Afsana 046 آخر محبت مر گئی از نامعلوم

آخر محبت مر گئی
از
نامعلوم

السلام علیکم ماموں

تم یہاں میرے آفس میں ، تم کو گھسنے کس نے دیا، گیٹ آؤٹ فرام ہیر،

ماموں ایک منٹ پلیز میری بات تو سنیں،

یو شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ،

واچ مین نکالو اس کو آفس سے میرے اور اگر نیکسٹ ٹائم یہ آفس میں آیا تو تم کو جاب سے نکال دوں گا۔

ماموں پلیز ایک بار میری بات سن لیں ، ایسا مت کریں وہ مر جائے گی ، پلیز اتنا ظلم مت کریں ، میری ایک دفعہ بات تو سنیں، ماموں پلیز ، ماموں پلیز ، ماموں پلیز۔ ۔ ۔
عمران ماموں ماموں پکارتا رہا مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی اور آخر آفس سے نکال کر ہی دم لیا۔

گھر میں داخل ہوتے ساتھ ہی عمران کی امی نے غصے میں پوچھا تم عاشر کے آفس گئے تھے ؟

شاید ماموں نے امی کو فون کر کے لڑائی کی ہے میرے ان کے آفس جانے کی وجہ سے اس نے سوچا وہ خاموشی سے سر جھکائے ہوئے چل پڑا۔

میں کیا پوچھ رہی ہوں تم عاشر کے آفس گئے تھے ؟

جی امی عمران نے آہستہ سے جواب دیا

کیوں گئے تھے جب تم کو پتہ ہے اب ہمارا ان سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔

امی ایسے تو نہ بولیں وہ آپ کا سگا اور چھوٹا بھائی ہے۔ اور مہرین آپ کی بہو اور میری بیوی ہے۔

نہیں اب کوئی رشتہ نہیں رہا میرا اس سے ، وہ تب ہی ٹوٹ گیا تھا جب اس نے تمھارے باپ سے رشتہ توڑا تھا، اور دولت اور لالچ کی ہوس نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی جس کی وجہ سے وہ سگے اور پرائے کی پہچان بھول گیا تھا اور رہی تمھاری اور مہرین کی بات وہ تو صرف نکاح تھا اور یہ رشتہ بھی اس پیشی میں ٹوٹ جائے گا۔

ویسے بھی عاشر اپنی بیٹی کی شادی کر رہا ہے کسی دوست کے بیٹے سے عمران کی ماں نے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے جواب دیا۔ خبردار اگر دوبارہ اس کے آفس یا مہرین سے ملنے یا فون کرنے کی کوشش کی تو اور اب بھول جاؤ اسے، یہ تمھارے اور مہرین دونوں کے لئے اچھا ہے ۔

مگر امی کیسے بھولوں ، وہ بچپن سے مجھ سے منسوب ہے ، پورے خاندان کا بچہ بچہ بچپن سے لے کر اب تک جانتا ہے کہ میں اور مہرین ایک دوسرے کے لئے ہیں اور ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہم دونوں کی شادی ہو گی ، اب جو باتیں ہمارے دل و دماغ میں بیٹھ چکی ہیں ، ان کو کیسے بھول جائیں بولیں کیا یہ آسان ہے؟

امی میں مہرین سے بہت پیار کرتا ہوں اور وہ بھی ، مہرین میری بیوی ہے اور شاید آپ بھول رہی ہیں کہ ہمارے نکاح کو 2 سال ہو گئے ہیں کیا ہوا جو رخصتی نہیں ہوئی تو۔ ہم نے اپنا بچپن سکول، کالج جوانی اور اب یونیورسٹی اکٹھے رہ کر گزاری ہے ۔ اب تو ہم دونوں کو ایک دوسرے کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ بچھڑ کر جینا آسان نہیں ہے ۔

امی ان کو روکیں وہ اس کی شادی مت کریں وہ مر جائے گی اور زندہ میں بھی نہیں رہوں گا یہ میں آپ کو بتا دوں۔

یہ کہاں کا انصاف ہے جب چاہا آپ بہن بھائی نے رشتہ جوڑ لیا، نہ میری نہ مہرین کی مرضی پوچھی اور جب چاہا رشتہ توڑ دیا تب تو شاید ہم بچے تھے اس لئے آپ لوگوں نے مرضی پوچھنا ضروری نہیں سمجھا، مگر امی اب تو ہم سمجھدار ہیں وہ میرے نکاح میں ہے یہ سب جاننے کے باوجود آپ لوگ اپنی آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے ہمارے اس رشتہ کو توڑنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو ہماری کوئی پرواہ نہیں، آپ لوگوں کو ہماری زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

میں مہرین کو لے کر کہیں چلا جاؤں گا آپ لوگوں کی دنیا سے دورپیچھے آپ خاندان والے جیسے مرضی لڑتے رہیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔

اتنی تقریریں کر کے مجھے سمجھاؤ مت بس بول دیا ہے ، اور خبردار اگر ایسی کوئی حرکت کر کے ہماری ناک خاندان میں کٹوائی تو ۔ میں نے بولا نا اب ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں جب ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں تو تم ہمارے بیٹے ہو اور تم پھر کیسے ان سے تعلق جوڑ سکتے ہو۔

