ہاشمی نامہ از ہاشمی

السلام و علیکم

لوجی پاسے پاسے ہوجاؤ ہاشمی آگیا جے۔

میں مشکور ہوں فرخ بھائی کا کہ انھوں نے مجھ کو متحرک کیا اور یہ تحریر لکھنے پر اکسایا،اس تحریر کو لکھنے کے لئے مجھے ماضی میں جھاتی مارنی پڑی جو ایک مشکل کام تھا۔ میں کوئی مزاح نگار نہیں ہوں ہوسکتا ہے کہ میرے ماضی کے کچھ لمحوں اور کرداروں کو پڑھ کر آپ کے لبوں پہ مسکراہٹ نہ آئے اس کے لئے پہلے ہی معذرت، میں نے انتہائی سنجیدگی سے یہ مزاحیہ تحریر لکھنے کی کوشش کی ہے اور آپ دوستوں کی نذر

بذلہ سنجی لاہوریوں کا خاصہ ہے جس کو عرف عام میں جگت بازی بھی کہتے ہیں۔ اسٹوڈنٹ لائف میں اپنی حالت یہ تھی کہ جیسے ریس کا گھوڑا ہوتا ہے جو میدان میں دوڑنے کے لئے بیتاب ہوتا ہے اور فرنٹ گیٹ کھلتا ہے اور پیچھے سے اس کو لکڑی کا تختہ مار کر ہانکا جاتا ہے اور وہ چھلانگ لگا کر میدان میں پیر دھرتا ہے اور پھر چل سو چل۔ نہ اس گھوڑے کو پتا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونا ہے نہ ہم کو خبر تھی۔ کیا زمانہ تھا طالبعلمی کا، ابتدائی تعلیم میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول مزنگ سے حاصل کی بہت شغل کیا کلاس میں میرے ساتھ میرا نیپی فرینڈ ہوتا تھا نصیر عرف بابا۔۔۔۔۔۔یہ عرفیت ہمارے لاہور میں عام ہے ہم لوگ اصل نام سے ایک دوسرے کو کم ہی پکارتے ہیں کسی کا محبت سے اور کسی کا خار بازی میں نام رکھ دیتے تھے پھر اسی عرفیت سے اس کو پکارتے تھے چاہے اگلا خوشی سے قبول کرے یا پھر غصہ کرے،ایک دوست کا نام وسیم تھا چہرے پر پمپلز تھے اور وہ شیو بڑھائے رکھتا تھا اس کو ہم خوبصورت نوجوان کہتے تھے، ایک دوست تھا اس کے والد صاحب پلاسٹک کے پائپ بناتے تھے اور مولوی ٹائپ گھرانہ تھا ہم نے اس کا نام پپولوی رکھ دیا، ایک لڑکا گلوکارہ نورجہاں کا بہت فین تھا اور ہے اب بھی، اس کے مطابق کوئی استاد کوئی خان صاحب نورجہاں کے پائے کا گلوکار نہیں ہے ہم نے تنگ آکر اس کا نام نورجہاں کا پتر ڈال دیا، اس کا ذکر کرنا ہوتا تو کہتے تھے نورجہاں دا پتر کدھر ہے نورجہاں کا پتر یہ کہتا ہے۔ خیر بات تو ہو رہی تھی کہ میرے ساتھ نصیر عرف بابا ہوتا تھا ہم دونوں اکٹھ کی وجہ سے ہمارا کافی رعب تھا کلاس میں مگر ایک دن میرا رعب مٹی میں مل گیا۔ سردیوں میں ہمارے ٹیچر سر سلیم ہم کو کلاس میں بٹھا کر خود دھوپ سینکنے باہر گراؤنڈ میں چلے جاتے تھے دوسرے ٹیچرز کے پاس، پندرہ بیس منٹ ہم ریلیکس ہوتے تھے ایک دن وہ باہر گئے تو میں بھی نکل گیا پانی پینے کے بہانے، پانچ منٹ بعد واپس آیا تو کمرے کا دروازہ بند تھا سردیوں کے دن تھے، میں نے دھڑام سے دروازہ کھولا اور غزل گنگناتے ہوئے داخل ہوا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس کا حال سنائیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات پر غور نہیں کیا کہ کمرے میں پن ڈراپ سائلنٹ کیوں ہے وہ تو دو قدم آگے بڑھ کر پتا چلا کہ سر سلیم 2 منٹ بعد ہی واپس آگئے تھے کسی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ خود سوچیں کہ میری کیا حالت ہوئی ہوگی۔ خیر سر سلیم نے کہا ہاشمی پتر تیرے عشق کو بعد میں منائیں گے پہلے توں ایتھے ذرا کن پھڑ اور ہاشمی صاحب پھر انسان سے مرغا بن گئے کلاس میں۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں قسم واٹ لگ گئی رعب کی اور سکولنگ کے اختتام تک کلاس فیلوز انجوائے کرتے رہے اس سین کو۔ ایک کلاس فیلو ہوتا تھا نام اس کا خرم تھا مگر عرفیت میں اس کو ہم بونگا کہتے تھے اس میں ایک کوالٹی تھی کہ اس کو اردو پڑھنی نہیں آتی تھی مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ بائیوں کیمسٹری اور فزکس پڑھ لیتا تھا اردو کے ٹیچر سر عبدلمونم خصوصی طور پر اس کو کھڑا کرکے اس سے اردو سنتے تھے جب وہ اٹک اٹک کر پڑھتا تھا تو ساری کلاس ٹھٹھہ کرتی تھی اور وہ خود بھی ہنس رہا ہوتا تھا اپنی حالت پر، میرا میتھ کمزور تھا اور بابے کو انگلش کا ککھ نہیں پتا تھا میڑک کے امتحان میں ہمارے رولنمبر آگے پیچھے تھے میں آگے اور بابا میری پچھلی سیٹ پر بیٹھتا تھا، میتھ اور انگلش کے پیپرز میں ہم نے امداد باہمی کے تحت شیٹس چینج کرکے ایک دوسرے کی تھوڑی تھوڑی مدد کی، خرم عرف بونگا پانچ پیپرز میں رہ گیا کافی سال بعد ملا تو بتایا کہ ابا جی نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اگر تیری شادی تک یا شادی کے بعد تک بھی اگر میٹرک نہ ہوا تو پھر بھی کوشش جاری رہے گی، اس شرمو شرمی میں اس نے محمود غزنوی کو واضح مارجن سے شکست دیتے ہوئے چوتھی کوشش میں میٹرک کو فتح کرلیا۔ بخیرو عافیت میٹرک پاس کرکے ہم کالج پہنچے تو وہ الگ ہی دنیا تھی۔
پہلا پیریڈ اردو کا ہوتا تھا جس پر مجھے اپنی طرف سے کافی عبور تھا اس لئے شاذونادر ہی کلاس میں جاتا تھا ہمارے پرنسپل صاحب ایک دبنگ قسم کے ریٹائرڈ فوجی تھے ریش مبارک ماشاءاللہ کافی طویل تھی ان کی شکل آپ یاد کرنے کی کوشش کروں تو اسام بن لادن کا چہرہ ذہن میں آتا ہے ٹوپی اور ریش ان کا ٹریڈ مارک تھے ہم ان کو دور سے دیکھ کر کینٹین اور گراؤنڈ سے دوڑ لگا دیا کرتے تھے،اس کا تدارک یہ کیا انھوں نے بعدازاں ک اس ٹوپی کو اتار کر منہ پر رکھ لیا کرتے تھے جسیے دولہا رومال رکھتا ہے منہ پر، اپنے تئیں وہ سمجھتے تھےکہ داڑھی کو زرہ بند کرکے پہچان میں نہیں آئیں گے مگر ہم چوکنے رہا کرتے بارہا وہ جھاڑیوں درختوں کی اوٹ میں کرالنگ کرکے ہم تک پہنچ کر ایک دم خودکش حملہ کردیتے تھے اور جو ہتھے چڑھ جاتا تھاوہ جام۔ پھڑکولا پیتا تھا، پھڑکولا کوئی کوکاکولا ٹائپ چیز نہیں ہے یہ خالصتاً کٹ ہے جو راوی(دریا کی نہیں اپنی بات کررہا ہوں) کے کن سے بارہا گزری ہے یعنی کنوں کن بچ گیا ایک بار تو اپنے فرینڈ کو پرنسپل کی طرف دھکا دے کر بھاگ گیا جیسے مشرف نے اپنے بندے پکڑ پکڑ امریکہ کے حوالے کیے، اس سیفٹی ایکٹ کو سب نے فرینڈشب ایکٹ کے خلاف قرار دیا جس کی وجہ سے کمینوں نے آج سے 12 سال پہلے مجھ سے 300 روپلی کا کھانا کھایا اور سارا مہینہ میں نے سسکتے ہوئے گزارا سیگرٹ بھی مانگ مانگ کر پیے، ہمارا گروپ 35 لڑکوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا جو مختلف ڈیپارٹمنٹس سے تعلق رکھتے تھے اور کالج میں رعب بھی تھا یونین (ایم ایس ایف) والے ہم کو پکڑ پکڑ کر بٹھاتے تھے اپنے پاس۔
کیا زمانہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عجب بےساختگی تھی بے دھڑک کہہ دینا مصلحت پسندی موقع کی مناسبت سے بات کرنے کا رجحان نہ تھا، چونکہ میں ایک نالائق قسم کا طالبعلم تھا اس لئے والدین نے اکیڈمی میں بھرتی کروایا ہوا تھا وہاں باقاعدگی کے ساتھ جاتے تھے کیونکہ وہ مخلوط درسگا تھی زنانیاں بائیں طرف بیٹھتی تھیں اور ہم اپنی نکی نکی مردانیاں لے کر سجے پاسے بیٹھ جاتے تھے سر بلیک بورڈ پر میتھ کا سوال حل کررہے ہوتے تھے اور مجھ سمیت نوجوان کن اکھیوں سے لڑکیوں کو دیکھ رہے ہوتے تھے وہ تو ہوش تب آتی تھی جب میری ٹنڈ پر سر چاک مار کر کہتے تھے ہاشمی صاحب ادھررررررر۔ تو ہڑبڑا کر سر کی طرف متوجہ ہوجاتے اور وہ ناہنجار ناعاقبت اندیش لڑکیاں کھی کھی کرنا شروع کردیتی انھی رویوں کے بناء پر میں نے ان سے کنارہ کرلیا اور ان میں سے کسی سے شادی کا ارادہ ترک کردیا کہ ساری عمر مجھے کہ مینہے مارنے ہیں کہ تم وہی ہو نا جو مجھ کو لک لک کر دیکھتے تھے ۔ سر نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہم کو آگے بٹھانا شروع کردیا اور اور خواتین کو پیچھے کلاس ختم ہوتی تو وہ پہلے کھسک لیتیں اور سر ہم کو اپنی تشریف ہلکی سی بھی نہیں کھسکانے دیتے تھے جب تک ان کی تسلی نہ ہوجاتی۔ ایک دن سر ہم کو کیلکس کا سوال سمجھا رہے تھے جو کافی مشکل تھا ایک بار حل کیا پھر دوسری بار حل کرکے سمجھایا اور پوچھا کہ کچھ پلے پڑا لڑکیوں نے تو نمبر بنانے کے لئے فٹافٹ ہاتھ بلند کردیے لڑکے کچھ تذبذب کا شکار تھے سر نے ہماری شکلیں دیکھیں تو ایک بار پھر سوال مٹانے لگے دوبارہ سے حل کرنے کے لئیے اور کہنے لگے میرے ہاتھ گھس گئے ہیں نالائقو تمہیں سمجھا سمجھا کر مگر کوڑھ مغزو تواڈے پلے کج نئیں پیندا، کیا کروگے تم بڑے ہوکر؟ میں نے بےساختگی میں کہا شادی۔۔۔۔۔۔ اس بات ہر وہ ہاسا بڑا کہ میں خود ہی کچا پڑ گیا، اوپر سے سرسجاد کی گھوری آج تک یاد ہے مجھے۔
