Afsana 045 آتشِ عشق از وش

آتشِ عشق
از وش

"کیا کوئی راہ ایسی نہیں جس پر چل کر ہم ۔۔۔ “
"کسی اور راہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جب میرے والدین رضا مند نہیں تو نہیں۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے خلاف جا کر آپ کا ساتھ دوں گی تو یہ آپ کی غلطی ہے۔“
"نہیں ۔۔ نہیں۔۔ میرا ایسا کوئی مطلب نہ تھا۔“
"بہتر یہی ہو گا کہ آپ مجھے بھول جائیں۔اگر میرے والدین اس رشتے کے لیے مان جاتے تو میں یہ ساتھ بخوشی قبول کرتی۔لیکن اب نہیں“
"کیا کسی کو بھولنا اتنا آسان ہے؟“
"میں نہیں جانتی ۔اب میں چلتی ہوں۔ اور امید کرتی ہوں کہ اب آپ مجھے دوبارہ پریشان نہیں کریں گے۔ اللہ حافظ ۔ ۔ ۔“

*************

"اور پھر میں چلی گئی ۔اُسے وہاں بیٹھا چھوڑ کے۔اس کی آنکھوں میں کیا تھا میں دیکھ نہ پائی۔ ۔ اس کی نظر سے نظر ملانے کا حوصلہ تھا ہی کب مجھ میں؟ کیا انسان کسی کو جلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتا ہے؟

میں نے اپنے گھر والوں کی عزت اور ان کی رضا کے لیے ایک زندہ اور زندگی سے بھرپور وجود کو زندگی کی رعنائیوں سے محروم کر دیا اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی ان کہی اور ان مانی محبت کو اپنے دل کے قبرستان میں ہی دفنا دیا۔ میں نے شادی تو کر لی لیکن کبھی اس کو بھلا نہ پائی اُس دن سے آج تک وہ میرے ساتھ میرے احساس میں زندہ ہے۔

آج۔ ۔ ۔آج میری بیٹی۔ ۔ ۔ میری زندگی کا محور بھی اسی دوراہے پہ کھڑی ہے۔ ایک طرف اُس کی محبت ہے جس کو پانے کے لیے وہ اپنی جان بھی دے سکتی ہے اور ایک طرف اُس کی ایسی ہی زندگی جیسی میں نے گُزار دی۔ ساری زندگی، زندگی کے لیے ترس ترس کے۔ کہتے ہیں بیٹیاں ماؤں کا پرتو ہوتی ہیں۔ تو کیا میری بچی کے نصیب بھی میرے جیسے ہی ہوں گے؟ کیا وہ بھی ساری زندگی اپنے کھوکھلے وجود کو لے کر پھرتی رہے گی؟ نہیں۔ ۔ نہیں۔ ۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ ایک ماں کی محبت کسی سے اپنی بیٹی کی محبت دامن پھیلا کر مانگ لے گی۔ میرا اللہ مجھے دوسری بار اس آزمائش میں نہیں ڈال سکتا، کہ اب اس دُکھ کا بار اُٹھانے کی مجھ میں ہمت نہیں۔ ۔ ۔ اب اور نہیں۔ ۔ ۔"
اُس نے اپنے دل کی ہر بات اپنی ہمیشہ کی دوست اور ساتھی ڈائری سے کہہ کر اُسے بند کیا۔ آنسو ایک مسلسل روانی سے اُس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ اُس کی آبلہ پائی کی مسافت تو اب تک جاری تھی۔ ۔ ۔ پھر یہ نئی آزمائش کیسی؟ وہ اپنے رب کے حُضور گڑگڑا کر اُس سے اپنی بیٹی کی محبت مانگ رہی تھی۔ اس بات سے لاعلم کہ دینے والا بہتر جانتا ہے، کہ کیا بہتر ہے۔ لیکن اُسے اپنی بیٹی کے لیے اُس کی محبت چاہیئے ہی چاہیئے تھی۔ کبھی کبھی کسی کی ضد اس لیے بھی پوری کر لی جاتی ہے کہ اُسے آئندہ
کے لیے سبق سکھا دیا جائے۔ صُبح خان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔“

*************

"ماما ۔۔ میں سچ میں نہیں جانتی کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ مجھے اس سب کا تب پتا چلا جب خود کو روک پانا میرے اختیار میں نہ رہا۔آئی ایم سوری ماما ۔ ۔ ۔ آپ جانتی ہیں نا کہ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔ لیکن مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ مجھے کیا ہوا۔“
"بس میرے بچّے ، بس ۔میں جانتی ہوں۔میں خود جاؤں گی اس شخص کے پاس اپنی بچّی کی خوشیاں مانگنے۔لیکن تم اٹھو ،اٹھ کر اپنا حُلیہ درست کرو یہ کیا بیماروں والی شکل بنائی ہوئی ہے۔“

*************

"صاحب ! جی آپ سے ملنے کوئی خاتون آئی ہیں۔کہتی ہیں ضروری ملنا ہے۔“
"اچھا انہیں بٹھاؤ میں آتا ہوں۔“ مسٹر اسجد علی نے کتاب پڑھتے پڑھتے جواب دیا۔اور ملازم کے جاتے ہی اپنے مہمان سے ملنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

