002 - شکوہ، جواب شکوہ...بنت احمد، رافعہ خان

بنت احمد، رافعہ خان

شکوہ، جواب شکوہ

کئی جگہ دستور تھا، کسی شخص کی کسی غلطی کی قیمت وہ خود، ورنہ اس کی فیملی، ورنہ برادری، ورنہ قبیلے کو چکانی پڑتی تھی
ہر لکھنے والا، نثر ہو کہ شاعری۔۔ سنجیدہ ہو کہ مذاقیہ۔۔ فسانہ ہو کہ مضمون۔۔ قلم کے حوالے سے آپ سب ہم جنس ہیں،
اور اس قلم قبیلے میں آپ سب کہانی کار، فسانہ نگار ایک برادری ہیں اور اسی لئے اب آپ کی برادری کے ایک فرد کے قلم سے ہوئے ظلم اور ناانصافی کی قیمت چکانا آپ کے ذمے ہے،
آپ کے ذہن میں بہت سے سوال در آئے ہوں گے۔۔

میں کون ہوں؟
میں کس زیادتی و بےانصافی کی بات کر رہی ہوں؟
میری شکایت کا پس منظر اور ثبوت کیا ہے؟
اور مجھے اس کے بدلے کیا قیمت چاہیے ہے؟
ان سب کے جواب آپ کو اس کہانی سے ملیں گے جس کا میں ایک کردار ہوں۔۔
آپ ہی میں سے ایک فرد کے قلم سے نکلی کہانی کچھ یوں ہے۔۔

ایک غریب دیہاتی پس منظر رکھنے والا محنت کے بل بوتے پر ڈاکٹر بننے والا ہیرو اسد ہے، جس کی پوسٹنگ قبائلی علاقہ جات میں کہیں ہوئی ہے۔۔ اور یہ ہاسپٹل جس میں اس کی ڈیوٹی لگی ہے اس کا سربراہ ایک قبائلی خٹک سردار ہے۔۔ جس کی خوبصورت حسن بے مثال رکھنے والی بیٹی شمائل بھی ڈاکٹر ہے اور اس قبائلی سردار کا روایتی سردار ذہن کا ڈاکٹر بھتیجا سرخیل خٹک جس سے ہیروئن کا نکاح ہوچکا ہوا ہے، اس ہاسپٹل کا چارج سنبھالے ہوئے ہے۔۔
ہیرو بہت باکردار اور شریف ہے جو کسی غیر لڑکی کو آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتا ہے اور اپنے جذبے اپنی شریک حیات کے لئے سنبھال کے رکھے ہوئے ہے۔۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں جب اس کی ماں نے خط میں اس سے بہو لانے کی خواہش اور اس کی پسند پوچھی تھی اور شریف ہیرو نے آج تک کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھا ہوتا اس لئے وہ اکلوتی بہو کا انتخاب اپنی ماں پر چھوڑ دیتا ہے۔۔ اور جوابی خط میں اس کی ماں اسے خوب دعاؤں کے ساتھ خوش خبری سناتی ہے کہ اس نے ثریا کو اپنی بہو کی حیثیت سے پسند کرلیا ہے اور رشتہ بھی پکا کر دیا ہے۔۔ گاؤں کی مٹیار۔۔ آٹھ جماعتیں پڑھی ہوئی۔۔ سادہ نقوش سادہ دل والی ثریا۔۔ اسد کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ اور وہ اس پر خوش ہے۔۔
اسی دوران اسد کا بلاوہ خٹک حویلی سے آتا ہے اور ادھر جو مطالبہ اس کے سامنے رکھا جاتا ہے وہ اسے ساکت کر دیتا ہے۔۔
سرخیل خٹک نے دوسرے قبیلے کی لڑکی اٹھا لی ہے، اور اب دوسرے قبیلے والے بدلہ چاہتے ہیں۔ پنجایت بیٹھے گی اور فیصلہ بدلے کی بنیاد پر ہوگا لڑکی کے بدلے لڑکی۔۔ اور خٹک خاندان میں شمائل ایک ہی لڑکی ہے۔
ڈاکٹر اسد کو حویلی میں بلانا، اسی مسئلے کے حل کی ایک کڑی ہے۔۔ سردار خٹک کا مطالبہ ہے کہ ہیرو اس کی بیٹی کو یہاں سے عارضی طور پر نکال لے جائے اور راستے میں کسی پیچیدگی سے بچنے کے لئے ان دونوں کا آپس میں نکاح پڑھایا جائے گا، مگر اس کی حیثیت صرف پیپرز میں ہوگی۔۔
سرخیل خٹک ہیروئن کو طلاق دینے کے ساتھ ساتھ ہیرو کو دھمکیاں بھی دیتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت یاد رکھے اور یہ کہ ہیروئن دراصل اسی کی رہنی چاہیے۔۔
ہیرو، ہیروئن کو لے کے پہاڑی علاقے سے باہر نکلتا ہے۔۔ دشمن ان کا پیچھا کرتے ہیں وہ ان سے چھپنے کے لئے کبھی ہوٹل اور کبھی ویرانوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔۔ ہیروئن ہیرو کی شرافت، باکرداری۔۔ بہادری سے متاثر ہوتی ہے۔۔ ہیرو اس کے وقار، ہوش ربا حسن کے آگے ہارتا ہے۔۔
آخر کار ہیرو اپنے گاؤں پہنچ جاتا ہے اور کچھ عرصہ وہیں چھپا رہتا ہے۔۔ اس کی ماں بھی ہیروئن کےحسن بے مثال کے سامنے مبہوت رہ جاتی ہے۔۔ ہیرو، ہیروئن کو اپنے ہاسپٹل کے مالک کے حوالے سے مہمان بتاتا ہے۔۔
کچھ عرصے بعد حالات سازگار ہونے پر دونوں کی واپسی قبائلی علاقہ کو ہوتی ہے۔۔ ہیرو کو پھر حویلی بلایا جاتا ہے۔۔ اس بار ہیروئن کو طلاق دینے کے لئے۔۔ مگر ہیروئن خود ہیرو سے ملتی ہے اور وہ اس کاغذی رشتے کو باقی رکھنا چاہتی ہوتی ہے۔۔ وہ اپنے باپ کو بھی قائل کر لیتی ہے کہ اسے اپنے کزن کی فطرت کا پتہ ہوتا ہے اور اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آئندہ بھی وہ ایسا ہی کرے گا اور پھر جب وہ اس کی بیوی ہوگی تو اس کے پاس جرگے کے فیصلے سے بچنے کا راستہ نہیں ہوگا۔۔
سردار دونوں کو بحفاظت ادھر سے نکلوا دیتا ہے۔۔ ہیرو ہیروئن دونوں خوش ہوتے ہیں۔۔ اور ہیرو کو اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی ماں ہیروئن سے پہلے ہی متاثر ہے اب اسے اپنی بہو کے رشتے میں قبول کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔۔
اور آخر میں سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔۔

اب تک آپ جان چکے ہوں گے کہ میں کون ہوں۔۔ جی ہاں! میں وہی گاؤں کی نیم خواندہ، سادہ نقوش والی ثریا۔۔ جس کا دل اب سادہ ورق نہیں رہا تھا۔۔ اور جس کی منگنی ایک پڑھے لکھے ڈاکٹر بابو سے ہوئی۔۔ اور پھر یہ رشتہ اور خواب اس لئے ختم ہوگئے کیونکہ وہ کہانی کی ہیروئن نہیں تھی۔۔ اس کو مسترد کرنے پر اس پر کیا گزری۔۔ رشتہ ٹوٹنے سے، اس کا دل ٹوٹا۔۔ خواب ٹوٹے۔۔ اور پھر یہ دل دوبارہ جڑا کہ نہیں۔۔ ایک رشتہ ٹوٹنے پر ہمارے معاشرے نے اس کو آسانی سے دوسرا رشتہ دیا کہ نہیں۔۔
چونکہ میں کہانی کی ہیروئن نہیں ہوں۔۔ میرا کردار ایک بھرتی کا کردار تھا اس لئے رائٹر نے مجھے ایک نام۔۔ رسمی سا تعارف اور عارضی رشتے کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا۔۔ اوپر کے سوالوں کے جواب بھی نہیں۔۔
ان سوالوں کے جواب۔۔ اس زیادتی و بے انصافی کی قیمت آپ سب کے ذمے ہے۔۔ قلم کے نام پر، جو آپ سب کے ہاتھ میں ہے اور جس کے ناطے سب لکھنے والے ایک برادری ہیں۔۔

