001 - رنگ، ہوا، خوشبو، بادل... کائنات بشیر

کائنات بشیر

رنگ، ہوا، خوشبو، بادل

یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور مسافر اس کے کردار۔۔۔
ہر سال کے آتے ہی چار موسم مجھے ہمیشہ فور مین شو والا کام کرتے لگتے ہیں۔ جن کے آتے ہی سب کو اک نئی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ ان میں موسم سرما اس فینسی شو کا سب سے ہاٹ سیزن لگتا ہے۔
دیکھیں نا ۔۔ سردی کے ساتھ ہی اس سے وابستہ بہت سی چیزیں نظروں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ لحاف، موٹے موٹے کمبل، بھاری بھاری کپڑے، لانگ شوز، مرغن کھانے، حلوے مانڈے، میوہ جات، مونگ پھلیاں، اخروٹ، بادام، چلغوزے اور سردی میں چائے، کافی، قہوے اور پستے بادام والی گلابی چائے کے کئی کئی دور چلتے ہیں۔ سردی کی بارش کتنا مزہ دیتی ہے۔ جب تک نہ آئے خشک کھانسی پیچھا نہیں چھوڑتی اورگرم کپڑے پہننے گرم شالیں اوڑھنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔
سردی جس کے آتے ہی سب کے حلیے بدل جاتے ہیں۔ گول گھپلے منے کے سر پر پھندنے والی ٹوپی نظر آ جاتی ہے۔ گڑیا اونی کپڑوں میں ملبوس ہو جاتی ہے۔ ماں شال اوڑھ لیتی ہے۔ پاپا مفلر گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ دادی جان گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہائے ہائے کرتی ہوئیں گرم کپڑوں پر سویٹر، جرسی اور دو جوڑی جرابوں کی پہن کر بھی سردی کی دہائی دیتے لحاف میں گھس کے بیٹھ جاتی ہیں۔ اور آئے، گئے ملنے والوں کو بھی بستر میں ہی بیٹھے بیٹھے انٹرٹین کرتی رہتی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ ۔۔۔ آج بہت ٹھنڈ ہے ۔۔۔۔ کی دہائی بھی دیتی رہتی ہیں۔ اور سننے والوں کا اگرپہلے نہ بھی دھیان ہو تو پھر وہ بھی سردی پر غور فرمانے لگتے ہیں۔۔۔۔
ادھر دادا جان کی فطرت سے دوستی اور واک کی عادت سردی میں بھی نہیں چھوٹتی۔ اور وہ اس سے دو بدو مقابلہ کرتے ہوئے ایک دو ڈنڈ بیل کر خوب گرم کپڑے پہن کر گھٹنوں تک لانگ شوز پہنیں گے اور ساتہ ایک لمبا سا کوٹ ۔۔۔ اور سر پر کاؤ بوائے جیسی ٹوپی رکھ کر ہاتھ میں چھڑی لیتے باہر کی دنیا کی راہ لیں گے تو دیکھنے والوں کو لگتا ہے، جیسے کوئی جاسوس اپنی ڈیوٹی پر ہے۔ ویسے یہ موسم بڑا ڈپلومیسی والا ہے۔ جس سے لوگوں کے اندر کے کپڑوں کے عیب کافی حد تک چھپ جاتے ہیں یا چھپا لیے جاتے ہیں۔
سردی چار ماہ کی چاندنی کی طرح خوب سب کو لبھاتی ہے۔ فلم ٹی وی والے بھی فوراً ان فلموں اور ڈراموں کو شوٹ کر لیتے ہیں۔ جہاں انھیں برف پوش آؤٹ ڈور سین درکار ہیں۔ جو سردی میں دکھائیں توناظرین کے دانت بجوا دیتی ہے۔ اور گرمی میں دکھائیں تو ناظرین کے گرمی سے تڑپتے دلوں کو قدرے چین مل جاتا ہے۔ ویسے تو موسم سرما کو بہت ویلکم کیا جاتا ہے۔ پر یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ جاتے جاتے اپنے پرستاروں کے دو چار چپت بیماری کی شکل میں لگا کے جاتا ہے۔ فلو، سر درد، زکام، بخار اور کھانسی کی تو نہ جانے کتنی قسمیں ابل پڑتی ہیں۔ خشک کھانسی، کالی کھانسی، بلغمی کھانسی، دمے والی کھانسی، سمجھ لیں بیمار کے پاس اس کے کافی آپشن موجود رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے ٹھنڈ کا یہ موسم کافی تکلیف دہ رہتا ہے۔ جیسے جوڑوں کے درد، گٹھیا کے مریض اور دمے کے مریض تو اس سے جلد چھٹکارا پاناچاہتے ہیں۔ انھیں گرمی کی دھوپ گرمی اس وقت بہت شدت سے یاد آتی ہے۔
سردی کے حوالے سے لاہور کا لنڈا بازار بھی بڑا بارونق رہا اور باکس آفس پر لگی فلم کی طرح ہٹ ہوا، جس کے کامیاب ہوتے ہی دوسرے شہروں میں بھی اس کے شو لگنے شروع ہو گئے۔ ایک طرح سے گورے ہمارے شہروں میں لنڈا بازار کے ذریعے داخل ہو گئے۔۔۔ کمال کی بات ہے اتنے انتظار کے بعد سردی سال کے آخر میں آتی ہے اورسال کے شروع میں چلی جاتی ہے۔

