004 - کرکٹ میں قسمت کا دخل

کرکٹ میں قسمت کا دخل

انسان اور قسمت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہم اپنے فائدے اور نقصان کا ناطہ خوش قسمتی اور بد قسمتی سے جوڑتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کو من و عن تسلیم کرتے ہیں اور کچھ لوگ ان کو محض ڈھکوسلا قرار دیتے ہیں، لیکن ان سب چیزوں سے قطع نظر کچھ نہ کچھ راز ان چیزوں میں پوشیدہ ہے جس کی وجہ سے انسان کی توقعات سے بالاتر چیزیں رونما ہو جاتی ہیں۔ کرکٹ اس لحاظ سے ایک منفرد کھیل ہے جس میں کھلاڑی اپنی کارکردگی کو خوش قسمتی اور بدقسمتی کا مرہون منت قرار دیتے ہیں۔ کرکٹ کے کھیل میں حیرت انگیز واقعات ہوتے رہتے ہیں اور بسا اوقات تو کھلاڑی بے بس ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ قسمت مذاق کر جاتی ہے۔ مگر یہ واقعات کرکٹ کی تاریخ کا اہم اور دلچسپ حصہ بن کر زندہ جاوید ہو جاتے ہیں۔ صرف ایک ٹیسٹ میچ یا ایک ون ڈے انٹرنیشنل تک محدود رہنے والے کھلاڑیوں کو تو بدقسمت کہا ہی جاتا ہے۔ مگر کرکٹ کی تاریخ میں ان سے بھی زیادہ بدقسمت کھلاڑیوں کا تذکرہ ہے۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے چیک کرافورڈ مکبرائن کو سب سے زیادہ بدقسمت ٹیسٹ کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے جس کا بین الاقوامی کرکٹ کیریئر صرف 165 منٹ تک جاری رہ سکا۔ سمرسیٹ کاؤنٹی اور کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی کا فرسٹ کلاس کیریئر شاندار تھا۔ وہ ایک عمدہ بیٹسمین تھا کس نے فرسٹ کلاس کیریئر میں 10322 رنز اسکور کئے، جس میں 17 سنچریاں شامل تھیں۔ مکبرائن ہاکی کا بھی عمدہ کھلاڑی تھا، وہ انٹیورپ میں 1920ء میں منعقد ہونے والے اولمپک ہاکی ٹورنامنٹ میں برطانوی ٹیم کا رکن تھا۔ اس ٹیم نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اس کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر مکبرائن کو 1924ء میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف مانچسٹر ٹیسٹ کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ ٹیسٹ میچ 26 جولائی سے 29 جولائی 1924ء تک شیڈول تھا۔ میچ کی شروعات انگلینڈ کی فلیڈنگ سے ہوئی۔ ابھی 165 منٹ کا ہی کھیل ہو سکا تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی جو تین دن تک جاری رہی اور ٹیسٹ میچ میں مزید کھیل نہ ہو سکا اور اسے ختم کرنا پڑا۔ مکبرائن کو نہ تو بولنگ کا موقع مل سکا اور نہ ہی بیٹنگ کا۔ یہ ٹیسٹ میچ مکبرائن کے کیرئیر کا پہلا اور آخری ٹیسٹ میچ ثابت ہوا اور پھر اسے کبھی بھی انگلینڈ کی نمائندگی کا موقع نہ مل سکا۔ مکبرائن 22 جولائی 1892ء کو پیدا ہوا اور جب 14 جولائی 1983ء کو 91 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوا تو وہ دنیا کا عمر رسیدہ کرکٹر تھا۔ اس نے جنگ عظیم دوئم میں بھی حصہ لیا اور ہالینڈ میں جنگی قیدی بنا۔
