007 - قسمت۔۔۔ رفعت

رفعت

قسمت

"تو آج میری باری آ ہی گئی۔ کتنا بچا کر رکھا تھا میں نے اپنے آپ کو کہ لوگوں کی گندی ہوس بھری نظروں سے خود کو بچا لوں۔ لیکن کب تک۔۔ جب اپنا مالک ہی بازار میں بٹھا دے تو کب تک بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔"

ریشماں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
"نہیں۔۔ اس بار بھی میں اس کی بات نہیں مانوں گی جب تک مجھ میں ہمت ہے میں اپنی حفاظت کروں گی۔۔ چاہے کچھ بھی کرنا پڑے"۔۔۔۔ اس نے اپنے آپ سے کہتے ہوئے آنسو صاف کیے۔۔۔
رات ہی جاوید اس کے کمرے میں آیا تھا۔۔ نہایت ہی سختی سے اور صاف صاف الفاظ میں اس نے ریشماں کو بتا دیا تھا کہ اب کی بار کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو وہ اسے جان سے مار دے گا۔۔۔
ریشماں کو وہ دن یاد آگیا۔۔ جب گاؤں کا چوہدری ادھر سے گزر رہا تھا اور ریشماں صحن میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ٹہل رہی تھی۔ دروازہ چوپٹ کھلا تھا۔ ریشماں کی نظر چوہدری پر پڑی تو دیکھا کہ وہ اسے نہایت گندی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ وہ فوراً اندر بھاگ گئی تھی۔۔
لیکن شاید اس کی قسمت ہی خراب تھی کہ چوہدری اندر آ گیا۔۔ جاوید نے جب چوہدری کو اندر آتے دیکھا تو پھولے نہیں سمایا۔۔ جھٹ سے کرسی لا کر رکھی۔ چوہدری نے اکڑ کر بیٹھتے ہوئے جاوید سے ریشماں کے متعلق پوچھا۔۔۔ جاوید نہایت شاطر آدمی تھا تاڑ گیا کہ چوہدری پھنس گیا ہے اب وہ اپنی مرضی سے جتنے پیسے چاہے مانگ سکتا ہے۔۔۔
کافی بھاؤ تاؤ کے بعد جب معاملہ نپٹ ہی گیا تو جاوید اندر سے ریشماں کو لینے گیا۔۔ لیکن وہ الماری کے پیچھے چھپ گئی۔ اسے اپنے آپ کو ہر صورت بچانا تھا۔۔ لیکن جب شکاری تجربہ کار ہو تو شکار کیسے بچ سکتا ہے۔۔ جاوید نے بھی اسے گھیر لیا اور اپنے ساتھ چوہدری کے پاس لے گیا۔۔
چوہدری نے ریشماں کو دیکھا تو اس کی مانو، مراد پوری ہو گئی۔ جھٹ سے پیسے نکال کر جاوید کے ہاتھ پر دھرے اور بڑے پیار سے ریشماں کے چہرے کو سہلانا چاہا لیکن اس نے بپھری ہوئی شیرنی کی طرح مزاحمت کی اور چوہدری کے ہاتھ پر اپنی پوری طاقت سے کاٹ لیا۔۔۔
چوہدری نے ایک جھٹکے سے اسے دور کیا۔ اور مغلظات بکتے ہوئے اپنے پیسے واپس لے کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
ادھر ریشماں کافی خوش تھی۔۔ خوش کیوں نہ ہوتی۔ اس نے اپنے آپ کو بچا لیا تھا۔۔ اب اگر جاوید اسے تھوڑا مار پیٹ بھی لیتا تو اسے اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔۔۔
جاوید نہایت غصے میں اندر آیا۔ آتے ہی ریشماں کو دو ہاتھ لگائے۔۔ ایک اچھی خاصی رقم ہاتھ میں آ کر نکل گئی تھی تکلیف تو ہونی ہی تھی۔۔ اس نے نوکر کو منع کر دیا کہ ریشماں کو تین دن کھانا نہیں دیا جائے گا۔۔ اور اس کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔۔
ریشماں اپنی سزا سن کر بھی مسکراتی رہی۔۔ اور اس کی مسکراہٹ جاوید کا دل جلاتی رہی۔۔۔
"بس اب کی بار بھی ایسا ہی کچھ کروں گی کہ آنے والے کو منہ کی کھانی پڑے"۔ اس نے مصمم ارادہ کیا اور مسکرا دی۔۔
اگلی صبح جاوید اس کے کمرے میں آیا اور اسے سمجھانے لگا۔

