Afsana 001 خواب یا سراب از وش

خواب یا سراب
از وش

اس چلتی گاڑی سے باہر دنیا کتنی متحرک ہے۔ اپنے محور کے گرد گھومتی زندگی کو میں اس شفاف شیشے سے بخوبی دیکھ سکتا ہوں۔ کبھی منظر میں ایک بھرپور زندگی جینے میں مگن لڑکے اور لڑکیاں آ جاتے ہیں اور کبھی کچھ لڑکھڑاتے ڈگمگاتے، چلنا سیکھتے بچے نظر آتے ہیں۔ کبھی میں بھی اسی دور سے گزرا تھا، جب چلنا سیکھا کرتا تھا۔ بڑا گرایا اس زندگی نے، انہیں بھی گرائے گی، اور پھر گر کر اُٹھنے اور چلنے کے چال چلن سب سکھا دے گی۔ باہر منظر میں ہر طرف زندگی کسی رقاصہ کی طرح محوِ رقص ہے اور دیکھنے والوں کو اپنے قریب بلارہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ یا یہ بس مجھے ہی بُلا رہی ہے؟ شاید اسے بھی احساس ہے کہ ہر گزرتے پل میں میں اس سے دور ہوتا جا رہا ہوں۔
میرے چاروں طرف شور ہی شور ہے لیکن مجھے کیوں صرف دو آوازیں سن رہی ہیں: ایک میری سانوں کا شور اور دوسرا میرے دل کی تیز ہوتی دھڑکنوں کی صدا۔ ۔ ۔ ۔ کیوں یہ دھڑکن اور یہ آوازیں ہر گزرتے پل کے ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہیں؟ کیوں یہ سرد ہوا کے جھونکے بھی میرے پسینے سے شرابور جسم کو سکھا نہیں پا رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
اپنی جس منزل پر پہنچنے کے لیئے میں اتنا عرصہ سرگرداں رہا، اتنی بے تابی اور اذیت جھیلی اُسی منزل کی اور بڑھتے ہوئے کیوں میرا جسم بے جان ہو رہا ہے۔ ۔ ۔؟ کیوں ان قدموں میں منزل کو چھو لینے کی بے چینی نہیں۔ ۔ ۔؟ کیوں میرا ماضی ایک فلم کی طرح میری آنکھوں کے پردے پر رقصاں ہے ۔ ۔ ۔؟ کچھ بھی تو ایسا نہیں میرے ماضی میں جسے یاد کر کے میں ان لمحوں کے کرب کو خود پہ آسان کر سکوں۔
مجھے آج بھی یاد ہے سات سال کی عمر میں اُٹھایا گیا وہ ایک قدم مجھے ان راہوں پہ لے آیا۔ ۔ ۔
صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے دیہات میں رہنے والا میں محمد بشیر، ایک کسان والدین کی اولاد۔ ۔۔ میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں کھانے کو نوالے بھی گِن کے دیئے جاتے تھے ، عید کی عید کپڑے ملتے تھے جو ہمارے لیئے تو نئے ہوتے لیکن کسی اور کے لیئے بوسیدہ ڈھیر۔ ہم نو بہن بھائیوں کے ماں باپ رات دن کھیتوں میں کام کرتے اور ان کی کل آمدنی بس ہمارے کھانے پینے کا سامان ہی کر پاتی۔
میں ان دنوں بمشکل سات یا آٹھ سالوں کا ہوں گا، جب مجھ میں ایک لگن جاگی۔ ۔ ۔
کچھ کرنے کی لگن، جاننے کی لگن، کچھ بننے کی لگن۔
