Afsana 038 محبت آخرش ہے کیا؟ از حرا قریشی

محبت آخرش ہے کیا؟
از حرا قریشی

"تمہیں آخر اعتراض کیا ہے نور؟ اور کتنی منتیں کرواؤگی۔ بھائی تو بھائی، امی بھی تم پر فدا ہوگئی ہیں۔ بس تم گھر میں بات کرو یا اگر خود نہیں کرنی تو نمبر دے دو امی خود بات کرلیں گی۔" جویریہ نے نور کے مسلسل ٹالنے پر چڑتے ہوئے کہا۔

"اور تم مجھے کتنا پریشان کرو گی، کس کا نمبر دوں تمہیں؟ امی ابو کا پہلے بھی بتاچکی ہوں میرے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ باقی کسی اور کا میں ابھی دینا نہیں چاہتی۔ مجھے ابھی شادی ہی نہیں کرنی تو پھر اس سب کا فائدہ" نور نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی جو مسلسل ایک مہینے سے اس کے پیچھے لگی تھی۔ جب سے اس نے جویریہ کے بے حد اسرار پر اس کی انگیجمنٹ اٹینڈ کی تھی تب سے اس کے گھر والے پیچھے پڑگئے تھے۔ نور کو رہ رہ کر اپنے اوپر غصہ بھی آرہا تھا کہ ضرورت ہی کیا تھی جانے کی۔ نور ہمیشہ ہی سب سے بہت زیادہ ریزروڈ رہتی تھی۔ مگر جویریہ میں زبردستی دوستی کرلینے کی ساری کوالیٹیز موجود تھیں۔ اس نے نہ صرف نور سے دوستی کی تھی، بلکہ اسے اپنی انگیجمنٹ کے فنکشن میں آنے پر مجبور بھی کردیا تھا۔ نور بھی جویریہ ہرٹ نہ ہو اس ڈر سے چلی گئی تھی۔ مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا ایسا نتیجہ بھی نکل سکتا ہے۔

"ٹھیک ہے، نہ دو نمبر۔ مگر یہ تو بتادو کیا تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو؟" جویریہ نے مایوسی سے کہا۔

" جویریہ ہم کسی اور ٹوپک پر بات نہیں کرسکتے؟ کتنی دفعہ یقین دلاؤں کے ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ میں بس ابھی ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتی۔ مجھے بہت پڑھنا ہے۔ اس لیے پلیز اب دوبارہ یہ ذکر نہیں کرنا۔ میں تو اسی بات پر پچھتارہی ہوں کہ تمہاری انگیجمنٹ میں جانے پر راضی ہی کیوں ہوئی تھی۔" نور بھی بار بار اسی ذکر پر چڑی بیٹھی تھی۔

"اچھا ٹھیک ہے۔ مگر ایک بات تم بھی کان کھول کر سن لو۔ تم صرف میری بھابھی بنو گی۔ طہ بھائی تک میں نے تمہاری "شادی نہیں کرنی" کی رٹ پہنچادی تھی، مگر انہوں نے کہا ہے کہ وہ شادی کریں گے تو صرف نور سے اور وہ تمہارا ساری زندگی انتظار کرسکتے ہیں۔" جویریہ پرجوشی سے بتانے لگی تھی۔

"اللہ کا واسطہ ہے جویریہ یہ فلمی ڈائلاگز تو مت جھاڑو۔" نور نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے تھے۔

"تمہیں ہماری محبت اور خلوص فلمی ڈائلاگ ہی لگ سکتے ہیں۔ اتنی خوش قسمت ہو نور ورنہ آج کل کون اتنا خوار ہوتا ہے۔" جویریہ نے برا مناتے ہوئے کہا تو نور نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دینا ہی بہتر سمجھا۔

"ہاں، واقعی بہت خوش قسمت ہوں۔" اس نے دل میں سوچا تھا مگر کہا کچھ نہیں۔

* - - - * - - - *

"آؤ ہم ڈراپ کردیں گے۔" وہ دونوں کالج سے باہر نکلیں تو گرمی کی شدت کو دیکھتے ہوئے جویریہ نے اوفر کی۔

