006 - نئی ، پرانی۔۔۔۔۔۔ایک کہانی، تحریر۔۔۔۔ آمنہ احمد

آمنہ احمد

نئی ، پرانی۔۔۔۔۔۔ایک کہانی

زارا کی کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں عموماً عام کہانیاں اختتام پذیر ہوتی ہیں۔۔۔۔ عام کہانیوں کا اخیر "ان کی شادی ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے" پر ہوتا ہے مگر زارا کی کہانی کی ابتدا شادی سے ہوئی تھی۔
"میری کہانی کی ابتدا میں ہی اختتام تھا شاید۔۔۔۔۔" زارا نے سفید ململ کے دوپٹے کو سختی سے سر پر جماتے ہوئے سوچا۔۔۔۔
اس کی شادی کو دو ماہ ہوئے تھے اور اسے بیوہ ہوئے بیس دن۔۔۔۔ شیراز اور اس کا ساتھ چالیس دن پر محیط تھا۔۔۔۔ ابھی تو اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ سکا تھا کہ اسے شیراز سے واقعی میں محبت ہو گئی ہے یا یہ صرف نئی نئی شادی کا فسوں ہے۔۔۔۔ ابھی تو ایک دوسرے سے جھجھک بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ وہ چلا گیا۔۔۔۔ اس وحشت کے دور میں جبکہ بم دھماکے میں مرنے کے امکانات زیادہ ہیں وہ اچانک ہارٹ اٹیک سے چل بسا۔۔۔۔۔ زارا ابھی تک حیران تھی کہ یہ سب کیا ہوا "یہ سب واقعی میرے ساتھ ہوا ہے یا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔" ناخنوں میں جذب مہندی کا رنگ اب بھی چھٹ کر نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔
"ارے یہ تم کیا پڑھ رہی ہو۔۔۔۔" بسمہ آپا کی آواز سن کر انگریزی کے نوٹس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئے۔
"وہ میں نے سوچا میں انگریزی کے پیپر کی تیاری کر لوں۔۔۔۔" زارا نے اعتراف جرم کیا۔
"ارے کوئی قرآن حدیث کی کتاب پڑھو۔۔۔۔ ابھی سے تمھیں دنیا داری سوجھ رہی ہے۔۔۔۔"
وہ تو کہہ کر چلتی بنیں مگر بات ساس سسر اور پھر سب گھر والوں تک پہنچ گئی۔۔۔۔ پھر فرداً فرداً سب نے اسے سرزنش کی۔۔۔۔ اس نے تمام نوٹس میٹرس کے نیچے چھپا دیئے۔۔۔۔ "شاید رات میں پڑھنے کا موقع مل جائے۔۔۔۔" بی اے کے پیپرز کے بعد شادی ہو گئی تھی۔۔۔ رزلٹ شادی کے بعد نکلا تھا اور وہ حسب توقع انگلش میں فیل ہو گئی تھی یہ ثابت کرنے کیلئے کہ انگریزی سرکاری اور عالمی زبان تو ہو سکتی ہے مگر نہ تو قومی زبان ہے اور نہ ہی مادری۔۔۔۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"یہاں کیا کر رہی ہو زارا ۔۔۔۔" عالیہ بھابھی نے اسے پچھلے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھا دیکھ کر ٹوکا۔۔۔۔
"وہ کمرے میں گھٹن ہو رہی تھی ۔۔۔۔"
"ہاں وہ تو ہو گی۔۔۔ اب تو اس کا عادی ہونا پڑے گا تمھیں۔۔۔۔" عالیہ بھابھی کا لہجہ سفاک تھا۔
"کیوں بھئی کیوں عادی ہو نا پڑے گا۔۔۔۔" ثناء بھابھی نے مداخلت ضروری سمجھی۔
"اب اس عمر میں بیوہ ہوئی ہے تو۔۔۔۔"
"بیوہ ہوئی ہے، کوئی جرم تو نہیں کیا جو اب یہ سب برداشت کرنا پڑے گا"۔ ثناء بھابھی کا ذہن اور طرح کام کرتا تھا۔۔۔۔
