004 - بنیاد پرست ۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: ندیم اختر (آخری قسط)

بنیاد پرست

ترجمہ از ندیم اختر
بارہویں اور آخری قسط

تقریباً دو سال قبل محترم ندیم اختر صاحب نے پاکستانی ناول نگار محسن حامد کے مشہورِ زمانہ انگلش ناول "دی ریلکٹینٹ فنڈامینٹلسٹ" کا اردو ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور بنیاد پرست کے عنوان سے اس کے ہر ایک باب کا اردو ترجمہ ون اردو میگزین کا حصہ بنتا گیا۔ اس شمارے میں یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جن احباب نے اصل ناول پڑھا ہے، وہ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ مترجم نے اس شاندار ناول کا اردو ترجمہ کرنے کا قرار واقعی حق ادا کیا ہے۔ اس پر ندیم بھائی بلاشبہ مبارک باد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ (ادارہ)۔

12

تم نے اپنے عقب میں نگاہ ڈال کر اندازہ کرلیا ہے کہ وہ جگہ چھوڑنے والے بس ہم دونوں ہی نہیں ہیں۔ کچھ اور لوگ بھی ہمارے پیچھے پیچھے مال روڈ تک آ گئے ہیں، جیسے وہ ویٹر جو ہمارا ہر لحاظ سے خیال رکھنے کے باوجود تمہیں کھٹک رہا تھا۔ ویسے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ اس کا کام بھی وہاں ختم ہو چکا تھا۔ میں تو یہ کہوں گا کہ تم ذرا ان خوبصورت لیکن قدرے خستہ حال عمارتوں کی طرف دیکھو۔ برطانوی دور کی یہ یادگاریں ہمارے شہر کے قدیم و جدید حصوں کے بیچ جغرافیائی اور بااعتبار طرز تعمیر ایک طرح کا ربط فراہم کرنے کا کام انجام دیتی ہیں۔ ان کے نیچے بنی دکانوں پر ذرا غور کرو، یہ کیمسٹ ہے، یہ چشموں کی دکان ہے، یہاں فائن آرٹس کے نمونے فروخت کیے جاتے ہیں اور یہ ایک ٹیلر ماسٹر ہے۔ ان کے ناموں میں "برادرز" اور "سنز" کتنی کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔ سب دراصل خاندانی کاروبار ہیں اور ایک نسل سے دوسری کو منتقل ہوتے رہے ہیں۔ نہیں، اُس اسلحہ فروش کے معاملے میں ایسا نہیں ہے جیسا کہ تم نے درست نشاندہی کی۔۔۔ پر یقیناً ان میں سے زیادہ تر کو دیکھ کر ان کی قدامت آمیز دلکشی نے تمہیں متاثر کیا ہوگا۔

البتہ ان پلازاؤں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اپنی ترش بیرونی حالت کے ساتھ یہ ستّر اور اسّی کی دہائیوں میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اس کے بعد تاریخی انداز کو اپنانے کی روش پھر سے بیدار ہونے لگی اور رفتہ رفتہ یہ پلازہ اس علاقے میں ویسے ہی لگنے لگے جیسے صاف ستھری جلد پر کوئی داغ واضح نظر آتا ہے۔ مجھے رات کے وقت یہ اپنی تاریکی اور خالی پن سمیت زیادہ برے لگتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ان کے بیچ تنگ رستوں سے گزرتے ہوئے کوئی آپ کو آپ کی مرضی کے برعکس گھسیٹتا ہوا لے جائے گا اور پھر آپ ہمیشہ کے لیے غائب ہوجائیں گے۔ ہاں تم درست کہتے ہو: ہمیں اپنی رفتار بڑھا لینی چاہیے کیونکہ ابھی بہت سا سفر باقی ہے۔

کیا تم "لیجنڈ آف سلیپی ہولو" کے بارے میں جانتے ہو؟ اچھا، تم نے فلم دیکھ رکھی ہے۔ میں نے نہیں دیکھی لیکن مجھے یقین ہے کہ اس میں کتاب کا حق اچھی طرح ادا کیا گیا ہوگا، بہرحال کتابی صورت میں وہ انتہائی زبردست ہے۔ کوئی بھی پڑھنے والا مرکزی کردار اچابوڈ کرین کے اُس پل کے خوف کو اپنے اندر محسوس کیے بنا نہیں رہ سکتا جب اسے سر کٹے گھڑسوار کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ اب بھی رات کے وقت اکیلے میں ٹہلتے ہوئے وہ آسیبی ٹاپوں کی آواز یاد آجائے تو میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ پر تمہارے چہرے سے لگتا ہے کہ یہ تذکرہ تمہیں متوحش کررہا ہے اس لیے موضوع تبدیل کیے لیتے ہیں۔

