سسرالی میٹنگ از امان

سسرالی میٹنگ از امان

کردار:
زر بیوپاری (آصف زرداری)
رضو (یوسف رضا گیلانی)
رحیمو (رحمان ملک)
شاہ صاحب (شاہ محمود قریشی)
قمرو (قمر الزماں طائرہ)
اعتراض شاہ (اعتزاز احسن)
علی سائیں (قائم علی شاہ)
فہمی (فہمیدہ مرزا)
سلو (سلمان تاثیر)

"پردہ اٹھتا ہے"

قمرو: "سا لیکم! آپ سب کو بی بی کی سسرالی میٹنگ میں خوش آمدید۔ میں جناب زر بیوپاری سے گزارش کروں گا کہ میٹنگ شروع کرنے کی اجازت دیں۔"

زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ۔"

قمرو: بہت شکریہ جناب، تو آج کی میٹنگ کا ایجنڈہ ہے:

1) کیری لوگر بل

زر بیوپاری: "بابا مینو میں کیری کا اچار بھی ہے کہ نہیں!"

قمرو: "جناب۔ بالکل ہے اور اب ہوے ہی ہوے۔"

زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ۔"

قمرو:

2) میڈیا
3) اور این آر او

"جس پر ہم الگ الگ سیشن میں بات کریں گے۔ پہلے کیری لوگر بل کے متعلق گفتگو شروع کی جاتی ہے۔

پہلے تو یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ کیری لوگر بل کیا ہے! آسان الفاظ میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کیری، لو، گر۔ یعنی اگر کیری لیں تو اُس کا بل۔ اب ہم پاکستانی اتنے بےشرم تو نہیں کہ کیری بھی لے لیں اور بل کی بات ہی نہ کریں۔ اس لیے کیری لوگر کا بل ناگزیر ہے۔"

اعتراض شاہ: "لو اگر نہیں، لوگر۔"

قمرو: "لوفر!! دیکھئے جناب صدر، اعتراض صاحب اب اعتراض کے ساتھ ساتھ غیرمہذبانہ زبان بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔"

زر بیوپاری (اعتراض شاہ کو گھورتے ہوئے): "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران بشمول اعتراض شاہ: "واہ سائیں واہ"

قمرو (اپنی گردن میں سریا اٹکاتے اور اعتراض شاہ پر مسکراتے ہوئے): "ہاں تو میں بات کررہا تھا کیری لینے کے بل کی۔ لگتا ہے اعتراض صاحب کے علم میں نہیں کہ میں بھی پڑھا لکھا بندہ ہوں وہ الگ بات کہ غلطی سے سیاست میں آگیا۔ (بقیہ ممبران کی کھی کھی شروع ہوگئی اور صدر صاحب بھی اونگھتے اونگھتے چونکے)۔ ہاں تو کیری لینے کا بل! اب میں آپ حضرات سے درخواست کروں گا کہ کھلا کھاؤ تے ننگا نہاؤ والی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے منہ پھاڑیں۔ مگر یہ بات یاد رکھئے کہ کنٹینر کی تعداد سو نہیں پچاس ہے۔ کہ پنتیس کنٹینر جناب زر بیوپاری اور پندرہ کنٹینر جناب رضو کے لیے ہیں۔"

رضو (قمرو کو گھورتے ہوئے): "آہم۔۔۔۔"

قمرو: "معافی جناب! معافی چاہتا ہوں، پندرہ کنٹینر جناب یوسف رضا گیلانی کے لیے ہیں۔"

رضو: "آہو۔۔! چلو پھر شروع کرو اوئے۔"

شاہ صاحب: "بھئی زیادہ حق تو میرا ہی بنتا ہے، کیوں جناب صدر، آپ تقریر کرتے رہے اور میں نے پیچھے سے کیسا کام کیا اُدھر۔ مانتے ہیں نا آپ۔ اس لیے اس بندر بانٹ کا بڑا حصہ مجھے عنایت کیا جائے۔"

رحیمو (شاہ صاحب کو گھورتے ہوئے): "کیوں جناب ایسا کیا تیر مار لیا اگر آرڈر بک کرلیا تو، میں نے کیری کے کنٹینر ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی اور ڈسٹری بیوٹرز سے بھاؤ تاؤ کرکے مارکیٹ میں جگہ بنائی، اور آپ کہتے ہیں کہ کیری میری، او نہ جی نہ، ایسی نہیں ٹھہری۔"

