001 - سمجھیں اس کے کام کو۔۔۔ تحریر: سلمان سلو

سمجھیں اس کے کام کو

ستارہ کیا ہے؟۔۔
سائنسی اصطلاح میں ستارے سے مراد ہائیڈروجن و ہیلئیم گیسوں کا ایسا گیند نما مجموعہ جو اتنی کمیت(کسی جسم میں مادہ کی مقدار کو کمیت کہتے ہیں) رکھتا ہو کہ اس کے گودے میں نیوکلیر فیوژن (جوہری انشقاق یا ائتلاف ) ممکن ہوسکے،ستارہ کہلاتا ہے۔

ستارے کس چیز سے بنے ہوئے ہیں؟۔۔
ستارے بھی اسی چیز (مادہ)سے بنے ہوئے ہیں جس سے تمام کائنات بنی ہوئی ہے یعنی تہتر فیصد ہائیڈروجن، پچیس فیصد ہیلئیم اور اس کیساتھ دو فیصد دوسرے عنصر شامل ہیں۔

ستارے کس طرح بنتے ہیں؟۔۔
ہماری اس کائنات میں موجود تقریبا'' تمام ستارے و سیارے ہائیڈروجن و ہیلئیم سے بنے ہوئے ہیں۔ آج سے تقریباً چودہ ارب سال پہلے تمام کائنات ایک انتہائی گرم و بڑی ٹھوس گیند کی شکل میں تھا۔ یہ گیند اندر سے اس قدر گرم ہو رہا تھا جس طرح اک ستارے کا گودہ یا دوسرے لفظوں میں تمام کائنات اک ستارے کی مانند ہی تھا۔ نیوکلیر فیوژن(جوہری انشقاق) کا عمل شروع تھا۔ ہائیڈروجن ، ہیلئیم میں تبدیل ہو کر ایندھن فراہم کر رہا تھا۔ پھر بگ بینگ کے عظیم الشان دھماکے کے بعد پچھتر فیصد ہائیڈورجن و تیئس فیصد ہیلئیم کے بڑے بڑے بادل سرد مالیکولر گیسوں کی شکل میں بکھر گئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کائنات پھیلتی گئی اور ٹھنڈی ہوتی گئی حتیٰ کہ ایک پوائنٹ پر جیسے توازن میں بگاڑ یا کسی سپرنوا کے دھماکے کی وجہ سے ان بکھرے ہوئے بادلوں میں دھماکے ہوئے اور ستارہ بننے کا عمل شروع ہوا۔
ستارہ بننے کے پہلے مرحلے کو پروٹو اسٹار کہا جاتا ہے۔ یہ مرحلہ ایک لاکھ سال میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوتا ہے اور تقریباً ایک کروڑ سال کے بعد ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ اک ستارہ نیوکلیر فیوژن کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور ایک مکمل ستارے کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔

برہنہ آنکھ سے ہم کتنے ستاروں کو دیکھ سکتے ہیں؟۔۔
جب مطلع بالکل صاف اور آسمان خوب تاریک ہو چاند نہ ہو تو ہم ایک سیدھ میں اپنی برہنہ آنکھ سے بنا کسی دوربین کے تقریبا'' دو ہزار ستاروں کو بیک وقت دیکھ سکتے ہیں۔۔ ۔۔۔ستارے دن کے وقت بھی موجود ہوتے ہیں لیکن سورج کی تیز روشنی کی وجہ سے نظر نہیں آتے۔۔۔ماہر فلکیات کے مطابق برہنہ آنکھ سے مجموعی طور پر چھ ہزار سے زیادہ ستاروں کو نہیں دیکھا جاسکتا۔

ستارے و سیارے میں فرق؟۔
سورج جو زمین کیلئے توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بھی ایک ستارہ ہے۔۔یہ چوہتر فیصد ہائیڈروجن و چوبیس فیصد ہیلییم اور کچھ دوسرے عنصر سے ملکر بنا ہوا ایک بہت بڑا گیند ہے۔۔اس کی کمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے گودے میں موجود ٹمپریچر و پریشر نیوکلیر فیوژن(جوہری انشقاق) کو جاری رکھنے کے لئے کافی ہے۔سورج و دوسرے تمام ستاروں کے گودے میں ہائیڈروجن و ہیلئیم کے ایٹم آپس میں ملکر نیوکلیر فیوژن کا سبب بنتے ہیں جس کے نتیجے میں زبردست توانائی پیدا ہوتی ہے۔۔اور سورج یا کوئی سا بھی ستارہ روشن ہوجاتا ہے۔ گر کوئی اور شے جس کے گودے میں اس طرح کے نیوکلیر فیوژن کا عمل برپا نہیں ہو پاتا تو ایسی شے کو ستارہ نہیں کہا جائے گا بلکہ سیارہ کہا جائے گا۔
بہت سے سیارے بھی اسی مادے سے بنے ہوئے ہیں جس سے ستارے بنے ہوئے ہیں سیارہ مشتری و سیارہ زحل بھی ہائیڈروجن و ہیلئیم کے مکسچر سے بنے ہوئے ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ یہ سیارے ستاروں کی طرح چمک نہیں سکتے؟۔ اس کی بڑی وجہ کمیت ہے۔ اگر سیارہ مشتری کیساتھ 80 عدد اور مشتری سیارے یا اتنی کمیت والے سیارے اکٹھے کیئے جائیں تب ہی اس کے گودے میں نیوکلیر فیوژن ممکن ہوسکے گا ورنہ موجودہ کمیت یا سائز کے ساتھ ایسا ہونا ہرگز ممکن نہیں۔ اس کی دوسری مثال چاند کی ہے گو چاند ستاروں کی طرح روشن تو ہے لیکن چاند کو ستارہ تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ چاند کی کمیت بے تحاشہ کم ہے اور مطلوبہ کمیت نہ ہونے کیوجہ سے چاند کے گودے میں نیوکلیر فیوژن مکمن نہیں ہوسکتا۔ چاند کی روشنی اس کی اپنی روشنی نہیں۔ چاند سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے۔

