Afsana 039 محبت حسرت اور خواہش از لبنیٰ علی

محبت حسرت اور خواہش
از لبنیٰ علی

"پتہ ہے بھائی جان آرہے ہیں " ربیعہ بھاگتی ہوئی آئی اور پھولی سانسوں کے درمیان مجھے بتانے لگی۔

"کون بھائی جان" کیونکہ گھر میں جو بھائی تھے ان کو صرف بھیا ہی کہتے تھے تو میں حیران ہوگئی کہ کس کو بھائی جان کہا جا رہا ہے۔

"ارے بھول گئی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ او ہاں تم تو کافی چھوٹی تھی تمہیں یاد نہیں ہوگا ناں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ وہ بڑی پھوپھو کے صاحبزادے جو پھوپھو کے مرنے کے بعد کافی سال ہمارے ہاں رہے تھے جن کی گود میں بیٹھ بیٹھ کر ہم اسکول جاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ جو روز شام کو ہمیں کچھ نا کچھ کھانے کی چیز لا کر دیتے تھے ۔"

"ارے وہ والے بھائی جان" میں خوشی کے مارے مزید کچھ نہ کہہ پائی ۔

اونچے لمبے سانولے سے عام شکل و صورت کے ایاز بھائی جن کو ہم بھائی جان کہتے تھے اس وقت بھیا تو کافی چھوٹے تھے تو بھائیوں والے سارے لاڈ ہمارے وہی اٹھاتے" ربو" یعنی ربیعہ تو ان کی خاص لاڈلی بھی تھی اور ان کے کافی سارے رازوں کی امین بھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اے گڈی ادھر آؤ" بھائی جان نے مجھے بلایا
"جی بھائی جان"

"یہ مونگ پھلیاں لو تم، ربو اور علی سب مل جل کر کھانا ٹھیک ہے "
" جی ٹھیک ہے" میں نے اثبات میں سر ہلایا" اور یہ دوسرا پیکٹ"
" یہ باجی کو دے دینا"
بھائی جان نے آہستہ سے کہا
"نہیں بھائی جان مجھے ڈر لگتا ہے باجی ناراض ہوں گی اس دن بھی جب آپ نے مجھے کہا باجی کو بلاؤ پارک جانے کے لئے تب بھی انہوں نے کافی ڈانٹا"

"ارے کچھ نہیں کہے گی اس کو بھی پسند ہے ناں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جاؤ تو سہی "

تھوڑی دیر بعد میں چہرے میں ہاتھ اور آنکھوں میں آنسو لیے واپس آگئی

" کیا ہوا گڈی؟"
" باجی نے مارا اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مونگ پھلیاں بھی پھینک دیں" میں نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے ان کو بتایا۔

یہ سن کر ان کے چہرے کے تاثرات ایک دم تیزی سے تبدیل ہوئے اتنی کم عمری کے باوجود مجھے محسوس ہوگیا کہ بھائی جان کو بہت دکھ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"یہ لیں ممی یہ آپ کے لئے "
"ارے بیٹا اتنی ساری چیزیں لانے کی کیا ضرورت تھی خوامخواہ اتنی تکلیف کی بس تم آگئے میرے لئے بس یہی کافی ہے"
امی جان محبت سے بولیں

امی کو اپنی نند کا یہ بیٹا بہت عزیز تھا بہت کم عمری سے ہی تو انہوں نے اسکو پالا تھا۔
" یہ فاونٹین پین ربو کے لئے اور یہ ڈھیر ساری چاکلیٹ اپنی گڈی کے لئے "
انہوں نے میری ناک کھینچتے ہوئے حوشگوار سے لہجے میں کہا

پھر بھائی جان ایک بڑا سا پیکٹ امی کو پکڑاتے ہوئے آہستہ سے بولے

"یہ اس کے لئے"

"کس کے لئے بیٹا؟"

وہ کچھ نہیں بولے اور سر جھکا لیا

امی سمجھ گئیں" بیٹا تم آج بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی بھی؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھول کیوں نہیں جاتے تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم اب تک وہیں کے وہیں ہی ہو ؟

" یہ بھی کوئی بھولنے والی بات ہے؟"
بھائی جان حسرت سے بولے

اور میں سمجھنے اور نا سمجھنے والی کیفیت میں ان دونوں کو دیکھتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ربو ۔۔ ۔ ۔ یہ بتاؤ یہ بھائِی جان نے شادی کیوں نہیں کی ؟"

