Afsana 002 کوما ( Coma) از آمنہ احمد

کچھ پس منظر اس کہانی کے لکھنے کے بارے میں۔ آج سے پانچ سال پہلے میرے ایک انگلش کے پروفیسر نے کلاس کے آخر میں کہا کہ دنیا میں صرف ایک اصل کہانی ہے اور باقی سب اسکی ورژنز ہیں۔ ساتھ میں پروفیسر نے کہا کہ آپ اس بات کو فیری ٹیلز کے تناظر میں دیکھیں اور ہم اگلی کلاس میں اس پر بات کریں گے۔ جب میں نے اس پر سوچا تو یہ سچ لگا بلکہ ادراک ہوا کہ اصل میں ہر کہانی کی بنیاد ہی حضرت آدم اور حضرت حوا سے لی گئی ہے اور ہیر رانجھا جیسے مشہور قصے بھی آسمانی صحیفوں سے انسپاریشن ہیں، یعنی اصل صرف ایک ہے باقی سب نقل۔ خیراگلی کلاس میں پروفیسر نے ڈسکشن کے بعد کہا کہ اب آپ فیری ٹیلز کو سامنے رکھ کر اسکی ماڈرن ورژن لکھیں۔ تو یہ کہانی میں نے اس تناظر میں لکھی تھی ۔یہ اس کہانی کا اردو ترجمہ ہے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ انسپاریشن اشفاق احمد کا ڈرامہ "سنڈریلا اور سکینہ" تھا۔

بنیادی طور پر میرا تعلق ملتان سے ہے مگر تعلیم کوئٹہ، سکھر، ملتان، اور پھر کیلیفورنیا سے حاصل کی۔ زندگی کا ایک لمبا حصہ ملتان میں گزرا، مگر اب پچھلے نو سالوں سے امریکہ میں رہائش پذیر ہوں۔
آمنہ احمد

کوما ( Coma)

از آمنہ احمد
ہسپتال کے بستر پر لیٹی بظاہر وہ سوتی نظر آ رہی ہے مگر وہ سب آوازیں سن رہی ہے اور اپنی نیم وا آنکھوں سے کمرے کا کچھ حصہ دیکھ بھی رہی ہے۔ اب سے کچھ دیر پہلے ڈاکٹر اسکے شوہر سے تفصیلی بات چیت کر کے گیا ہے جو کے کمرے سے باہر ہوئی۔ مگر کچھ حصہ اس نے بھی سن لیا کیونکہ نرس کمرے سے جاتے ہوئےدروازہ پوری طرح بند کرنا بھول گئی ہے۔

ڈاکٹر اسکے شوہر کو بتا رہا ہےکہ ایسے مریض کبھی کبھی دیکھ اور سن سکتے ہیں مگر نا تو ہل سکتے ہیں نا ہی بول۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کا اسکے شوہر کو مشورہ تھا کہ وہ جس قدر ہو سکے اپنی بیوی کا خیال رکھے، ذیادہ سے ذیادہ وقت اسکے ساتھ گزارنے کی کوشش کرے، اور اسے اس بات کا یقین دلاتا رہے کہ وہ اسکے لئے بہت اہم ہے۔

آج اسکا شوہر ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے دو گھنٹے اسکا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا رہا ہے۔ اور وہ ہنس رہی ہےکہ دیکھا کیسا قابو کیا ہے۔ اسے تو ایک پل آرام سے بیٹھنے کی عادت نہیں ہے۔ ہر وقت کچھ نا کچھ نیا ہوتے رہنا چاہئے ۔ یہ جو وہ ہسپتال کے بستر پر ہے، یہ بھی تو اسکے شوہر کے ایک ایڈونچرکا نتیجہ ہے۔ وہ اسے کہنا چاہتی ہےکہ وہ بہت مزے میں ہے اوراسے گھر جا کر آرام کرنا چاہئےمگر آواز سوچ کا ساتھ نہیں دے رہی ہے اور ہونٹوں تک آتے آتے گم ہو جاتی ہے۔ وہ اسکا ہاتھ دبا کر اسے اپنے ہونے کا یقین دلانا چاہتی ہے مگرلمس میں حدت نہیں۔ پھر وہ اسکے ساکت وجود اورنیم وا آنکھوں کودیکھتے دیکھتے تھک کر خود ہی اٹھ گیا یہ کہہ کر کے وہ کچھ دیر میں آتا ہے۔