یہ شوق مجھے ہمارے گاؤں سے تعلق رکھنے والے جمیل صاحب کو دیکھ کے ہوا تھا۔ وہ کم سنی کی عمر میں ہی شہر لاہور چلے گئے تھے پڑھنے کے لیئے اور اب پڑھ لکھ کر صاحب لوگ بن چکے تھے۔ جب وہ اپنے اماں ابا سے ملنے گاؤں آتے تو ہر آنکھ انہیں دیکھ لینے کے لیئے بے تاب ہوتی اور ہر لب ان کی تعریف کو مچلا جاتا تھا۔ پورے گاؤں میں ان جیسا مکان بھی کسی اور کا نہ تھا۔
ایک بار وہ جب گاؤں آئے تو اپنے ساتھ ایک بڑا سا ڈبہ اٹھا لائے جس کا نام بعد میں انہوں نے ٹی وی بتایا تھا۔ اُن کے ابا میاں گرمیوں میں شام کے بعد اس ٹی وی کو باہر نکال کے رکھ دیتے اور پورے گاؤں کو اجازت تھی کہ وہ زمین پہ بیٹھ کے اس میں چلنے والی رنگ برنگی تصویروں کو دیکھ سکتا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا سب انہیں دیکھ کے کیسا محسوس کرتے تھے لیکن میری بے تابی بڑھتی جاتی تھی۔ کچھ بننے کا شوق کچھ کرنے کی لگن کسی منہ زور سمندر کی طرح مجھ میں اُٹھا تھا۔
انہیں دنوں اس ٹی وی پہ ایک اشتہار آیا
"پڑھا لکھا پنجاب خوشحال پاکستان**"۔
اس ایک فقرے نے میری راہوں کا تعین کر دیا۔ میری آنکھوں میں ایک خواب جاگا۔ ۔ ۔ میں تہیہ کر چکا تھا اب مجھے کیا کرنا ہے۔ میرے خواب میری منزل میرے سامنے تھی۔ ۔ ۔ اور اسی رات میں اپنی ماں کی جمع پُونجی میں سے کچھ رقم جو کہ صرف سفر میں درکار تھی، لے کر اپنی منزل کی اور بڑھ گیا۔ آدھی رات کو میں لاہور جانے والی گاڑی پر چڑھا اور کسی نہ کسی طرح لاہور لاری اڈے پہ اتر گیا۔ ۔ ۔

لاہور۔ ۔ ۔ خوابوں کا شہر۔ ۔ ۔ لیکن اُس وقت ایک ہولناک تعبیر کی صورت میں میرے سامنے کھڑا تھا۔ وہ لوگ، وہ منظر وہ فضا ئیں ، سب کتنا اجنبی تھا، میری آنکھیں کسی شناسا کسی مددگار کی متلاشی تھیں لیکن اس تلاش کا کچھ حاصل نہ نکلا۔ ۔۔
ایک دم میری آنکھیں بھیگنے لگیں، پھر مجھے احساس ہوا میں رو رہا ہوں، کیوں۔ ۔ ۔ کس وجہ سے۔ ۔۔ ۔ یہ نہیں جانتا تھا، شاید قدرت مجھے میرے ہونے والے انجام پر رُلا رہی تھی۔ میں نے بہت پوچھا، بہت ڈھونڈا اپنی جنت کا پتہ، وہ اسکول جس میں مُفت تعلیم دی جائے، جس کی تلاش میں میں یہاں تک بے سروسامانی کی کیفیت میں چل نکلا تھا۔ مجھے راہیں تو مل گئیں تھیں لیکن میری منزل کھو گئی تھی۔ میں سارا دن ایسے ہی مارا مارا پھرتا رہا، روتا رہا، لیکن کوئی نہ آیا۔ ۔۔ ۔
شام کو ایک فُٹ پاتھ پہ تھک کے بیٹھا اور وہیں سو گیا۔ ۔۔ ۔ تب شاید قدرت کو مجھ پہ رحم آ گیا تھا یا پھر فرشتے کے روپ میں کوئی بھیڑیا تھا؟ اس کا تعین میں آج تک نہیں کر پایا۔
مجھے نیند سے ایک مشفق آواز نے جگایا
“اُٹھو بیٹا! یہاں کیوں سو رہے ہو؟ گھر کیوں نہیں جاتے؟“
“جی میں گھر سے بھاگ کے آیا ہوں یہاں پڑھنے کے لیئے۔“ میں نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