اس سے قبل میں تمہیں بتارہا تھا کہ میں نے امریکا کیسے چھوڑا۔ بظاہر تو میں پاکستان واپس آگیا تھا جو ایک سادہ سا معاملہ تھا لیکن ذہنی طور پر میں وہاں رہنا پوری طرح ترک نہیں کرسکا تھا۔ جذباتی سطح پر میں بدستورایریکا سے بری طرح وابستہ تھا اور یوں لگتا تھا جیسے اس کی ذات کا کوئی حصہ اپنے ساتھ لاہور لے آیا ہوں، یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ میں اپنی ذات کا کوئی حصہ اس کے پاس چھوڑ آیا تھا اور جو مجھے اپنے شہر میں تلاشِ بسیار کے باوجود نہیں مل رہا تھا۔ بہرحال، اس کا اثر میرے مزاج پر بہت زیادہ پڑا تھا؛ بے پناہ صدمہ اور پچھتاوا مجھے گھیرے میں لیے رکھتے تھے جن میں کبھی بیرونی اسباب اضافے کا باعث بنتے تھے تو اکثر میرا اندرونی اضطراب انہیں بڑھاوا دیتا رہتا تھا۔ میں جیسے اپنی ذات کی گہرائیوں میں چھپے کسی نادیدہ چاند کی کشش ثقل میں گرفتار ایسے سفر پر گامزن تھا جسے اختیار کرنے کے متعلق میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

مثلاً، اکثر یوں ہوتا کہ میں صبح اٹھتا تو ساری رات کا جاگا ہوا ہوتا اور اگلے گھنٹوں میں ایریکا اور میں سارا دن ایک ساتھ گزارتے۔ ہم، میرے بیڈروم میں جاگتے اور پھر میرے والدین کے ساتھ ناشتہ کرتے؛ ہم کام کے لیے تیار ہوتے اور شاور کے دوران ایک دوسرے کو تنگ کرتے؛ وہ میرے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھ کر کیمپس تک جاتی اور میں سفر کے دوران اپنے پیچھے اس کے لطیف اور خوشبو میں بسے وجود کی موجودگی اور اپنے ہیلمٹ سے اس کے ہیلمٹ کے ٹکرانے کو محسوس کرتا رہتا؛ ہم فیکلٹی کے لیے مخصوص پارکنگ ایریا میں جدا ہوتے اور میں پاس سے گزرنے والے اسٹوڈنٹس کے ایریکا کو گھورنے کی وجہ سے بیک وقت فخر اور جھنجلاہٹ میں مبتلا ہوجاتا کیونکہ مجھے معلوم نہ ہوتا کہ ان نگاہوں میں سے کتنی اس کے حسن کے وجہ سے ٹھہر رہی ہیں اور کتنی اس کے غیر ملکی ہونے کے سبب؛ ہم بادشاہی مسجد کے پاس کھلی فضا میں سستے مگر بے حد مزیدار ڈنر کے لیے جاتے اور ہر موضوع پر باتیں کرتے؛ کام کے متعلق اور اس بارے میں کہ ہم ابھی بچوں کے لیے تیار ہیں یا نہیں؛ میں اس کی اردو ٹھیک کرواتا اور وہ میرے کورس پلان کو درست کرنے میں مدد دیتی؛ پھر رات گئے تک ہم اپنے بیڈ پر پنکھے کی مدہم، سرسراتی آواز میں ایک دوسرے میں کھوئے رہتے۔

