قربان پہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

عید قربان
از دل پسند سیال
(بہاولپور، پنجاب، پاکستان)

شہر کا وہ علاقہ جو صرف امیر وکبیر لوگوں کا علاقہ تھا جہاں دیدہ زیب بنگلے تھے خوبصورت ولاز تھے ۔جہاں غربت کا نام و نشان نظر نہیں آتا تھا ۔آج وہاں ہر طرف بکروں کی میں میں کی آوازیں گونج رہی تھیں کسی گھر میں گائے کی آواز سنائی دے رہی ۔ بچے اپنے اپنے بکروں کو خوب سجا سنوارا کر سڑکوں پر ٹہلا رہے تھے ۔ان کے خوبصورت معصوم چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ سڑک کے کنارےبجری کے ڈھیر کے پاس بیٹھا چھ سالہ ندیم حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اس کے لئے یہ سب کچھ بالکل نیا نیا سا تھا۔ وہ حیران تھا کہ ایک ہی دن میں اتنے رنگ برنگے ۔بکرے ،دنبے،گائے کہاں سے آ گئے ہیں اورکون لے آیا ہے ،کس لئے لے آیا ہے۔اس کے چھوٹے سے ذہن میں یہ معصوم سے سوال مچل رہے تھے اور ان سوالوں کا جواب صرف ایک ہستی ہی دے سکتی تھی اور وہ ہستی تھی "ماں" ندیم اپنے سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لئے اٹھ کرگھر کی طرف بھاگا مگر دوقدم بعد ہی ایک چیخ مار کر زمین پر بیٹھ گیا کوئی کنکر اس کے ننگے پاؤں میں چبھ گیا تھا ۔ماں نے اس سےوعدہ کیا تھا کہ اگلے جمعہ کو نئی جوتی خرید کر دے گی مگر جمعہ گزرے دو دن ہوگئے تھے ماں جوتی نہیں لے آئی تھی۔تھوڑی دیر بعد جب درد قابل برداشت ہوا تو وہ لنگڑاتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔اس کا گھر سامنے ہی تھا ۔عالی شان بنگلوں کے بیچ ایک خالی پلاٹ میں ایک ٹوٹی پھوٹی کٹیا اس کا گھر تھا تھوڑی ہی دیر میں وہ کٹیا میں داخل ہوگیا۔کٹیا کے ایک کونے میں زمین پر بچھی ہوئی خشک گھاس پر اس کی ماں لیٹی بخار میں پھنک رہی تھی ایک چھیتڑوں جیسا لحاف اس نے اپنے اوپر اوڑھ رکھا تھا ۔کافی دیر ننگے سر باہر رہنے سے ندیم کو سردی لگ رہی تھی وہ بھاگ کرلحاف میں گھس کر اپنی ماں سے چمٹ گیا۔
" آگیا میرا لال ؛میں صدقے میں واری میرا شہزادہ بیٹا ۔" ماں اسے اپنے ساتھ لپٹا کر اس کا منہ چومنے لگی۔
"میں نے منع کیا تھا نا کہ باہر نہ جاؤ سردی لگ جائے گی اب کیسے کانپ رہے ہو"۔ ماں نے اسے پیار سے ڈانٹا۔
" اماں میں آپ کو ایک بات بتاؤں "۔ندیم گویا انگشاف کرنے لگا۔"اماں پتا ہےباہر بہت سے بکرے آگئے ہیں اور سب بچے ان بکروں کے ساتھ کھیل رہے ہیں"۔
" بیٹا کل عید الضحٰی ہے ،کل ان بکروں کی قربانی کی جائے گی"۔
"اماں یہ عید الضحٰی کیاہوتی؟اور قربانی کیا ہوتی ہے ؟اور ان بکروں کی قربانی کیوں کی جائے گی؟"۔ندیم نے ایک سانس میں ہی تین سوال کرڈالے۔
ماں اسے اپنےمحدود علم کی روشنی میں جواب دینے لگی اور ندیم خاموشی اور دلچسپی سے سننےلگا۔