“ تم کیا پڑھنے آئے ہو بیٹے۔ ۔ ۔ اور کہاں سے پڑھنا ہے۔ ۔ ۔ ؟ ۔
“ پتہ نہیں جی میں نے ٹی وی پر اشتہار دیکھا تھا اور بس آ گیا۔“ میرا اعتماد ان کے شفیق اور اپنائیت سے بھرپور لہجے کی وجہ سے تھوڑا تھوڑا بحال ہو رہا تھا۔
اس کے بعد ان دونوں حضرات میں کیا بات چیت ہوئی مجھے کوئی اندازہ نہیں لیکن اس کے بعد مجھے ان کے ساتھ چلنے کی نوید سنائی گئی اور میں بخوشی ان کے ساتھ ہو گیا،اور مجھے لگا میرا خواب تعبیر پانے والا ہے۔
اُس کے بعد سے جیسے زندگی ہی پلٹ گئی، کتنی نئی تھی یہ دنیا میرے لیئے، کھانے کی بہتات، پہننے کو اچھا لباس، سونے کے لیئے آرام دہ بستر۔ دو دن بعد ہی مجھے کسی اور جگہ پہنچا دیا گیا، جہاں میرے جیسے اور بھی کئی بچے تھے۔ کچھ تو ان میں سے خود میں مگن تھے، کئی بے فکری سے کھیلتے کودتے اور کچھ اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیئے افسردہ۔ مجھے وہاں جا کے ایک عجیب سی خوشی اور سکون ملا، زندگی کی وہ تمام آسائشیں جن سے میں محروم رہا یہاں مجھے ملیں۔
کچھ عرصے تک تو تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی البتہ کچھ کام کاج سکھائے گئے۔ اُس کے بعد تعلیم کا مرحلہ بھی آیا، لیکن ہمیں بس مذہبی تعلیم ہی دی جاتی۔ قاعدہ پڑھایا گیا، حروف سکھائے گئے، پھر الفاظ سے ہوتے ہوئے آیات اور پھر بالآخر سپارہ ختم ہوا، نماز پڑھنا سکھائی گئی، ارکان سکھائے گئے اور سب پر سختی سے عمل کروایا گیا، لیکن کبھی ان پڑھائے جانے والے الفاظ کا ترجمہ یا مفہوم نہیں بتایا گیا، سوچوں کی اُڑان پر پہرے تھے۔ ۔۔۔ پھر جب مزید چند سال گزرے تو جہاد، نیکی کو پھیلانے اور بدی کو روکنے پر چند کتابیں پڑھائی گئیں۔ تعلیم کے معاملے میں طلباء بے اختیار تھے، انہیں وہی پڑھنا ہوتا جو اُستاد صاحب پڑھاتے، نہ ہم کتاب کا تعین کر سکتے تھے نہ ان کی بتائی ہوئی کسی بات پر اختلاف یا سوال۔ اور استاد کی نافرمانی کو ایک گناہِ عظیم بتا کر ہماری روح تک میں جذب کرا دیا گیا۔ استاد جی کہتے دن ہے تو دن، رات ہے تو رات۔ کسی کو اس پہ شک کرنے کی بھی اجازت نہ تھی۔
وقت گزرتا گیا، عمر بڑھتی گئی اور زندگی اپنے رنگ کھوتی گئی۔ ۔ ۔ اس عرصے میں ہمیں آنکھیں بند کرا کے ایک گمنام سفر طے کروایا گیا، اور جب آنکھیں کُھلیں تو بے فکری اور اطمینان کی جگہ ایک انجانی سی کسک نے لے لی۔ زندگی کی روشنیاں آنکھوں میں چُبھنے لگ گئیں۔ مجھے پتہ بھی نا چلا یہ سب کب سے اور کیسے ہوا۔ ۔ ۔ ؟ لیکن اپنی نوجوانی تک پہنچتے پہنچتے ہر چیز اپنی کشش کھو چکی تھی۔ آنکھیں بس ملک میں ہونے والے فسادات دیکھتیں، کان مظلوم عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار سُنتے اور دل میں ایک نفرت اور غصہ بھرا تھا، بھرا تھا یا بھر دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ میں وثوق سے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن بس جی چاہتا تھا کچھ ہو جائے اور ہر طرف ایک سکون چھا جائے اور سب ٹھیک ہو جائے۔