"ارے تمہیں نہیں پتہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کا نکاح ہوا تھا ناں وہیں امریکا میں ہی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ان کی بڑی بہن نے کروایا تھا اپنی کسی جاننے والی سے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن بعد میں کچھ مسئلہ ہوگیا تو رخصتی سے پہلے ہی طلاق ہوگئی۔"

" اوہو یہ تو بہت برا ہوا " اچھا یہ باجی ابھی تک کیوں نہیں آئیں بھائی جان سے ملنے "؟
" پتہ نہیں شاید انہیں لینے کے لئے کوئی نہیں گیا اس وجہ سے نہیں آئیں ہونگی امی سے پوچھو جا کر شاید بھیا کو جانا پڑے عمر بھائی کو تو کبھی توفیق نہیں ہوتی خود سے کبھی باجی کو لے آئیں۔"

میں امی سے پوچھنے گئی تو وہاں بھائی جان بھی بیٹھے تھے
"امی باجی کو لینے کب جائیں گی وہ ابھی تک بھائی جان سے ملنے نہیں آئیں کتنے دن ہوگئے ہیں ؟"

میں نے امی سے کہا تو امی نے فوراً بھائی جان کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی نظریں چرالیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"گڈی جاؤ جا کر بھائی جان سے پوچھ کر آؤ کہ آج کیا کھائیں گیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔رات کو تو اس کی فلائٹ ہے ابھی اس کے پسند کا کھانا بنا لیتی ہوں "۔
امی نے مجھے کہا

جی اچھا " میں نے کہا اور بھائی جان کے کمرے طرف جب جانے لگی تو وہ مجھے کچن کے دراوزے میں نظر آئے جب میں اس طرف گئی تو باجی بھی تھیں کچن کے اندر بھائی جان باجی سے بات کر رہے تھے میں وہی رک گئی

" میں جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ کہو گی نہیں "؟
"کیا کہوں ؟"۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باجی نے جواب دیا
"کیا واقعی تمہیں کچھ نہیں کہنا"
"نہیں مجھے کچھ نہیں کہنا "باجی نے بے تاثر لہجے میں کہا
"میرا انتظار کروگی؟"
"پتہ نہیں "ایک اور کورا سا جواب باجی کی طرف سے آیا
بھائی جان کی یاسیت بھری آواز آئی "میں جانتا ہو تم مجھے پسند نہیں کرتیں میں خود کو تمہارے قابل بھی نہیں سمجھتا لیکن بنانے کی کوشش تو کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن دوسری چیزوں پر میرا اختیار نہیں جو قدرت کے فیصلے ہیں کس کو کیا اور کیسا ملتا ہے "۔

" تم ایسا کیوں کہہ رہے ہوں ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا میں نے کبھی تمہیں کچھ کہا؟"
باجی نے پوچھا

"نہیں کبھی کچھ کہا تو نہیں لیکن کچھ نہ کہنے کی وجہ سے میں یہ سب محسوس کرتا ہوں یا سوچنے پر مجبور ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اب تمہارے اس رویئے کو احتیاط پسندی سمجھوں یا گریز؟"

"جو سمجھنا ہے سمجھ لو میں وضاحت کیوں دوں تمہیں ؟"
باجی نے غصے سے کہا

"لیکن میں کچھ سننا چاہتا ہوں کوئی آس کیا دیا؟۔ ۔ ۔ ۔ کوئی امید ؟

باجی نے کوئی جواب نہیں دیا
کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد بھائی جان مایوسی سے سرہلاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور میں بھی بنا پوچھے وہاں سے ہٹ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ممی یہ ربّو کو کیا ہوا ہے ؟۔ ۔ ۔ ۔اتنی چپ چپ کیوں رہتی ہے ؟۔ ۔ ۔ پہلے تو ہروقت بلبل کی طرح چہکتی رہتی تھی ؟"

بھائی جان نے امی سے پوچھا

"پتہ نہیں میری بیٹیوں کی قسمت میں کیا لکھا ہے پہلے بڑی کی طرف سے کم پریشانی تھی اب جب سے اسکی منگنی ٹوٹی ہے تب سے کافی چپ چپ رہنے لگی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔تمہاری طرف سے بھی کافی پریشان ہوں میں تم بھی کب تک ایسے رہو گے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں تو اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی کہ تمہارابھی نکاح ہوگیا لیکن تم نے بھی اس کو طلاق دے دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا کوئی کرتا ہے بیٹا بات کیا ہوئی تھی ؟"

امی نے پوچھا

"بس ممی جو قسمت میں ہونا ہو تا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے "
بھائی جان نے جواب دیا