اگلے چند منٹوں میں اس بات کی رپورٹ بھی اوپر تک پہنچ گئی اور پھر سب نے باری باری اسے بہت سی نصیحتیں کی۔۔۔ "یہ عدت کب ختم ہو گی۔۔۔۔" شیراز کی یاد کی بجائے اب اس پر اکتاہٹ طاری ہونے لگ گئی تھی۔۔۔۔ نہ وہ ہنس سکتی تھی اور نہ ہی بول۔۔۔ بس اسے حکم تھا کہ وہ زمین پر ایک کونے میں بیٹھی رہے۔۔۔۔ بستر پر نہ سوئے۔۔۔۔۔ صرف سفید یا کالے کپڑے پہنے۔۔۔۔ بالوں میں شمپیو نہ کرے اور نہ ہی ٹھیک سے کنگھی۔۔۔۔ ایک دن اس نے لوشن لگا لیا تو خاص طور پر اس کے ہاتھ منہ پاؤں دھلوائے گئے۔۔۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭

خدا خدا کر کے وہ دن بھی آ گیا ۔۔۔۔ شیراز کی یاد تو اب ایک کسک سے زیادہ نہ تھی۔۔۔۔ اور اس کی سوچ ابھی اتنی پختہ نہ تھی کہ آنے والے حالات کا ادراک کر سکتی۔۔۔۔ بس اسے یہ پتا تھا کہ آج اس کی عدت کا آخری دن ہے اور کل وہ اپنے امی ابو کے گھر جا سکتی ہے۔۔۔۔ اس نے آسودگی سے آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کی۔
اس نے تو چپکے چپکے اپنا سوٹ کیس بھی پیک کر لیا تھا اور بیڈ کے نیچے گھسا دیا تھا۔۔۔۔ امی ابو کے آنے کی آواز اسے بھی آ گئی تھی مگر بغیر بلاوے کے اسے کمرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔ مگر اس سے زیادہ دیر صبر نہ ہو سکا تو باہر نکل آئی۔۔۔۔ لاؤنج میں سب براجمان تھے۔۔۔۔
"دیکھیں بھائی صاحب ہمارے ہاں رواج ہے کہ جو ایک بار ہماری بہو بن کر آ جائے وہ ہمیشہ اسی گھر میں رہتی ہے۔۔۔۔" اس کے سسر فرما رہے تھے۔۔۔۔ زارا کے پاؤں منجمد ہونے لگے۔
"امید سے ہو جاتی تو ساری زندگی بچے کے نام پر زندگی گزار دیتی مگر بدنصیب کی قسمت میں یہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ " اس کی ساس نے بھی ہمدردی کے دو بول کہنا ضروری سمجھا۔۔۔۔
"امی، ابو، بھائی، طارق بھائی کچھ بولتے کیوں نہیں۔۔۔۔" اس نے دیوار کا سہارا لیا۔
"ہم نے سوچا ہے کہ زارا کا نکاح اعجاز سے کر دیا جائے۔۔۔۔ اس کے بچے نہیں۔۔۔۔"
"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ اسلم صاحب۔۔۔۔" طارق بھائی ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے۔
"ذرا تحمل سے میاں صاحب زادے۔۔۔۔ پتا ہے آجکل لڑکیوں کے رشتوں کا کتنا مسئلہ اور یہ تو پھر بیوہ ہے۔۔۔۔"
"ویسے بھی ہماری آبادی کا باون فیصد عورتیں ہیں۔۔۔۔ رشتے تو پہلے ہی کم ہیں۔۔۔۔" عالیہ بھابھی کو اپنی علمی قابلیت بھی جھاڑنی تھی۔۔۔۔۔ ویسے بھی ان کے دل میں پھلجھڑیاں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔۔ آخر ثناء ان کی بہن کی جگہ اس گھر میں آئی تھی۔۔۔۔