مہرین

جی امی

بیٹا کیا ہوا ہے تم نے ثمرین کو یہ کیوں بولا کہ آپ لوگ بازار جائیں اور جو جو شاپنگ کرنی ہے کر لیں۔ شادی تمھاری ہے اور تم جانے سے انکار کر رہی ہو۔

مہرین نے اپنی امی کو دیکھا تو بولی ۔ امی آپ جانتی ہیں میں شادی شدہ ہوں ، عمران میرا شوہر ہے اور آپ مجھے میری ہی شادی کی شاپنگ کے لئے بول رہی ہیں۔ امی ابو کو بولیں میں ایسا نہیں کر سکتی ، میں مر تو سکتی ہوں مگر نہ میں عمران سے رشتہ توڑوں گی اور نہ ہی کسی اور سے شادی کا سوچوں گی۔

اگر آپ لوگوں نے ہمارا رشتہ تڑوا دیا تو یاد رکھیں آپ مجھے کسی اور سے شادی پر مجبور نہیں کر سکتیں ۔

مہرین کی ماں اپنی بیٹی کے پھول جیسے چہرے کو زردی مائل دیکھ کر دل ہی دل میں کانپ گئی ، اور اس کی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے آنسو کسی خاموش طوفان کی نشاندہی کر رہے تھے۔

پھر عدالت میں اگلی پیشی پر عمران اور مہرین کی طلاق ہو گئی۔ وہ رشتہ جو پیار سے بھرپور تھا، ایک خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا اور وہ دونوں جنہوں نے زندگی کے ہر لمحے میں مرنے اور جینے کی قسمیں کھائی تھیں وہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

آج عاشر کے گھر میں بہت رونق تھی ، اس کی بیٹی مہرین کی شادی شہر کے سب سے رئیس خاندان میں ہو رہی تھی ، اس کی کوٹھی دلہن کی طرح سج رہی تھی۔

دوسری طرف عاشر کی بہن کا گھر تھا جہاں کے افراد گم صم تھے ، اور رات کے اندھیرے کے ساتھ ہی اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے تھےشاید یہی ایک علاج تھا اپنے گرتے ہوئے آنسوؤں کو دوسروں سے چھپانے کا۔

شہر کی سب سے بڑی بیوٹیشن نے مہرین کو سجایا تھا ۔ وہ بالکل آسمانی حور کی طرح لگ رہی تھی مگر وہ تھی کہ بس زمین کو تکے جا رہی تھی ایک بے جان گڑیا کی طرح ۔ ایک لاوا سا اس کے دماغ میں پھوٹ رہا تھا جو کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتا، یہ سوچ کہ عمران جو اس کے ہر موسم ، ہر خوشی، ہر غم کا ساتھی تھا جس کے ساتھ وہ ہمیشہ رہی، وہی اس کا دوست تھا، وہ ہی اس کی سہیلی تھی، دونوں کی زندگی میں بچپن سے اب تک ایک دوسرے کے علاوہ کوئی اور تھا ہی نہیں ۔ اور آج کوئی اور اس کی زندگی میں داخل ہونے والا تھا۔ اس کی ذات کا مالک بننے والا تھا۔

ادھر شور اٹھا کہ بارات آگئی بارات آگئی، اور سب اس کا کمرہ چھوڑ کر باہر بھاگے ساتھ ہی مہرین کے دل کی دھڑکن بڑھنا شروع ہوئی۔ بڑھتی گئی۔ دماغ کی رگوں میں خون کی گردش بڑھتی گئی اور اس کا سر آہستہ آہستہ جھکتا گیا جھکتا گیا۔ اور پھر وہ بیڈ کی سائیڈ پر گر گئی ہمیشہ نہ اٹھنے کے لئے۔

دوسرے گھر میں عمران کا ذہن بھی اس حقیقت کو ماننے سے انکاری تھا۔اور وہ بھی ماضی کی سوچوں میں گم صم یہی سوچے جا رہا تھا کہ وہ کیسے زندہ رہے گی ، میں کیسے زندہ رہوں گا۔ پھر اس کی بھی وہی حالت ہوئی دماغ میں یادوں کے چلتے جھکڑکو ذہن کی رگیں برداشت نہ کر پائیں اور وہ بھی اسی لمحے اپنے بیڈ کی سائیڈ پر گر گیا جس لمحے مہرین گری تھی ہمیشہ نہ اٹھنے کے لئے۔

اور آخر محبت مر گئی۔ وہ جو بنے ہی اک دوجے کے لئے تھے، بڑوں کی انا اور جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے اور امر ہو گئے۔ جب ایک ہی وقت میں دونوں کے گھروں سے محبت کے جنازے نکلے تو ان کو اپنی غلطی کا بڑی شدت سے احساس ہوا پھر سب کو پتہ چلا کہ محبت اگر سچی ہو تو زندگی کی ڈوریں اک دوجے سے بندھی ہوتی ہیں۔ جسم تو دو ہوتے ہیں مگر روح ان میں ایک ہی ہوتی ہے۔ جو جب جسم سے نکلتی ہے تو جان دونوں کی جاتی ہے۔

ختم شد