Afsana 043 بلو،میری صحت مند محبت از سلمان سلو

بلو،میری صحت مند محبت
از
سلمان سلو

۔۔12 دسمبر کی اندھیری رات تھی۔فضا خشک اور سرد تھی۔پرندے الغرض الو بھی اپنے پناہ گاہوں کا رخ کرچکے تھے۔ٹھنڈی اور جما دینے والی ہوا ہر ذی روح پر اپنی فتح کا جشن منا رہی تھی۔۔۔۔
۔
میں فوارے کی دیوار پر پتلی سے شرٹ پہنے ''بلو'' کا انتظار کر رہا تھا۔بلو،بلو،بلو اور بس بلو، میری زندگی کا محور،میری آرزوں کا مسکن،میری تمناوں کی تکمیل تھی ۔میں گھڑی گھڑی بلو کی راہ تک رہا تھا اور بلو کا دور دور تک اتا پتہ نہیں تھا۔بلو ایک اعلی خاندان کی اکلوتی بیٹی ہے۔۔والد نیک اور پاکباز،والدہ خوبصورت اور خوب سیرت اور وہ خود صوم و صلوۃ کی پابند۔بلو نے ٹھیک بارہ بجے اپنی گھر کی دیوار پھلانگ کر میرے پاس پہنچنا تھا۔اس کو دیر ہوگئی تھی۔مجنوں کا اندیشہ دل،خدانخواستہ کہیں دیوار سے تو نہیں گر گئی۔کبھی دل کسمساتا،شاید وہ دیوار پر چڑھی ہو اور دیوار گر گئی ہو۔۔اس کا جغرافیہ ہی ایسا تھا ۔اس سے پہلے وہ کھڑکی میں پھنس چکی تھی۔لیکن میرے دل نے گواہی دی کہ اس دفعہ وہ اپنی اعلی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بہتر راہ متعین کرے گی۔
۔
اپنی سوچوں کے جھمیلوں میں بہتے بہتے میرے سامنے کچھ فاصلے پر ایک بھاری بھر کم ہیولا نمودار ہوا۔۔چھن چھن کی آواز کے ساتھ وہ سایہ میرے قریب تر ہوتا گیا ۔اس کی ''چھن چھن'' اور میرے دل کی ''دھک دھک''ساتھ چلتی رہی۔مجھے یقین ہوچلا تھا کہ میری بلو آگئی ہے۔بلو،بلو،بلو میری جذباتی صدا چیخوں میں تبدیل ہوگئی۔لیکن اس نے میری ایک نہ سنی اور میرے سامنے اپنے پاوں کی پائل کا راگ سناتے ہوئے ایک لمبی سے ''باں'' کی اور گزر گئی۔اف خدایا''یہ تو بھینسے کی بلو تھی۔''اس کے جانے کے بعد میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے بھینسے کا رقیب نہیں بنایا۔
۔
وقت کے لمحات گزرتے جا رہے تھے ۔مجھ سے اور انتظار نہیں ہو رہا تھا۔میں آسمان پر خالی نگاہوں سے تاروں کو گننے لگا۔1،2،3،4،5،۔۔۔جب میں نے ''انفنیٹی''تک تارے گن لیے تو باقی تارے اگلی دفعہ گننے کا ارادہ کیا۔۔اور پھر چاند گننے میں مگن ہوگیا۔۔
چاند ایک سے تین ہوگئے میرے اور چندا ماموں کے علاوہ بلو بھی وہاں پہنچ آئی تھی۔
۔''بلو تم نے بہت انتظار کرایا۔۔''۔۔
بلو نے پھولی ہوئی سانسوں اور گلوگیر آواز میں ''سوری۔''کہا۔۔۔
تو میں نے فورا'' اس کو معاف کردیا بلکہ اپنے استفہامیہ سلوک پر بھی اس سے معافی مانگی کیونکہ آخر کو وہ میری ''اکلوتی محبت'' تھِی۔۔۔