رات کی بیٹھک ہوا کرتی تھی جہاں اپنے گلی محلے علاقے کے دوست چائے والے ہوٹل پر اکھٹھے ہوتے تھے رات گئے چائے کے دور کے دور چلا کرتے تھے اور شاعری خیالات نظریات پر بحث وتکرار ہوا کرتی تھی مذھبی عقائد پر تلخ کلامی ہوجایا کرتی تھی کہ آتش جوان تھا تب۔ رات کو اکثر لیٹ آتا تھا مجھے گھر واپسی کی ڈیڈ لائن ساڑھے دس کی ملی تھی جوں جوں میں جوان ہوتا گیا یہ لمٹ بڑھتی گئی اب یہ صبح فجر کی آذان تک ہے، ہمارے گھر کا دروازہ لکڑی کا تھا جس کی کنڈی باہر سے ہاتھ ڈال کر کھولنے کا طریقہ میں نے اپنے چچا سے سیکھا تھا کیونکہ وہ بھی اپنی جوانی میں ایسے ہی حرکتوں میں ملوث پائے گئے جس دن کنڈی میں دادی یا دادا جی چمچہ پھنسا دیتے تھے وہ رات باہر تھڑی پر بیٹھ کر گزارنی پڑتی تھی اور صبح فجر ٹائم جب دادا جی نماز کے لئے مسجد جاتے تھے تو میں دوڑ کر گھر وڑ جاتا تھا، صحن میں دادا دادی اور چھوٹی پھپھو سوتے تھے اور ان کے پاس سے گزر کر مجھے اوپر کی منزل پر جانا پڑتا تھا بہت احتیاط سے چوروں کی طرح دبے پاؤں ان کی منجیوں کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا ویسے تو اندھیرے کے باوجود مجھے سارا نقشہ یاد ہوتا تھا کہ کون سی چیز کہاں پر ہے مگر کہیں غلطی سے کسی چوکی پیڑھی کو ٹھیڈا لگ جاتا تھا تو پھپھی صاحبہ بھتیجا دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک عدد جوتی دادی جی کو ھینڈ اوور کر دیتی تھیں اور وہ اپنے تجرے کو (جو چچا کو مارتے ہوئے حاصل کیا تھا) بروئے کار لاتے ہوئے میر پڑپڑی سیک دیتی تھیں، میں اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ میں نے دادا دادی کے ساتھ کافی ٹائم گزارا اور ان کے ساتھ بہت شرارتیں بھی کیں مجھے یاد ہے دادا مرحوم کو ٹی وی دیکھنے کا بہت چسکا تھا اس زمانے میں صرف پی ٹی وی ہی آتا تھا اور وہ فرمان الٰہی اور قومی ترانہ سن کر ہی ٹی بند کرتے تھے الگ بات ہے کہ زیادہ ٹائم بیٹھے بیٹھے سوتے میں گزر جاتا تھا ہمارا ٹی وی سونی کا تھا پھر چچا نے بھی سونی کا ٹی وی لیا تو ایک دن بیٹھے بیٹھے شغل کا موڈ بن گیا تو میں اپنے ٹی وی کا ریمورٹ لے کر چچا کے پورشن میں آیا اور چھپ کر بیٹھ کر چینل چینج کردیا دادا جی نے پھر پھر پی ٹی وی لگایا تو میں نے آواز اونچی کردی انھوں نے آواز کم کی تو میں نے ٹی وی آف کردیا وہ پریشان ہوگئے ، دادی مرحومہ کو پتا تھا کہ یہ میری کاروائی ہے اس لئے وہ دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھی تھیں، دس منٹ تک یہ سلسلہ چلتا رہا آخر دادا جی نے اٹھ کر ٹی وی بند کردیا اور خاموشی سے فکرمند ہو کر بیٹھ گئے دادی نے انجان بن کر پوچھا کہ ٹی وی کیوں بند کردیا تو وہ کہنے لگے کہ زاہد کی ماں(ڈیڈ کا نام زاہد ہے اس وجہ سے وہ دادی کو زاہد کی ماں کہہ کر مخاطب کرتے تھے) نواں ٹی وی خراب ہوگیا اے خود ہی آواز اچی ہوجاندی اے آپئی چینل چینج ہوجاندا اے نواں ٹی وی لیا سی شاہد نے ھن پتا نئی کنے پیسے لگن گے اینوں ٹھیک کران لئی۔۔۔۔اس بات پر دادی کا قہقہہ اتنا بلند تھا کہ دادا جی نے ایسے دیکھا ان کو کہ جیسے ٹی وی کی خرابی کے صدمے سے ان کے ذہن پر شائد برا اثر پڑا ہے خیر پھر ان کو جب حقیقت پتا چلی تو پھر انھوں نے الو کا پٹھا کھوتے دا پتر اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا مجھ کو مگر انجوائے انھوں نے خوب کیا اس شرارت کو۔
