001 - شمسی سال یا قمری سال۔۔۔۔ ادارہ

فی الحقیقت جس قدر سائنٹیفک معلومات کو ترقی ہوتی جائیگی اور جس قدر کہ حقائق عالم کا انکشاف زیادہ ہوگا اسی قدر اسلامی اصولوں کی صداقت کے متعلق تائید حاصل ہوتی جائے گی۔ بظاہر شمسی سال میں تعین اوقات کی ایسی خوبی موجود ہے کہ اس کا دنیاوی امور کے لیے مفید ہونا بلا حجت تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اور چونکہ کرہٴ زمین کی مداری حرکت کو، جو 365 دن اور چند گھنٹوں اور منٹوں میں، اپنے مرکز کے گرد ختم کرلیتی ہے پورے بارہ حصوں یا باالفاظ دیگر مہینوں میں تقسیم کرلیا جاتا ہے۔ اور پھر گھنٹوں کی کسرات کو چوتھے سال اور منٹوں کی کسرات کو ہر چوتھی صدی میں سال کبیسہ بنا کر پورا کرلیتے ہیں۔ اس لیے جو موسم ہر ملک میں جس مہینے کے لیے مختص ہے اس میں تفادت نہیں ہوتا اور ہمیشہ مہینوں کے نام ہی بتلا دیتے ہیں کہ آیا ان ایام میں دور دورہ گرمی یا جاڑہ کا ہے یا عمل و دخل بہار اور خزاں کا۔ برخلاف اس کے قمری میں مہینوں کے ساتھ نہ تعین موسم ہے نا باقاعدہ سالانہ اوقات کی تقسیم کیونکہ آج اگر ماہ صفر میں موسم گرما کا آغاز ہے تو اس سے نویں سال اس نام کے قمری مہینے میں کڑکڑاتا جاڑا پڑتا ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ چاند زمین کے گرد 29 روز 12 گھنٹے 24 منٹ اور کچھ سیکنڈ میں اپنا دورہ پورا کرلیتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ چاند قرص آفتاب کے محاذ آکر جب دوسری مرتبہ اسی نقطہ پر واپس آتا ہے تو اس کو 29 روز 12 گھنٹے 24 منٹ اور کچھ سیکنڈ صرف کرنا ہوتے ہیں اور یہی باعث ہے کہ رویت ہلال کبھی 29 روز اور کبھی 30 روز میں ہوتی ہے اور اسی کا نام قمری مہینہ ہے ان کے اعتبار سے قمری سال تقریباً 355 دن کا ہوتا ہے اور اسلیے سال شمسی سے بقدر دس یوم تخمینی کم ہے یہی کمی ہر چوتھے سال یعنی تین برس کے ختم ہونے پر ہندوستان میں ایک لوند کا مہینہ اضافہ کردینے سے پوری کرلی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلامی سال قمری میں کبھی کمی بیشی نہیں کی جاتی اور اس لیے ہمیشہ ہر سال دس اور کبھی گیارہ روز کی کمی سے مہینوں اور موسموں میں اختلاف ہوتا رہتا ہے۔

اب غور طلب یہ امر ہے کہ آیا یہ ظاہری نقص اسلامی سال قمری کا درحقیقت عیب ہے یا ثواب۔ بظاہر اس میں کوئی شک نہیں کہ سال شمسی میں تغیر اور تبدل موسم وقت معینہ پر ہونے پر زراعت اور تجارت میں کافی امداد ملتی ہے اور وقت پر کاشت وغیرہ کا انتظام کرلیا جاتا ہے۔ لیکن دراصل زراعت کے لیے مہینوں کا جاننا کوئی ضروری شرط نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار موسم کے تغیر پر منحصر ہے۔ مثلاً ہندوستان میں جولائی کا مہینہ آجانا اس لیے کافی نہیں ہوسکتا کہ کاشتکار لوگ تخم ریزی شروع کردیں بلکہ اس کے لیے بارش کا ہونا لازم ہے چناچہ ادھر بارش شروع ہوئی ادھر ان کا کام شروع ہوگیا اگر بارش نہ ہوئی تو جولائی اور اگست، سب مئی اور جون کے برابر ہیں۔ اسی طرح ایام بارش ختم ہونے کے بعد جب رت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور سردی کا آغاز ہر عالم اور جاہل کو یکساں طور پر محسوس ہوتا ہے تو لوگ سرمائی انتظام میں مصروف ہوجاتے ہیں اور کاشتکار لوگ فصل ربیع کے بونے میں ساعی ہوتے ہیں اور ان کے اس امر کو جاننے کی ضرورت لاحق نہیں ہوتی کہ اس مہینے کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔ اور ایران میں اس کا کیا نام ہے۔