شام رات میں ڈھل رہی ہے۔ مہمانوں کے اوقات ختم ہونے کے بعد اب ہسپتال کے کاریڈور سنسان ہو چلے ہیں۔ سارے دن کی گھما گہمی کے بعد نرسز اور ڈاکٹرز بھی اب کچھ سکون سے ہیں۔ اسے بھی یہ خاموشی اچھی لگ رہی ہے ۔ اب تو وہ ان مشینوں کی آواز کی بھی عادی ہو گئی ہے۔ گھر میں بھی جب وہ جاب پر چلا جاتا تھا تو وہ کافی کا مگ لیکر، ٹی وی بند کر کے لاؤنج کی کھڑکی میں آکر بیٹھ جاتی تھی اور خاموشی سے لان کے سبزے کو تکا کرتی تھی۔

اب بھی وہ یہی کر رہی ہے۔نرس کھڑکی کے پردے برابر کرنا بھول گئی ہے، مگراسکا خیال ہے کہ وہ اسکے شوہر کی ہدایات کے نتیجے میں کھڑکی کے پردے برابر کیے بغیر چلی گئی ہے۔ "اسے میرا کتنا خیال ہے" اس نے سوچا۔ اور اب وہ کھڑکی پر جھکے درخت اور آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں کو دیکھتے ہوئے اس دن کے بارے میں سوچ رہی ہے جب سال پہلے وہ ایک دوسرے سے پہلی بار ملے تھے۔ وہ مسکرانے لگی مگر اسکے ہونٹ کسی بھی تاثر سے عاری ہیںجسکا احساس اسے نہیں ہے۔ وہ بہت کچھ یاد کرتی اور سوچتی رہی، یہاں تک کے اسے اپنے ایکسیڈنٹ کا دن یاد آگیا۔ اس دن بھی اس نے جلدی جلدی تیار ہونے کا شور مچایا ہوا تھا۔ پھر وہ ڈرائیونگ بھی ریش کر رہا تھا ہمیشہ کی طرح اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسنے جہرجھری لی –اسکے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ اسے اسکا بھی احساس نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہسپتال سے نکل کر پیدل چلنے لگا۔ مہینہ پہلے یہ سب کچھ ایسا نا تھااور وہ دونوں بہت خوش تھے۔" وہ اسکی ہر بات ماننے والی آئیڈیل بیوی تھی"، " نہیں ، ہے"، اسنےگھبرا کر اپنی تصحیح کی۔ اس پر قنوطیت طاری ہونے لگی۔ چلتے چلتے وہ کافی دور نکل آیا اور اسے احساس بھی نا ہوا۔ وہ حیران ہو گیا۔ یہ تو ٹیوب سٹیشن کا وہی ایگزٹ ہے جہاں اسنے پہلی بار اسے دیکھا تھا۔ وہ بہت تیزی میں تھی۔ وہ بھی آفس سے گھر جا رہا تھا اور یہ ٹرین مس نہیں کرنا چاہتا تھا۔ سیڑھیاں اتر کر سامنے ہی ٹرین کھڑی تھی۔ وہ تیزی سے کھلے دروازے سے کوچ کے اندرداخل ہوئی اور اسنے دیکھا کہ اس تیزی میں اسکا چمکیلا سلور اور گلاس کا بنا سلیپر پلیٹفارم پر رہ گیا۔

اسکی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ "سنڈریلا" اس نے زیرلب کہا اور بڑھ کر سلیپر اٹھا لیا تھا۔ وہ ٹرین کے بند ہوتے دروازے سے بمشکل دوسری کوچ میں چڑھ سکا۔ اسکے بعد آخری سٹیشن تھا۔ وہ اطمینان سے بیٹھ گیا سٹیشن کے انتظار میں۔ سٹیشن پر اسے ڈھونڈنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ ظاہر ہے وہ واحد لڑکی تھی جسکے پاؤں میں ایک سلیپر نہیں تھا۔ یہ انکی پہلی ملاقات تھی۔ چھ ماہ بعد انہوں نے شادی کر لی اور اس ایکسیڈنٹ تک وہ ایک مثالی زندگی گزار رہے تھے۔ "آہ! ہر فیری ٹیل کا انجام اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے نہیں ہوتا"۔ اس نے دکھ سے سوچا۔