"یا اللہ۔۔۔۔" زارا نے نظر اٹھا کر دیکھا تو دروازے کی دوسری طرف ثناء سفید چہرہ لئے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ ایک بیوہ ہونے کی وجہ سے زندہ درگور کی جا رہی تھی اور دوسری اولاد نہ ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔۔ پھر زارا نے دیکھا کہ ثناء لاؤنج میں داخل ہو گئی۔۔۔۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"ویسے اچھا تھا کہ جیٹھ سے اس کی شادی ہو جاتی۔۔۔۔ اب ساری زندگی بھائیوں کی چاکری کرے گی اور ان کے بچے پالے گی۔۔۔۔ " اب میکے کی طرف کے لوگوں کی باری تھی۔۔۔۔ ایک ہمسائی دوسری ہمسائی کے ساتھ مل کر افسوس کرنے آئی تھیں اور اب اپنے رائے سے نوازنا ضروری سمجھ رہی تھیں۔۔۔۔ وہ اکتا کر دروازے سے ہی پلٹ گئی۔۔۔۔
"اگر ثناء اس وقت آگے نہ بڑھتی تو۔۔۔۔" اس نے کرسی کی پشت پر سر ٹکاتے ہوئے سوچا۔۔۔
"اگر آپ اعجاز کی دوسری شادی کروانا چاہتے ہیں تو میں بھی بتا دوں کہ میرا بھائی بھی دوسری شادی ضرور کرے گا۔۔۔۔ اگر میرے بچہ نہیں ہے تو آپ کی بیٹی نے بھی تو میرے بھائی کو صرف بیٹیوں کا ہی تحفہ دیا ہے۔۔۔۔ اور اعجاز تم جو یہاں باچھیں پھیلا کر بیٹھے ہو تو تمھیں یہ تو توفیق نہیں ہوئی کہ اپنی میڈیکل رپورٹ کے متعلق ان سب کو بھی بتا دیتے۔۔۔۔ شادی کا بہت شوق ہے، چاہے شادی کرنے کے قابل ہو یا نہ ہو۔۔۔۔" ثناء بھابھی نے آر یا پار کا فیصلہ کر لیا تھا شاید۔۔۔۔ اعجاز بھائی کونسی رپورٹ، کونسی رپورٹ ہی کرتے رہ گئے تھے۔
"باون فیصد عورتیں۔۔۔۔۔" اس نے سوچا۔۔۔۔۔ "یہ باون فیصد عورتوں کی بات کرنے والے بچے پیدا کرنے سے پہلے پر کیپیٹا انکم اور جی ڈی پی کی بات نہیں کرتے مگر دوسری شادی کیلئے کیسے کیسے دلائل ڈھونڈ لاتے ہیں۔۔۔۔ جب جی چاہتا ہے اعداد و شمار کا سہارا لے لیتے ہیں دو دو شادیاں کرنے کیلئے اور جب جی چاہتا ہے اسلام کا۔۔۔۔ " اسے اکیلے میں ہنسی آ گئی۔۔۔۔۔ "اور وہ اعجاز بھائی، ویسے تو مجھے بیٹا بیٹا کہتے نہیں تھکتے تھے اور پھر رشتوں کا سب تقدس ایک منٹ میں پامال۔۔۔۔ کیسا تضاد ہے یہ کہ بیوہ گھر سے باہر نہیں جا سکتی، ہنس نہیں سکتی، پڑھ نہیں سکتی مگر دیور، جیٹھ، سسر سے بے پردگی پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔" اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ نم ہو رہی تھیں۔
٭- - - ٭ - - - ٭

"تو کیا اب یہی میرا مقدر ہے۔۔۔۔۔" اس نے برتن کبنٹ میں رکھتے ہوئے سوچا تھا۔۔۔۔ کل ہی تو اس کیلئے ایک رشتہ آیا تھا۔۔۔۔ پنتالیس سالہ رنڈوے کا جس کے پانچ بچے تھے اور یہ اس کی تیسری شادی کی خواہش تھی۔۔۔۔ ٹی وی لاؤنج میں سب شاید اسی سلسلے میں اکٹھے ہوئے تھے۔
"زارا پتر او زارا پتر۔۔۔۔ کدھر ہو بھئی۔۔۔۔۔" طارق بھائی کی خوشگوار آواز نے جیسے اسے کچھ ہمت دی۔۔۔۔ سارا آپی کے میاں طارق بھائی اس کے چچا زاد بھی تھے۔
"جی آئی۔۔۔۔" وہ دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے لاؤنج میں آ گئی۔
"کدھر ہو بھئی۔۔۔۔ ادھر آکر بیٹھو نا۔۔۔ کیا ہو رہا ہے آجکل۔۔۔۔" وہ مہینے بھر کے ٹؤر کے بعد واپس آئے تھے۔
"میں تو زارا کو کہہ رہی ہوں پہلے بی اے کے پیپر دے اور پھر کوئی کورسز وغیرہ کر لے۔۔۔۔" اسماء بھابھی نے بیٹے کو سیریل کھلاتے ہوئے بہت دفعہ کا دیا ہوا مشورہ پھر سے دیا تھا۔