"دیکھو ریشماں میں نے تمہیں پال پوس کر اتنا بڑا کیا۔ تمہارے لیے اچھے سے اچھے کھانے کا انتظام کیا۔ تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔۔۔ اب جب میرا وقت آیا ہے تو تم کیوں ایسے کرتی ہو۔ کیا تم کو میری غربت کا احساس نہیں۔ یہاں تم اکیلی نہیں ہو۔ ہر روز ہی کسی نا کسی کی قیمت لگتی ہے اور اسی پیسے سے ہم اپنا کھانا پینا پورا کرتے ہیں۔۔"
"کیا کسی کو پال پوس کر بڑا کرنا اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کے بدلے میں اسے بیچ ہی دیا جائے۔۔"ریشماں نے دل میں سوچا۔۔
"میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم آرام سے میری بات مان لو۔ ورنہ تم تو مجھے اچھی طرح جانتی ہی ہو۔"
"ابھی "گاہک" آنے والا ہے بس تم اچھے طریقے سے اس کے سامنے آنا اور کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کرنا۔۔۔" یہ کہہ کر جاوید کمرے سے نکل گیا۔۔
اور ریشماں آنے والے وقت کی پلاننگ میں لگ گئی۔۔ ذرا سی آہٹ پر اسے لگتا کہ بس اب زندگی ختم ہونے والی ہے۔ دروازے کی طرف خوف سے دیکھتی رہی۔۔ اچانک دروازہ کھلا اور جاوید ہنستے ہوئے اندر آیا۔۔
"چل بھئی اب نخرے بند کر اور چل میرے ساتھ۔" ریشماں ایک دم کھڑی ہوئی اور کمرے سے باہر بھاگنے کی کوشش کی۔۔
"میں نے تجھے رات کتنے پیار سے سمجھایا تھا لیکن تیری تو کھوپڑی ہی الٹی ہے۔۔ سیدھے طریقے سے کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی۔ اب مجھے دوسرا طریقہ استعمال کرنا ہی پڑے گا۔" جاوید نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے سفاک لہجے میں کہا۔
درد کی ایک شدید لہر سے ریشماں کی آنکھ کھلی اس نے اپنا بازو ہلانے کی کوشش کی تو ایک چیخ مار کر رہ گئی۔۔ سامنے دیکھا تو جاوید کھڑا دانت نکال رہا تھا۔ ۔ وہ بے یقینی سے اس سفاک شخص کو دیکھتی رہی۔
بہت اڑنے کا شوق ہے نا تجھے،، اب ہل کر دکھا۔" یہ کہتے ہوئے اس نے ریشماں کو سہارا دے کر اٹھایا اور ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔۔۔
ایک چہرے سے بہت شریف نظر آنے والا شخص باہر بیٹھا تھا۔۔ جیسے ہی اس نے ریشماں کو دیکھا اس کی باچھیں کھل گئیں۔ ریشماں کو اس کی نظروں سے وحشت سی ہونے لگیں۔ اتنی گندی نظر بھی کسی کی ہو سکتی ہے جو جسم کے آر پار ہوتی ہوئی محسوس ہو۔۔ اس نے سر جھکا لیا۔۔
"کیسے دو چہرے والے لوگ ہیں۔ شکل سے اتنے شریف اور اندر سے اتنے سفاک۔"
جاوید بھاؤ کر چکا تھا اب تو بس "ڈیلیوری" باقی تھی۔۔ اس نے اس شخص کے ہاتھ میں ریشماں کا ہاتھ دیا اور مزے سے پیٹھ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔
ریشماں نے کمرے کی طرف دیکھا تو اس کی سہیلیاں کھڑکی میں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ کسی کی آنکھ میں آنسو تھے اور کوئی مٹھیاں بھینچے کھڑی تھی۔۔
ریشماں نے ایک مسکراہٹ ان کی طرف اچھالی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں انہیں الوداع کہہ کر اس شخص کے ہمراہ چل پڑی۔۔
"یہی میری قسمت ہے۔ جتنا بھی زور لگا لیتی میرے ساتھ یہی ہونا تھا۔"
اس شخص نے اسے بڑے پیار سے گاڑی میں بٹھایا اور اپنا فون نکال کر کسی کو فون کرنے لگا۔۔۔
"ہیلو بیگم کیسی ہو؟ تمہیں آج صبح کہا تھا نا کہ تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ تو بس تیار ہو جاؤ۔۔ آج رات بہت مزا آئے گا۔ اپنے بھائی کو بھی بلا لو۔۔ ایک تگڑی سی مرغی خریدی ہے آج سب مل کر دعوت اڑائیں گے۔"