009 - اشعارِ عید

اشعارِ عید:

دعا ہے آپ دیکھیں زندگی میں بے شمار عیدیں
خوشی سے رقص کرتی مسکراتی پُر بہار عیدیں

***
تیرہ شبوں کو پھر سے جگمگائے ہلالِ عید
سندیسۂ بہار بن کے آئے ہلالِ عید
تمنا ہے کہ دیکھیں نئی سحر کی رنگینی
اے کاش! نویدِ صبح لے کے آئے ہلالِ عید

***
یہ عید تیرے واسطے خوشیوں کا نگر ہو
کیا خوب ہو، ہر روز تیری دید اگر ہو
ہر رات مسرت کے نئے گیت سنائے
لمحات کے پیڑوں پہ بھی شبنم کا ثمر ہو

***

نئی خوشی کے ساتھ فلک کی سیاہ چادر پر
سر شام ہلالِ عید جب نظر آیا
کچھ تو ہو گئے فرطِ مسرت سے پاگل
کچھ نے جھوٹی تسلی سے دل کو بہلایا

***

گلشن کو کر رہی ہے معطر ہوائے عید
آتا نہیں ہے کچھ بھی نظر ماسوائے عید
میری طرف سے عید مبارک ہو آپ کو
میرے تو پاس ہے یہی تحفہ برائے عید

***

ہلالِ عید! نویدِ طرب ہے دید تری
تری نمود خوشیوں کا پیام لاتی ہے
روایتیں ہیں کہ اس دن ہر اِک دل کی کلی
وفورِ نشہ و مسرت سے جھوم جاتی ہے

***

روزِ عید

کھول کر دیکھيے دریچۂ دل
لمس جاناں کا پیراہن اوڑھے
شام آئی ہےمسکراتی ہوئی
ایسی ساعت میں دوریوں کا عذاب !
چبھ رہے ہیں درونِ چشم خواب
اس طرف تم ہو ، اس طرف ہم ہیں
سر خوشی میں بھی کیا عجب غم ہیں
کاش یہ فاصلے سمٹ جائیں
قربتوں کے گلاب کھل پائیں
تم سے ہم روز عید مل پائیں

***

ایک لمحے کو کبھی میں نے تجھے دیکھا تھا
عمر بھر میری نظر میں نہ جچا عید کا چاند !

***

کیا لطفِ عید ہے جو اگر تم سے دور ہوں
گزرے گا روزِ عید تصور میں آپ کے

***

اس عید پر جو مل نہ سکے ہم تو کیا ہوا
جذبوں میں ہو خلوص تو عیدیں ہزار ہیں

***