Afsana 041 محبت یا دکھا وا از مصباح

محبت یا دکھا وا
از
مصباح

آج سب کے سامنے دھاڑیں مار کر روتی ہوئی بھابھی، اور کونے میں کھڑے بھائی اسے بہت بڑے ڈھونگی اور منافق لگے ۔جھوٹے لوگ ۔یہ کیوں روتے ہیں۔ انھیں ابھی رونے کا کوئی حق نہیں۔۔یہ میری کوثر کا جنازہ ہے۔انہیں باہر نکالو۔ چپ ہوجاؤ سب۔۔کل جب وہ زندہ تھی ۔دودن پہلے ۔تو اس وقت یہ ۔۔محبت ۔۔۔کہاں
تھی۔

وہ سڑک پر بے تحاشہ بھاگتی آرہی تھی ۔گرمی سے بے حال دوپٹہ گلے میں آیا ہوا رفتار تیز سے تیر تر ہوتی جارہی تھی ۔امی نے اسے دور سے دیکھا۔ اور پہچان لیا۔وہ کوثر تھی ۔بن ماں باپ کی کوثر ۔۔۔بچپن سے ہی جس کے پاس کبھی نہ پہننے کو پورا کپڑا تھا نہ کبھی بھابھی نے پیٹ بھر روٹی دی ، سارا دن کولہو کے بیل کی مانند کام میں جٹے رہنا۔اور بھابھی کی جھڑکیاں کھانا ۔بس اس سے یہ خطا ہوئی کہ وہ سیانی ہوگئی ۔۔۔۔۔۔تو پاس پڑوس کی خالاؤں ہمسائیوں کی باتوں اور شریکیوں کے طعنوں کی وجہ سے اس کی رخصتی کا کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا اس میں بھی بھابھی نے خوب دام کھرے کیے۔۔ ۔۔جس کی سال پہلے رو دھو کر رخصتی ہوئی۔ اور ابھی پورے سال کے بعد وہ بھائی بھابھی کے پاس آئی تھی کچھ دن رہنے کو۔۔ کوثر کے پاس آنے پر خالہ شریفاں نے اسے رو کر پوچھا کہاں جارہی ہو ۔خالہ ۔۔بھائی سے ملنے ۔آپ میرے ساتھ آجائیں اور خالہ تیز قدموں سے اس کا ساتھ دیتی ہوئی امی جی کو گھر جانے کا کہہ گئیں۔بھاگم بھاگ آدھ میل سفر طے کرکے سڑک کے دوسرے کنارے پہنچی ۔تو بھابھی نے اسے دیکھ کر برا سامنہ بنایا۔بھائی خالہ کو دیکھ کر دنیاداری نبھاہنے کو آگے بڑھا ۔بھائی آپ کہاں جارہے ہو۔اور مجھے کس کے آسرے پر چھوڑ کر جارہے ہو۔کوثر روتے ہوئے بولی۔بھائی نے کہا کہ تمھاری بھابھی کے ابو کی طبعیت خراب ہے اس کا پتہ کرنے جارہے ہیں خالہ شریفاں نے بہت حیرانی سے دیکھا۔۔۔ لشکارے مارتا ہرے رنگ کا سوٹ گہری سرخ مہندی سے رچے ہاتھ دنداسہ ملے نارنجی ہونٹ ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ۔کچھ بھی تو حسب حال نہ تھا۔۔پھر بھی دل پر جبر کرکے کوثر یہ پوچھ بیٹھی ۔بھائی میں کہاں رہوں گی ،مجھے تو وہ ایک ہفتے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ابھی دودن ہوئے ہیں۔اور ابھی پھر آپ مجھے۔۔

۔(بس آگئی)۔۔۔بات درمیان میں رہ گئی۔
بھابھی پہلے چڑھی پیچھے بھائی۔ اچھا بھئی کوثر اپنا خیال رکھنا۔۔بھابھی میرے کپڑے میرا سوٹ کیس ۔۔وہ میں نے خالہ سکینہ کے گھر رکھوادیا۔بھابھی نے بس کی کھڑکی سے منہ نکال کر کہا ۔بس چلی گئی۔ پیچھے دھول رہ گئی ۔

خالہ شریفاں نے کوثر کے سر پر ہاتھ رکھا ۔اور اسے روتی بلکتی کو تقریبا گھسیٹتے
ہوئے سڑک پار کروائی ۔پگلی روتی کیوں ہو ہم ہیں نا ۔۔پورا گاؤں بسا ہے اور تم سب کی سانجھی بیٹی ہو۔۔چلو میرے ساتھ ۔۔تمھارا سوٹ کیس میں منگوالیتی ہوں۔میری طرف رہ لینا۔ مگر کوثر کو دھیان نہ تھا۔ ۔۔خالہ اسے آہستہ آہستہ پچکارتے ہوئے گھر لے آئی ۔۔
مگر اس کا رونا کسی طرح بند نہ ہوا ۔۔ اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے رضیہ کو کہا کہ اسے چھت پر لے جائے۔۔ چھت پر جانے کے بعد دونوں سکھیاں بیٹھیں ۔تو رضیہ نے بچپن کے قصے اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس کی سسرال کی باتیں شروع کردی ۔ مگر کوثر دور آسمان پر کچھ ڈھونڈھتی رہی۔۔کچھ نہ بولی۔۔وہ سوچے جارہی تھی مسلسل۔۔دل میں بے شمار اندیشے سر ابھار رہے تھے۔۔وہ سسرال میں بہت دکھی تھی۔۔۔۔ سال بھر کے بعد مشکل سے ہفتہ بھر رہنے کو آئی تھی ۔۔۔سکھ کا سانس لینے کو مگر اب جب اس کی ساس کو پتہ چلے گا کہ اس کا کوئی نہیں ۔۔تو سب کتنا ہنسیں گے۔۔اب پھر اسی قید میں گھٹ گھٹ کر مرنا ہوگا۔۔یہ بھائی کا آسرا تھا ۔وہ بھی گیا۔۔اسی وقت نیچے سے خالہ سکینہ نے آواز دی ۔تو وہ دونوں اتر آئیں۔۔خالہ اسے ساتھ لے جانے آئی تھی ۔۔وہ چلی گئی چپ چاپ۔ اداس سوگوار ۔۔بنا کچھ کہے ۔۔۔رضیہ نے بہت چاہا ۔اسے روک لے ۔مگر نھیں روک پائی ۔ جانے کیسے ساری رات گزری۔صبح فجر کی اذان کے ساتھ خالہ کا بیٹا ابو جی کو بلانے آیا۔ کہ
کوثر

مر گئی ۔اس کے بعد ہی سب خالہ سکینہ کے گھر بھاگے۔۔۔کیا ہوا کیسے ہوا۔کس طرح یہ حادثہ ہوا۔سب بے طرح بے چین تھے ۔۔خالہ نے ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے بتایا کہ اس کا دل بند ہوگیا تھا۔اتنا زیادہ بوجھ تھا دل پر اس نے چلنے سے ہی انکار کردیا۔۔۔۔ ۔۔بے تحاشا روتے ہوئے جب رضیہ نے اس کا چہرہ دیکھا تو ایک آسودہ سی مسکان اس کے چہرے پر تھی ۔۔۔جیسے بے تکان دھوپ میں چلتے ہوئے مسافر کو سایہ میسر آجائے۔۔۔کوثر کو اب کوئی دکھ نہ تھا وہ ایک ابدی نیند سورہی تھی۔۔۔ہمیشہ کے لیے۔۔۔