"بالکل صحیح۔۔۔۔ تو پھر کیا پیپرز کی تیاری ہو رہی ہے؟" طارق بھائی نے استفسار کیا۔
"نہیں۔۔۔۔ " اس نے انکار میں سر ہلایا۔
"کیوں؟"
"اب کیا کرے گی پڑھ کر۔۔۔۔" امی کا لہجہ مایوس سا تھا۔
"کیا کرے گی؟۔۔۔۔ وہی کچھ کرے گی جو سب کرتے ہیں۔۔۔۔ کیوں سارا؟" طارق بھائی نے بیوی کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ سب خاموش تھے۔
"بس پھر طے ہے کہ زارا پہلے امتحان دے لے اور پھر یونیورسٹی کے ایڈمیشن تک کوئی کورسز کر لے۔۔۔۔ پھر ان شاء اللہ ایم اے اور پی ایچ ڈی۔۔۔۔۔" طارق جو سارا کو حال ہی میں پی ایچ ڈی کروا چکے تھے، خواتین کی تعلیم کے بہت حامی تھے۔
"چاچا جی ابھی زارا کو سنبھلنے کا موقع دیں۔۔ اٹ از ناٹ دا اینڈ آف دا ورلڈ!۔۔۔۔ اگر اس کی مرضی اور خوشی کے بغیر کوئی فیصلہ جلد بازی میں کر لیا گیا تو مسائل گھٹنے کی بجائے بڑھ جائیں گے۔۔۔۔ کچھ وقت گزرے گا تو اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔۔۔۔ اور یہ جو فضول قسم کے رشتے آ رہے ہیں ان کا سلسلہ بند کریں۔۔۔۔ ارسلان جب اسماء بھابی تمھارے ساتھ ہیں تو پھر تم چاچا جی اور چچی جی کو حوصلہ دو۔۔۔۔ اور اگر اب بھی آپ سب کی تسلی نہیں ہوتی تو چاچا جی زارا کا ذمہ میں لیتا ہوں۔۔۔ آج سے عائشہ کی طرح زارا بھی میری بیٹی ہے اور اس کی شادی کا ذمہ بھی میرا ان شاءاللہ۔۔۔۔" طارق بھائی نے تو بات ہی ختم کر دی۔
سب ایک دم پر سکون ہو گئے تھے۔۔۔ شاید سب کو مثبت سوچ اور یقین دہانی کی ضرورت تھی۔۔۔۔ کچن میں مصالحہ بھونتی زارا نے سکھ کا سانس لیا تھا۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"وقت کس قدر تیزی سے گزر جاتا ہے۔۔۔۔ کبھی لگتا تھا کہ میرے لئے اب کچھ باقی نہیں بچا۔۔۔ میری کوئی شناخت اور حیثیت نہیں ہے۔۔ اور اب اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔۔" زارا نے سر گھما کرعمر کی طرف دیکھا تھا۔۔ "ایک کہانی کے اختتام سے کبھی کبھی ایک نئی کہانی جنم لے لیتی ہے نا جو پرانی کہانی سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔۔۔۔" عمر اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے مسکرا کر اس کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
" کیا بات ہے بیگم صاحبہ۔۔۔۔ کیا نظر ہٹ کر ہی نہیں دے رہی؟" اس نے چھیڑا تھا۔
"ہونہہ خوش فہمی۔۔۔۔" وہ بھی جواب میں ہنسی تھی۔ "اچھا بتائیں ایمن کیلئے کیا گفٹ لینا ہے۔۔۔۔"
"یہ تو خواتین کی فیلڈ ہے نا۔۔۔۔ "
"مگر آپ کو اس کی پسند کا زیادہ اندازہ ہے۔۔۔۔"
"بھئی اسے بکس اور پینٹنگ کا شوق ہے تو کچھ ایسا ہی لے لو۔۔۔۔"
"چلیں ٹھیک ہے۔۔۔۔"
زارا کی عمر سے شادی چند ماہ پہلے ہوئی تھی۔۔۔ ایک ورکشاپ کے دوران دونوں کی سرسری سی ملاقات ہوئی تھی۔۔۔ چند دن بعد عمر کا پرپوزل اس کیلئے آ گیا تھا۔ پرپوزل لے کر آنے والوں کو امی ابو نے حیرت سے دیکھا تھا۔۔۔۔ زارا کیلئے یہ لوگ بہت سال پہلے بھی پرپوزل لائے تھے مگر لڑکے کے باہر جانے کی وجہ سے انکار کر دیا گیا تھا۔