اب بلو میرے نزدیک بیٹھی۔میرے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مدہوش سی ہو رہی تھی۔اس کے لب دھیرے ہلتے اور پھر چپ ہوجاتے۔اس نے اپنی پھولی سانسوں کے درمیان دو چار مرتبہ کچھ بولنے کی کوشش کی مگر میں اس کے ٹوٹے ہوئے حروف کو کوئی معنی نہیں دے سکا۔لیکن ہاں میرا دل کہہ رہا تھا کہ وہ ضرور کوئی ایسی چیز طلب کر رہی ہے جو ''چ'' سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔ بلو میرا اٹوٹ انگ تھی،میرا رنگ تھی۔اس میں اور مجھ میں بلا کی ''انڈرسٹینڈنگ'' تھی۔میں دوڑا دوڑا ہاسٹل گیا اور تھوڑی سے چرس لا کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔میں بہت خوش تھا کیونکہ بلو کی ہر خواہش کا احترام کرتا اور اس کی تمنا کے لیے میں اپنی جان سے بھی کھیل سکتا تھا۔لیکن جب بلو نے ''چ'' سے اک زوردار چماٹا میرے منہ پر مارا تو مجھے معلوم پڑا کہ ''چ'' سے صرف چرس نہیں بلکہ چائے بھی ہوتی ہے جو بلو مجھ سے کافی دیر سے منگوا رہی تھی۔۔۔

بلو نے چائے کا آخری گھونٹ گلے میں پھینکا تو اس کا پورب پچھم تک پھیلا ہوا جغرافیہ شمالا جنوبا بھی پھیل گیا۔اس کی مدہم آنکھیں پُرنور ہوگئیں،اس کی زبان اسکی تمناؤں اور خواہشوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی لیکن اس کی آنکھیں سراپا احتجاج تھیں کہ ''سمندر کے ہوتے ہوئے میں پیاسی کیوں؟''میں نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے بلو سے کہا''بلو ابھی ابھی تو چائے پی ہے۔''بلو نے بھی مزید اصرار نہیں کیا۔۔اس نے اپنی حسین زلفیں میرے کندھے پر پھیلا دیں۔اس کے ریشمی کالے سیاہ خشکی اور سکری سے پاک چمکدار بال فضا کے اندھیرے میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔اس کے بالوں کے درمیان مانگ پر اکثر جوئیں اٹھکیلیاں کیا کرتی تھیں لیکن آج سردی کے باعث وہ اس پگڈنڈی پر دور دور تک نہیں دکھ رہی تھی۔بلو نے ایک جھٹکے سے بال میرے چہرے پر پھیلائے تو 4 جوئیں اڑ کر فوارے کے تالاب میں جا گریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اللہ نے ان ''حشرات الزلف'' کو بے زبان نہ بنایا ہوتا تو بے شک یہ جوئیں چیخ چیخ کر بلو کو اسمبلی ہال کی زبان میں بہت کچھ کہہ چکی ہوتیں۔۔

میں بڑبڑایا۔۔''بلو میرے خیال میں ٹھنڈ زیادہ ہوگئی ہے۔''اس نے دھیرے سے ''ہاں'' کہا اور تالاب کے پانی میں مرغولے کھاتی روشنی کو دھکیلتی، اور پانی کی چھینٹیں میرے اوپر پھینکنے لگیں اس کی اس ادا میں غضب کا سحر تھا ۔۔میں بے اختیار اٹھا اور اسکے چہر ے پر جھک گیا۔اس کے چلبلے پن نے مجھے زور سے دھکا دے کر تالاب میں گرا دیا۔۔میرے گرنے سے پانی میں اک شور برپا ہوا اور پھر یکدم خاموشی چھا گئی۔تالاب سے باہر اس کے ''نقرئی'' قہقہے گونج رہے تھے۔۔اور میں تالاب کے پانی میں بری طرح ٹھٹھر رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد دو بلبلوں کی آواز نے فضا کو مزید ''مترنم'' کردیا جو ٹھیک میری پیٹھ کے عقب سے آئے تھے۔۔ان بلبلوں سے ساری آبی حیات فنا ہوگئی ،اور تو اور کچھ دیر تک مجھے بھی سانس لینے میں کافی دشواری ہوئی۔۔۔۔۔۔ لیکن تاحال میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ تالاب کا کوئی اندرونی میکنیزم تھا یا پھر میرے دوزخ شکم کی کھلبلی۔۔۔۔۔۔