رضو: "دیکھو جی، لڑو نہیں۔ ہم جمہوریت پسند ہیں اور پرامن ملک کے باسی، اس لیے راضی خوشی مل بانٹ کر چلو، کوئی میں میں نہیں چلے گی،۔۔۔میں میں۔۔۔ارے علی سائیں بابا، میں نے آپ کو کہا تھا کہ اعلٰی نسل کے بکرے بھجوائے گا آپ اس عید پر، مگر آپ نے تو سندھ کو قحط سالی کا نمونہ بنا کر بھیج دیا۔"

علی سائیں: "بابا سائیں ہم کیا کرتا، ہم نے تو بھیجنا چاہتا تھا مگر وہ بکرا ہی نہیں مانا، ایک ہی رٹ لگائی تھی کہ میں ملتان نہ جاوانگا۔"

رضو: "بابا سائیں خیر ہے، آپ کب سے سچ بولنے لگے کہ بکرے کو ملتان ہی کا بولا تھا۔ خیر ہے۔ ہاں تو چلو آگے بڑھو۔"

قمرو: "دیکھیں شاہ صاحب، جتنا آپ نے کام کیا ہے اتنا ہی رحیمو نے بھی اور ہم سب نے۔ اس لیے حصہ سب کو ہی برابر کا ملے گا۔ کیوں جناب صدر۔"

زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

بقیہ ممبران: "واہ سائیں واہ"

شاہ صاحب: "اچھا چلیں ٹھیک، پچاس کنٹینر میں سے دس میرے۔"

رحیمو: "اور دس میرے۔"

زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

رحیمو اور شاہ صاحب خوش ہوکر: "واہ سائیں واہ"

بقیہ ممبران منہ بسورے ٹیبل بجاتے ہوئے: "واہ سائیں واہ"

علی سائیں: "بابا ہم کو تو کیری پسند ہی نہیں، ہاں میرا نکا، مرزا سائیں (ذولفقار مرزا) شوق سے کھاتا ہے، اور میری شازو (شازیہ مری) تو جان چھڑکتی ہے کھٹے پر۔ تو بابا ایسا کرو کہ ہم کو پانچ دے دو اور میرے لیے بابا سائیں ایسا کرو ایک کنٹینر چینی کا بندوبست کرو نی۔ میری شازو تو پھیکی چائے پی پی کر پھیکی پھیکی ہوگئی ہے۔ اس کی مٹھاس واپس لادو بابا۔"

زر بیوپاری (علی سائیں کو آنکھ مارتے ہوئے): "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

علی سائیں اپنی سندھی ٹوپی اتار کر کسی قدر خم ہوکر: "وڈے سائیں کا شکریہ۔"

سلو: "او دیکھو جی، میں کیا اے تین چھورے پچیس کنٹینر لے اڑے، اے تو کوئی گل نہ ہوئی۔ میں تو کیلے کیلے پچیس کی ٹھان بیٹھا تھا۔"

سب ممبران بیک وقت: "پچیسسسس۔۔۔!"

سلو: "او ہاں آں۔ کیا ہے نا جی میری ووٹی نوں کسی نے مشورہ دٍتا ہے کہ کیری نال فیس مساج کرائی تے فیس کمر عمری دا لگندا ہے۔ نے ہور ڈسو میری ووٹی نوں کیری دا شربت بھی چاہیے، ہیلتھ اشیو۔ نے فر میرے دو نکے وہ تو پورے کالج وچ اعلان کردٍتا ہے کیری پارٹی دا۔ اے سوہنی سوہنی دوستیاں نے وچ ان دی وےزتی نہیں ہو۔ ہور مری کاکی۔ او جی کیا بتاؤں ان نے تو کیری دے پانی دا سوئمنگ پول بھی آرڈر کی دٍتا ہے۔"

رضو: "سلو صاحب۔ پہلی گل تو اے کہ اتھے ووٹی نے کاکے کاکیوں دی نئیں چلنی نے ہور اے تو ساڈے گھر دی بھی رام لیلا ہے۔ تسی ایسا کرو کہ پانچ لے لو۔ سائیں بھی پانچ تسی بھی پانچ۔"

علی سائیں (اتراتے ہوئے): "جب کہ ریونیو بھی زیادہ ہم دیتا ہے بابا۔"