مجھے ایسے راستوں پر بھی چلنا پڑا جو اسی طرح واضح مگر کہیں زیادہ ناپائیدار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار مون سون کے دوران سڑک کے کنارے کسی گاڑی کے ٹائر سے بننے والے پانی سے بھرے ہوئے گڑھے میں، جسے تیز بارش کے قطروں نے کنارے تک بھردیا تھا، ایک نوکیلے پتھر کو ابھرے دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا کہ پانی کے بیچوں بیچ اس جزیرہ نما کو دیکھ کر ایریکا کتنی زیادہ خوش ہوتی۔ اسی طرح مجھےایک اور واقعہ بھی یاد آتا ہے جب اسکوٹر پر میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اورگھر پہنچ کر اپنی پسلیوں پر عین اسی جگہ جہاں کبھی ایریکا کو چوٹ لگی تھی، زخم دیکھ کر میں نے سوچا تھا کہ کاش اس کا نشان کبھی ختم نہ ہو۔

اس طرح کی کیفیات سے گزرنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا تھا کہ شدید نوعیت کے تعلق کے بعد ہمارا واپس پہلے جیسا ہونا ممکن نہیں رہتا چاہے ہم جتنی بھی کوشش کرلیں کیونکہ ہمارا کچھ حصہ ہماری ذات سے نکل جاتا ہے اور باہر سے کچھ چیزیں ہمارے نظام میں شامل ہوجاتی ہیں۔ شاید تمہیں اس نوعیت کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اسی لیے تم مجھے یوں گھور رہے ہو جیسے میں کوئی اول درجے کا پاگل ہوں۔ مجھے علم ہے کہ ہر ایک کا نظریہ اور ردعمل مختلف معاملات میں الگ الگ ہوتا ہے؛ میں تو بس واپسی پر اپنے رویے کے مختلف پہلوؤں کو واضح کررہا تھا۔

اپنی مالی مشکلات کے باوجود میں ہفت روزہ "پرنسٹن المنی" باقاعدگی سے منگوا کر شروع سے آخر تک پڑھتا تھا اور اس میں میری زیادہ توجہ اختتام کے قریب دیے گئے کلاس نوٹس اور اطلاع اموات پر ہوتی تھی۔ وقتاً فوقتاً جاننے والوں کے نام نگاہوں سے گزرتے تھے جنہیں پڑھ کر میرا ذہن ان کے ساتھ گزرے وقت کو دوہرانے لگتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ ان کی دنیا۔۔۔ وہ سب جن کے ساتھ میں نےیونان کا سفر کیا تھا۔۔ ان سب کی دنیا اب کیسی ہوگی۔ بہرحال ایریکا کے متعلق مجھے ان صفحات میں کبھی کوئی خبر نہیں ملی اگرچہ کہ اس بات کا امکان تھا کہ بین الاقوامی پوسٹ کی بھول بھلیوں میں کھوجانے والے اکادکا شماروں میں۔۔۔ جو مجھ تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔۔۔ اس کے متعلق کچھ آیا ہو۔ لیکن ہر مرتبہ اس کی غیرحاضری مجھے بے حد اداس کردیتی تھی، اور قدرے پرامید بھی۔

نہ جانے مجھے کس چیز کی توقع تھی ۔۔۔۔ اس خبر کی کہ اس کا ناول شایع ہوچکا تھا اور اس نے کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شامل ہوکر کلاس میٹس کو حیران کردیا تھا؟ ایک حتمی اعلان کہ اس کا مردہ جسم تلاش کرکے پہچان لیا گیا ہے؟ کسی اجتماعی تقریب کی تصویر میں ایک دھندلا سا چہرہ جو ممکنہ طور پر ایریکا کا ہوسکتا تھا؟ بس مجھے یہ معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ میرے شوقِ تلاش میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ کچھ ماہ تک میں اسے ای میل بھی کرتا رہا تھا یہاں تک کہ اس کے اکاؤنٹ نے کام کرنا بند کردیا؛ اس کے بعد میں نے خود کو سال میں ایک خط تک محدود کرلیا جو میں اس تاریخ کو بھیجاکرتا جب وہ غائب ہوئی تھی، پر وہ ہر مرتبہ مجھے بن کھلی حالت میں واپس مل جاتا تھا۔

