006 - اب ہے فرض ہمارا۔۔۔شاعر: امجد اسلام امجد

انتخاب:

امجد اسلام امجد

اب ہے فرض ہمارا

بچھڑے ہوؤں کو پھر سے ملائیں، اب ہے فرض ہمارا
مرہم سب زخموں پہ لگائیں اب ہے فرض ہمارا

ننگے سروں پہ چادر رکھیں، شل کاندھوں پہ ہاتھ
لاٹھی بوڑھوں کی بن جائیں، اب ہے فرض ہمارا

ٹوٹے ہوئے ہر دل کو جوڑیں، موڑیں وقت کا رخ
روتے ہوؤں کو پھر سے ہنسائیں، اب ہے فرض ہمارا

قدرت نے اِس روپ میں چُھپ کر جو پیغام دیا ہے
اس کو سمجھیں اور سمجھائیں، اب ہے فرض ہمارا

ہجرت کی اس سخت گھڑی میں کھولیں دل کے در
پھر انصاری رسم نبھائیں، اب ہے فرض ہمارا

تاریکی کا ماتم کب تک، اُجلے جذبوں سے
رستے روشن کرتے جائیں، اب ہے فرض ہمارا

ملبے پر تعمیر کریں ہم بستی ایک نئی
مستقبل سے ہاتھ ملائیں، اب ہے فرض ہمارا

ہونی کو تسلیم کریں اور امجد دنیا میں
صبر کی خوشبو کو پھیلائیں، اب ہے فرض ہمارا