وہ آتےجاتے لوگوں اور ٹرینوں کوبے مقصد دیکھتا رہا۔ ایک دم وہ چونک گیا۔ وہ بہت تیزی میں تھی ٹرین پر سوار ہونے کیلئے۔ اور اس تیزی میں اس کے ہاتھ سے ایک شاپنگ بیگ گر گیا۔ اس نے لاشعوری طور پر وہ بیگ اٹھا لیا اور پچھلی کوچ میں چڑھ گیا۔ بیگ کھول کر دیکھا تو اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئ۔ "اس بار گلاس اور سلور جوتوں کا جوڑا ہے"۔ وہ اس بار بھی اطمینان سے بیٹھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ڈاکٹر نے اسے پھر کہا تھا کہ فیصلہ اسکے ہاتھ میں ہے۔ چاہے تو وہ لائف سپورٹ ہٹا دے، چاہے تو رہنے دے، ویسے کچھ مریض اس سے لمبے عرصے بعد بھی کومے سے باہر نکل آتے ہیں۔ آج سے پہلے وہ ڈاکٹر کی رائے سے اختلاف کرتا آیا تھا۔ "اب اور نہیں" وہ دل میں مسکرایا۔ اس نے ڈاکٹر سے اجازت مانگی کہ وہ یہ کام خود کرنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر نے سر ہلا دیا۔ فاسٹر ہوم میں پلنے والی لڑکی کا تو باپ کیا سوتیلی ماں بھی نہیں۔ وہ ہنسا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آج بہت بیچین ہے۔ وہ بہت دنوں سے آیا نہیں ، مگر آج اسے یقین ہے کہ وہ ضرور آئے گا، اور وہ آگیا۔ اسکے ہاتھ میں سرخ گلابوں کا بوکےہے، اس نے اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ حیران ہوئی، وہ تو سفید گلاب پسند کرتی ہے۔ ایک دفعہ جب وہ سرخ گلاب لایا تو اس نے ناراض ہو کر کہا تھا " میرے مرنے پر سرخ گلاب لانا"۔ "آج کیوں" اسکی آنکھیں پھیل گئی، جو اُس نے بھی دیکھیں۔اسنے اسکو غور سے دیکھتے ہوئے گلاب اسکے سینے پر رکھ دیے۔

"تو کیا وہ ناامید ہو گیا"۔ اس نے گھبرا کر سوچا۔" نہیں اتنی جلدی نہیں، دیکھو میری آنکھوں کی طرف، دیکھو میری انگلیاں ان گلابوں کو محسوس کر رہی ہیں"۔ اس نے اپنی پوری طاقت صرف کرکےبولنے کی کوشش کی۔" دیکھو پہلے میں تمھاری سنڈریلا تھی، اب میں سلیپنگ بیوٹی ہوں۔ تم میرے ماتھے پے بوسہ تو دو، میں جی اٹھوں گی۔ دیکھو تو، تم میری آنکھوں میں دیکھو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ آکسیجن ٹیوب کی طرف بڑھتے اسکے ہاتھ کو روکنا چاہ رہی ہےمگر روک نا پائی۔

وہ اپنی آنکھوں کے بھیگے ہوئے گوشے محسوس کر رہی ہے۔

وہ اس پر جھکا اور سرگوشی میں بولا"تم پہلے میری سنڈریلا تھی، اب سلیپنگ بیوٹی ہو۔ الوداع میری سلیپنگ بیوٹی الوداع میری سنڈریلا۔ میں تمھارے ماتھے پے بوسہ نہیں دوں گا کیونکہ مجھے تمھیں جگانا نہیں ہے"۔ وہ ہلکے سے ہنسا۔ اس نے آہستہ سے آکسیجن کی نالی نکال دی۔

ایک نئی سنڈریلا اسکی منتظر تھی۔