004 - دکن میں عید ....تحریر: کوثر بیگ

دکن میں عید

رمضان کے بابرکت مہینہ کے آنے سے رونقوں، رحمتوں، برکتوں میں اضافہ ہوتا ہے، تو یہ اپنے اختتام پر عید کی نوید بھی لے آتا ہے۔ عید کی تیاری ہر طبقہ اپنی استطاعت کے لحاظ سے کرتا ہے۔ اللہ کریم کے قانونِِ فطرت کے کیا کہنے امیر کو ثواب و جزا دینے کا وعدہ کرکے غریبوں کی خوشیوں کا بندوبست فرماتا ہے۔ زیادہ تر رمضان میں نیکیوں کے حریص حضرات زکوٰۃ اور خیر خیرات کا اہتمام کرتے ہیں۔
عید کی آمد، کیا امیر کیا غریب، سب کے لئے موجبِ مسرت ہوتی ہے۔ اس کی تیاری کئی دن پہلے سےشروع ہوجاتی ہے۔ مرد حضرات جاب، روزے، تراویح کی نماز کے ساتھ ساتھ اپنے کنبہ کی عید کی تیاری میں کوشاں ریتے ہیں، تو خواتین سحری، افطار، تلاوت، نماز کی مصروفیت کے باوجود سب کے لئے نئے کپڑے، گھر کی تفصیلی صفائی اور شاپنگ میں مگن ہوتی ہیں۔ نو بیاہتا اور منگنی والی لڑکی کے گھر سسرال سے عیدی بھیجی جاتی ہے۔ نوخیز لڑکیاں اور سہاگن عورتیں مہندی ہاتھوں پر لگاتی ہیں بچوں کی خوشی تو دیدنی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے ماہ رمضان اختتام کے قریب آتا ہے شاپنگ عروج پر ہوتی ہے اور ہر طرف خواتین وحضرات خریداری کرتے نظر آتے ہیں چاہے وہ چھوٹا ہو یابڑا۔ امیر ہو یا غریب۔ کسی دانشوار کا قول ہے کہ کھانا اپنے لئے اور پہنا دوسروں کے لئے، کے مصداق لباس ہو کے زیوارت، چپل ہو کے چوڑیاں، ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں سب کو خوب سے خوب تر کی تلاش ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان ایسا مہینہ ہے۔ جس میں چھوٹے سے چھوٹے بیوپاری کا کاروبار بھی عروج پر رہتا ہے اور ان کی مارکیٹ میں مانگ بڑھ جاتی ہے۔ قلی قطب شاہ کے بسائے ہوے شہر حیدرآباد دکن کے قلبِ شہر چار مینار کی گود میں شاہ علی بنڈہ سے پرانے پل تک، تو خلوت سے پرانی حویلی تک۔ سامان سے لدی دکانوں پر ایسے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جس میں کوئی پھترگٹی سے لباس و عطریات خرید رہے ہیں تو کوئی سونے، چاندی اور نقلی زیورات کے لئے گلزار حوض سے کالی کمان کے چکر لگا رہے ہیں، تو کوئی لاڈ بازار سے چوڑیاں وسلمٰی ستارے اور میک اپ کی شاپنگ میں مصروف ہوتے ہیں، تو کوئی گھر کی سجاوٹ کی اشیاء کی خریداری میں محو ہیں اور کوئی گھر آئے مہمان کی ضیافت کے لئے تیار کئے جانے والے پکوان کا خورد و نوش کے سامان کا میر عالم منڈی میں تول مول کر رہے ہیں۔ کوئی اس ہجوم کو صرف دیکھنے ہی چلے آتے ہیں۔ عید کے دن سے پہلے فجر تک بازار میں کاروبار چلتا ہی رہتا ہے۔
عید کا چاند نظر آتے ہی سب اپنے سے بڑوں کو فرشی سلام کرتے ہیں چاند کی مبارک باد دیتے ہیں۔ پھر صبح فجر سے اٹھ کر مرد حضرات نہا دھو کر نئے کپڑے زیب تن کرکے شیر خورمہ نوش کرنے کے بعد عیدگاہ یا مکّہ مسجد جا کر عید کی نماز ادا کرتے ہیں اور ان کے آنے تک خواتین پکوان سے فارغ ہو کر چھوٹے بچوں کی تیاری کے بعد خود بناؤ سنگھار کر کے نماز سے واپسی کا انتظار کرتی ہیں۔ اڑوس پڑوس میں شیرخورمہ بھیجا جاتاہے۔
نماز سے واپسی کے بعد عید کا سلام اور مبارک بادی ایک دوسرے کو دیتے ہیں اپنے سے چھوٹوں کو عیدی دی جاتی ہے۔ پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مرد حضرات عزیز واقارب سے ملنے چلے جاتے ہیں اور خواتین آنے والے مہمانوں کی ضیافت میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ آنے والے مہمان کو شیر خورمہ کھاری سویاں، نہتاری سویاں، چائے یا شربت اور عطر، پان پیش کیا جاتا ہے۔ پھر دوسرے دن خواتین اپنے میکے جا کر ملاقات کر آتی ہیں ہر وقت ہر مقام پر سب ہی بہت خوش نظر آتے ہیں۔ عزیز اقارب پڑوسی اپنے پرائے دوست دشمن سب ہی ایک دوسرے کے گِلے شکوے بھلا کر آپس میں گلے مل لیتے ہیں۔
http://i293.photobucket.com/albums/mm56/kauserbaig/EidStreet.jpg
http://i293.photobucket.com/albums/mm56/kauserbaig/EidKiNamazMakkaMasji…
http://i293.photobucket.com/albums/mm56/kauserbaig/CharminarShalibandaR…