الحاصل جو خوبی بظاہر شمسی سال میں نظر آتی ہے اس پر کاروبار دنیاوی کا انحصار نہیں ہے بلکہ تغیر موسم پر ہے پھر اس قدر ضرورت بھی صرف ہندوستان میں محسوس ہوتی ہے جہاں تین موسم مقرر ہیں حالانکہ تمام دیگر ممالک میں بارش کے اوقات عموماً غیرمعین ہیں کہیں تو بارش ہوتی ہی نہیں اور کسی ملک میں ہوتی ہے تو کوئی دن خالی نہیں جاتا۔ اس لیے ظاہر ہے کہ سال شمسی کا وجود جس قدر کہ انضباط اوقات کے لیے ضروری ہے اس قدر لوازم زندگی کے لیے لابد نہیں۔ اور اگر چند پہلوؤں پر نظر ڈالنے سے اس کے فوائد مان لیے جائیں تو سب سے مشکل یہ امر پیش آتا ہے کہ تمام عالم کے مہذب اور غیر مہذب عالم اور جاہل ذکور اور اناث کے لیے کون ذریعہ ہے کہ جس سے وہ صحیح حساب تحویلات شمسی کا کریں اور اگر ایک مہینے کی ایام شماری میں غلطی پڑجائے تو کس قدرتی علامت سے وہ اپنی تاریخوں کو صحیح رکھ سکیں۔ غرض اس تقریر سے یہ ہے کہ جب تک مضوعی ذرائع مسل جنتری وغیرہ کے نہ حاصل ہوں یا ہر ملک و قوم میں چند منجم اور جوتشی نہ ہوں جن پر جنتری کا مدار ہو اس وقت تک عوام کے لیے کوئی فطرتی اور قدرتی ذریعہ نہیں ہے کہ سال شمسی کا اجراء ہوسکے۔ چناچہ باوجود علم و فضل کے ہندوستان کے قدیم علماء نے بھی اگرچہ سال شمسی بنایا کیونکہ ہندوستان میں بالخصوص فضول ثلاثہ کے باعث اس کی ضرورت تھی لیکن ذریعہ حساب لگانے کا چاند ہی کو قرار دیا۔ اور اس کے دور کی کمی کو ہر تین برس میں ایک مہینہ اضافہ کرکے رفع کردیا۔ لیکن اسلام نے جو تمام عالم کے لیے ہے اس لوند کے مہینے کو بڑھانے کی ممانعت فرما دی۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس امتناع کی فلاسفی آج جغرافی معلومات نے ہایت خوبصورتی سے بتلا دی ہے اور سال قمری سے ہر مسلمان کو خواہ وہ خواندہ ہو یا ناخواندہ ہندوستان کے سرسبز میدان میں ہو یا عرب اور صحرائے اعظم افریقہ کے لق و دق ریگستان میں ہلال دیکھ کر اپنے مہینے کا حساب لگانے کا طریقہ ایسا سہل بتلا دیا ہے کہ اس کو اس معاملہ میں نہ پنڈت جی سے پوچھنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ جنتری کو الٹ پلٹ کرنے کی بلکہ اکثر اس کو جنتریوں کے مضوعی حساب کے دعوے پر جو رویت ہلال سے متعلق ہوتے ہیں خندزنی کا موقع ملتا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ لوازمات زندگی میں سے جن کے لیے تعین اوقات کی ضرورت ہے، زراعت، تجارت اور ملازمت کے علاوہ عبادت بھی ایک لازمہٴ بشریت ہے جس کو ہر طبقہ اور ملت کے آدمیوں نے انسان کی پہلی ضرورت بتلایا ہے اور عبادت کے لیے ہر مذہب میں اوقات معین ہیں اور ان میں روزانہ بھی ہیں، سالانہ بھی۔ چناچہ سالانہ اوقات مقررہ میں سے دو اس درجہ کی عبادت ہیں جو ارکان اسلام میں داخل ہیں یعنی روزہ اور حج۔ روزے کے لیے ایک مہینہ مقرر ہے اور حج کے لیے بھی ایک دن خاص کردیا گیا ہے۔ غالباً اس کے لیے یونیفارنٹی رہے یا کوئی اور مصلحت مالک حقیقی کے علم میں ہو۔ بہرحال تعین وقت کسی نہ کسی صورت ہر ایک دنیا کے مذہب اور طریق عبادت میں موجود ہے۔ پس جائے غور ہے کہ اگر ماہ صیام کے لیے بلخاط سال شمسی ٹھنڈے اور چھوٹے دن مثلاً دسمبر یا جنوری منتخب کیے جاتے یا بہتر سے بہتر وہ مہینے لیے جاتے تو اسلام پر صاف یہ اعتراض وارد ہوتا کہ سہولت کے لیے کیا اچھے دن چھانٹے ہیں اور اگر اس لحاظ سے ہمیشہ کے لیے اپریل سے لیکر اگست تک کے کوئی تیس روز پسند کرلیے جاتے تو ان ایام کی ناقابل برداشت سختیوں سے کبھی نہ کبھی اہل مذہب کے دل میں یہ کھٹکا گزرتا کہ دینداری کیسی سخت اور مشکل کردی گئی ہے کہ روزے کے ایام ہمیشہ کے لیے ایسے وقت میں کردیئے ہیں کہ آسمان جلتا ہے اور زمین تپتی ہے غرض سال شمسی کے لحاط سے حج اور ماہ صیام کا تقرر کبھی خالی از اعتراض نہیں ہوسکتا۔