گزشتہ سال اپریل میں میری پچیسویں سالگرہ سے کچھ دن قبل میرے بھائی کی شادی ہوگئی۔ اس کے بعد میری والدہ نے مجھ پر بھی اس سلسلے میں زور ڈالنا شروع کردیا۔ انہیں یقین تھا کہ میں جس غیر صحت مند تنہائی اور اداسی کا شکار ہوں اس کا واحد علاج یہ ہے کہ میں اپنی فیملی کا آغاز کردوں۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ میں زیادہ تر وقت یا تو کام میں صرف کرتا ہوں یا پھر اکیلے اپنے کمرے میں اور دوستوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارتا ہوں۔ ایک بار انہوں نے مجھ سے، بہت ہچکچاتے ہوئے، میرے ہم جنس پرست ہونے کے متعلق بھی پوچھا تھا۔ میں نے انہیں اب تک ایریکا کے متعلق کچھ نہیں بتایا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ میرے لیے یہ تذکرہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ہمارا تعلق اب صرف میرے دماغ میں پنپ رہا ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ۔۔۔ جو ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی کہیں گی میرے بہترین مفاد میں ہوگا۔۔۔ اس پر بحث تعلق کی سالمیت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ میں پوری طرح اس خوش گمانی میں بھی مبتلا نہیں ہوں کہ واقعتاً کسی حقیقی ریلیشن شپ میں ہوں اور ایریکا ایک دن اپنے بیک پیک کے بوجھ سے جھکی مسکراتی ہوئی میرے دروازے پر نمودار ہوکر مجھے سرپرائز دے دے گی۔ لیکن میری عمر اب بھی کم ہے اور مجھےکہیں اور شادی کرنے سے بہت بہتر لگتا ہے کہ میں اپنا انتظار جاری رکھوں۔

پر یہ تم کیوں ایک دم سے دوڑ لگانے پر آمادہ نظر آنے لگے ہو؟ وہ کیا چیز ہے جس نے تمہیں یوں چونک جانے پر مجبور کردیا ہے؟ کیا وہ دور سے آنے والی آواز؟ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ پستول کی آواز نہیں ہے ۔۔۔ اگرچہ کہ مجھے اندازہ ہے کہ تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔۔ بلکہ آس پاس سے گزرتے ہوئے کسی رکشا کا بیک فائر ہے۔ ان کے دو اسٹروک انجنوں سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب اکثر اس طرح کی آوازیں برآمد ہوجاتی ہیں۔ ہاں یہ ڈسٹربنگ تو بہت ہے، مجھے تم سے اتفاق ہے۔ کیا؟ کوئی ہمارا پیچھا کررہا ہے؟ مجھے تو کوئی نظر نہیں آرہا۔۔۔ نہیں، بلکہ تمہارے کہنے پر غور کرنے سے مجھے اندھیرے میں کچھ شبیہیں نظر آئی ہیں۔ پر دیکھو نا، یہ مال روڈ ہے اور یہاں رات کے اس پہر بھی کسی قدر چہل پہل زیادہ اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ اپنے اپنے کاموں سے گھروں کو لوٹنے والے عام لوگ ہیں۔

ہاں تم درست کہتے ہو: وہ ٹھہر گئے ہیں۔ کیا مطلب؟ تمہیں لگتا ہے میں نے انہیں کوئی اشارہ کیا ہے؟ بالکل بھی نہیں! ان کی شناخت اور ارادوں کے متعلق مجھے تم سے ذرا بھی زیادہ علم نہیں ہے۔ بس اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی کوئی چیز گرگئی ہے یا پھر وہ آپس میں ہی کسی بحث میں الجھ گئے ہیں۔ یا شاید وہ سوچ رہے ہیں کہ ہم کیوں ٹھہر گئے ہیں، کہیں ہمارا ارادہ انہیں نقصان پہنچانے کا تو نہیں ہے! خیر جو بھی ہے، ہمیں حد سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے آؤ! ہم اپنی وسطِ شب کی چہل قدمی پھر سے شروع کردیں۔ آخر کو یہ لاہور ہے، اسّّی لاکھ سے زیادہ آبادی کا شہر، کوئی آسیب زدہ مضافاتی جنگل تو نہیں ہے۔

تمہیں چلنے پر تیار پاکر مجھے اطمینان ہوا ہے۔ مگر یہ تم کیا تلاش کررہے ہو۔ اوہ، تمہارا غیر معمولی موبائل فون۔ اگر اپنے ساتھیوں کو ٹیکسٹ کرنے لگے ہو تو انہیں بتادو کہ ہم تمہارے ہوٹل سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں۔۔ زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ کی دوری پر۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اپنے قصے کو اگر مناسب انداز میں مکمل کرنا ہے تو اس کے لیے اب ذرا جلدی کرلینی چاہیے۔ اگر تمہیں یاد ہو تو تم نے پوچھا تھا کہ میں نے امریکا کو روکنے کے لیے اب تک کیا کیا۔ میں اب اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرنے لگا ہوں، اگرچہ کہ بہت امکان ہے کہ میرا جواب تمہارے لیے مایوسی کا باعث بنے گا۔

