Afsana 042 محبت ایسی ہوتی ہے از کائنات

محبت ایسی ہوتی ہے
از کائنات

ٹائٹل دیکھ کر اگر آپ سوچ رہے ہیں ۔ کہ ۔ میں آپ کو کوئی بہت رومینٹک افسانہ سنانے والی ہوں ۔ تو ۔ ایسا سوچنا بھی نہ ۔ یہ کام دوسری رائیٹرز بہت اچھی طرح کر لیں گی ۔ بلکہ میں تو آپ کو اپنے من کا فسانہ سنانے والی ہوں ۔۔۔۔۔۔

جون ، جولائی کی چلچلاتی گرمی جب بھی آئی ، ہمیشہ مجھے بے حال ہی کرتی ۔ پسینہ جو سر سے لے کر پاؤں تک بہنا شروع ہوتا ۔ تو ۔ بارش کی طرح میرے پورے وجود کو بھگوتا ہی جاتا ۔ یا ۔ شائد مجھے ہی گرمی کے موسم کو سمجھنا نہیں آیا ۔

آج بھی گرمی کی شدت سے میرا مزاج کچھ تلخی محسوس کر رہا تھا ،
کہ میرے سسر یعنی ابا میاں کی آواز کان میں پڑی ۔

" بیٹا ، واہ واہ کیا گرمی کا موسم ہے "
جوابا میں تو سلگ ہی اٹھی

" ابا جی ، گرمی سے بے حال ہو رہے ہیں اور آپ بھی نا بس ۔"

"کیوں بیٹا ، ہمیں تو شکر کرنا چاہیے ۔ کہ ۔ اللہ نے ہمیں چار موسم دیے ہیں ۔ اور ۔ ہر موسم کا اپنا مزہ ۔"
"وہ تو ٹھیک ہے اباجی ، لیکن گرمی اتنا سدھ بدھ کھو دیتی ہے کہ ۔"

" نہ بیٹا، ایسے نہ کہو ، ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر بچے بھی خوش اور غریب بھی خوش ۔
دن بھی کھلا کھلا روشن لگتا ہے ، پانی کتنا بھلا لگتا ہے چاہے اس سے تن کی پیاس بجھے ۔ یا ۔ آسمان سے برس رہا ہو۔ تو انسانوں سے لے کر دھرتی تک کی پیاس بجھ جاتی ہے

اور بندہ بھنڈی ، کریلے ، کدو تک کھا کے خوش رہتا ہے ۔ "

میں ابا جی کے فلسفے سن سن کر حیران ہوتی رہی اور کچھ بیزار بھی ۔۔۔
اتنے میں چھوٹا بیٹا ساتھ میں چمٹ کر بیٹھ گیا ۔ تو اپنے اوپر اور بھی خود ترسی آنے لگی۔
میں اپنے وجود میں کسمسا کر رہ گئی اور کچھ ری ایکٹ نہ کر سکی ،

انہی سوچوں میں الجھتی شام آ گئی اور پھر رات ۔۔ مجھے ٹیرس پرجا کر تھوڑی واک کرنا بہت اچھا لگتا ۔ گرمی کی راتیں مجھے بہت بھلی لگتیں ۔۔ سورج تو دن کو دشمن کی طرح لگتا ۔ آگ کا گولہ ۔ جیسے بھسم کر کے رکھ دے گا جب کہ
گرمی کی راتیں اچھی لگتیں ۔ صاف چمکتا آسمان، چاند کی نرمی وجود کو ٹھنڈک دیتی اور چاندنی من کو نکھارنے لگتی ۔
بے اختیار کچھ گنگنانے کو بھی دل کرتا اور گنگنا بھی لیتی ،

چاند رات تم ہو ساتھ
ارے اب تو دل مچل مچل گیا

لیکن آج تو ابا جی کی باتیں سن کر دل مچلنے کی جگہ کچھ اور الجھنے لگا تھا ۔کہ

خالق حقیقی نے سورج ، چاند بنا کر کتنا مکمل اور خوبصورت جہاں بنایا ہے۔ دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہے ۔ کیا یہ بھی