سلو: "دیکھو سائیں، اتھے این ایف سی کو نہ گھسیٹو۔ اسی جمہوریت دی ریل گڈی وچ سوار ہیں۔ تسی ریونیو دی پسوری وچ مے نہ لاؤ۔ اسی بھی پانچ میں خوش، کوئی گل نئیں، میری ووٹی ہور کاکے کاکی ولایت جاکر شوق پورا کرلینگے۔"

قمرو: "تیس کنٹینر بک ہوچکے ہیں، بیس باقی ہیں۔ جس میں سے میں دس لینے کا اعلان کرتا ہوں، میں نے میڈیا میں جھوٹ بول بول کر اپنی زبان کالی کرلی، ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ہرا کام میں کھرا۔"

رحیمو: "او قمرے، بیان لکھ کر کون دیتا تھا تجھے۔ اچھل مت، اینکر کے سامنے تو تیری بولتی بند ہوجاتی ہے۔ اس لے چپ چاپ پانچ لے اور دوسروں کو موقع دے۔"

قمرو: "جناب صدر، دیکھئے کس قدر تضحیک آمیز رویہ ہے، اسی وجہ سے آپ کو اب چھپ چھپ کہ شبو (شیریں رحمان) سے شیرینی بنوانی پڑتی ہے۔"

زر بیوپاری (رحیمو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے): "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

رحیمو نے اتراتے ہوئے قمرو کو زبان دکھائی۔

قمرو: "ٹھیک ہے جناب، پانچ میرے ہوئے۔ اب باقی بچے پندرہ۔"

فہمی: "اسمبلی چلانا کوئی آسان کام ہے کیا۔ سب کی سنتے رہو اور میٹنگز میں ہزار بار کہہ چکی ہوں کہ میرے لیے روئی کا بندوبست کیا جائے کہ کان میں ٹھونس سکوں۔ مگر کوئی ہے کہ میری بات سنتا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے اسمبلی میں بیٹھی اپنی بات کہتی ہوں۔"

رضو: "فہمی ڈارلنگ ناراض کیوں ہوتی ہو۔ اچھا چلو دس تمہارے ہوئے۔ اب خوش!"

فہمی (اپنہ ڈوپٹہ سر پر رکھتے اور شرماتے ہوئے): "جی۔ اگلے اجلاس میں آپ کے لیے کیری کا شربت میری طرف سے۔"

رضو مست ہوکر جھومنے لگے۔

قمرو: "اچھا تو اب پانچ کنٹینر بچے ہیں۔ اور ایک ہی شخص۔ مگر ان کو اعتراض کرنے کی عادت سی ہے اس لیے میں جناب رضو صاحب سے درخواست کروں گا کہ پانچ کنٹینر اور اعتراض صاحب کا فیصلہ وہ خود کریں۔"

اعتراض شاہ (غصے سے قمرو کو دیکھتے ہوئے): "جناب یہ نا انصافی ہے۔ میں نے جج تحریک میں کتنی مچ مچ کرکے اپنی پارٹی کا دفاع کیا اور یہاں جب سب کو خود سے لینے کی اجازت ہے تو میرے ساتھ یہ برتاؤ کیوں!"

رضو، (زر بیوپاری سے کھسر پھسر کرنے کے بعد): "دیکھیں اعتراض صاحب، مانا آپ کی خدمات رہی ہیں مگر آپ کی چند حرکتوں کی وجہ سے آپ کی ممبرشپ خارج کردی گئی تھی مگر اب جب کہ آپ نے معافی مانگ لی ہے اور دوبارہ سے ممبر بن گئے ہیں اس لیے آپ کو ہم نے آج کی اہم میٹنگ میں بلایا ہے۔ مگر ابھی آپ کی شمولیت نئی ہے اور پھر ہماری پارٹی کے دیگر وزراء اور بندے بھی ہیں ان میں بھی کیری تقسیم کرنی ہے ورنہ ناراض ہوجائیں گے وہ۔ اس لیے میں نے اور زر بیوپاری صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کے ذمے ہم ان پانچ کنٹینروں کی منصفانہ تقسیم کی ذمے داری ڈالیں۔ آپ تو وکیل بھی ہیں اس لیے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کچھ اپنے لیے اور باقی پورے ملک میں ہمارے پارٹی کارکنوں اور وزراء میں تقسیم کردیجئے گا۔"