میری نیویارک سے واپسی کے بعد جب گرمیوں کا موسم آیا تو انڈیا کے ساتھ جنگ کا خطرہ پورے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ سرحد کے دونوں جانب ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بڑے بڑے عہدیداروں کو یہاں سے چلے جانے کا حکم مل گیا تھا اور ترقی یافتہ ممالک اپنے شہریوں کو انتہائی اشد ضرورت کے سوا ہمارے خطے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کررہے تھے۔ لگتا تھا اب صرف موسم ہے جو تباہی کے آغاز میں رکاوٹ بن رہا ہے: پہلے گرمی کی شدت صحرائی علاقوں سے بھارتی جارحیت کی راہ میں آڑ بنی اور پھر مون سون کی شدید بارشوں نے پنجاب پر حملے کا امکان کم کردیا۔ ستمبر جنگ کے لیے موزوں ہوسکتا تھا کیونکہ پھر اکتوبر سے کشمیر کے پہاڑی راستے برف کی وجہ سے بند ہوسکتے تھے۔ ایک طرف ہمارا ستمبر گھڑیاں گنتے ہوئے گزر رہا تھا اور دوسری جانب تمہارے ملک کا میڈیا اس سب سے بے نیاز نیویارک اور واشنگٹن پر حملوں کی اینیورسری منارہا تھا۔ اور پھر دن چھوٹے ہونے لگے اور مذاکرات طویل اور نتیجہ خیز، حتٰی کہ اُس جنگ کا خطرہ ٹل گیا جو لاکھوں جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی تھی۔ خیر نسلِ انسانی کے لیے یہ سکون مختصر دورانیے کا ہی تھا کیونکہ صرف چھ ماہ بعد عراق پر چڑھائی کی ابتدا ہونے والی تھی۔

ساری دنیا میں بہت سے غیر جانبدار لوگوں کو یقین ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سطح کے اکثروبیشتر تنازعات دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں دراصل امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ اور دہشت گرد صرف انہیں قرار دے دیا گیا ہے جو فوجی یونیفارم میں ملبوس نہ ہوتے ہوئے بھی منظم ہوکر سیاسی مقاصد کے لیے عام شہریوں کا خون بہاتے ہیں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ بنی نوع انسان کے لیے اہم ترین ترجیح اگر ایک یا چند اقوام کے مفادات ہی ہیں تو پھر ہم جیسے۔۔ بدقسمتی سے مبینہ دہشت گردوں کے اطراف میں رہنے والے۔۔ لوگوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں سوائے اس کے کہ اگر مارے جائیں تو اسے "کولیٹرل ڈیمج" کا نام دے دیا جائے۔ میرے نزدیک یہی وجہ تھی جس کی بنیاد پر امریکا افغانستان اور عراق میں بے اندازہ اموات کا سبب بن کر بھی اپنے عمل کو درست سمجھتا تھا۔ اور اسی لیے وہ انڈیا کے ذریعے پاکستان پردباؤ ڈالنے میں بھی خود کو حق بجانب سمجھتا تھا چاہے اس سے مزید بے شمار جانیں خطرے میں کیوں نہ پڑرہی ہوں۔

اسی دوران مجھے ایک یونیورسٹی میں لیکچرر کے طور پر نوکری مل گئی تھی اور میں نے کیمپس میں اپنے اور تمہارے ملک کے بیچ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی وکالت کو اپنا مشن بنا لیا تھا۔ میں اپنے طلباء میں خاصا مقبول تھا۔۔۔ شاید اپنی نوعمری کے سبب، یا شاید انہیں میری سابقہ جاں نثاری صلاحیتوں کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا تھا جو میں اپنے فنانس کے کورسز کے ذریعے ان کے سامنے پیش کرتا تھا ۔۔۔ چنانچہ ان کے ذہنوں میں یہ بات اتارنا زیادہ مشکل کام نہیں تھا کہ پاکستان کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطحوں پر زیادہ سے زیادہ خودمختاری حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جب اس حوالے سے ہمارے مظاہروں کے شریکین کی تعداد معقول حد تک پہنچنے لگی تو باہر کے میڈیا نے انہیں امریکا مخالف مظاہرے پکارنا شروع کردیا۔