پھر اُنہی دنوں، مجھے میرے ایک استاد کے ساتھ ایک سفر کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہ سفر تھا۔۔ ۔ ۔ جنت تک کا سفر ۔ ۔ ۔

جنت۔ ۔ ۔ ۔ جس کا تصور سالوں سے گھوٹ گھوٹ کر ہمیں پلایا گیا تھا، جو اب شاید ہمارے خون میں رچ بس گیا تھا۔ وہی جنت ان آنکھوں کے سامنے جلوہ گر تھی۔
کیسا سکون تھا، کیسا ٹھہراؤ تھا وہاں کی فضاؤں میں، ٹھنڈی زمین پر قدم رکھتے ہی روح تک ایک سکون سرائیت کر گیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ زندگی کے اس جلتے تپتے صحرا میں ماں کے آنچل نے چھاؤں اور مامتا کی ٹھنڈی آغوش میسر آگئی ہو۔ وہاں میں نے عُمرہ کیا، نفل ادا کیئے اور پھر واپس اپنی اس بے رنگ دنیا میں آ گیا، لیکن پھر اس بے رنگ زندگی میں رنگ بھرے گئے، مجھے جو جنت دکھا کے چھپا لی گئی، اسے پا لینے کی خواہش آہستہ آہستہ جنون کی کیفیت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ حقیقی جنت کا تصور تو اس بھی کہیں بڑھ کے تھا۔
کچھ دن مجھے میری ان سوچوں کے ساتھ اکیلا چھوڑا گیا لیکن اس کے بعد، میری اس پیاس کو مزید بڑھا دیا گیا۔۔ ۔ ۔
روحانیت کیا ہوتی ہے؟ بدی کو مٹانے کے علاوہ مذہب اور کیا کہتا ہے؟ خدا اور اس کی ذات کیا ہوتی ہے؟ اس کے بارے میں ہمیں کبھی آگاہی نہیں دی گئی اور نہ ہی سوال کرنے کی اجازت۔ ہمیں فقط اتنا درس دیا گیا کہ کس طرح شیطان کے کارندوں نے اس زمین پر فساد برپا کیا ہوا ہے، اور ان کارندوں کو مٹانا ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے، اور اس کے لیئے جان جائے تو یہ ایک سعادت ہے، ایک شہادت ہے۔ اور اس کا موقع اللہ پاک اپنے خاص بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔
مجھے اپنے ایک مسلسل اضطراب کی وجہ سمجھ میں آ گئی، کہ کیوں میرے دن عذاب اور راتیں بے خواب ہیں، میری جاگتی آنکھوں میں ایک خواب بس گیا، اس سعادت کو حاصل کرنے کا۔
پھر یہ زندگی مجھے ایک خار دار ڈال کی طرح لگنے لگی، جسے ہم انسان اپنے دونوں ہاتھوں میں بھینچے رکھتے ہیں اور وقت سرکتے ہوئے اس ڈال کو لمحہ لمحہ ہمارے ہاتھوں سے کھینچتا ہے۔ بدلے میں صرف گھاؤ ملتا ہے، ہاتھ لہو لہان ہو جاتے ہیں لیکن وہ ڈال چھوڑنے پر ہاتھ راضی نہیں ہوتے۔ لیکن میں اب اس ڈال کی تکلیف دہ پکڑ سے تنگ آ چکا تھا۔ میری منزل تو میرا وہ خواب میری جنت تھی، جس کا جلوہ میں کچھ دن پہلے ان آنکھوں سے دیکھ کے آیا تھا۔