پھر موسم بہار کی آمد ہو جاتی ہے۔ اور سب اک نئے شو کے لیے تیار ہونے لگتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ڈرامے کے وہی کردار پس پردہ جا کر نیا رنگ و روپ دھارن کرنے لگتے ہیں۔ فطرت بھی ان کرداروں کا ساتھ دیتی ہے۔ وہ درخت، پودے جو خزاں سے ہی اپنا چولا اتار بجھے سے بیٹھے تھے، اب ان سمیت ہر شے گل و گلزار ہونے لگتی ہے۔ ناٹک کے کردار بھی گرم، موٹے موٹے بھاری بھر کم اور بوجھل رنگ پہن پہن کر کچھ اکتا سے گئے ہیں۔ سو اب قوس قزح کی مانند نظر کو لبھانے والے رنگین لباس پہننے لگتے ہیں۔ یقیناً دل کو بھی یہ سیزن بہت بھاتا ہے۔ رنگ اور پھول اس فینسی شو کا ٹائیٹل ہے۔ ہر طرف پھولوں کی بہار دیکھ کر یہ موسم رومان پرورسا لگتا ہے تبھی تو محبت کرنے والے اسی موسم میں تجدید وفا کرتے ہیں۔ کیونکہ پھولوں کی بہتات ہوتی ہے اور جہاں پھول ہوں وہاں بھنورے تو چلے ہی آتے ہیں۔ جو گنگناتے ہیں،
بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے""
محبوب کا استقبال کرنے کے لیے یہ موسم بہار کا خوبصورت محبت بھرا موسم ہے۔ جس میں محبوب کو پھول بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔۔
"پھول تمہیں بھیجا ہے خط میں پھول نہیں میرا دل ہے"
یہ شو ایک ڈیڑھ ماہ ہی رہتا ہے کہ سب کو پسینہ پسینہ کرنے والی گرمی چلی آتی ہے۔ اور کردار کچھ بیزاری محسوس کرنے لگتے ہیں پر اک نیا سٹیج تیارہونے لگتا ہے۔ یہ سال کا سب سے ہلکا پھلکا شو ہوتا ہے۔ پھر سب سے پہلے تو گرمی سے کسی کردار کا بی پی لو ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور کسی کو چکر آنے لگتے ہیں۔ سر درد اس موسم کا خاص تحفہ ہے۔ وٹامن بھی اسی موسم میں کام آتے ہیں۔ گرمی سے ویسے ہی جی اڑا اڑا سا رہتا ہے۔ طبیعت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ پھر گلوکوز، روح افزاء، جام شیریں تھوڑا دل ناتواں کو تراوٹ بخشتے ہیں۔ کپاس کی مانگ سردی کے علاوہ گرمی میں بھی خوب رہتی ہے۔ جب اس سے گل احمد اور مختلف اقسام کی لون اور کاٹن کے دیدہ زیب لباس تیار ہونے لگتے ہیں اور حسینائیں ان میں ماڈلنگ کرتی نظر آتی ہیں۔ ننھے فنکار البتہ چڈی سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔ نوجوان آڈی ڈاس کی ٹی شرٹ پہن کرچشمہ لگا کر سر پر کیپ رکھ کر ہیرو بن جاتا ہے۔ البتہ کیریکٹر ایکٹر سفید رنگ کے لباس کو ترجیح دیتے ہیں۔
گرمی کے پکوان اور ٹھنڈا ٹھنڈا قلفا، آئس کریم، فالودہ، قلفی وجود میں ٹھنڈک اتارنے لگتی ہے۔ دودھ دہی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ چائے پینے والوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور لوگ مکھن پیڑے والی لسی اور پھلوں سے بنی سموتھی پینے لگتے ہیں۔ گرمی کے موسم سے سب سمجھوتہ کرنے لگتے ہیں۔ کیا ہوا؟ جو کبھی کریلے، بھنڈی، ٹینڈے، کدو کھانے پڑیں اور دن میں دو تین بار نہانا پڑے۔ دوسری طرف آؤٹنگ اور وہ بھی ساحل سمندر پر ۔۔۔ تو دل خوشی سے راضی برضا ہو ہی جاتا ہے۔ گرمی میں چاندنی راتیں بڑی اچھی لگتی ہیں۔ وہی چاند جو سرما میں بجھا بجھا مدہم سا نظر آتا تھا۔ اب چودھویں کا چاند بن کرعاشقوں کے دلوں کو گرما بنا دیتا ہے۔ وہ چاند کو اپنے حال و زار کا ساتھی اور گواہ بنا لیتے ہیں۔۔۔
اے چاند ذرا چھپ جا اے وقت ذرا رک جا
رخ ان کا ادھر کو ہے اب کیوں نہ بہار آئے