"ہم نے عمر کی شادی پھر فیملی میں ہی کر دی تھی مگر فضا بھابھی ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئیں۔۔۔۔" عمر کی بڑی بہن نے تفصیل بتائی۔۔۔ "زارا کا سن کر دل کو بہت تکلیف ہوئی تھی۔۔۔ بس اب سوچا کہ ان دونوں کا ساتھ مقدر میں ہے۔۔۔۔ اب انکار مت کیجیئے گا۔"
اسی رات فون کرکے عمر نے اسے بتایا تھا۔۔۔۔ "فضا اور میرا ساتھ بہت تھوڑا تھا مگر ایمن کی صورت وہ اپنی نشانی چھوڑ گئی۔۔۔ میں اکیلے اسے پال نہیں سکتا تھا تو اسے اس کے ننھیال میں چھوڑ دیا۔۔۔ میرا خیال تھا کہ پی ایچ ڈی کے بعد واپس آؤں گا تو ایمن کو اپنے ساتھ رکھوں گا مگر ایمن کے ماموں نے کہا کہ ایمن انہیں دے دوں۔۔۔ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔۔۔ ایمن ویسے بھی اپنے ماموں ممانی اور نانا نانی سے بہت اٹیچ ہے۔۔۔۔ وہ انہیں ممی ڈیڈی کہتی ہے اور مجھے بابا۔۔۔ اسے پتا ہے ساری صورتحال کا۔۔۔۔ میرے پاس امریکہ ہر سال چکر بھی لگا لیتی تھی اور اب بھی میرے پاس آکر رہ لیتی ہے۔۔۔ آپ چاہیں تو اس سے مل سکتی ہیں۔۔۔۔ اگر آپ کو اس صورتحال پر اعتراض نہ ہو تو ہم ایک دوسرے کیلئے اچھے ساتھی ثابت ہو سکتے ہیں۔۔۔۔"
زارا بس اسے خاموشی سے سنتی رہی تھی اور قسمت کے چکر پر حیران تھی۔۔۔۔ آٹھ سال بعد اس شخص کا ساتھ مل رہا تھا جو اس کے مقدر میں تھا۔۔۔۔ بیوگی کے آٹھ سال جیسے ایک مسلسل آزمائش تھے۔۔۔۔ کوئی کہتا تھا اب بھائیوں کے در پر پڑی رہے گی۔۔۔۔ کسی کا خیال تھا کہ ایک بار منہ کو مرد لگ چکا ہے، یہ چین سے نہیں بیٹھے گی، ضرور کہیں کوئی چکر چلا رکھا ہو گا۔۔۔۔ کسی کا خیال تھا اب مناسب رشتے کے نخرے چھوڑ دینے چاہئیں۔۔۔ کیا کچھ نہیں سنا تھا اس نے۔۔۔۔
اور آج وہ اسلام آباد سے سیمینار سے واپسی پر ایمن کیلئے خریداری کیلئے فکر مند تھی۔۔۔۔ رات ہی تو اس سے بات ہوئی تھی۔۔۔۔ "اماں میرا گفٹ نہیں بھولنا۔۔۔۔ " اس نے خاص تاکید کی تھی۔ وہ جب اسے اماں کہتی تھی تو اسے ہنسی آ جاتی تھی۔
" آُپ مجھے اماں کیوں کہتی ہو؟" زارا نے ایک دن اس سے پوچھا تھا۔
"اب بابا کے ساتھ تو اماں ہی اچھا لگتا ہے نا۔۔۔۔" اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
"آپ کو ایسی باتیں کون سکھاتا ہے؟" زارا اپنی ہنسی ضبط کر کے بولی۔
"اللہ میاں۔۔ اللہ میاں نے مجھے بہت ڈھیر ساری عقل دی ہے نا۔۔۔ ممی کہتی ہیں۔" ایمن نے نہایت مدبرانہ جواب دیا تھا
"اب جب آپ کا بے بی ہوگا نا۔۔۔۔ میری بہن یا بھائی۔۔۔۔ تو میں اسے بھی بابا، اماں کہنا سکھاؤں گی۔۔۔۔" اس نے کمال سنجیدگی سے فیوچر پلاننگ کی تھی۔
زارا کو یہ سب یاد کر کے ہنسی آ گئی تھی۔۔۔ عمر نے اسے چونک کر دیکھا تھا۔۔۔۔ پھر اسے خود سے سوچ میں گم ہنستے دیکھ کر خود بھی مسکرا دیا تھا۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