"نہیں، بس آتی ہوگی۔ تم جاؤ۔" نور نے ہمیشہ کی طرح فوراً منع کردیا تھا۔ اور ویسے بھی جویریہ آج پھر وہی ضد لے کر بیٹھ گئی تھی۔ اتنی دفعہ منع کرنے کے باوجود جویریہ کی ایک ہی ضد تھی کہ اپنے گھر والوں سے ملواؤ۔ اس لیے نور نے صاف منع کردیا۔

"نور! اگر ہمارا یہ "احسان" لے لو گی تو تمہاری شان میں کوئی کمی نہیں آجائے گی۔ اور طہ بھائی بھی ہیں۔ آجاؤ نا۔ اسی بہانے تمہارا گھر بھی دیکھ لیں گے۔" جویریہ نے مسکراتے ہوئے بھائی بھی ہیں پر زور دیا۔ "دیکھو منع مت کرنا چلو آؤ۔" اسے سوچ میں غرق دیکھ کر جویریہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ نور نے بھی کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے اس کے ساتھ قدم بڑھا دیے تھے۔

پورے راستے دونوں بہن بھائی خوب چہکتے رہے۔ جویریہ بار بار اسے بھی اپنی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش کرتی رہی مگر اس نے مسکرانے کے علاوہ ان کی باتوں میں زیادہ حصہ نہیں لیا۔

"اچھا بھئی اب ذرا راستہ بتائیں گی؟" طہ نے بیک ویو مرر میں نور کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ راستہ سمجھانے لگی۔ چند موڑ مڑ کر اس نے گاڑی روکنے کا کہہ دیا تو جویریہ اور طہ نے جو اب تک اسے چھیڑنے میں مصروف تھے چونک کر پہلے اس بلڈنگ کی طرف دیکھا جہاں اس نے گاڑی رکوائی تھی پھر ناسمجھی کے عالم میں نور کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر وہی پرسکون مسکراہٹ تھی۔

"تم مجھ سے پوچھتیں تھیں نا جویریہ کے میں تمہیں اپنے گھر لانے کی بات پر ہمیشہ ٹال کیوں دیتی ہوں؟ بس یہی وجہ تھی، یہی میرا گھر ہے۔" نور نے ان دونوں کے حیران چہروں کی طرف دیکھا تو دونوں بہن بھائیوں نے نظریں چرالی تھیں۔

"اندر نہیں آؤگی؟" میں ان کا جواب پہلے ہی جانتی تھی، مگر شاید انسان واقعی بہت نادان ہے، وہاں سے بھی امیدیں قائم کرلیتا ہے جہاں سے کسی اچھے برتاؤ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

" جویریہ میری میٹنگ ہے دیر ہورہی ہے۔" جویریہ کو شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر طہ نے اس کی مشکل آسان کردی تھی۔ اور شاید نور کی بھی، جو خود بھی ہاں اور ناں کے بیچ میں ڈول رہی تھی۔

"اللہ حافظ۔" اسے جواب مل گیا تھا۔ نور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اور اس کے اترتے ہی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں سے گاڑی ابھی دھول اڑاتی گزری تھی۔ پھر ایک نظر سامنے لکھے "دارالامان" کے بورڈ پر ڈالی۔ "یہ لوگ، سمجھتے ہی نہیں ہیں یا شاید انہیں ریجیکٹ ہونے کے بجائے ریجیکٹ کرنے کی عادت ہے۔ میرے انکار کو وہ ریجیکشن سمجھ رہے تھے اور اب میں کیا سمجھوں؟ کیا ان لوگوں کو ہم پہلے ہی مصیبتوں میں گھرے لوگوں کے جذبات سے ہی کھیلنا ہوتا ہے۔ ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی اکثر لوگ میری طرف بڑھے تھے، مگر میں نے ہمیشہ ہر کسی کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ کیونکہ ایک دو تجربوں کے بعد مجھ میں اس اذیت سے بار بار گزرنے کی ہمت نہیں تھی۔ محبت کے دعوے کرنے والے دارالامان دیکھ کر ایسے ہی پیچھے ہٹتے تھے۔ مگر جویریہ اور اس کی فیملی کچھ مختلف لگی تھی۔ میں نے بھی سوچا اتنی محبت اور خلوص کے دعویداروں کو ایک دفعہ آزما کر دیکھنا چاہیے مگر وہ بھی باقی سب جیسے نکلے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے اللہ بھی ہم جیسوں کو ہی آزماتا ہے" دکھ سے سوچتے ہوئے میں نے آنکھوں میں امڈتی نمی کو پیچھے دھکیلا اور پھر اپنے خیالات پر شرمندگی بھی ہوئی۔ ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی جہاں دور تک سورج کی روشنی پھیلی تھی اور میرے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ امڈ آئی تھی، میری زندگی میں محبت کی کمی کہاں ہے؟ میں اتنی کم ہمت نہیں ہوں کہ ان معمولی باتوں پر ہمت ہار دوں اور اللہ سے شکوے شروع کردوں۔ اس دنیا میں کوئی خونی رشتہ نہ ہونے کے باوجود میں نے اپنے آپ کو کبھی اکیلا نہیں پایا تھا۔ میرا اللہ، اور اس کی محبت مجھے ہر مشکل میں سمیٹ لیتی تھی۔