پھر یوں ہوا، کچھ دن بعد میرا وہ خواب تعبیر لیئے میرے سامنے تھا۔ وہ جسے پانے کے لیئے میں میں تدبیریں کیا کرتا تھا ، وہ مجھے بنا کچھ کیئے ہی مل گئی، بنا مانگے ہی۔
ایک بار پھر میرا خواب حقیقت کا لبادہ اوڑھے میرے سامنے تھا۔

پھر وہ صبح طلوع ہوئی، جس دن مجھے میری تعبیر ملنی تھی۔ کچھ بھی تو نہیں کرنا تھا مجھے، صبح صبح نہا دھو کے نفل ادا کیئے، سب نے مشترکہ طور پر اپنے رب کے ہاں اس دی جانے والی قربانی کی قبولیت کی دعا مانگی، پھر سب نے مجھے اور میرے دو ساتھیوں کو شہادت کی مبارکباد دینی شروع کر دی، اور اب میں اس گاڑی میں بیٹھا اپنے ماضی کے اوراق اُلٹ رہا ہوں۔
آج مجھے اس بے چینی، اس تکلیف سے نجات مل جائے گی، چند گھنٹے۔ ۔ ۔۔ صرف چند گھنٹے اور، پھر بس میں ہوں گا اور ایک دائمی سکون اور عشرت۔ جہاں کہیں ان آنکھوں کو یہ خون خرابا نہیں دیکھنا پڑے گا، کہیں مظلوم عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار نہیں ہو گی، ہو گا تو بس آرام ہی آرام اور سکون ہی سکون۔
میں کب سے خود کو یہی سمجھا رہا ہوں لیکن مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ میرے لفظ کھوکھلے اور یہ بہلاوے جھوٹے ہیں۔ آج کیوں وہ سب استاد جن پر آنکھ بند کے اعتبار کرتا تھا وہ سب جھوٹے اور مکار لگ رہے ہیں۔ کیوں میرا تنفس اتنا تیز ہے کہ اس کے شور میں کئی سالوں حاصل کیئے جانے والے سبق کی آوازیں ماند پڑ رہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ کیوں دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ابھی سینے سے باہر نکل کر میرا گریبان پکڑ لے گا ۔ ۔۔ ۔ زندگی کی اس خاردار ڈال پہ چھوٹتے سمے ایک نرم و نازک گلاب کا گماں کیوں ہو رہا ہے، جسے ہمیشہ تھامے رکھنے کو دل چاہے۔۔ ۔ ۔ میرا خواب میری منزل سب مدھم کیوں ہو گئے۔ ۔۔ ۔ اب ان آنکھوں سے وہ تمام کرب ناک منظر ہٹ گئے ہیں اور ایک بچے کی معصوم سی مسکان ہی بھلی لگنے لگ گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیا میں بھی بد ہو گیا ہوں۔ ۔ ۔ ۔؟ کیا برائی کے اس کارندے نے مجھے بھی محصور کر لیا ہے۔ ۔ ۔ ؟ جو مجھے چند منٹوں میں ملنے والی شہادت معتبر محسوس نہیں ہو رہی۔ ۔۔ ۔ کیا میں ڈر رہا ہوں یا میرا عمل ہی باعثِ اطمینان نہیں۔ ۔ ۔ ۔؟