اعتراض شاہ (اپنے کالے کوٹ اور سفید شرٹ کالر صحیح کرتے اور جھوٹ سچ کا منظر پیش کرتے ہوئے): "ہاں ہاں ٹھیک ہے میں ذمے داری لیتا ہوں، باقی کے پانچ میرے حوالے کردیئے جائیں۔"

قمرو: "اچھا تو معزز ساتھیوں ہمارا پہلا ٹاسک ختم ہوا بخوبی، اب ہم لنچ کے بعد دوسرے نکتے پر بحث کریں گے۔"

زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ۔"

"پردہ گرتا ہے"

"پردہ اٹھتا ہے"

قمرو: "اچھا تو معزز ممبران! اب ہم دوسرا نکتہ میڈیا۔۔۔ہیں۔۔۔۔ارے۔۔۔۔یہ جناب عالی زر بیوپاری صاحب کہاں ہیں!"

رضو: "وہ قیلولہ کرنے کے عادی ہیں اور ویسے بھی میڈیا سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں، اس لیے میں قائم مقام چیئرمین ہوں۔"

قمرو: "تو جناب عالی، میڈیا۔ میں اپنے آپ کو بڑا بدنصیب سمجھتا ہوں کہ میں یہ پرائیویٹ چینل جب نہیں تھے تب کیوں نہیں بنا وزیر اطلاعات۔۔۔۔! خالی پی ٹی وی ہوتا اور ہماری واہ واہ کبھی شاذونادر آکر ہم بھی دو کی چار کردیتے۔"

علی سائیں، قمرو کی بات کاٹتے ہوئے: "ارے بابا قمرو یہ تو تمہارے والد کی غلطی ہوئی نا!"

اعتراض شاہ، جرح کے انداز میں: "کیوں! کیوں، اس میں ان کے والد صاحب کی کیا غلطی ہوئی۔"

علی سائیں: "ارے بابا سائیں تو بھی ایک جھلی ہے، اس کا بابا جلدی شادی کرتا تو یہ جلدی پیدا ہوتا اور بڑا ہوتا نا، تبھی تو اُس زمانے میں وزیر بنتا نا۔"

دیگر ممبران کی کھی کھی سے قمرو کا غصہ بڑھ گیا اور اُس نے اپنے مخصوص جذباتی انداز میں پانی کا جگ اپنے ہی سر پر انڈیلا اور رضو کی طرف دیکھنے لگا شکایت آمیز نگاہوں سے۔

رضو: "سائیں بابا، آپ بھی کیا! اپنا ہی بچہ ہے۔ تھوڑا خیال رکھیں۔"

علی سائیں حیرت سے: "ارے رضی تو نے کبھی بتایا نہیں کہ یہ تیرا بچہ ہے!"

رضو ہنستے ہوئے: "کیا سائیں، آپ بھی گڑے مردے اکھاڑ رہے ہیں۔!"

قمرو اچھلتے ہوئے: "کیا مطلب!"

رضو: "کچھ نہیں کچھ نہیں۔ اچھا اچھا میڈیا کو آگے بڑھاؤ، مطبل کا کوئی مطبل نہیں ہوتا سیاست میں۔"

قمرو منہ لٹکائے: "جی تو آج کل میڈیا کی بونگیاں کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہیں، وہ ہمارے لیڈر، وزراء کو بلا بلا کر لٹارتے ہیں اور جو حقائق ہمیں نہیں معلوم ہوتے وہ ان کی زبانی حرف بہ حرف سچ معلوم ہوتے ہیں۔ ہمیں اس معاملے میں کچھ کرنا چاہئے۔ کچھ اینکر تو ہاتھ دھو کے بلکہ نہا وہا کہ ہمارے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ میری وزارت بھی اس قسم کی ہے کہ سب کو مجھے ہی جھیلنا پڑتا ہے۔"

رحیمو: "تو کیا لے لیں واپس وزارت! رضو۔ اس کی مشکل آسان کردینی چاہئے۔"

قمرو: "نہیں نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا۔"

رضو: "او قمرے، ہم سیاستدان سامنے والے کی بات کو اپنا مطبل پہناتے ہیں۔ چل تو کہتا ہے تو تیرا مطلب بھی سمجھ لیتے ہیں۔ بول۔۔!"

