008 - کتابوں کے بند باب...مہوش جاوید

کتابوں کے بند باب

"وہ ابھی تک بیہوش ہے کیا؟" اغوا کے اگلے دن زوبی اور زوہیب کافی شاپ میں بیٹھے اس کے متعلق بات کر رہے تھے۔
"ہوش میں آئی تھی تھوڑی دیر، پھر غنودگی طاری ہو گئی خود ہی۔۔ کلوروفارم مزید نہیں دیا۔" زوہیب نے بتایا۔
"ہممم۔۔" زوبی کچھ سوچتے ہوئے خاموش ہو گئی۔
"کیا ارادہ ہے پھر کب تک چھوڑ دیں؟" زوہیب نے پوچھا۔
"بس جب اسے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑو گے تو چھوڑ دینا۔" زوبی نے ذو معنی بات کی۔
"کیا مطلب؟" زوہیب نے حیرانی سے پوچھا۔ کیونکہ اب تک کے پلان میں آفرین کا اغوا اور اس سے حاصل ہونے والی اس کی بدنامی ہی مقصود تھی نہ کہ اس کے دامن کو میلا کرنا۔
"مطلب بھی میں سمجھاؤں کیا؟ تم جوان ہو۔۔ یہ ایک ذرا سا کام نہیں کر سکتے؟" زوبی نے جیسے اسے للکارا۔۔
"لیکن یہ تو پلان میں شامل نہیں تھا۔" زوہیب نے احتجاج کیا۔
"نہیں تھا۔۔ لیکن اب ہے۔۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ پھر سے اپنا بے داغ دامن لیے ہمارے ہاتھ سے نکلے اور ایک آذر ایک بار پھر اس کی پارسائی کا قائل ہو جائے۔ اب جو بھی کریں، مکمل کرنا ہو گا۔۔۔ میں بار بار ادھورے داؤ برداشت نہیں کر سکتی۔"
زوبی نے انتہائی سفاک لہجے میں کہا۔
"اگر تم اس کام کے قابل نہیں تو کوئی بات نہیں۔۔ کسی 'مرد' کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔" زوبی مسلسل اسے اکسائے جا رہی تھی، لیکن اب تو طعنہ براہِ راست آذر کی مردانگی کو لگا تھا۔
"کام ہو جائے گا۔" نتیجہ زوبی کی خواہش کے عین مطابق نکلا۔
"تو ٹھیک ہے کام ہوتے ہی اسے چھوڑ دینا۔" زوبی کے اندر سکون کی لہر اتری۔
"بقایا رقم کام ہوتے ہی مل جائے گی۔" زوبی نے اپنا ہینڈ بیگ سنبھالتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
زوہیب وہیں بیٹھا بیٹھا اس کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ عورت کے بھی کتنے روپ ہوتے ہیں۔۔ اس نے سوچا ۔۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭

رات کا وقت تھا یا اس کال کوٹھری پر چھایا رہنے والا مسلسل اندھیرا۔۔ آفرین کے لیے یہ تشخیص کرنا مشکل تھا۔۔ وہ کافی دیر سے ہوش میں آ چکی تھی لیکن یونہی بندھی ہوئی زمین پر پڑی رہی۔۔ اس کا جسم زمین کی سختی اور مسلسل ایک ہی طرح سے پڑے رہنے کے باعث دکھنے لگا تھا۔
کچھ دیر بعد دروازے کے قریب کسی کی آہٹ سنائی دی تو اس کے حواس پوری طرح بیدار ہو گئے۔ کچھ دیر بعد ہی دروازہ کھول دیا گیا۔ اندر آنے والے نے کوٹھری میں موجود بلب بھی روشن کر دیا۔
بلب کی روشنی تو ہلکی ہی تھی، لیکن مسلسل تاریکی میں رہنے کی وجہ سے آفرین کی آنکھیں چندھیا گئیں۔
کچھ دیر بعد جب وہ دیکھنے کے قابل ہوئی تو ارد گرد سرسری سی نگاہ ڈالنے کے بعد ایک جانی پہچانی صورت پر اس کی نظریں ٹھہر گئیں۔
وہ اس شکل کو کیسے بھول سکتی تھی جس نے ایک عرصہ اس کو مسلسل ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا تھا۔ تب سے جب سے وہ مری ٹرپ پر گئی تھی، یہ صورت کسی سائے کی طرح اس کے سر پر سوار تھی، اسے خوفزدہ کیے رکھتی تھی، اور وہی ہوا۔۔ آج اس کے سب خوف سچ ہو گئے تھے۔۔