محبت ہوتی ہے

جو گرمیوں میں مجھے چاند کے اور قریب کر دیتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی میں ان ہی سوچوں میں تھی ۔ کہ ۔ میرے نو اور گیارہ سالہ دونوں بیٹے آ کر میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے ۔
اور اپنی دن بھر کی باتیں بتانے لگے ۔
اور میں بھی باتیں کرتے کرتے روایتی ماؤں کی طرح ان سے کہنے لگی
" بیٹا ۔ بڑی خوشی کی بات ہو گی میرے لئے ۔ جب تم دونوں بڑے ہو جاؤ گے ، اپنی پڑھائی مکمل کر لو گے ۔
پھر تمہاری شادیاں ہو جائیں گی ۔ تم دونوں کی بیویاں بھی آ جائیں گی ،"
میں سپنے سجاتے دور تک پہنچنے لگی
" پھر تب تک تو میں اور زیادہ عمر کی ہو جاؤں گی، پتہ نہیں ، صحت بھی تب تک کیسی رہے گی اور وہ بہویں میری خدمت بھی کریں گی یا نہیں "؟

تو مجھے دو جواب ملے ۔ بڑا بیٹا کہنے لگا
" ماما ، آپ فکر نہ کریں ۔ اگر میری بیوی آپ کی خدمت نہیں کرے گی ، تو میں آپ کی خدمت کیا کروں گا ۔ "
اس کے اس جواب نے مجھے اس پر بہت فخر، اور مان کا احساس دیا ۔

جب کہ چھوٹا بیٹا بولا

" ماما ،آپ بالکل نہ گھبرائیں ، اگر وہ آپ کی خدمت نہیں کرے گی ۔ تو ۔ میں اس کی پٹائی کروں گا ۔ "

اس کا جواب سن کر میں شاکڈ ہو گئی ۔ دونوں میرے ہی بیٹے تھے ، اور ایک جیسی تربیت پا رہے تھے ۔ لیکن
چھوٹے بیٹے نے جو حل نکالا اسے سن کر میں بے اختیار سوچنے لگی کہ
ماں کی محبت میں وہ ابھی سے ہی بیوی کو پھینٹی لگانے کی سوچ رہا ہے ۔ کیا ماں سے ۔۔ بیوی سے

محبت ایسی ہوتی ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ابھی میں سوچ میں تھی ۔ کہ ۔ کیسے ری ایکٹ کروں کہ نیچے سے مجھے اپنے دیور آفاق کی آواز سنائی دی ۔

" بھابھی کہاں ہیں ؟ آپ کا فون ہے ۔"

میں جلدی سے سیڑھیوں کی جانب آئی ، اور اوپر سے ہی پوچھا

" آفاق ، کس کا فون ہے ۔ "

" بھابھی ، آپ کی کزن تحریم کا فون ہے ۔ "

" ٹھیک ہے ، اسے فون ذرا ہولڈ کرانا ۔ میں آ رہی ہوں ۔ "

اور سیڑھی اترنے لگی ۔ اور آ کر فون پہ اس سے گپ شپ کرتی رہی ۔

جب ریسیور واپس رکھا تو کافی دیر ہو چکی تھی ۔

بچے سونے جا چکے تھے ، میں بھی جا کر نماز پڑھنے لگی ۔

تحریم ۔۔۔ میری کزن میری پھوپھو زاد ، بچپن سے ہی مجھے اپنی یہ کزن بہت اچھی لگتی تھی ۔

وہ

اس طرح کہ باقی سب کزنز بڑی تیز طرار ہوا کرتی تھیں ۔ اور ۔ ان کے بیچ تحریم سادگی کی مورت،

جو اپنے سادگی پن میں ایسی حرکتیں اور باتیں کر جاتی ، جو دوسروں کے لئے مزاح پیدا کر جاتیں یا دوسرے اس سے فائدہ اٹھا لیا کرتے ۔

لیکن وہ بجائے کمپلیکس میں ہونے کے بڑی شان بے نیازی سے ان کے درمیان رہا کرتی ،

اور شائد مجھے اس کی یہ بات اچھی لگتی تھی ۔ کہ ، خود سے گلہ نہ دوسروں سے کوئی گمان ،

بچپن میں اس نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا تھا ۔ ابھی اس نے تین سپارے حفظ کئے تھے ۔

ایک دن اسے زخمی چڑیا کا بچہ ملا ۔

تحریم نے لا کر اس کی مرہم پٹی کی ، سیواکی ، لیکن وہ بچارہ بچ نہ سکا ، اور مر گیا ۔ میری یہ بھولی کزن پورا گھنٹہ اس کے سامنے افسردہ بیٹھی رہی ،