قمرو: "میں یہ کہہ رہا تھا کہ میڈیا کو کس طرح قابو میں کیا جائے خصوصاً چند اینکر کو!۔"

اعتراض شاہ: "وکالت پڑھی ہوتی تو آج یہ مشکل نہ ہوتی آپ کو قمرو صاحب!"

قمرو: "او کالے سفید بھائی، میڈیا میں جسٹس چودھری نہیں بیٹھے۔ کبھی اینکر کے سامنے بیٹھیں تو آپ کی وکالت دھری کی دھری رہ جائے گی۔"

سلو: "ناس جاوے ان میڈیا والوں دا، میری ووٹی نے میرے کاکے کاکیوں کو بھی نہیں بخشا۔"

رحیمو: "ویسے سلو، وہ خبر اور تصاویر میرے لیے بھی نئی تھیں، پہلے کبھی معلوم نہیں تھا یہ سب۔۔۔!

سلو: "معلوم نئیں دا تو فر!!! کی مطبل۔۔۔ڈسو کی مطبل ہے ٹھاڈا۔"

رحیمو ہنستے ہوئے: "اوئے چھڈ یار، گرمی نہ کھا۔ چل یہ لے، پی اور عیش کر۔"

سلو ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس حلق میں انڈیلتے ہوئے منہ بنائے چپ ہوئے۔

رحیمو، رضو کو آنکھ مارتے ہوئے: "اوئے تم لوگ صرف نام ہی کے سیاستدان رہنا، دیکھو میں کیسے بولتا ہوں میڈیا میں۔"

سلو: "جب بولتے ہو بےسرا ہی بولتے ہو، ڈھز ڈھز ڈھڑ ڈھڑ ڈھس ڈھس کے علاوہ تمہیں کوئی بولی آتی ہے۔"

شاہ صاحب: "ارے فرینڈز! یہ کیا آپس میں لڑ رہے ہیں آپ لوگ، قمرو صحیح کہتا ہے۔ لگتا ہے اب مجھے ہی فرینڈز آف پاکستان اور سپر پاور سے میڈیا تالے کی امداد کی درخواست کرنی پڑے گی۔"

رحیمو: "ہاں ضرور کرو، مگر تالے نہیں منگوانا، امداد منگوا لینا۔ تالے ہم یہیں بنوائیں گے۔"

رضو: "آہو۔۔۔!"

علی سائیں: "بابا تم کیا میڈیا میڈیا کرتا ہے، میری شازو کو نہیں دیکھا کیسے بیان دیتی ہے اور جواب دیتی ہے۔"

قمرو رال ٹپکاتے ہوئے: "تو سائیں بابا! کب سے آؤں اُن سے سیکھنے۔"

علی سائیں: "او جھلی، اُس کے پاس کیوں جائے گا، میں ہوں نا کبھی آ مری بیٹھک میں! وڈے سائیں کا بڑا کرم ہے مجھ پر، ایسے ایسے شارٹ سکھاؤں گا کہ میڈیا کی ایسی تیسی۔"

فہمی: "سائیں بابا، دھیرج دھیرج، میرے خیال سے ہمیں اس پر اسمبلی میں بل لانا ہوگا۔ اور آپ سب ایسا کریں کہ میڈیا کی محفوظ شدہ ریکارڈنگ کو بار بار دیکھیں اور پریکٹس کریں، جلد آپ لوگ طاق ہوجائیں گے اینکر کو اینٹ مارنے میں۔"

رضو: "آہو۔۔۔!"

قمرو: "ٹھیک ہے پھر اس نکتے پر بھی اتفاق رائے سے ہم یہ بل پاس کرا ہی لیں گے اسمبلی سے۔ آخر کو فہمی بھی اپنی ہے۔"

فہمی غصے سے پہلو بدلتی ہوئیں اور رضو غصے سے: "آہممم۔۔۔"

قمرو: "او معاف کیجئے گا جی، میرا مطلب ہے اپنی پارٹی کی ہیں۔"

فہمی نظریں جھکاتے ہوئے: "رضووووو۔۔۔"

رضو: "آہو۔۔۔"

فہمی: "یہ قمرو بھائی آج کل کچھ زیادہ ہی مطلبی نہیں ہوگئے!"

رضو: "آہو۔۔۔"

قمرو: "اوہ فہمی آپا، معاف کیجئے گا۔ بولیں تو میرے کنٹینر بھی آپ کے نام۔"

رضو غصے سے قمرو کو: "کیوں، میں نے پندرہ کیا تیرے پیئو کے لیے رکھے ہیں!"