وہ مقام یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے جہاں ہونے والے واقعے کو ہماری احتجاجی تحریک میں سب سے پہلے شہرت ملی۔ تمہارے ملک کے سفیر شہر میں تھے اور جس عمارت میں وہ خطاب کررہے تھے، ہم نے اسے گھیر لیا تھا۔ ہمارے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے اورہم نعرے لگا رہے تھے۔ ہماری تعداد ہزاروں میں تھی اور ہم میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے۔۔۔ کمیونزم کے حامی اور سرمایہ دارانہ نظام کے پیروکار، حقوقِ نسواں کے علمبردار، مذہبی دانشور۔۔۔ اور رفتہ رفتہ معاملات ہاتھ سے نکلنا شروع ہوگئے۔ لوگوں نے پتلے جلائے اور پتھراؤ شروع کردیا حتٰی کہ ہم پر وردی اور بغیر وردی کے بے شمار پولیس والوں نے دھاوا بول دیا۔ اس دھینگا مشتی میں مجھے بھی اچھی خاصی چوٹیں آئیں اور میری وہ رات بھی قید میں گزری۔

جلد ہی میرے کام کے اوقات کا بڑا حصہ سیاسی ذہنیت رکھنے والے طلباء سے میٹنگز کی نذر ہونے لگا، اس حد تک کہ بیشتر اوقات مجھے رات دیر تک ٹھہرنا پڑتا تھا تاکہ اپنی نصابی اور غیر نصابی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی جانب متوجہ ہونے والے تمام لوگوں کو اچھی طرح وقت دے سکوں۔ میری حیثیت ان لڑکے لڑکیوں، مردوں عورتوں کے لیے ایک اتالیق کی سی ہوگئی تھی جو صرف ان کے امتحانات کے حوالے سے مشورے نہیں دیتا تھا بلکہ دیگر بیشتر معاملات میں بھی ان کا معاون تھا: چاہے کسی کو اپنے دل کے معاملات میں مدد درکار ہو یا نشے سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو، یہاں تک کہ خاندانی منصوبہ بندی، قیدیوں کے حقوق اور میاں بیوی کے بیچ مار پیٹ جیسے مسائل کے متعلق بھی مجھ سے بہترین معلومات اور حل کی توقع رکھی جاتی تھی۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ میرے سارے اسٹوڈنٹ فرشتے تھے؛ چند ایک تو ایسے بھی تھے جنہیں ٹھگ کہنا غلط نہ ہوگا۔ پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر۔۔ بڑی حد تک اپنے سابقہ معلم جم کے انداز میں۔۔۔ لوگوں کو فی الفور جانچ لینے کی صلاحیت پیدا ہوگئی تھی۔ مجھے اس معاملے میں کبھی بھی غلطی نہ کرنے کا دعوٰی تو نہیں ہے لیکن ایمانداری سے کہہ سکتا ہوں کہ بالعموم میرا دوسروں کے متعلق اندازہ کافی حد تک درست ہوتا ہے۔ جیسے میں ہجوم پر نظر ڈال کر بتا سکتا ہوں کہ ان میں سے کون کون لوگ ہیں جو ہنگامہ آرائی کے مرتکب ہوسکتے ہیں اور یہ کہ میرے ساتھ کام کرنے والوں میں سے کس سے سب سے زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ڈین سے میرے متعلق جاکر کہے گا کہ اِسے قابو کیا جانا ضروری ہے اس سے قبل کہ اس کی سرگرمیاں قابو سے باہر نکلیں۔

