001 - ایک آیت و حدیث....مرسلہ:بنت احمد

اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَـقِّۙ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ‌ؕ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ‏ (سورۂ حدید۔ ۱۶)۔
ترجمہ:۔
"کیا ایمان والوں کے لئے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ا نکے دل خدا کی نصیحت کے اور جو دین حق (منجانب اللہ ) نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جاویں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاویں جنکو ان کے قبل کتاب (آسمانی) ملی تھی (یعنی یہود ونصاریٰ) پھر (اسی حالت میں) ان پرزمانہ دراز گزر گیا (اور توبہ نہ کی ) پھر انکے دل (خوب ہی) سخت ہوگئے اور بہت سے آدمی ان میں کے (آج ) کافر ہیں ۔ "

حدیث نبویﷺ:۔" حضرت دُرّہ بنت ابی لَہَب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر سوال کیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں بہترین شخص کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن شریف کا پڑھنےوالا، سب سے زیادہ تقویٰ والا، سب سے زیادہ نیکی کے کرنے اور برائی سے بچنے کو کہنے والا اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔ (مسند احمد، طبرانی، مجمع الزوائد)