رضو فہمی سے: "فہمی ڈارلنگ، تم اس کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ اس کو اس کے مطبل میں سمجھادوں گا میٹنگ کے بعد، تم اپنا پیارا چہرہ گلنار کرو، یہ غصہ تمہارے حسن پر۔۔۔۔۔"

رحیمو کے کھنکارنے پر رضو چونکے اور جھلا کر قمرو سے بولے: "او قمرے دی اولاد، تجھے تو میں سمجھ لوں گا۔ چل یہ سیشن بھی ختم۔ اب چائے کا وقفہ ہے، میرے روم میں لا میری اور فہمی کی چائے۔"

"پردہ گرتا ہے"

"پردہ اٹھتا ہے"

زر بیوپاری: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ"

رضو: "اوئے قمرے، اپنے مطبل پر ذرا لگام لگائی۔ سمجھا کھوتے دے پتر!"

قمرو: "جی جناب، کس کے رکھوں گا اپنی لگام اب۔ تو بھائیوں اور فہمی جی اب تیسرا۔۔۔۔۔۔!"

رضو غصے سے: "کھوتے دا پتر ہے تو کھوتا ہی رہے گا، ہم سب بھائی اور فہمی "جی"!۔۔۔"

قمرو: "جناب میرا مطبل ہے فہمی آپا!"

رضو اور بگڑتے ہوئے: "اوئے رحیمو، اس کو وزیرستان کے اندر ثالثی بنا کر بھیج دے۔ سارے مطبل نکل جائیں گے اس کے۔"

رحیمو: "اوئے چھڈ یار۔ اس کو اینکروں کے بیچ ہی چھوڑ دیں گے۔"

قمرو رونی صورت بناتے ہوئے: "جناب مجھے معاف فرمایئے، فہمی آپا میرے لے نہایت قابل احترام ہیں۔"

رضو، فہمی کے اشارے پر ٹھنڈے ہوتے ہوئے: "اچھا اچھا۔۔۔چل آگے بڑھ۔"

قمرو: "اب آخری نکتہ ہے این آر او! جہاں دیکھو جسے دیکھو این آر او کی مخالفت کرتا نظر آتا ہے۔ آخر میں کہتا ہوں اس میں برائی کیا ہے! انسان خطاؤں کا پتلا ہے، اور غلطیاں معاف کردینی چاہئیں۔ اور پھر ایک ہاتھ لے اور ایک ہاتھ دے والی پالیسی کے تحت ہی جہمہوریت آئی ہے پھر سے اس ملک میں۔ گنج برادران(شریف برادران) سمجھتے ہیں کہ ان کے احتجاج سے آمر نے راستہ چھوڑا، تو چودھری صاحب خود تو نیم آنکھوں سے گنجے(منیر) ملک اور اعتراض شاہ کو دیکھتے رہتے ہیں اور۔۔۔۔"

اعتراض شاہ: "آپ معزز چیف جسٹس آف پاکستان کی توہین کررہے ہیں!۔"

رحیمو: "لو پا گئی پسوری اعتراض کی! کیوں وہ کیا تیرے چاچا دا پتر لگتا ہے کہ اتنی مرچیں لگتی ہیں!۔"

اعتراض شاہ: "جناب، وہ اس ملک کے چیف جسٹس ہیں اور ان کا رتبہ بہت اعلٰی ہے اس لیے ان کے لیے ایسی زبان نہیں استعمال کرنی چاہئے۔"

رحیمو: "سی ای میٹنگ میں ہے تو عدالت میں نہیں، اتنی ہی فکر ہے تو ابھی کے ابھی تیرا ٹکٹ پھاڑ دیتے ہیں۔"

زر بیوپاری سر ہلاتے ہوئے: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران: "واہ سائیں واہ"

اعتراض شاہ نظریں نیچے کرتے ہوئے: "اچھا جناب، جاری رکھئے، میں معافی چاہتا ہوں۔"

قمرو: "تو جناب، یہ سب ان لوگوں کی بھول ہے۔ آمر ڈرنے والا نہیں تھا، اس سے تو ڈر کے بھاگے تھے گنج شریف، جناب صدر زربیوپاری نے تو انکے دور میں بھی جیل کاٹی اور شہید بی بی نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وطن واپسی کی ٹھانی۔"

