002 - حمد باری تعالیٰ....فرید ندوی

حمد باری تعالیٰ

کوئی اُسے مانے یا نہ مانے ، وہ خالقِ کبریا ہے سب کا
اُسی سے ملنا ہے سب کو آخر ، اُسی سے تو واسطہ ہے سب کا

کسی بھی مشکل میں مت لگاؤ کبھی درِ غیر سے امیدیں
خدا سے مانگو جو مانگنا ہے ، وہی تو مشکل کشا ہے سب کا

وہی مری محنتوں کا پھل بھی ، مری دعاؤں کا ماحصل بھی
وہی دعائیں سکھانے والا ، وہ آپ ہی مدعا ہے سب کا

وہی جو ہے سارے بیش و کم میں ، وہ جس سے ڈھارس ہے فرطِ غم میں
حیات کے سارے پیچ و خم میں ، وہی تو اِک آسرا ہے سب کا

سبھی کے دل اُس کی انگلیوں میں ، وہ پھیر دے جس طرف کو چاہے
اُسی کے قبضے میں روح سب کی ، جو حالِ دل جانتا ہے سب کا

میں کیوں کسی اور کو پکاروں ، میں کیوں کسی سے بھی لو لگاؤں
کسی کے قبضے میں کچھ نہیں ہے ، خدا ہی حاجت روا ہے سب کا

بس ایک در ہے کہ جس کی جانب ہیں سب کے سب ٹکٹکی لگائے
بس ایک داتا ہے جس کے آگے سوال کو ہاتھ اُٹھا ہے سب کا

کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے حمد اور نعت کی حلاوت
اُسی سے مانگو یہ خوش نصیبی ، نصیب جو بانٹتا ہے سب کا

اگر ہیں خوشیوں کے چند لمحے ، تو زندگی میں ہزاروں دکھ ہیں
فرید دکھ سے بھرے جہاں میں خدا ہی درد آشنا ہے سب کا