پھر اٹھی ایک گڑھا کھودا اور چڑیا کے بچے کو اس میں دبا دیا ، اور لگے ہاتھوں اس کی قبر پر سوا سپارا بھی پڑھ دیا ۔
سب نے اس کا خوب مذاق بنایا ۔ لیکن میں کبھی کبھار سوچتی ہوں کہ

محبت ایسی بھی ہوتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نماز کے بعد میں سوچوں میں گم لان میں چہل قدمی کر رہی تھی ۔ کہ

مجھے گاڑی کی لائٹس گیٹ پر پڑتی دکھائی دیں ، اور ساتھ ہی گاڑی کا ہارن بھی بجا۔

نوکر گیٹ کھولنے تیزی سے آگے بڑھا ۔

جی ہاں ایان آ گئے تھے ۔

ایان ، میرے شوہر ۔ آج وہ دیر سے آنے والے تھے اس لئے مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی کیونکہ

آفس سے فون کر کے انھوں نے اپنے شام کا پروگرام مجھے بتا دیا تھا

کہ

آج شام وہ ہمیں کھانے کی میز پر جوائن نہیں کر سکیں گے ، ان کی کوئی بزنس میٹنگ اور ڈنر کا پروگرام ہے۔

ہماری شادی ارینج تھی ۔ نہ انہوں نے مجھے شادی سے پہلے دیکھا تھا اور نہ ہی میں نے انہیں ،
دراصل شادی کرنے کی نہ تو انھیں کوئی جلدی تھی اور نہ ہی مجھے ۔

وہ تو شائد ہاتھوں کی لکیروں میں شادی کا وقت آ گیا تھا اس لئے جھٹ پٹ سارا کچھ انجام پا گیا ۔ اچانک انھیں سہرا باندھنا پڑا اور مجھے گھونگھٹ میں چھپنا پڑا ۔ سو
ہم دونوں نے شادی کا لڈو بغیر چوں چراں کئے کھا لیا ۔

اوروں کی طرح ہماری لائف بھی گزرنے لگی ۔

نہ میں ان کے خوابوں کی شہزادی تھی اور نہ ہی وہ میرے راجکمار ۔

جو ہم گنگناتے پھرتے

میں نے تجھے مانگا تجھے پایا ہے

لیکن وقت اچھا چل پڑا تھا ۔
اور دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک چل رہے تھے ۔
گزرتے وقت نے ہمارے گلشن میں دو پیارے سے پھول بھی کھلا دئیے تھے ۔

ایان ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں ۔

یہ زندگی کی تمام آسائشیں ، خوبصورت گھر ، گاڑی ، دولت ، نوکر چاکر ، جو آپ دیکھ رہے ہیں ۔ یہ انھی کی بدولت ہمیں میسر ہیں ۔

دن رات وہ پیسہ بنانے میں لگے رہتے ہیں اور میں اس پیسے کو ٹھکانے لگانے میں لگی رہتی ہوں ۔

ارے ، میں تو ابھی تک اپنے من میں ہی الجھی ہوئی ہوں ۔ میرے شوہر گھر آئے ہیں اب تو مجھے ان کے ساتھ ہونا چاہیے ،

اپنے من سے تو میں پھر بھی باتیں کر سکتی ہوں ، میرے من کی بانسری تو پھر بھی بج سکتی ہے ، اگر من روٹھ جائے تو منا بھی سکتی ہوں

لیکن

اگرمیرے شوہر ناراض ہو گئے تو بڑی مشکل ہو گی ۔ ویسے بھی مجھے یہ مننا منانا بہت فضول لگتا ہے،

انسان اپنی زندگی کے کتنے انمول پل ان میں گنوا دیتا ہے ۔

یہی سوچتی میں بیڈ روم میں چلی آئی ، رات پہلے ہی کافی ہو چلی تھی اور
واقعی ایان میرے ہی انتظار میں تھے اور بیڈ میں لیٹے سگریٹ پی رہے تھے ۔

کتنے اچھے ہیں میرے شوہر،

آخر مجھے بھی تو ان سے اپنی محبت دکھانی ہے ۔
یہ سوچ کر میں مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور جا کر ان کے پاؤں دبانے لگی ۔۔ جی ہاں

محبت ایسی بھی تو ہوتی ہے