میٹنگ ممبران: "بی بی کل بھی زندہ تھی بی بی آج بھی زندہ ہے۔"

زر بیوپاری پہلو بدلتے ڈرے ڈرے انداز میں ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

میٹنگ ممبران دھیمی آواز میں: "واہ سائیں واہ"

قمرو: "تو جناب، ہم نے اپنی غلطیاں معاف بھی کروائیں تو کیا، ملک کو جمہوریت بھی تو دی ہے بدلے میں! اب ہما۔۔۔۔۔۔۔"

رضو: "کی مطبل ہوا غلطیوں دا، تھاڈا مطبل ہے ساڈی بھی کوئی غلطی تھی جسے ماف کروایا۔ غلطی تو کی تیرے پیئو نے تے نوں اس دنیا میں لاکر، کھوتے دے پتر، اپنی ہی پارٹی دے پا وچ کلہاڑا مارتا ہے کہ غلطیاں ماف کروائیں۔ "

رحیمو: "ہاں رضو، قمرے کے باپ کی اس غلطی کو آج اس کمرے ہی میں سدھار دیتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے میڈیا نے خرید لیا ہے اس کو، اب ہمارے ہی سامنے ہمیں ہی قصور وار ٹھہراتا ہے۔"

علی سائیں: "بابا ایسا کرو نی اس کو ہمارے گاؤں بھیج دو۔"

اعتراض شاہ:"
سچ چھپائے نہیں چھپتا زمانے میں
کیسے کیسے لوگ ہیں گھرانے میں"

سلو: "شکل ویکھ اپنی مرے، کالے سچ کے بیوپاری۔"

شاہ صاحب: "فرینڈز، ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کررہی ہے، یا تو تالاب بدل لو یا مچلی کو باہر پھینکو۔"

فہمی: "دیکھو جی میں تو کہتی ہوں قمرو بھائی کو واپس ٹریننگ دینا ہوگی۔"

رضو: "آہو۔۔۔"

قمرو: "جناب میر مطلب تھا کہ۔۔۔۔"

رضو: "فر مطبل، تیرا ناس جاوے قمرے، تو نئیں سدھرے گا۔"

قمرو: "جناب مدعا۔ میرا مطلب نہیں این آر او۔۔۔۔"

ایک بار پھر لفظ این آر او سن کر زربیوپاری صاحب ناراضگی سے: "ہول بلا تو گھول بلا تو بھلووووو"

قمرو لرزتے ہوئے: "واہ سائیں واہ"

زربیوپاری عجلت میں اٹھ کر "مردوں کے لیے" آویزاں تختی والے دروازے میں گھستے نظر آئے۔

رضو: "اوئے چھڈو جی، یہ این آر او۔ مے کیا آج دی میٹنگ ادھر ہی مٹی پاؤ۔ میں ذرا اہم قومی امور انجام دینے جارہا ہوں۔"

فہمی اٹھتے ہوئے: "ہاں رضو، بہت کام ہے چلو۔"

رضو اور فہمی جاتے ہوئے۔

رحیمو: "میں بھی چلا، قیمت بڑھوانے اپنے سر کی۔"

شاہ صاحب: "اوکے فرینڈز، سی یا!! امریکہ سے کچھ منگوانا ہو تو فون کردینا۔ بائے۔"

سلو بوتل اٹھائے جھومتے گاتے جاتے نظر آئے۔

اعتراض شاہ: "اچھا قمرے، تیری بھی قسمت سچ جیسی ہی نکلی۔ اللہ حافظ"

قمرو: "سائیں، آپ کیوں بیٹھے ہیں۔ آپ نے نہیں جانا کیا۔"

علی سائیں: "بابا ہم تم کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جائے گا۔"

قمرو گھبراتے ہوئے: "کیا مطلب سائیں۔"

علی سائیں آنکھ مارتے ہوئے: "بابا تم چلو نی، سب مطلب سمجھا دے گا۔"

قمرو دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے: "سائیں! رب راکھا۔"

علی سائیں ٹوپی اتارے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ایک ہاتھ سے دھوتی سنبھالے، پڑھتے ہوئے:

حال پوچھن وارو نا ملیو
دل رکھن وارو نہ ملیو

درد جے ساگر ما سائیں
کوئی کھڈن وارو نہ ملیو

"پردہ گرتا ہے"