گرمی کی طوالت کی بدولت یہ شو کافی لمبا اور لیٹ نائٹ چلتا رہتا ہے۔ اس موسم کی اک خاص بات ساون کی گھٹائیں اور بارش بھی ہے۔ جو بلا شبہ گرمی میں سب کرداروں کو خوب مزا دیتی ہے۔ یہ سال کا سب سے لمبا شو ہوتا ہے۔ اس شو کو پسند کرنے والوں کی تعداد آدھی آدھی رہتی ہے۔ گھٹنوں کے درد، دمے کے مریضوں اور کمزور افراد کے لیے گرمی کا موسم سہل رہتا ہے۔ ان کی آدھی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ وٹامن ڈی ان کو وافر ملتا رہتا ہے اور سردی کی شدت سے گھبرانے والوں کو بھی یہ موسم خوب بھاتا ہے۔
گرمی کی شدت کے بعد برسات کی بارش اور برسات کے پکوان خوب لطف دیتے ہیں۔ اور شو چلتا رہتا ہے۔۔

تبھی وقت آگے بڑھ جاتا ہے۔۔ آہستہ آہستہ یہ سیزن بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ اور سب اگلے سکرپٹ کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔ سٹیج ایک بار پھر بدلنا پڑتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں منا کر کردار تازہ دم ہوتے ہیں۔ اور اب کے خزاں کی آمد ہونے لگتی ہے۔ اب کی بار خزاں کا عنوان رکھا گیا ہے۔ سر سبز درختوں کے پتے اپنے رنگوں کی تاب کھونے لگتے ہیں۔ رنگ براؤن خاکی سا ہونے لگتا ہے اور آخر ایک دن زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ زندگی کی حقیقت سمجھ آنے لگتی ہے۔ فضا مٹیالی سی ہو جاتی ہے۔ ماحول بوجھل ہونے لگتا ہے۔ جی خوامخواہ اداس ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات اداس ہے۔
دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
سب کرداراس شعر کی تفسیر بن جاتے ہیں۔
اور ایک بار پھر بوجھل من سے سب اس شو میں سمانے لگتے ہیں۔ اب نہ تو سردی ہے نہ گرمی، اب نہ تو موسم سرما کے بھاری بھر کم لباس کام آتے ہیں اور نہ ہی گرمی کے ہلکے پھلکے، سو ہر کردار بیچ کا رستہ ڈھونڈتا اپنی مرضی کرتا نظر آتا ہے۔ کچھ ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر ابھی گزری گرمی کو نمایاں کر رہے ہیں اور کچھ آنے والی سردی کو۔ کچھ ملی جلی کیفیت کا سامنا ہے۔ جس کا دل چاہے وہ کاٹن، گل احمد پہنے اور جس کا جی چاہے وہ شفون ریشمی کپڑے اپنے تن کی زینت بنائے۔
یہ کافی مختصرشو ہے جو جلد ختم ہونے لگتا ہے۔ کردار کچھ اداس ہیں اسی لیے وہ ابھی سے ہی نئے سال کے نئے رنگ، خوشبو، ہوا اور بادل کے منتظر ہونے لگتے ہیں۔