"بیٹا عید خوشی کے دن کو کہتے ہیں۔اور عید الضحٰی کو بکرا عید بھی کہتے ہیں اور عید قربان بھی کہتے ہیں۔عید کے دن لوگ اللہ کے نام پر جانور قربان کرتے ہیں جس سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے اور یہ قربانی اللہ تعالٰہ کے پیارے پیغبر حضرت ابراہیم علٰیہ وسلام کی سنت ہے"۔
"اماں ہمارا تو کوئی بکرا نہیں ہے ہم کس چیز کی قربانی کریں گے؟"۔ندیم نے ایک اہم سوال پوچھا۔
"بیٹا ! قربانی صرف ان لوگوں پر لازم ہے جو امیر ہوں یا صاحب حیثیت ہوں۔غریب لوگوں پر قربانی لازم نہیں غریب صرف عید کی خوشیاں مناتے ہیں"۔
" اماں یہ کسی عید ہوئی کہ صرف امیر لوگ قربانی کریں اور گوشت کھائیں جبکہ غریب خالی خوشیاں مناتے رہیں"۔ندیم نے حیرت سے پوچھا۔
"بیٹا امیر جو قربانی کرتے ہیں تو ان کے گوشت کے حصے میں غریبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے قربانی کے وقت ہی گوشت غریبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے"۔
"اماں غریبوں کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟"۔ ندیم نے اشتیاق سے پوچھا۔
‘ بیٹا بکرا ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کے تین حصے کئے جاتے ہیں ایک حصہ غریبوں میں تقسیم ہوتا ہے ۔ایک حصہ قریبی عزیزوں رشتے داروں کا ہوتا ہے اور ایک حصہ مالک کا ہوتا ہے"۔
"اماں اس کا مطلب ہے کہ ہمیں بھی گوشت ملے گا ؟"۔
"ہاں بیٹا ضرور ملے گا ۔صبح ساتھ والے خالی پلاٹ میں قربانی ہوگی تم جاکر گوشت لے آنا ۔ماں نے اسے پیار کرتے ہوئے جواب دیا۔
"اماں میں تو صبح بہت سارا گوشت لے آؤں گا اور ہم پیٹ بھر کر گوشت کھائیں گے۔اماں مجھے گوشت بہت پسند ہے ۔ندیم پرجوش انداز میں بولا۔
رات کو جب تک نیند نہیں آئی ندیم کل کے بارے میں سوچتا رہا کہ وہ بہت سا گوشت لے آئے گا اور اس کی اماں پکا کر اسے کھلائے گی۔
اسے یہ یاد نہیں تھا کہ اس نے آخری مرتبہ گوشت کب کھایا تھا ۔ہاں البتہ اسے ذائقہ ابھی تک یاد تھا اب بھی تک اس کی زبان گوشت کا ذائقہ نہیں بھولی تھی۔یہیں سوچتے سوچتے وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
دوسرے دن ناشتے کےبعد ہی ندیم گھر سے نکل پڑا ۔سب لوگ عید کی نماز پڑھنے جارہے تھے۔جبکہ ندیم اس طرف بڑھ گیا جہاں بکرے اور گائے وغیرہ بندھی ہوئیں تھیں۔ندیم ان سے دور بیٹھ گیا اور انہیں دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔
ایک گھنٹے بعد سب لوگ عید نماز پڑھ کر آگئے اور قصائی بھی چھریاں ٹوکے پکڑے آگئے اور باری باری بکرے ذبح ہونے لگے۔ندیم کے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں گوشت مانگنے والے بہت سے بچے مرد وعورتیں جمع ہوگئے ۔ندیم اس طرف بڑھ گیا جہاں ایک بڑی عمر کی خاتوں کرسی پر بیٹھی اپنی نگرانی میں قصائی سے گوشت بنوارہی تھی۔اس کے دو ملازم اس کے ساتھ کھڑے تھے ۔