مجھے ایک سے زائد تنبیہی نوٹس موصول ہوچکے ہیں لیکن میرے کورسز کی مانگ بہت زیادہ ہونے کے سبب میں اب تک معطّلی سے بچا ہوا ہوں۔ اور یہ ہرگز مت سمجھ لینا کہ میں ایسے استادوں میں سے ہوں جو پڑھائی سے دلچسپی نہ رکھنے والے طلباء کی شراکت داری میں کیمپس کو بدمعاشی کا شوق پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میری جانب بڑھنے والے بیشتر طلباء سلجھے ہوئے اور باشعور ہوتے ہیں جن کی زندگیوں میں مقصدیت کا واضح عنصر موجود ہوتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کامریڈ پکارتے ہیں۔۔ جیسے کہ ہر ایک اپنے ہم خیال لوگوں کو پکارا کرتا ہے۔۔ لیکن میں اس کی بجائے خیر خواہ کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ہوں۔ لہذا جب مجھے معلوم ہوا کہ حال ہی میں ان میں سے ایک لڑکا ہمارے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے کام کرنے والے تمہارے ملک سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے کے قتل کی منصوبہ بندی کے جرم میں گرفتار ہوا ہے تو میرا ردعمل خوف اور تعجب کے ملے جلے جذبات پر مبنی تھا۔

مجھے اس مبینہ منصوبے ۔۔ جو ایک ہمدرد فرد کے خلاف ہونے کے سبب زیادہ افسوسناک ہے۔۔ کی تفصیلات کا کوئی علم نہیں لیکن مجھے یقین تھا کہ اُس لڑکے کو کسی غلط فہمی کی وجہ سے ملوث کیا جارہا ہے۔ تم نے پوچھا کہ جب مجھے تفصیلات نہیں معلوم تو پھر یہ یقین کس طرح ہے؟ اور پوچھا بھی بہت غیر دوستانہ اور شک سے بھرپور انداز میں ہے۔ یہ اطمینان رکھو کہ میں عدم تشدد پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور مجھے خون ریزی سے شدید نفرت ہے سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت کے لیے کوئی اس پر مجبور ہوجائے۔ تمہارا سوال ہے کہ خودحفاظتی کا پیمانہ میرے نزدیک کتنا وسیع ہے؟ تو جان لو کہ وہ خاصا تنگ ہے اور میں قاتلوں کا کبھی بھی ساتھ نہیں دے سکتا؛ میں صرف ایک یونیورسٹی لیکچرر ہوں، نہ اس سے زیادہ نہ ہی کم۔

تمہارے تاثرات بتاتے ہیں کہ تمہیں یقین نہیں آیا۔ کوئی بات نہیں، مجھے اپنی سچائی پر بھروسہ ہے۔ اور جو بھی ہو، اُس لڑکے سے کچھ معلوم کرنا ناممکن تھا کیونکہ وہ غائب ہوچکا تھا۔ یقیناً اُسے میرے اور تمہارے ملکوں کے درمیان کسی خفیہ اورغیرقانونی قیدخانے منتقل کردیا گیا تھا۔ میری اور اس کی شناسائی محدود سی تھی جیسا کہ میں نے اپنی شہادتوں میں بھی بار بار دوہرایا، لیکن اس کی شرمیلی مسکراہٹ اور کیش فلو اسٹیٹمنٹ بناتے ہوئے اس کی پھرتیاں مجھے یاد ہیں اور اس کے ساتھ سلوک کو جس طرح معمہ بنایا گیا اس کا خیال میرے تن بدن میں آگ لگا دیتا ہے۔ اسی بنا پر جب بین الاقوامی ٹیلیویژن نیٹ ورکس ہمارے کیمپس میں آئے تو میں نے ان کے سامنے کہا کہ دوسرے ممالک کے عوام پر موت مسلط کرنے اور دور دراز رہنے والوں کو مسلسل دہشت میں مبتلا رکھنے میں کوئی بھی ملک امریکا سے بڑھا ہوا نہیں ہے۔ پر یہ سب کہتے ہوئے شاید میرے انداز میں، جتنی میں چاہتا تھا اس سے زیادہ درشتگی تھی۔