میں نور الحیا، جب سے آنکھ کھولی ہے اپنے آپ کو اسی جگہ پایا۔ ماں، باپ رشتہ دار، کسی کا کچھ پتا نہیں۔ میرا سب کچھ اس چھوٹے سے دارالامان میں بسنے والے وہ محبت کرنے والے لوگ ہیں جنہوں نے مجھے آج اس قابل بنایا ہے کہ میں معاشرے میں ٹھوکریں کھاتی نہیں پھررہی۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اب بھی اللہ اور انسانیت سے محبت کرنے والے موجود ہیں۔ انہوں نے مجھے بہت عیش و عشرت بھری نہ سہی، مگر ایک عزت دار زندگی دی اور اس قابل بنایا کہ میں اپنے لیے کچھ کرسکوں۔ مجھے مہینوں یقین دلانے والی میری دوست جویریہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے اپنی اور اپنے بھائی کی محبت کا ثبوت دے گئی ہے۔ میں ان جیسوں کے لیے بے شک بہت معمولی سہی مگر اندر بسنے والی اماں، جن سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں، اور یہاں بسنے والے مجھ جیسے بہت سے لوگوں کے لیے بہت خاص ہوں۔

میرے ایک دفعہ پوچھنے پر اماں نے بتایا تھا کے "دارالامان کے بہت سے بچوں کی طرح تمہیں بھی کوئی باہر رکھے جھولے میں ڈال گیا تھا۔ اور میں نے اسی وقت تمہارا نام نورالحیا، "زندگی کی روشنی" رکھا تھا۔ کیونکہ تمہارے چہرے پر اتنا نور تھا کہ مجھے یقین ہوگیا تم ہماری زندگی کی روشنی ہو۔ ورنہ یہاں آنے والے مجبوری میں وقت گزارتے ہیں، پھر اگر ان کی زندگی سنور جائے تو پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ مجھے یقین ہے میری نور بہت ترقی کرے گی، اور اپنے جیسوں کی زندگیوں میں روشنی کا ذریعہ بنے گی۔"

اماں کے الفاظ میرے کانوں میں گونجے تو میں نے اندر کی طرف قدم بڑھادیے، جہاں وہ لوگ تھے جو ہر وقت محبت کے جھوٹے دعوے نہیں کرتے تھے، مگر بے لوث محبت میں گندھے دل ضرور رکھتے تھے۔ اور مجھے پورا یقین تھا، اللہ اپنے آپ سے محبت کرنے والوں اور اس کی خاطر انسانیت سے محبت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ اس نے میرے لیے یقیناً کوئی بہت بہتر چن رکھا ہے۔ جس کے لیے اعلٰی خاندان، صرف نام کا خاندان نہیں ہوگا۔ جس کے لیے شرافت اور اچھا کردار اعلٰی خاندان سے تعلق رکھنا نہیں ہوگا۔ ضروری نہیں ہے سب کے لیے وہی لڑکیاں باکردار و عزت دار ہوں جو مغرب کی پیروی کرتے کرتے اپنے اعلٰی خاندانی وقار کو بھی پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہیں۔ کچھ ہم جیسی بھی ہوتی ہیں، جن کے سر پر باپ بھائی کا سایہ نہیں ہوتا، مگر پھر بھی اپنی اقتدار کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں۔ یہ بات ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے لیے اللہ اور اس کے انسانوں سے محبت کرنے والا دل ہونا چاہیے۔

میرے لیے میرا اللہ ہی کافی ہے۔ میں نے اپنے گرد لپٹی چادر کو مضبوطی سے پکڑا اور اندر کی طرف قدم بڑھادیے۔