خاتون بار بار قصائی سے گوشت اچھی طرح اور ٹھیک بنانے کو کہہ رہی تھی۔
قصائی نے اس کے کہنے پر رانیں علٰیحدہ کر کے دیں تو خاتون نے انہیں فورًا نوکر کے ہاتھ میں تھمائی اور اسے گھر رکھ کر آنے کو کہا نوکر فورًا رانیں لے کر اندر چلا گیا ۔ندیم کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آہستہ آہستہ سارے بکرے کا گوشت گھر کے اندر پہنچ گیا ۔وہ حیرانگی سے سوچنے لگا کہ امان نے تو کہا تھا کہ سارے گوشت کے تین حصے ہوں گے جن میں ایک حصہ غریبوں کے لئے ہوگا مگر یہاں تو معاملہ اور تھا ۔آہستہ آہستہ ادھر بھی مانگنے والوں کا جھگمٹا ہوگیا جن میں ندیم چھپ کر رہ گیا۔باقی جو گوشت بچا تھا جن میں زیادہ تر چھیچھڑے اور ہڈیاں تھیں خاتون نے اپنے نوکر سے کہا کہ یہ گوشت ان غریبوں مین بانٹ دے۔نوکر نے جیسے ہی گوشت بانٹنا شروع کیا غریبوں نے ہلا بول دیا کسی نے بڑی بے دردی سے ندیم کا پاؤں کچل دیا اور ندیم پاؤں پکڑ کر زمیں پر بیٹھ گیا درد کے مارے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اپنے درد پر قابو پاتے ہوئے ندیم بڑی مشکل سے کھڑا ہوا گوشت لینے کے لئے آگے بڑھا تو حیران رہ گیا کھیل تو چند منٹوں میں ختم ہوچکا تھا۔لوگ یلغار کرکے سارا گوشت اٹھا کر لے گئے تھے۔ندیم جلدی سے دوسری طرف بھاگا ۔مگر ادھر بھی اسے مایوسی ہوئی غریبوں کے اس جم غفیر میں وہ ننھا سا بچہ گوشت نہیں لے سکتا تھا ۔وہاں سے مایوس ہوکر وہ ایک گھر کے گیٹ کی طرف بڑھ گیا جہاں گھر والے گوشت کار کی ڈکی میں رکھ رہے تھے۔ندیم نے جاکر ان سے گوشت مانگا تو اسے بری طرح دھتکار دیا گیا ۔
بہت سے بنگلوں کی طرف سے دھتکارے جانے کے بعد وہ مایوس اور دلگرفتہ روتا ہوا اپنی جھونپڑی کی طرف بڑھ گیا۔
ماں نے اسے خالی ہاتھ روتے ہوئے جھونپڑی میں داخل ہوتے دیکھ کر تڑپ اٹھی اور بھاگ کر اسے اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا اس وقت وہ اپنی بیمار بھول چکی تھی۔
"کیا ہوا میرے لال کیوں رو رہا ہے ۔کیا کسی نے مارا ہے ۔اور گوشت کہاں ہے ۔کیا کسی نے گوشت چھین لیا ہے تجھ سے۔ماں اس سے سوال پر سوال پوچھتی چلی گئی۔جواب میں اس نے صرف اتنا کہا اماں گوشت نہیں ملا ۔
"کیوں؟"۔
"کسی نے دیا ہی نہیں میں جس بنگلے پر بھی گیا انہوں نے ڈانٹ کر بھگا دیا"۔ندیم نے روتے ہوئے تفصیل بتائی۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے بیٹا ۔اچھا تم روؤ نہیں ۔تم گھر میں بیٹھو میں جاکر لے آتی ہوں
یہ کہہ کر اس نے پھٹا پرانا سا ایک دوپٹہ اوڑھا اور جھونپڑی سے باہر نکل گئی۔