ایک لڑکا ہوتا تھا نام عاصم تھا مگر ہم اس کو مٹھا پاء کہتے تھے وہ ہر بات میں کہتا تھا کہ مٹھا پا کے، وہ بے چارہ ان پڑھ تھا جب ہم نے اس کا ریکارڈ لگانا ہوتا تھا تو ایک دوسرے کا آنکھ مار کر کر محفل میں قانون پاس کردیتے تھے کہ کوئی پنجابی نہیں بولے گا پھر ہم اس کی گلابی اردو سن کر دوہرے چوہرے ہوتے تھے جس انداز سے الفاظ اس کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر نکلتے تھے وہ دیکھنے کا نظارہ ہوتا تھا۔ وہ پلمبر تھا پیشے کے حساب سے ہم نے اردو میں اس سے پوچھا مٹھا جی کہیے جناب کیا کام کرتے ہیں اس بیچارے نے کہنا تھا جواب میں کہ پلمبری کرتا ہوں اس کے منہ سے نکل گیا پیغمبری کا کام کرتے ہیں ہم تو پہلے ہکابکا رہ گئے پھر ہم نے خوب سر دھنا اس جواب پر کے کیا خوب کا کام تلاش کیا ہے جناب نے اور پھر وہ لوٹ پوٹ ہوئے کہ کچھ نہ پوچھیں، ہم نے اس کا اس بات پر بہت ریکارڈ لگایا۔ ایک کردار تھا افتخار عرف استاد تابی اس کو علم نجوم وغیرہ سے بہت شغف تھا ہر وقت ساعتوں میں الجھا رہتا تھا یہ زحل کی ساعت ہے اس میں یہ نہیں کرنا نحوست ہے مشتری ہے اس میں کاروبار کی باتیں ہوں گی مریخ کی ساعت ہے احتیاط کرو لڑائی جھگڑا ہوسکتا ہے اور ہم اس کا توا لگاتے تھے مگر وہ اپنی دھن کا پکا تھا اس کی مثال دیتا ہوں اس کی شادی کسی گاؤں والی سائیڈ پر ہوئی ہے بارات لے کر جارہے تھے کہ ایک جگہ مٹی میں اس کی گاڑی کا ٹائر پھنس گیا ہم دوست دولہے کی گاڑی میں تھے اور پیچھے رہ گئے تھے، دولہا سمیت باہر نکل کر ہم زور لگانے لگے مگر گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی، اچانک وہ زور لگاتے لگاتے ایک جگہ بیٹھ گیا اور خلاؤں میں گھورنے لگا جیسے کچھ حساب لگا رہا ہو، ہم اکھڑے سانسوں کے ساتھ اس کو گھورنے لگے، اچانک کہنے لگا اینوں چھڈ کے بہہ جاؤ آرام نال، ہم نے کہا کیا بات ہے تو کہنے لگا اس وقت زحل کی ساعت چل رہی ہے 20 منٹ بعد زور لگاؤ گے تو کامیاب ہوجاؤگے۔ ہم لٹرلی زمین پر لیٹ گئے ہنستے ہنستے ایک دوست ہوتا تھا گل بٹ نام گلریز تھا مگر ہم گل کہتے تھے۔ کہنے لگا استاد تابی اس سے زیادہ میں کیا کہوں کہ فٹے منہ، مگر اتفاق دیکھئے کہ تقریباً آدھ گھنٹے بعد ہم گاڑی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ بقیہ راستے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں جتاتا گیا۔
وہ خوبصورت وقت اب خواب و خیال ہوگئے۔ اس مضمون کے کچھ کردار اللہ کو پیارے ہوگئے کچھ اپنی بیویوں کو۔۔۔۔۔۔ اب آس پاس رہتے ہوئے بھی مہینوں بعد ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ صرف ذھن کے آئینے میں ان کے عکس باقی ہیں جن پر وقت کی گرد کی تہہ دن بدن گہری ہوتی جارہی ہے۔