004 - تبصرہ:کائنات بشیر

ایک بار پھر ون اردو شمارہ میرے ہاتھوں میں ہے، دیدہ زیب سرورق کے ساتھ۔ ایک نظر میں ہی اندازہ ہو رہا ہے کہ تین بہت اہم موضوعات کو نمایاں کر رہا ہے۔ جشن آزادی، ماہ رمضان اور عیدالفطر۔
شمارے میں اسلام اور ماہ رمضان کے حوالے سے مضامین نے بروقت بہت معلومات دیں اور رمضان کے پاکیزہ ماحول سے ہم آہنگی کی۔
سلسلے وار مضامین بھی خوب رہے۔ اور ساحرہ سس نے جس طرح نیاگرا فال بارے مضمون دیا اور تصاویر دیں وہ بہت اچھا لگا۔ میں خود نیاگرا فال دیکھ چکی ہوں، لیکن وہ ایسی جگہ ہے جہاں باربار جانے اور دیکھنے کو دل چاہے۔ اور اسی طرح خسرو بھائی نے جس طرح ریاست قطر کے بارے میں لکھا اوراسے خوبصورت تصاویر سے مزین کیا وہ قابل تعریف ہے۔ پھر عید کے حوالے سے خسرو بھائی کا مضمون بھی خوب رہا۔ یہ جاننا دلچسپی کا باعث بنا کہ وہاں عید کی رونق سہ پہر سے شروع ہوتی ہے۔ اور کوثر بہن نے حیدر آباد دکن کی عید کی رونق دکھائی تو بہت اچھا لگا۔
افسانے، شاعری سب شعبے ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے نظر آئے۔ کچن میں بھی اچھے اچھے کھانے موجود تھے۔ جن سے یقینا عید کا مینو بنانے میں مددگار رہے ہوں گے اور سبزیوں سے متعلق ہما جی کا مضمون بہت خوب تھا۔ یہ تو وقت، صحت کا تقاضا بھی ہے کہ مٹن، چکن، روسٹ، پائے کے ساتھ ساتھ سبزیوں کو بھی اپنے دستر خوان کی زینت بنایا جائے۔ محسنہ سس کا رمضان کی نسبت سے کھجور کی افادیت کے بارے میں بتانا بھی بر محل تھا۔

شہنشاہ ظرافت منور ظریف کے بارے میں آرٹیکل بہت اچھا لگا۔ پاکستانی فلم انڈسٹری گو اس وقت ایک ناکام حالت میں ہے، لیکن اسی فلمی صنعت نے عوام کو فلموں، ڈراموں کے حوالے سے بہت سے بڑے بڑے کامیڈین دئیے۔ ظریف، نرالا، لہری، رنگیلا، علی اعجاز، ننھا اور ان سب میں شہنشاہ ظرافت بلاشبہ منور ظریف ہی رہے۔ گو انہوں نے کچھ فلموں میں سنجیدہ رول بھی ادا کیے لیکن ان کی پہچان مزاحیہ اداکاری سے ہی ہوئی۔ ان کی اداکاری اور کرداروں میں اتنی ورائٹی اور پرفیکشن ہے کہ لگتا ہے بہت سارے کرداروں کا کام وہ اکیلے کر رہے ہیں۔ اور جیسے علی اعجاز اور ننھا کی جوڑی بنی اسی طرح منور ظریف اور رنگیلا کی کیمسٹری ملی۔ اور دونوں نے اپنی موجودگی سے فلم کو مشہور اور کامیاب بنایا۔ اور ان جیسا کامیڈین نہ پہلے تھا نہ ہو سکتا ہے۔ اللہ انھیں غریق رحمت کرے۔ آمین۔ عین عالم شباب میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ لیکن ان کی اداکاری اور کردار آج بھی مقبول ہیں۔
مجموعی طور پر شمارہ بہت عمدہ لگا۔ خوبصورت ڈیزائننگ بھی نمایاں رہی۔ سب ٹیم کو بہت مبارکباد۔۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے کہ اب وہ وقت آ چلا ہے۔ جب یہ بھی ہارڈ کاپی میں تبدیل ہو کر کسی گھرکے ٹیبل، بک سٹورز کے ریک اور ائر پورٹ کی بک شاپ میں باقی کتابوں اور میگ کے ساتھ پڑا قاری کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہو کہ سوچ کیا رہے ہو۔ ایک بار مجھے خرید کر اور پڑھ کر تو دیکھو۔ تمھیں خود پتہ چل جائے گا۔ خوبصورت لوگوں کی سرزمین سے آیا ہوا ون اردو میگزین۔

آپ کی پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ ماہنامے کے بارے میں اتنے تفصیلی اور جامع تبصروں سے بھی تحاریر کے معیار کو مزید بہتر سے بہتر بنانے میں بہت مدد ملتی ہے۔ میگزین کو کتابی شکل میں شائع کرنے کے بارے میں آپ کی تجویز بہت امید افزاء ہے اور ان شاءاللہ اگر اسی طرح تسلسل کے ساتھ میگزین شائع ہوتا رہا تو ایک دن یہ منزل بھی آ کے رہے گی۔