ماں کو گئے کافی دیر ہوگئی تھی ۔اور وہ ابھی تک لوٹ کر نہیں آئی تھی۔ندیم کو بہت سخت بھوک لگ رہی تھی اوپر بنگلوں کے کچن سے گوشت بھوننے کی اشتہا انگیز خوشبو اس کی بھوک کو مہمیز دے رہی تھی۔ جبکہ بنگلوں کے مکینوں کو اپنی ناک کے عین نیچے یہ چحوٹی سی جھونپڑی نظر نہیں آرہی تھی کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ اس جھونپڑی والوں کو گوشت دیا جائے ۔شاید ان کی جھونپڑی پر نظر نہ پڑنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گھر کا گیٹ اس طرف نہیں کھلتا تھا ان کی دیواریں اونچی تھی اور کھڑکیوں پر دبیز پردے پڑے ہوئے تھے۔
ندیم کی ماں کو ندیم سے بھی زیادہ برے سلوک سے واستہ پڑا اسے بھی ہر گھر سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ۔اس بیچاری کو کیا معلوم کہ جب گوشت ڈیپ فریزر میں چلا جائے تو اس کا باہر آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
ہر امیر شخص اپنے بھرے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر سوچتا ہے کہ میری طرح سب کا پیٹ مرغن کھانے کھا کے بھرا ہوا ہے۔
وہ کافی دیر تک بنگلوں کی بیلیں بجاتی رہی اور ناکام ہوتی رہی ۔جب بخار کی وجہ سے اس میں جب طاقت نہ رہی تو اس نے واپس اپنی جھونڑی کی طرف رخ کیا۔
جہاں ندیم اس آس میں بیٹھا تھا کہ اس کی ماں گوشت لائے گی اور اسے پکا کر کھلائے گی۔
وہ سر جھکائے جا رہی تھی۔کہ اچانک سامنے سےایک کتا سڑک سے گزرا اس کے منہ میں گوشت سے بھرا شاپر تھااور اس کا رخ سامنے ایک خالی پلاٹ میں اگی ہوئی جھاڑیوں کی طرف تھا ۔کتےکے منہ میں گوشت کا شاپر دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔اور وہ اپنی بیماری بھول گئی اور کتے کے پیچھے لپکی اس میں اچانک نجانے کہاں سے اتنی طاقت آگئی تھی ۔شاید یہ ایک ماں کی شکتی تھی جس کا بچہ بھوکا تھااور اس کی راہ دیکھ رہا تھا۔
کتا ابھی جھاڑیوں میں بیٹھنے بھی نہیں پایا تھا کہ وہ اس کے سر پر پہنچ گئی۔اور ایک بڑا سا کنکر اسے دے مارا ۔کتا اچانک پڑنے والی اس افتاد پر بوکھلا گیا اور ٹاؤں ٹاؤں کرتا ہوا دور جاکھڑا ہوا ۔جبکہ ماں نے فورًا گوشت سے بھرا شاپر اٹھا لیا۔
کتا بھی سمجھ گیا کہ یہ سب کچھ اس سے گوشت چھینے کی کوشش ہے اس لئے وہ غراتا ہوں اس کی طرف لپکا ۔اور وہ ایک کمزور سی چھڑی سے اپنا دفاع اور کتے کو خود سے دور رکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔کافی دیر تک ایک بھوکے انسان اور بھوکے کتے کے درمیان یہ کشمکش جارہی رہی اور بلآخر بھوکے انسان کے آگے کتے کو ہار ماننی پڑی اور وہ کسی اور جگہ سے اپنا رزق ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔
گوشت کھاتے ہوئے ندیم نےماں سے پوچھا ۔
"ماں عید صرف بنگلوں میں ہی کیوں ہوتی ہے۔یہ سنتے ہی ماں کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے جنہیں وہ اپنے بیٹے سے چھپانے کے لئے منہ دوسرے طرف کرکے آنسو پونچھنے لگی
۔
عید کے دن اداس سے گھر میں
ایک بیوہ غریب روتی ہے
اس کا بچہ یہ پوچھ بیٹھا تھا
عید بنگلوں ہی میں کیوں ہوتی ہے