"تو پھر نکاح کیا ہی کیوں تھا؟"
امی کو تسلی نہیں ہوئی ان کے جواب سے

"بس آپا نے زبردستی کروادیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بس ممی میرا دل نہیں مانا۔"
بھائی جان نے گول مول جواب دیا

پھر امی نے مزید کچھ نہیں پوچھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"دیکھو ربو ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ دوبارہ آیا ہے تم سے تعلق جوڑنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے ایک بار ٹھکرانے کے بعد دوبارہ سوالی بن کر آنے کا مطلب کیا ہے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم کسی ایسے انسان کے ساتھ رہنا پسند کروگی جو تمہیں ایک بار ٹھکرا چکا ہے ؟۔ ۔ ۔ ۔بس کچھ بھی ہو جائے تم کسی کی نہیں سننا بس اپنے دل کی بات کو مانو"۔
بھائی جان نے ربو کے ساتھ بیٹھے اسکو سمجھا رہے تھے اب اس کو وہ سمجھا رہے تھے یا مزید متنفر کر رہے تھے یہ مجھے لگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری بھی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں وہی ربّو ان کی سب سے زیادہ بقول ان کے ان کی سب سے لاڈلی بہن ہے اس کو ایسا مشورہ کیوں سے رہے ہیں ۔
ربّو بھی ان کی باتوں میں آگئی اور اس نے احمد کو انکار کردیا ۔۔۔۔ربّو کے انکار کے بعد مجھے بھائی جان کے چہرے پر جو فتح مندی نظر آئی اس سے مجھے ایسا لگا اب آگے کچھ ہونے والا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ربّو تم خوش ہو؟"
شادی کے دو سال بعد جب وہ واپس پردیس سے ہم سب سے ملنے آئی تو میں نے تنہائی میسر آنے پر اس سے پوچھا۔
"بھائی جان تمہیں خوش تو رکھتے ہیں ناں ؟"
ربّو کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی
"پتہ نہیں خوشی کیا ہوتی ہے ۔ ۔ ۔مجھھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ یہ محبت کا کوئی وجود ہے بھی کہ نہیں یا ہم لوگ صرف اپنی حسرتوں اور خواہشوں کو محبت کا لبادہ پہنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں "۔

"کیوں بھائی جان تم سے محبت نہیں کرتے ؟"
میں نے پوچھا

"نہیں کرتے ہیں بہت کرتے ہیں وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن نجانے کیوں مجھے ان کے لئے ایسا کچھ محبت جیسا محسوس نہیں ہوتا شاید آج نہیں تو کل یا چند سالوں بعد ایسا کچھ محسوس ہونے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن ابھی تو میرا دل بالکل خالی ہے ۔ ۔ مجھے ایسا لگتا ہے ان کی جو محبت ہے وہ مجھ سے نہیں صرف خوبصورتی سے ہے جو مجھ سے پہلے باجی سے تھی اور اس کے بعد جو ان کے نکاح کے ٹوٹنے کی وجہ بھی بنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں نے دیکھا اس کو ۔ ۔ ۔ "

"کس کو" میں نے پوچھا

" اسی لڑکی کو جس سے ان کا نکاح ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ صرف اس کی کم صورتی کی وجہ سے وہ رخصتی کرانے پر راضی نہیں ہوئے اور انہوں نے اس کو طلاق دے کر آپا کی غلط فہمی دور کردی کے نکاح کے بعد کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔باجی کے شادی کے بعد شاید ان کو ضد ہوگئی تھی کہ ان کی جیون ساتھی ان جیسی یا کم از کم اتنی خوبصورت ضرور ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور یہی بات مجھے سوئی کی طرح میرے دل میں چبھتی ہے اور یہی چبھن میرے دل کو محبت کرنے سے روکتی ہے بتاؤ مجھے میں کیا کروں؟"

ربّو کی یہ بات سن کر میں سوچنے لگی یہ بھائی جان کی محبت تھی جو ان کو باجی سے تھی یا ان کی خوبصورتی سے جو آگے جا کر حسرت بن گئی جس نے انہیں ایک لڑکی کی زندگی تباہ کرنے پر مجبور کردیا پھر یہی حسرت شاید ایک خواہش میں تبدیل ہوگئی جس نے ایک لڑکی کو زندگی بھر ایک الجھن میں مبتلا کردیا کہ اس کا جیون ساتھی اس سے یا اس کی خوبصورتی سے محبت کرتا ہے یا ان سب مین قصور باجی کا جنہوں نے ان کا انتظار نہیں کیا اور ان کی محبت کو ٹھکرا کر ایک خوبصورت جیون ساتھی کو چن لیا۔