بعد میں مجھے احساس ہوا کہ غصے کے اظہار کے ساتھ ساتھ میں ممکنہ طور پر اپنی جانب توجہ بھی مبذول کرانا چاہتا تھا؛ اپنے طور پر میں نے ایک اشارہ روانہ کیا تھا جس سے مجھے امید تھی کہ وہ براعظموں اور تہذیبوں کی حدود پار کرتا ہوا اپنی منزل پر جاپہنچے گا۔ اگر ایریکا نے اسے دیکھ لیا ۔۔ جس کا ہوشمندی سے سوچنے پر مجھے علم تھا کہ امکان صفر کے قریب ہے۔۔ تو اسے مجھ سے رابطہ کرنے کا خیال آسکتا تھا۔ اور جب ایسا نہیں ہوا تو مجھے اپنے اندر کہیں بہت تکلیف دہ جھٹکا لگا۔ لیکن میرے مختصر انٹرویو کی بازگشت خاصی زوردار تھی؛ کئی دن تک اسے نشر کیا جاتا رہا اور اب بھی کبھی کبھار دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دکھائے جانے والے پروگرامز میں اس کا اقتباس شامل کیا جاتا ہے۔ اس کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ میرے کامریڈز نے مجھے خبردار کیا کہ امریکا میری غیرمحتاط تصریحات پر ناراض ہوکر مجھے سزا دینے کا فیصلہ کرسکتا ہے جس کی نوعیت بہت شدید بھی ہوسکتی ہے۔

تب ہی سے میری کیفیت جوزف کونرڈ کے کردار کرٹز جیسی ہے جسے اپنے مارلو کا انتظار ہو۔ میں معمول کی زندگی جینے کی کوشش میں ہوں، جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو، لیکن یہ خوف مستقل میرے ساتھ ہے کہ مجھ پر نظر رکھی جارہی ہے۔ میں نے اپنے معمولات کو بدلنے کی بھی کوشش کی ہے ۔۔ مثال کے طور پر کام کے لیے گھر سے نکلنے کے اوقات، اور آنے جانے کے راستے۔۔ لیکن مجھے احساس ہوا ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جو میرے مقدر میں لکھا ہے وہ سامنے آکر رہے گا اور جب تک وہ نہیں آتا تب تک مجھ پر لازم ہے کہ خوف کے سائے میں جینے سے گریز کروں۔

اور سب سے زیادہ مجھے اس کام سے گریز کرنا ہے جو اِس وقت تم کررہے ہو، یعنی بار بار مڑ کر پیچھے دیکھنا۔ لگتا ہے تم اب میری باتیں بھی نہیں سن رہے؛ شاید تمہیں یقین ہوچلا ہے کہ میں ایک زبردست قسم کا جھوٹا ہوں، یا پھر شاید تم اس خیال کے زیر اثر ہو کہ ہمارا تعاقب کیا جارہا ہے۔ سچ میں، بہت اچھا ہوگا اگر تم خود کو پرسکون کرلو۔ ہاں وہ لوگ اب قدرے نزدیک آچکے ہیں، اور ہاں، ان میں سے ایک کا چہرہ بہت سخت تاثر بھی لیے ہوئے ہے۔ کیا اتفاق ہے؛ یہ تو ہمارا وہی ویٹر ہے؛ اس نے مجھے دیکھ کر شناخت کے طور پر سر ہلایا ہے۔ لیکن یقین کرو کہ یہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ کہتے ہوئے عجیب محسوس ہوتا ہے لیکن تمہیں ہم پاکستانیوں کے متعلق یہ گمان نہیں رکھنا چاہیے کہ ہم سب ہی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمیں تمام امریکیوں کو بھیس بدلے ہوئے پیشہ ور قاتل نہیں سمجھنا چاہیے۔

آہ، ہم تمہارے ہوٹل کے گیٹ کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مجھے اور تمہیں اپنی ملاقات کا اختتام کردینا چاہیے۔ شاید ہمارا ویٹر بھی الوداع کہنا چاہتا ہے، تبھی تو اتنی تیزی سے ہمارے پاس آرہا ہے۔ ہاں، وہ مجھے اشارہ کررہا ہے کہ تمہیں روکے رکھوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں میرے کچھ نظریات برے لگے ہیں؛ پھر بھی میں امید کرتا ہوں کہ تم میرے مصافحے کے لیے بڑھے ہاتھ کو تھام لو گے۔ لیکن تم اپنی جیکٹ میں کیوں ہاتھ ڈال رہے ہو؟ مجھے کسی دھات کی جھلک نظر آئی ہے پر اب جبکہ ہمارے بیچ ایک خاص ربط اور بے تکلفی پیدا ہوچکی ہے، مجھے بھروسہ ہے کہ یہ تمہارے بزنس کارڈ ہولڈر کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ختم شد ۔