002 - قائد اعظم کا پاکستان۔۔۔۔ تحریر: سلمان سلو

قائداعظم کا پاکستان

قائداعظم کی بے مثال اور بے داغ قیادت میں پاکستان کی جنت دنیا کے نقشے پر ابھری۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے دینی شعائر، اپنی تہذیب کے مطابق اور ایک آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا موقع ملا۔۔تاریخ کے اوراق یہ گواہی دے رہے ہیں کہ قائداعظم جیسی قیادت مسلمان برصفیر کو نہ ملتی تو پاکستان کا قیام عمل میں نہیں آ سکتا تھا۔۔ایسی قیادت جس کی دور اندیشی، بصیرت، تدبیر بے مثال تھی۔ جس کی قوتِ ارادی اٹل تھی۔۔ اصولوں پر استقامت، مصلحت سے یکسر گریز کسی بھی فیصلے تک پہنچنے کیلئے طویل غور و فکر تمام ساتھیوں سے مشورے، فرقہ پرستی کی سخت مخالفت، حقوق انسانی کا تحفظ، قائداعظم کی سیاسی زندگی کی بنیادی اقدار تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حیقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ برصغیر کے مسلمان اپنی منزل کے حصول میں کامیاب اس لئے ہو سکے کہ ان کی رہنمائی کرنے والے قائداعظم یکسر مختلف سیاسی قائد تھے۔ ۔ وہ اپنے نظریات کے اظہار میں کسی مصلحت یا منافقت سے کام نہیں لیتے تھے ان کے لہجے میں اعتماد تھا۔ ان کی سیاست میں تضاد نہیں تھا۔۔ ان کے دور میں جو سیاستدان تھے اور آج جو سیاستدان ہیں، قائداعظم ان سب سے مختلف شخصیت تھے۔ ان کا تعلق نہ جاگیرداروں سے تھا اور انہ انکی طرز و فکر فرقہ پرستانہ تھی۔ نہ وہ لسانی یا نسلی تعصب سے مغلوب تھے نہ ان کی سوچ لسانی تھی۔ ان کے تدبیر اور بصیرت کا ہی نتیجہ تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزی سامراج اور ہندو رام راج سے آزادی مختصر سی جدوجہد سے مل گئی۔ جہاں یہ برصغیر کے مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی وہاں اہل پاکستان کی بدقسمتی کہ انہیں قائداعظم کی رہنمائی صرف ایک برس حاصل رہ سکی اور وہ جلد خالق حقیقی سے جا ملے۔۔ اس سے زیادہ بدنصیبی یہ ہے کہ قائداعظم کے بعد آنے والے پاکستان کے حکمران، پاکستان کو قائداعظم کے افکار سے دور اور بہت دور لے جاتے رہے۔۔۔۔۔ قائد ملت کی شہادت کے بعد تو ''قائد اعظم کا پاکستان'' لوگوں کی آنکھوں سے مسلسل اوجھل ہوتا چلا گیا۔۔۔۔

آج پاکستان کے عوام اپنے وطن عزیز کو جن سنگین بحرانوں میں گھرا دیکھ رہے ہیں ۔۔قیادت کے دعویداروں کے دامن پر کرپشن کے جتنے سیاہ داغ نظر آ رہے ہیں۔ معاشرہ جس طرح اخلاقی انحطاط اور فکری پستی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ذاتی مفادات جس طرح قومی مفادات پر غالب آئے ہوئے ہیں۔۔ اس وقت عوام کو اپنے قائد کی یاد شدت سے آتی ہے۔۔۔۔ عوال دل گہرائیوں سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب اگر پاکستان بحرانوں سے نکل سکتا ہے تو صرف قائداعظم کے افکار اور ان کے طریق سیاست پر عمل پیرا ہو کر۔۔۔۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ سیاسی قائدین میں اصولوں کی پاسداری میں قائداعظم جیسی استقامت ہونی چاہئے وقتی فائدوں کیلئے دیرپا مفادات کو ترک نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔ ان کے گفتار اور کردار میں تضاد نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔لیکن عوام جس طرف نگاہ اٹھاتے ہیں۔ ایسا کردار بہت کم نظر آتا ہے۔۔ آج کے قائدین کے بیانات میں تضاد ہے۔۔ عمل میں تضاد ہے۔۔۔ مصلحتوں کا غلبہ ہے۔۔ قائدین کے ان رویوں نے ہی پاکستان کو بحرانوں میں دھکیل دیا ہے۔ قائداعظم کے پاکستان میں بار بار کے مارشل لاء نے قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔۔ عوام سوچتی ہیں کہ آج جس پاکستان میں وہ سانس لے رہے ہیں وہ قائداعظم کا پاکستان ہرگز نہیں ہے۔۔ جہاں جھوٹ کا دور دورہ ہے۔۔۔ کرپشن کا زور ہے۔۔ میرٹ کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔ مظلوم کو انصاف نہیں ملتا جہاں لوگ علاقائیت، لسانیت، فرقہ پرستی کے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ جہاں غریب کو دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل ہے۔۔ جہاں بے روزگاری ہے جہاں ملکی خزانہ لوٹا جا رہا ہے جہاں ٹیکس چوری ہوتے ہیں۔ جہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ہوتا ہے۔۔ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔!!

عوام اپنے حکمرانوں سے، اپنے سیاستدانوں سے، اپنے بیوروکریٹوں سے، اپنے علماء سے، تاجروں سے، صنعتکاروں سے و اساتذہ سے۔۔ ''قائداعظم کا پاکستان'' مانگتے ہیں جہاں فیصلے ملک کے مفاد میں ہوتے ہوں۔۔ جہاں میرٹ کو ہر دوسرے عمل پر ترجیح حاصل ہو، جہاں قانون کی پابندی، امیر غریب کے لئے یکساں ہو۔۔۔ قائداعظم نے فرمایا تھا۔۔ رشوت اور بد عنوانی زہر ہے، سم قاتل ہے، اسے آہنی ہاتھ سے روکنا ہوگا۔۔ قائداعظم نے فرمایا تھا چور بازاری ایک عفریت ہے، معاشرے کے خلاف سب سے بڑا جرم ہے، اقربا پروری کیلئے فرمایا تھا کہ میں اسے برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔ آپ نے فرمایا تھا ''میرے رہنما اصول انصاف اور مکمل غیر جانبداری ہوں گے اور عوام کی حمایت اور تعاون سے یہ توقع کر سکتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ایک ہوگا۔۔۔۔"

آج اقوامِ عالم کی صفوں میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ ۔ عوام اپنے قائدین کے ضمیر پر دستک دے رہے ہیں اور ''قائداعظم کا پاکستان'' مانگتے ہیں۔