بہرحال بلو نے ہاتھ بڑھا کر مجھ کو پانی سے باہر کھینچ نکالا میں نے خفگی سے بلو کو دیکھا لیکن اس کی جھیل سی گہری آنکھیں اور آنکھوں میں کالے کالے انڈے،اس کے دو دودھیا معصوم گال اور ان پر اسکی مسکراہٹ سے پڑنے والے گڑھے،اس کے ہونٹ اور اس پر کالا تل۔۔۔یہ سب کالی چیزیں میری بے لوث اور لازوال محبت کی عکاس تھیں میرا غصہ کہیں گم ہوگیا۔۔اور پھر اس نے جب پہلی دفعہ میرا نام پکارا تو پوری فضا مہک اٹھی۔میری روح اس کے لفظوں کی خوشبو سے معطر ہوگئی۔میری محبت کی بوندوں کی چھما چھم سے اس کا بدن کانپ رہا تھا۔۔میں اپنا چہرہ اس کے کان کے قریب لایا اور آہستہ سے سرگوشی کی''تم نے صبح دانت پیسٹ نہیں کیے۔''یکدم اس کے کھلے گالوں،ہونٹوں اور چمکتی آنکھوں میں افسردگی چھا گئی اور آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے اور جلد ہی اس کی دودھیا گالوں پر آنسووں کی ایک قطار بن گئی۔۔اس کے اشکوں نے اس کی آنکھوں کے کیچڑ بھی دھو ڈالے۔۔بلو روہانسی ہو کر بولی''گھر میں پانی نہیں تھا۔۔''

میں نے موقعہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کو دلاسہ دیا۔''کوئی بات نہیں میں بھی مہینے بعد آج اس فوارے میں نہایا ہوں۔''یہ سن کر اس کی جان میں جان آئی اور ہم پھر سے ایک دوسرے میں مگن ہوگئے۔

مجھے یاد نہیں کہ میں نے ایسا کیا کہا کہ وہ مجھے مارنے کے لیے دوڑی تھی۔دفعتا اس نے میرے پاؤں سے کنگ سائز جوتا نکالا اور مجھے مارنے کے لیے ہوا میں بلند کیا۔۔ابھی جوتا میرے چہرے تک نہیں پہنچا تھا کہ بلو بے ہوش ہو کر گر گئی۔بلو کو بے ہوش دیکھ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔میں پریشان ادھر ادھر بھاگتا رہا اور یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ بلو بے ہوش کیونکر ہوئی۔۔تعجب ،حیرانی اور پریشانی نے چند لمحوں کے لیے میرے دماغ کو ماؤف سا کردیا۔۔۔نگاہ دوڑانے پر معلوم ہوا کہ آس پاس کے سارے سرسبز پودے بھی مرجھا گئے ہیں۔اس سماں نے ماحول میں مزید خوف و ہراس بھر دیا۔۔

میں جلد ہی معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔۔نہ ہی بلو میرا جوتا اتارتی اور نہ ہی میری جرابوں کی بو سے فضا میں بیہودگی،افسردگی اور فرسودگی چھاتی اور نہ ہی بلو بے ہوش ہوتی۔۔لیکن میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میرے صرف ناک کے بال جلے تھے۔۔

کچھ دیر بعد بلو ہوش میں آگئی۔۔صبح کی سرمئی چادر دھیرے دھیرے رات کے اندھیرے کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی۔۔بلو میرے قریب سرکتی اور میں بلو کے قریب۔کچھ لمحوں بعد ہم مزید نہیں سرک سکتے تھے۔۔ہوا کے ٹھنڈے مگر ہلکے جھونکے نے اس کی زلفوں کو اس کے چہرہ پر لاکھڑا کیا اور شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔۔

بلو ڈرتی،سمٹی اور جھجکتی اس کی زبان اس کے الفاظ کا ساتھ نہ دے پائی۔۔''اس بے چینی اور بے تابی کو چھوڑنا ہوگا سکوت توڑنا ہوگا۔''میں بلو سے گویا ہوا۔۔بلو میری طرف دیکھ کر مسکرائی آخرکار اپنی تمام تر قوت،ہمت اور حوصلہ اپنی زبان پر لے ہی آئی۔وہ ''ایلو'' کہہ کر پھدکتی ہوئی شرمائی اور اپنے گھر کی طرف دوڑی۔اس نے وہ الفاظ کہے جس کے لئے میں نہایت بے تاب تھا۔اس کے جانے کے بعد میں دیر تک اس کی راہ کو دیکھتا رہا۔اس کے موہ لینے والے قہقہے اور دلآویز مسکراہٹ میری سوچوں کا مرکز تھی اور میں دل میں اقرار کرتا رہا۔۔''ایلو ٹو بلو ایلو ٹو۔۔''