ارے ناراض نہ ہونا۔ میں تو ہوں ہی ایسا از عتیق الرحمٰن

ارے ناراض نہ ہونا۔ میں تو ہوں ہی ایسا

پہلے پہل تو اس تھریڈ کو دیکھ کر میرے دل کو نہایت افسوس ہوا کیونکہ شہزاد بھائی نے اس مقابلے کی شرائط لکھتے ہوئے مجھے تقریبا" بے دخل قرار دے دیا۔ کیونکہ انہوں نے واضع طور پر لکھا تھا کہ "مزاحیہ شاعری اس مقابلہ میں شامل نہیں ہو گی"۔ لیکن پھر اپنے دل کو لاکھ سمجھایا اور اس بات پر منایا کہ "انہوں نے تو مزاحیہ شاعری کو منع کیا ہے مزاحیہ شاعری کی کوشش کرنے والے کو تو نہیں" اور ویسے بھی میں ہوا کچھ ڈیرنگ سا انسان سو عموما" جس کام کو بہت مشکل کہا جائے اس میں کود جاتا ہوں- یہ اور بات ہے بنا سوچے سمجھے۔ لیکن کم از کم کوشش کرنے والوں میں تو نام آ جاتا ہے نا۔ اور سیانوں کے بقول کہ "رڑھ رڑھ کے ای بندہ ٹر دا اے" ۔ تو لیں جی میری ٹٹی پھٹی کوشش تہاڈے حوالے۔

میں مختلف پیروں میں تحریر لکھ رہا ہوں۔ جو کہ طنزومزاح کی بنیاد پر میں نے لکھی ہیں۔

1- سردیوں کی شاموں میں اگر آپ کے پاس 70cc موٹر سائیکل ہے اور آپ کو کسی کھلے علاقے کی طرف جانا پڑ گیا ہے اور فی الموقع آپ کے پاس دستانے اور دوسرا سردی سے بچاؤ کے لئے سامان نہیں تو اس معاملے میں سردی سے بچنے کا آسان اور واحد طریقہ یہ ہے کہ موٹر سائیکل کسی بس کے پیچھے لگا لیں۔ اس طرح آپ سردی سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن سوال یہ ہی پیدا ہو گا کہ اتنی تیز موٹر سائیکل کیسے بھاگے گی۔ اور خدانخواستہ راستے میں بس خراب ہو گئی تو آپ کا کیا بنے گا۔

2- اگر کسی سڑیل سے انسان کا ٹی وی ایڈ کے لئے انٹرویو ہو اور انٹرویو لینے والا اس سے کہے کہ اپنی طبیعت کے حساب سے اس طرح بولیں کہ آپ لوگوں کو مائل کرو کہ لوگ آپ جیسے ہو جائیں تو وہ سڑیل ایڈ کے لئے ایکٹ کرتے ہوئے بولے گا" جیلسی! ایک ایسا کام جسے عام لوگ صحیح نہیں سمجھتے لیکن کیا آپکو پتا ہے کہ۔ جیلس ہونے سے آپ کا خون کھولتا ہے جس سے آپ کا جسم توانائی صرف کرتا ہے اور آپ کے دماغ تک حرکت کرتا ہے جس سے آپ ہو تندرست و توانا۔ اس لئے بہتر صحت کے لئے be a jealouse today"

3-اگر آپ کا بچہ ایسی باتیں کرتا ہے کہ جو سننے میں تو بھلی محسوس ہوتی ہیں لیکن ان کا اصل میں مطلب یا تو ہوتا ہی نہیں یا مبہم ہوتا ہے تو آپ کو اس بچے کے مستقبل کے متعلق بے فکر ہو جانا چاہئیے کیونکہ سیاستدان ہونے کی خصوصیات اس میں ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئیں ہیں۔

4- اگر آپ کا بچہ شروع ہی سے بندوقوں کا شوقین ہے اور وہ دوسروں پر رعب جھاڑ کر ان سے چیزیں کھاتا ہے تو یہ علامتیں اس کے بڑا ہو کر پولیس میں جانے کی ہیں۔ پندرہ بیس ہزار تنخواہ میں یہ بچہ ناصرف ایک پورے خاندان کو پالے گا بلکہ ایک سال کے اندر اندر جیل روڈ، یا ڈیفس روڈ پر جگہ خرید لے گا۔

5- اگر آپ کا بچہ چیزوں کو جوڑ سکتا ہے اور بجلی کے پیچیدہ کام کر لیتا ہے جو یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے بچے میں کامیاب سائنسدان بننے کی خوبیاں موجود ہیں لیکن آپ اس کو موٹر مکینک کے کام پر ڈال دینا کیونکہ ہماری قوم قومی اثاثوں کی قدر نہیں کرتی۔

6- اسکول کے دنوں کی بات یاد آ گئی ہے۔ میں کوئی "حور پرا" تو نہیں ہوں لیکن اسکول میں واحد "ڈیبیٹر" ہونے اور کلاس مانیٹر ہونے کی وجہ سے کافی ٹیلنٹڈ گردانا جاتا تھا اور اسی وجہ سے ایک آدھ لڑکی مجھ میں انٹرسٹڈ ہو گئی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ میں اسکول کی چھت سے اتر رہا تھا۔ اور دوسرا راستہ بھی کوئی نہیں تھا اگر ہوتا تو شاید یہ یاد نہ جڑتی۔ ہوا یوں کہ میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تو آخری تین سیڑھیوں پر مجھ سے ایک کلاس جونئیر تین چار لڑکیاں ان پر بیٹھی تھیں اور ایسی ترتیب سے بیٹھی تھیں کی کم از کم دو پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ میں جب اتر رہا تھا تو ان میں سے ایک نے اپنی ساتھیوں کو میرے متعلق کچھ کہا(چپکے سے۔ جیسے۔ دیکھنا وہ مجھے کیسے بلاتا ہے۔ شاید وہ ان پر رعب جھاڑنا چاہتی تھی میرے نام کا)۔ لیکن اس کا برا وقت آیا تھا کہ میں نے اپنے چھوٹے اور باریک کانوں سے بات کا خلاصہ سن لیا اور عین وقت علاج بھی ڈھونڈ لیا۔ جب میں ان کے قریب پہنچا تو خصوصا" اس کا نام لے کر کہا "باجی جی۔ ذرا راہ تے دے دیو لنگن لئی" (بہن جی۔ ذرا گزرنے کے لئے رستہ تو دے دیں)۔ مجھے تو گزرنے دیا اس کی سہیلیوں نے لیکن بعد میں اسکی جو ہوئی وہ مزے کی تھی۔ کیونکہ میں ایک دیوار کی اوٹ کھڑے ہو کر سن رہا تھا۔

میری اس تحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں۔ بس ایک مزاح ہے اور میں چاہوں گا کہ اس پر صرف اور صرف ہنسا جائے۔ بہت بہت شکریہ