006 - تبصرہ: ندیم اختر

دسویں شمارے پر تبصرہ۔

خدا کا شکر ہے کہ ہمارے میگزین کا اسکور ڈبل فگرز تک جاپہنچا۔ اس نفسا نفسی کے دور میں بے لوث رضاکاروں کی جماعت کی طرف سے دس اشاعتوں کی بنا تعطل تکمیل بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ (ویسے اس پر تحقیق ہوسکتی ہے کہ آیا تاریخِ انسانی میں مستثنیات کو چھوڑ کر کوئی دور ایسا گزرا ہے جسے نفسانفسی کا دور نہ کہاجاسکتا ہو؟)۔ اس پر مستزاد یہ کہ معیار بھی گاہے بہتری کی جانب گامزن ہےاور دسواں شمارہ اس کا منہ بولتا، بلکہ چیختا چنگھاڑتا ثبوت ہے۔
اچھا جی پہلے ذرا ڈیزائن پر بات ہوجائے۔ سرورق خاصا جاذب نظر لگا اور اندرونی صفحات کا لے آؤٹ بھی بہت پروفیشنل اور اب تک کے شماروں میں شاید سب سے عمدہ رہا۔ بالخصوص تصاویر کو جس عمدگی سے ترتیب دیا گیا اور ان کے حجم اور تناسب کا خیال رکھتے ہوئے مناسب مقامات پر ٹانکا گیا اس نے شمارے کی ظاہری خوبصورتی میں چار سے کہیں زائد چاند لگا دیے۔ اور پھر معیار پر سمجھوتا کیے بغیر فائل کا حجم ہمیشہ سے کہیں مختصر رکھنا تو ایسا کارنامہ ہے جس کے لیے ڈیزائننگ ٹیم شکریے کے ساتھ ساتھ خصوصی دعاؤں کی بھی مستحق ہے۔
اب آتے ہیں مندرجات کی طرف۔ عرضِ حال میں یازغل بھیا رمضان، عیدالفطر اور پھر آزادی کی مناسبت سے اچھی اچھی باتیں کرتے نظر آئے جنہیں پڑھ کر سب بچے یقیناً بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ جنابِ فرید ندوی کے نعتیہ کلام کے تو کیا ہی کہنے، واہ واہ، سبحان اللہ۔ ان کی محبت اور صلاحیت دونوں پر بےپناہ رشک آتا ہے اورسچ پوچھیں تو ابتدا میں ہی اتنا معیاری کلام پڑھ کر باقی ماندہ میگزین کے بارے میں توقعات خاصی بڑھ جاتی ہیں۔
اس کے بعد احمد غزنوی بھائی کی رمضان المبارک کے حوالے سے مفصل تحریر نظر سے گزری جس کا اندازِ بیاں سہل تھا اور جس سے کئی باتوں کی یاددہانی کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا بھی سیکھنے کو ملا۔ یہ سلسلہ سلمان سلو بھیا کے تالیف کردہ انعاماتِ رمضان المبارک پڑھتے ہوئے بھی جاری رہا۔ اس کے بعد سمارا باجی کا مضمون سائنس اور باری تعالٰی کی کبریائی سامنے آیا جو معیار کے ہر پیمانے پر پوری، بلکہ پوری سے کچھ زیادہ ہی اترنے والی تحریر رہی۔
رض چودھری (بھیا یا باجی؟) کی کہانی نیا پن نہ ہونے کے باوجود ٹھیک لگی۔ اس کے ختم ہونے کے بعد سمارا ایک بار پھر سراب کے ہمراہ ہماری منتظر تھیں۔ کہانی کا پیغام اچھا تھا اور منظر نگاری مناسب۔ اس بار ایڈیٹرز چوائس ایوارڈ جیتا وطن سے محبت کیوں؟ نے، پر ایمان داری کی بات ہے کہ یہ تحریر ہمارا دل نہیں جیت سکی۔ لیکن یہ بات ہم مُون آپی کے راؤلنگ آنٹی اور ان کی شہرہ آفاق کہانیوں پر تذکرے و تبصرے کے متعلق نہیں کہہ سکتے کیوں کہ ہم شروع دن سے ان مصنفہ کے پرستاروں میں سے ہیں۔
خسرو بھیا نے قطر کی باتصویر سیر کروائی، اور کیا خوب کروائی۔ پڑھ کر جانا کہ نظم کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی جناب کے جوہر قابلِ دید وداد ہیں۔ ساحرہ اپیا نے اختصار کے ساتھ نیاگرا آبشار (جس کا نام پڑھ کر بے سروپا طور پر آگرہ اور پھر تاج محل، شاہجہاں وغیرہ یاد آجاتے ہیں) دکھایا جسے ہم نے غور سے دیکھا اور سوچا کہ اس سے ملتا جلتا سین پارٹ تو ہمارے تربیلے، منگلے ڈیموں پر بھی ہوتا ہے۔
غزل کے معاملے میں خاصا نک چڑھا ہونے کے باوجود سلو بھیا اور کائنات آپی کی کاوشوں نے متاثر کیا اور جنابِ ندوی کے کلام کی تعریف تو ہم جیسوں کا مقام ہی نہیں۔ رافعہ بہنا جی کی نظم اتنی پرہیبت اور پرشکوہ ہے کہ معانی مطلب کی گہرائی میں جانے کی ہمت نہیں پڑسکی اور جو کچھ بھی ہے خدا کی قسم لاجواب ہے والے مقام پر رک جانا مقدر ٹھہرا۔ چچا عباس تابش کا کلام شامل کرکے ادارے نے ہمارے ساتھ بڑی نیکی کی، ضرور اس کا اجر ادارے کو فلاحِ دارین کی صورت ملے گا۔
اس سے قبل کہ یہ تبصرہ داستانِ الف لیلٰی کی طوالت کو مات دے، صدقِ دل سے چند مختصر بیانات جاری کرتے ہوئے بساط لپیٹتے ہیں۔ یہ کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے باب میں شامل مضامین کا معیار معقول، گوشہ خواتین کی تحریریں اور ترکیبیں بالترتیب معلومات افزا اور منہ میں پانی بھر لانے والی اور انٹرٹینمنٹ سیکشن فی الواقع تفریح سے بھرپور تھا۔ نیز یہ کہ جشنِ آزادی اور عید کے حوالوں سے شامل کی گئی تحاریر موقع کی مناسبت سے ٹھیک ٹھاک رہیں۔
اور آخر میں ایک بہت اہم سوال۔ کئی ساتھیوں نے ایک سے زائد میدانوں میں کامیابی سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرکے خود کو آل راؤنڈر ثابت کیا۔ ہم بھی ان جیسے بننا چاہتے ہیں اور ہمارا ان سب سے سوال ہے کہ آخر اس ہمہ جہتی کا راز کس کوکنگ آئل یا بناسپتی گھی میں پوشیدہ ہے؟

محترم ندیم بھائی! اس جامع و مفصل تبصرہ نگاری پہ ہم آپ کے مشکور و ممنون ہیں۔ آپ کا اندازِ سخن ایسا ہے کہ شمارے کے قارئین شمارے کی بجائے آپ کے تبصروں کا زیادہ انتظار کرتے ہیں۔ آپ یقینا" اس سلسلے کو اسی طرح جاری و ساری رکھیں گے۔ بہت شکریہ