ستاروں کے رنگ؟
عموما'' ستاروں کو سفید رنگ کا ہی سمجھا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں،ستارے مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں ،سفید، نارنجی، بھورے، نیلے، زرد اور سرخ۔ کسی بھی ستارے کا رنگ اس کے سطحی ٹمپریچر پر محنصر ہوتا ہے۔ سورج کا سطحی ٹمپریچر چھ ہزار کیلون ہے گو کہ زمین سے سورج کا رنگ زرد نظر آتا ہے لیکن ایسا نہیں سورج کا اصل رنگ سفید ہے جو خلا میں جاکر نظر آتا ہے۔ جن ستاروں کا سطحی ٹمپریچر بہت ہی کم ہوجاتا ہے اور اس میں موجود ہائیڈروجن کا ایندھن ختم ہوجاتا ہے ایسے ستارے ٹھنڈے ہو کر بھورے یا سرخ رنگوں کے ہوجاتے ہیں اس کے مقابل زیادہ سطحی ٹمپریچر والے ستارے بے تحاشہ گرم ہو کر چمکدار نیلے رنگوں میں نظر آتے ہیں۔

ستارے زمین سے کتنے فاصلے پر واقع ہیں؟۔۔
زمین سے قریب ترین ستارہ بلاشبہ سورج ہے، سورج زمین سے ایک سو پچاس ملین کلومیٹر یعنی تقریبا''پندرہ کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سورج کی شعاع زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ کا وقت لیتی ہے۔ ابھی تک بنائے گئے تیز ترین خلائی جہاز کی رفتار ستر ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اگر اسی رفتار سے سورج کی جانب سفر کیا جائے تو زمین سے سورج تک پہنچے میں نوے دن کا عرصہ درکار ہوگا۔ سورج سے نزدیک ترین ستارہ ''الفا سینچوری'' نامی ہے جو چار اعشارہ دو نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔(اس الفا سینچوری نامی ستارے کو شمالی نصف کرہ زمینی کی طرف برہنہ آنکھ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے) یعنی اگر روشنی کی رفتار سے الفا سینچوری ستارے کی طرف سفر کیا جائے تو چار سال میں یہ سفر طے ہوگا اور اگر اب تک موجودہ تیز ترین خلائی جہاز کی ٓستر ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا جائے تو نزدیک ترین ستارے تک پہنچنے کیلئے پینسٹھ ہزار سالوں کا عرصہ درکار ہوگا۔

ستارے کیوں جگمگاتے ہیں؟
اگر خلا میں جا کر ستاروں کا مشاہدہ کیا جائے تو ستارے بالکل بھی نہیں جگمگاتے، اس کی روشنی ہر طرف میں برابر ہی نظر آئے گی۔ ستاروں کی یہ جگ مگ صرف سطح زمین سے ہی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ ہماری زمینی فضا ہے۔ ہماری یہ زمینی فضا مختلف گیسوں کی پرتوں پر مشتمل ہیں کشش ثقل کی وجہ سے گیسوں کے یہ پرت زمینی فضا کے ارد گرد موجود رہتے ہیں۔ جب ایک ستارے کی روشنی ان پرتوں میں سے گزرتی ہے تو وہ ان پرتوں سے ٹکراتے ہوئے اور مختلف زاویے اختیار کرتے ہوئے ہماری آنکھوں کی طرف آتی ہے اور نتیجتاً ستارے ہمیں جگمگ کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ستاروں کا یہ جگمگانا ماہر فلکیات کے لئے کافی پریشانی کا باعث بنتا ہے کہ وہ صاف منظر چاہتے ہیں اس لئے مشاہدہ گاہوں کو اونچے پہاڑوں کے اوپر بنایا جاتا ہے تاکہ دوربینوں اور ستاروں کے درمیان یہ زمینی فضا کم سے کم حائل ہو۔

ستارے کس طرح مرتے ہیں؟
جب کسی ستارے میں قابل استعمال ہائیڈروجن باقی نہ رہے جسے ہیلئیم میں تبدیل کیا جاسکے تو نیوکلیر فیوژن کا عمل روک جائے گا اور ستارے کی موت واقع ہوجائے گی لیکن اس میں کئی نظریئے ہیں اگر ستارے کی کمیت کم ہو تو ایسا ستارہ سفید چھوٹے ستارے کی شکل میں ڈھل جائے گا اگر ستارے کی کمیت بہت زیادہ تھی اور یہ اک دیو قامت ستارہ تھا تو یہ ستارہ دھماکے سے پھٹ کر سپرنوا میں تبدیل ہوجائے گا اور باقی ماندہ میٹریل بلیک ہولز میں سما جائے گا۔ سورج اک اوسط سائز کا ستارہ ہے اگر اس میں نیوکلیر فیوژن کا عمل خدانخوستہ رک جائے تو یہ اک بہت ہی بڑے سرخ رنگ کے دیوقامت ستارے میں تبدیل ہوجائے گا اور اپنی موجودہ سائز سے تین سو گنا بڑھ جائے گا۔ سائز میں اضافے کی وجہ سے یہ اپنے مدار سے باہر نکل جائے گا اور دوسرے سیاروں ،مریخ، زمین کے مدار پر قبضہ جما لے گا اور شاید یہی وقت خدانخوستہ قیامت کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

حوالہ جات :
www.universetoday.com
www.bautforum.com