ٹاس کیمبل جنوبی افریقی کرکٹر تھا جو 1882ء میں پیدا ہوا۔ 1906ء سے 1912ء تک اس نے 29 فرسٹ کلاس میچوں میں بحیثیت وکٹ کیپر بیٹسمین حصہ لیا۔ کیمبل نے جنوبی افریقہ کے لئے پانچ ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا۔ کیمبل کے ساتھ بھی عجیب و غریب اتفاق ہوا۔ 16 دسمبر 1916ء کو وہ جوہانسبرگ جانے والی میل ٹرین سے گر کر شدید زخمی ہوا۔ اس کے سر پر چوٹیں آئی تھیں۔ صحت یاب ہونے کے بعد کیمبل کو نارمل زندگی گزارنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں مگر وہ زندگی کے سفر پر رواں دواں تھا۔ 8 سال کے بعد حسن اتفاق دیکھئے کہ کیمبل جب میل ٹرین میں محو سفر تھا تو ایک بار پھر وہ میل ٹرین سے گر گیا مگر اس مرتبہ قسمت نے اس کا ساتھ نہ دیا اور وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
25 جنوری 1925ء کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان مانچسٹر میں ایشز سیریز کا چوتھا ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ آسٹریلیا کے کپتان واروک آرمسڑانگ نے چائے کے وقفے سے قبل اوور مکمل کیا۔ چائے کے وقفے کے بعد جب دوبارہ کھیل شروع ہوا تو بولنگ کا آغاز آرمسٹرانگ نے ہی کیا۔ امپائر کو شاید یہ یاد ہی نہ رہا کہ آرمسٹرانگ نے چائے کے وقفے سے قبل آخری اوور کیا تھا۔ مگر تاریخ یہ واقعہ ریکارڈ کر رہی تھی کہ آرمسٹرانگ نے مسلسل دو اوور بولنگ کر کے ایک انوکھا کارنامہ انجام دیا۔
کرکٹ میں جب بھی بدقسمتی کا تذکرہ ہو گا تو آسٹریلوی بیٹسمین کلیمنٹ ہل کا ذکر ضرور آئے گا۔ کلیمنٹ ہل بائیں ہاتھ سے کھیلنے والا عمدہ ترین بیٹسمین تھا۔ ہل وہ پہلا بیٹسمین تھا جو 99 کے اسکور آؤٹ ہوا۔ یہ بدقسمتی 1901-02ء کے ملبورن ٹیسٹ میں ہل کے آڑے آئی مگر تیسرے ٹیسٹ میچ میں بھی ہل کے ساتھ رہی جب وہ پہلی اننگ میں 98 اور دوسری اننگ میں 97 پر آؤٹ ہوا۔
25 مارچ 1973ء کو بدقسمتی نے انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کراچی میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کو اپنے نرغے میں لے لیا تھا اور تین بیٹسمینوں کو سنچری سے محروم رکھا۔ یہ میچ 24 مارچ 1973ء کو شروع ہوا۔ ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستان کے ماجد خان کو سب سے پہلے بدقسمتی نے اپنا شکار کیا، جب وہ 99 رنز کے اسکور پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ کھانے کے وقفہ کے بعد مشتاق محمد بھی 99 رنز پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ میچ کے تیسرے دن انگلینڈ کا بیٹسمین ڈینس ایمس بھی 99 پر کیچ آؤٹ ہوا۔ کرکٹ کی تاریخ میں یہ سب سے انوکھا واقعہ ہے کہ تین بیٹسمین نروس 99 کا شکار ہوئے۔
قسمت کی ستم ظریفی سے کرکٹ لیجنڈ سر ڈان بریڈ مین بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ 1984ء کی ایشز سیریز ڈان بریڈ مین کی آخری سیریز تھی۔ پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں اوول کے میدان پر آسٹریلیا نے میزبان انگلینڈ کو پہلی اننگ میں محض 52 رنز پر آؤٹ کر کے اپنی پہلی اننگ کا آغاز کیا۔ ڈان بریڈ مین کا یہ آخری ٹیسٹ میچ تھا۔ وہ 51 ٹیسٹ میچوں میں 6996 رنز بنا چکے تھے۔ سات ہزار رنز کرنے کے لیے اسے صرف چار رنز کی ضرورت تھی۔ بریڈمین کا استقبال انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے میدان میں تالیاں بجا کر کیا۔ مگر لیگ اسپن گوگلی بولر ایرک ہولیز کی پہلی ہی گیند پر بریڈمین کلین بولڈ ہو گئے۔