013 - کلام ِ اقبال:

کلام ِ اقبال:

زمانه آیا هے بے حجابی كا ، عام دیدار یار ہو گا
سكوت تھا پرده دار جس كا ، وه راز اب آشكار ہو گا

گزر گیا اب وه دور ساقی كه چھپ كے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں مے خانه ، ہر كوئی باده خوار ہو گا

كبھی جو آواره جنوں تھے، وه بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برهنه پائی وہی رهے گی مگر نیا خار زار ہو گا

سنا دیا گوشِ منتظر كو حجاز كی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر استوار ہو گا

نكل كے صحرا سے جس نے روما كی سلطنت كو الٹ دیا تھا
سنا هے یه قدسیوں سے میں نے ، وه شیر پھر ہوشیار ہو گا

كیا مرا تذكره جو ساقی نے باده خواروں كی انجمن میں
تو پیر میخانه سن كے كہنے لگا كه منه پھٹ ہے، خوار ہو گا

دیار مغرب كے رہنے والو! خدا كی بستی دكاں نہیں ہے
كھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وه اب زر كم عیار ہو گا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود كشی كرے گی
جو شاخ نازک په آشیانه بنے گا، ناپائدار ہو گا

سفینه برگِ گل بنا لے گا قافله مور ناتواں كا
ہزار موجوں كی ہو كشاكش مگر یه دریا سے پار ہو گا

چمن میں لاله دكھاتا پھرتا ہے داغ اپنا كلی كلی كو
یه جانتا ہے كه اس دكھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاه تو نے ہزار كر كے ہمیں دكھایا
یہی اگر كیفیت ہے تیری تو پھر كسے اعتبار ہو گا

كہا جو قمری سے میں نے اک دن ، یہاں كے آزاد پا به گل ہیں
تو غنچے كہنے لگے ، ہمارے چمن كا یه راز دار ہو گا

خدا كے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس كا بنده بنوں گا، جس كو خدا كے بندوں سے پیار ہو گا

یه رسم بزم فنا ہے اے دل، گناه ہے جنبشِ نظر بھی
رہے گی كیا آبرو ہماری، جو تو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظلمت شب میں لے كے نكلوں گا اپنے درمانده كارواں كو
شررفشاں ہوگی آه میری ، نفس مرا شعله بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود كچھ بھی جو مدعا تیری زندگی كا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثالِ شرار ہو گا

نه پوچھ اقبال كا ٹھكانا، ابھی وہی كیفیت ہے اس كی
كہیں سر ره گزار بیٹھا، ستم ِكشِ انتظار ہو گا

***

پیام عشق

سُن اے طلب گار درد پہلو! میں ناز ہوں ، تُو نیاز ہو جا
میں غزنوی سومنات دل کا ، تُو سراپا ایاز ہو جا
نہیں ہے وابستہ زیر گردوں کمالِ شانِ سکندری سے
تمام ساماں ہے تیرے سینے میں ، تُو بھی آئینہ ساز ہو جا
غرض ہے پیکار زندگی سے کمال پائے ہلال تیرا
جہاں کا فرض قدیم ہے تُو ، ادا مثالِ نماز ہو جا
نہ ہو قناعت شعار گلچیں! اسی سے قائم ہے شان تیری
وفورِ گل ہے اگر چمن میں تو اور دامن دراز ہو جا
گئے وہ ایام ، اب زمانہ نہیں ہے صحرا نوردیوں کا
جہاں میں مانندِ شمع سوزاں میان محفل گداز ہو جا
وجود افراد کا مجازی ہے ، ہستئ قوم ہے حقیقی
فدا ہو ملت پہ یعنی آتش زنِ طلسم مجاز ہو جا
یہ ہند کے فرقہ ساز اقبال آزری کر رہے ہیں گویا
بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبارِ راہِ حجاز ہو جا

***

یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادئ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

محرومِ تماشا کو پھر دیدہء بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

پیدا دِل ویراں میں، پھر شورشِ محشر کر
اس محملِ خالی کو، پھر شاھدِ لیلا دے

اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو
وہ داغ محبت دے، جو چاند کو شرما دے

رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریّا کر
خوددارئ ساحل دے، آزادئ دریا دے

بے لوث محبت ہو، بیباک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورتِ مینا دے

احساسِ عنایت کر آ ثارِ مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

میں بلبلِ نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے

***