گاڑی ایک چرچراہٹ کی آواز سے رُک گئی ہے اور میرے باقی دو ساتھی ایک سرعت سے نیچے اترے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں کیوں پتھر ہو رہا ہوں۔ ۔ ۔ یا میں مرنے سے پہلے ہی مر گیا۔۔ ۔ ۔ یہ گولیوں کی آواز کسی صُور کی مانند لگ رہی ہیں، لیکن صُور تو ابھی پھونکا جائے گا، وہ صُور جو اس وقت میرے بدن پر بندھا ہے۔ میں تو بخوشی راضی ہوا تھا اب کیوں میرا کلیجہ دہل رہا ہے۔ ۔ ۔۔ گاڑی عمارت کے اندرونی حصے میں داخل ہوئی ہے، اور وقت تھم گیا۔ ۔ ۔ میں سمجھ نہیں پا رہا اپنے دل کی آواز اپنی سانسوں کا بین اور یہ کیسی آواز اُبھر رہی ہے میرے کانوں کے نزدیک۔ ۔۔ یہ تو میرا ہی ساتھی ہے، کیا کہہ رہا ہے یہ۔ ۔ ۔ ۔؟ 7۔ ۔ ۔ 6۔ ۔ ۔ 5۔ ۔ ۔ سب ختم ہونے میں فقط کچھ پل، میری زندگی کا حاصل ایسی موت۔ ۔ ۔ جہنم سے پہلے جہنم کی آگ۔ ۔ ۔4۔ ۔ ۔ 3۔ ۔ ۔ اور اب سب ختم ہو جائے گا، میرا خواب، میری جنت کیا فقط ایک سراب تھا۔ ۔ ۔۔ ؟ اور میرا ایسا وقتِ آخر۔ ۔ ۔ ؟ یا اللہ۔ ۔ ۔ 2۔ ۔۔ ۔ ۔1۔ ۔ ۔ ۔0000 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
.
.
.
.
.
.
سب ختم ہو گیا، یہ دنیا، بدی، برائی کے کارندے اور کئی بے گناہ بھی شاید ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ان میں کوئی نے گناہ بھی ہو سکتا ہے۔ ۔۔ ۔ یہ سب میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا۔ ۔ ۔ کیا اسی لیئے میری روح بے چین ہے، ابھی تک تاریکیوں میں گم ہے۔ ۔ ۔ وہ روشنیاں کہاں گئیں جو ایسی شہادت کے بعد میرا استقبال کرنے آنے والی تھیں۔ ۔ ۔
کیا چند لمحوں پہلے جب میں حیات تھا تو وہ اضطراب اسی لیے تھا کہ میں بدی کے خلاف جنگ پر نہیں بلکہ معصوم، نہتّے اور آنے والی موت سے بے خبر لوگوں کے لیئے ایک سانحہ بن کر آ رہا تھا۔ ۔ ۔۔ کیا میرا دل مجھے روک رہا تھا۔ ۔ ۔۔ ؟ اور وہ سانسوں کا شور مجھے میرے غلط ہونے کی دُہائی دے رہے تھے۔ ۔ ۔؟ کیا ان سب کا خون میری گردن پر ہے۔ ۔ ۔ ؟
اس سب میں میں کتنا قصوروار ہوں۔ ۔ ۔ زندگی کو میرے سامنے اسی طرض سے رکھا گیا تھا، اور سالوں مجھے اسی کام کے لیئے تیار کیا گیا تھا، شعور اور آگاہی کے دروازوں کو مجھ پر بند کر دیا تھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ میری آنکھوں کو فقط ایک خواب دیا گیا تھا جنت کا حصول اور اس خواب کی منزل یہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب کیا تھا۔ ۔ ۔۔؟ اب کیوں میری روح بھٹک رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ میرا خود ساختہ عمل تھا، اور میں سزا کا حقدار ہوں۔ ۔ ۔ ۔ میں کم علم تھا یا بنا دیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ کون دے گا مجھے ان سوالوں کے جواب۔ ۔ ۔ ۔ کون؟

(پچھلے دنوں پی ٹی وی پہ ایک کمرشل آتی تھی "پڑھا لکھا پنجاب خوشحال پاکستان" اور اس میں یہ بتایا جاتا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں مڈل تک تعلیم مُفت ہے۔)