لیکن یہاں تک جو وجوہ سالم قمری کی فوقیت کے ہیں وہ معلومات قدیم کی بناء پر ہیں۔ لیکن مجھے یہ دکھلانا ہے کہ جدید جغرافیائی معلومات نے اس مسّلہ پر کہاں تک روشنی ڈالی ہے۔ چناچہ اس علم کے ماہرین بخوبی واقف ہیں کہ خط استواء کے لحاظ سے زمین کی تقسیم نصف کرہٴ شمالی اور نصف کرہٴ جنوبی میں ہوتی ہے۔ اور چونکہ آفتاب چھ مہینے شمال میں اور چھ مہینے جنوب میں خط استواء کے رہتا ہے اس لیے دونوں کروں میں ایک ہی وقت میں موسم برعکس رہتا ہے۔ یعنی اگر نصف کرہٴ شمالی میں گرمی ہے تو جنوبی میں جاڑا گویا جون کا مہینہ یورپ ایشیا شمالی امریکہ شمالی افریقہ میں سخت گرمی کا ہوتا ہے تو جنوبی افریقہ جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا میں کڑاکے کے جاڑے کا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ظاہر ہے کہ اگر سال شمسی کے حساب سے کوئی مہینہ مقرر ہوتا تو آدھی دنیا ہمیشہ تکلیف میں رہتی اور اور دوسری نصف آرام میں۔ کیونکہ موسم کے ساتھ طوالت لیل و نہار میں بھی تفادت ہے یعنی موسم گرما میں آباد حصہ دنیا میں 12 گھنٹے سے لیکر 20 گھنٹے تک کا دن ہوتا ہے اور برخلاف اس کے موسم سرما میں 12 گھنٹے سے لیکر 14 گھنٹے کا دن رہ جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر جون کا مہینہ ماہ صیام ہوتا تو نصف کرہ شمالی کے باشندوں کو علاوہ تپش و حرارت اور تشنگی کی شدت برداشت کرنے کے چودہ اٹھارہ اور بیس گھنٹے تک کا روزہ رکھنا پڑتا اور کرہٴ جنوبی میں باوجود سردی کے چھ یا آٹھ گھنٹے تک عیش و لذت دنیاوی ترک کرنا کافی ہوتا اور یہی ایک مسّلہ ثابت کردیتا ہے کہ نعوذ باللہ جس نے یہ قاعدہ قرار دیا ہے وہ خود کرہٴ زمین کی ساخت اور اس پر موسموں کی کیفیات اور تغیرات سے ناواقف ہے اور وہ مذہب جس میں ایسا قاعدہ ہو کہ ایک لوکل یا مخص المقام مذہب ہے نہ کہ یونیورسل یعنی عالمگیر اس اشکال کو سال قمری ہی نے طے کیا ہے۔ اس کے مہینے چھتیس برس تک ہر شمسی موسم کے حصہ میں سے گزرتے ہیں اور اگر ایک زمانہ عبادت گرمیوں میں آتا ہے تو چند سال بعد خزاں میں اور پھر بہار میں۔ چناچہ ہر 36 سال کی مدت میں نصف کرہٴ شمالی اور نیز جنوبی میں ماہ صیام ہر موسم کے حصے میں گزر کر ایک ایسی عدل کی صورت پیدا کرتا ہے جس سے صاف روشن ہے کہ دین اسلام جس ذات کے نزدیک دین حق ہے وہ ذات پاک ہے جس کو حکیم مطلق اور خداوند برحق کہتے ہیں۔ جو مالک ہر شے کا ہے اور جو تمام امور عالم سے بخوبی واقف ہے۔ اور ایسا اصول صرف اس حکیم و علم کی آسمانی مدد سے قائم ہوسکتا ہے جو اس زمین کا پیدا کرنے والا اور صانع ہے ورنہ جس زمانہ میں دین اسلام چمکا اسوقت نہ جنوبی امریکہ معلوم تھی نہ ٹرنسوال اور آسٹریلیا کا وجود تھا نہ نصف کرہٴ شمالی و جنوبی میں اختلافی موسم کی بحث درپیش تھی۔ علی ہذا القیاس ایام حج بھی ایک موسم پر منحصر نہیں ہیں اور رفتہ رفتہ ہر موسم میں آتے رہنے سے حجاج کو ہر موسم میں سفر کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

پس وجوہات متذکرہ بالا سے ظاہر ہے کہ مسلمانان عالم کے لیے پورے دل کے ساتھ قمری ہی موزوں ہوسکتا ہے نہ کہ سال شمسی۔

- مولانا اشرف علی تھانوی