*************

کبھی کبھی وقت تھم ہی نہیں جاتا،بلکہ واپسی کا سفر بھی کر لیتا ہے۔ وہ سب باتیں،سب یادیں جو آپ کا ماضی ہوتی ہیں اور آپ انہیں دفنا بھی دیتے ہیں لیکن وہ ساری زندگی آپ کے ساتھ ایک احساس ۔ ۔ ۔ ایک چُبھتا ہوا احساس بن کے رہتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی تب بھی ہوا جب اسجدعلی نے اُسے لاؤنج میں اپنا منتظر پایا جس کا منتظر وہ خود ایک زمانے سے تھا۔ کبھی کبھی زندگی یونہی ایک پل کے لیے مہربان بھی ہو جایا کرتی ہے۔ جلتے صحرا میں ایک بادل کا ٹُکڑا آتا ہےاور ریت کی پیاس کو مزید بڑھا کر چلا جاتا ہے۔

"آپ۔ ۔ ۔؟"

جب اپنے میزبان کو دیکھنے کے لیے صبح خان نے نظریں اُٹھائیں تو اُسے وہ چہرہ دکھا جسے نہ دیکھنے کی دعا اور دیکھنے کی خواہش اُس نے ہر پل کی تھی۔ ۔ ۔

"آپ پلیز بیٹھیں نا۔ ۔ "
"کیا آپ ہی ماہین کے۔ ۔ ۔"

"جی میں ہی ماہین کا پروفیسر ہوں۔ اسجد علی۔ اور آپ۔ ۔ ۔"
"میں اُس کی ماں ہوں۔"

دونوں کے بیچ کچھ پلوں کی خاموشی حائل ہو گئی۔

"میں آپ سے کہنا چاہتی تھی کہ۔ ۔ ۔"
"میں جانتا ہوں کہ آپ یہاں کیوں آئیں ہیں۔ ۔ لیکن کیا اب بھی آپ وہی کہنا چاہتی ہیں جو کہنے آپ یہاں آئی تھیں؟"

یہ وہ سوال تھا جس کا تصور صُبح خان نے ساری زندگی بھی نہ کیا تھا۔ اگر جواب ایک عورت نے دینا ہوتا تو وہ یقیناً ایک پل کی تاخیر کے بغیر ہی ٰنہٰ میں آ گیا ہوتا۔ لیکن فیصلہ ایک ماں کو کرنا تھا۔ اُس نے بھی ایک پل کی تاخیر کے بغیر اپنا فیصلہ لے لیا اور اپنی تمام تر ہمت جمع کرتے ہوئے بولی۔

"اگر آپ بھول گئے ہیں تو میں آپ کو یاد کروا دیتی ہوں کہ صُبح خان آج بھی اپنے ارادوں اور سوچ کی اُتنی ہی مضبوط ہے جتنی کبھی ہوا کرتی تھی۔ میں اب بھی اپنے یہاں آنے کے مقصد پر قائم ہوں اور آپ کے جواب کا انتطار کروں گی۔" یہ کہنے کے بعد وہ وہاں نہیں رُکی۔ وہ رُک ہی نہیں پائی۔ گاڑی میں بیٹھ کر اُسے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اگر اب بھی وہ نہ روئی تو اُس کا دل پھٹ جائے گا۔

*************

السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔ مسز خان

یہ نام لینے کی اجازت جو مجھے مل جاتی تو ۔ ۔ ۔ ۔ محبت کو نہ پانے کا کرب جو جان جاتے ہیں وہ اس کرب سے کسی دوسرے کو روشناس نہیں کرایا کرتے۔ اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ میں آپ کی بیٹی کو وہ دکھ نہیں دوں گا جس سے میں آج تک گُزر رہا ہوں۔ مجھے ماہین خان کے ساتھ رشتہ قبول ہے لیکن اس سب میں میری اتنی گزارش ہے کہ ہمارا آمنا سامنا جتنا ممکن ہو اتنا کم ہو۔

والسلام

*************
ڈیئر ڈائری۔ ۔ ۔

آج ماہین کو اُس انسان کے ساتھ رُخصت کرتے ہوئے میں خود ہی اپنے احساسات کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ چھ ماہ سے ماہین اس انسان کے لیے اپنا آپ فراموش کیے ہوئے تھی۔ اُس کا یہ جنون۔ ۔ یہ محبت۔ ۔ اُس کی نہیں تھی۔ یہ اُس کی محبت کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ محبت تو اس کے اس دُنیا میں آنے سے پہلے ہی میرے وجود میں بس چُکی تھی۔ لہو کی طرح میری رگوں میں دوڑتی تھی۔ پھر یہ محبت ماہین نے کیسے۔ ۔ ۔؟

ایک بار ایک کتاب میں اتصالِ مائع پڑھا تھا۔ تب کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جذبے تو مائع سے بھی زیادہ نازک اور بہہ جانے والے اور بہا لے جانے والے ہوتے ہیں، تو کیا ان کا اتصال ممکن ہے؟ ھاں اسجد علی کی محبت کو میں نے اپنے وجود سے ماہین کے وجود میں منتقل کیا۔ جب صُبح خان ماہین خان کو زندگی دے رہی تھی تبھی اُس نے اُسے اپنی محبت بھی دے دی۔ اب اُس محبت کی باتیں لکھنے کا میرا کوئی حق نہیں۔"

یہ لکھتے ساتھ ہی اُس نے اُس ڈائری کا ورق ورق پھاڑ دیا۔ اور اُس آگ کی نذر کر دیا۔ تاریک کمرے میں ہلکی لیمپ کی روشنی میں جلتے ہوئے ڈائری کے صفحات کی روشنی کا عکس اُس کے چہرے پر بھی پڑ رہا تھا۔ اب اُسے بھی ساری زندگی ایک ایسی ہی آتش میں جلنا تھا۔ ۔ ۔ آتشِ عشق میں۔ ۔ ۔