فقط

ثریا

٭- - - ٭ - - - ٭

ّعزیزی ثریا!
تم جانتی ہو تم میں سوال اٹھانے کی ہمت ہے۔۔ تم میں اپنا حق طلب کرنے کی ہمت ہے۔۔ تو تمہاری صورت خواہ کتنی سادہ ہو اور تعلیم خواہ کتنی کم۔۔ تمہاری کہانی ضرور بنے گی۔
میں تمہارا لکھاری نہیں ہوں۔۔ میں تو شاید اب لکھی جانے والی کسی بھی کہانی کا لکھاری نہیں ہوں لیکن تم نے پورے قبیلے سے انصاف مانگا ہے۔ تو جب تک تمہاری مانگ پوری ہو میں روایتیں دہراتا ہوں۔۔ انتظار کی کوفت کم کرنے کے لیے پرانی روایتوں کو دہرانے سے بہتر روایت بھی کوئی ہے۔۔
معلوم ہے ثریا، انسانوں کی طرح کہانیوں کی بھی قسمتیں ہوتی ہیں۔۔ انسانوں کی طرح کرداروں کی بھی قسمتیں ہوتی ہیں۔۔ پوری ادھوری کہانیاں۔۔۔ شاندار اور عمومی کردار۔۔۔ زندہ اور نیم زندہ انسان۔۔ مردہ اور نیم مردہ انسان۔۔ کچھ کہانیاں، شان سے پہلے صفحے پر چھپتی ہیں۔۔ وہ خاص لوگوں کی خاص کہانیاں ہوتی ہیں۔۔ جن سے زیادہ زندگیاں اور زیادہ کردار متاثر ہوتے ہیں۔ جن سے بہتوں کی کہانیاں وجود میں آتی ہیں۔۔ کردار جن کا وجود بھی اس کہانی کے بغیر موجود نہ ہوگا۔ اندرونی صفحات میں غیرت پر قتل کرنے والوں اور بھوک میں ڈاکا مار دینے والوں کی عمومی کہانیاں ہوتی ہیں۔۔ ان کی زندگیاں صرف انہیں کو فرق ڈال کر ختم ہو جاتی ہیں۔۔ یا ایک دو اور۔۔ اور سڑکوں پر بھوک، ٹریفک یا بیماری سے مر جانے والوں کو تو ایک کالمی انچ بھی نہیں ملتا۔۔ قسمت ہوئی نا ثریا !۔۔ انسانوں کی بھی۔۔ کرداروں کی بھی۔۔ کہانیوں کی بھی!

پھر تم جانو۔۔ ہر انسان ہر لمحہ سردار نہیں ہوتا۔۔ تمام مردوں عورتوں کو ہم ایک ساتھ ہیرو ہیروئیں نہیں کہہ سکتے۔۔ ایسے سمجھ لو کہ سبھی انسان اور کردار ایک ساتھ پہلی قطار میں نہیں کھڑے ہو سکتے۔ ایسے سمجھ لو کہ ہر کہانی ہر کردار کی نہیں ہوتی۔۔ کوئی کہانی شمائل کی ہوتی ہے تو کوئی کہانی ثریا کی ہوتی ہے۔۔ سب کا اپنا ایک لمحہ ہوتا ہے جس میں صرف وہ ہو۔۔ جس میں جب وہ پولے تو کوئی اور کچھ نہ بولے۔۔ جس میں اس کو دیا گیا کردار نبھانے کا وقت ہو۔۔ پھر ثریا اپنا لمحہ پہچان کر اپنا ایکٹ کر دینے والا اس لمحہ اپنی کہانی کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ سپاٹ لائیٹ کی شاندار روشنی میں۔۔
تخلیق کار اسی لمحے کی سنتا ہے۔۔ اسی وقت لکھاری اپنے کردار چنتا ہے، مصور اپنے ماڈل۔۔ تخلیق کار اور کردار کی گفتگو جتنی غیر مبہم ہوگی۔۔ انکا رشتہ جتنا مضبوط ہوگا۔۔ ان کا رابطہ جتنا زیادہ ہوگا۔۔ تخلیق اتنی دیر پا ہوگی۔۔ خواہ رنگوں سے ابھری مونا لیزا ہو یا دیوار پر کھدی مورت یا تمہاری کہانی۔۔ تو جب تمہارا لکھاری تمہیں مل جائے تو اس سے خوب بات کرنا۔۔ اسے بتانا کہ دل کے ورق پر لکھا نام مٹ نہیں پایا۔۔ اسے بتانا کہ ادھورا رشتہ اور کچا خواب ختم تو ہوگیا لیکن بہت کسک ہے۔ اسے بتانا کہ مسترد ہونا ہمیشہ دُکھتا ہے۔۔ اسے بتانا کہ معاشرے کے بہت سے ٹیبوز ہیں جو تمہیں لمحہ لمحہ کھاتے ہیں۔۔ اسے بتانا تمہیں مرہم چاہیے۔۔ ثریا ! تم کو معلوم ہے نا تخلیق کار کے پاس ٹوٹے دل کا مرہم ہوتا ہے۔۔

منجانب

ایک لکھاری۔