ابھی وہ یہی سب سوچ رہی تھی کہ دروازے سے ایک اور فرد داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ شاپر تھے۔
"اس کے ہاتھ اور منہ کھول دو۔" زوہیب نے ہاتھ میں پکڑے کین سے ایک گھونٹ اپنے اندر انڈیلتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا تو وہ اس کے حکم کی تکمیل میں آگے بڑھا۔
آفرین یونہی بے حس و حرکت پڑی رہی۔ اس نے پہلے اس کا منہ اور پھر ہاتھ بھی کھول دیئے جبکہ اس کے پاؤں بدستور بندھے ہوئے تھے۔
"ٹھیک ہے اب تم لوگ جاؤ سب۔۔ صبح آ جانا۔ رات میں یہاں سنبھال لوں گا۔" زوہیب نے اپنے ساتھی کو کہا تو وہ سر ہلاتا ہوا وہاں سے چل دیا۔
"یہ کھانا کھا لو۔" اس نے شاپر بیگز آفرین کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تو اس نے نخوت سے منہ پھیر لیا۔
"میں تمہارے نخرے اٹھانے کے لیے تمہیں یہاں نہیں لایا۔ آرام سے کھانا کھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔" اس نے اس کے بالوں کو پیچھے کھینچتے ہوئے کہا۔
آفرین کو اس کے منہ سے بدبو کا جھونکا آتا محسوس ہوا۔ اسے خیال گزرا کہ وہ نشے میں تھا۔ اس کی آواز میں لڑکھراہٹ اور آنکھوں میں سرخی تھی۔
وہ اس سے خوفزدہ تھی لہٰذا خاموشی سے چند نوالے زہر مار کرنے لگی، اس دوران زوہیب جو کہ اس سے کچھ فاصلے پر ہی بیٹھا تھا، اسے مسلسل گھور رہا تھا۔ اس کی نظروں کی غلاظت نے آفرین کو مزید سہما کر رکھ دیا۔ چند نوالے کھانے کے بعد اس نے بقایا کھانا واپس شاپر میں لپیٹ کر رکھ دیا تو زوہیب نے اٹھ کر اس کے ہاتھ دوبارہ باندھ دیئے۔
"مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟" اس نے سہمے لہجے میں پوچھا۔
"میرا نہ سہی، کسی نہ کسی کا تو بگاڑا ہی ہو گا نا۔" زوہیب نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
آفرین اس سے التجا کرنا چاہتی تھی کہ اسے چھوڑ دے لیکن نشے میں دُھت ایک بے ضمیر انسان سے وہ کیا توقع رکھتی، سو چپ کر کے بیٹھ گئی۔ اس کا ذہن یہاں سے نکلنے کے بارے میں سوچنے لگا لیکن اس کے بندھے ہاتھ پیر اس کی سوچوں پر بھی پہرا ڈالنے لگے۔ وہ پوری طرح بے بس اور ایک شیطان صفت انسان کے قبضے میں تھی۔۔ ایک بار پھر اس کے آنسو بہنے لگے۔
"ارے روتی کیوں ہو۔ چھوڑ دیں گے تمہیں جلد ہی۔" زوہیب نے مخمور آواز میں کہا تو وہ امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
آفرین کو اس کی قربت سے کراہیت محسوس ہوئی۔
"لیکن اس سے پہلے ایک کام مکمل کرنا ہے۔" اس نے آفرین کا گال چھوتے ہوئے نشے میں ڈوبے لہجے میں کہا تو آفرین اندر تک لرز گئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف کے سائے مزید گہرے ہوئے۔ اسے سامنے بیٹھے شخص کے شیطانی عزائم صاف دکھنے لگے۔۔ احتجاج کرنے کی حالت میں تو وہ پہلے ہی نہیں تھی، اس سے پہلے کہ وہ چیخ و پکار کرتی اس نے خود کو وحشیانہ ہاتھوں کی گرفت میں پایا۔۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭

ریحان کی گاڑی مین سڑک سے اتر کر اندر گلی میں داخل ہوئی۔ ابھی اس کا گھر ایک دو گلیوں کے فاصلے پر تھا۔ اس نے پہلی گلی میں داخل ہوتے ہی نُکڑ پر لوگوں کی بھیڑ دیکھی تو اسے کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔ گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر کے وہ نیچے اترا اور بھیڑ کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔ سڑک پر لوگوں کے بیچ گھرے اس وجود کو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر بیہوش پڑی آفرین کے ہاتھ اور پاؤں کھولے۔ اس کی نبض ٹٹول کر اس کے زندہ ہونے کا یقین کیا اور اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا۔ آفرین کا گھر دو گلی کے فاصلے پر تھا۔ سڑک پر اسے اس حالت میں دیکھنے والے اس کے کئی محلے دار اور جان پہچان کے لوگ بھی تھے۔ لوگوں کے بیچ اس کے بھاگ جانے کی جو چہ مگوئیاں ہونے لگیں تھیں وہ آفرین کو اس حالت میں یہاں پھینکے جانے کے بعد خود ہی ماند پڑ گئیں۔
گھر جاتے ہوئے راستے میں ہی ریحان نے اپنے فیملی ڈاکٹر کو فُون کر کے بُلا لیا۔
"دیکھنا مہرو باہر کون ہے۔" دروازے پر دستک کی آواز سن کر شمسہ بیگم نے کہا جو اس وقت باہر تخت پر بیٹھیں سبزی بنا رہی تھیں۔
مہرو اٹھ کر دروازہ کھولنے گئی اور کچھ لمحوں بعد ہی شمسہ بیگم نے اُسے پکارتے ہوئے سنا۔
"امی۔۔" وہ چلائی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر دروازے تک جاتیں ریحان، آفرین کو اٹھائے ہوئے اندر داخل ہوا۔
آفرین کا چہرہ دیکھتے ہی جیسے ان کے حواس معطل ہو گئے۔
"آفرین میری بچی۔" وہ تخت سے نیچے اتر آئیں اور ریحان نے آفرین کو اسی پر لٹا دیا۔"
"یہ۔۔ یہ۔۔ " وہ اس پر لپٹیں اسے پیار کرتے ہوئے ریحان سے کچھ پوچھنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن گویائی تھی کہ ساتھ نہ دے رہی تھی۔ مہرو بھی روتی ہوئی اس کے پیروں میں بیٹھی انہیں مسل کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"انکل جی ابھی دفتر سے گھر نہیں پہنچے؟" ریحان نے احمد صاحب کی بابت دریافت کیا تو مہرو نے جواب دیا۔
"نہیں ابھی ان کے آنے میں آدھا پونا گھنٹہ باقی ہے۔" اس نے ان کے معمول کے وقت سے اندازہ لگا کر بتایا تو ریحان نے سر ہلا دیا۔۔
"بیٹا اسے کیا ہوا ہے؟" شمسہ بیگم کو کسی پل چین نہیں آ رہا تھا۔
"کچھ نہیں آنٹی، بیہوش ہیں یہ۔ میں نے ڈاکٹر کو فون کر دیا ہے وہ بس آتے ہی ہوں گے۔" ریحان نے انہیں تسلی دی۔
"ریحان بھائی یہ آپ کو ملی کہاں سے؟" مہرو نے وہ سوال کیا جس کا جواب ریحان کم از کم ابھی نہیں دینا چاہتا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب سوچتا دروازے پر دستک ہوئی تو وہ "میں دیکھتا ہوں" کہہ کر دروازہ کھولنے چلا گیا۔
باہر آنے والی ریحان کی امی تھیں جو ڈاکٹر کی ان کے گھر آمد پر پریشان ہو گئیں کہ انہوں نے تو ڈاکٹر کو نہیں بلایا۔ پھر سامنے ہی ریحان کی گاڑی کھڑی دیکھ کر ڈاکٹر سمیت انہی کے گھر آ گئیں تھیں۔ اندر آ کر آفرین کی حالت دیکھ کے انہیں گہرا افسوس ہوا۔
"یہ کیا بیٹا۔۔" انہوں نے ریحان کے ساتھ کھڑے کھڑے سرگوشی میں پوچھا جب کہ ڈاکٹر صاحب ریحان کے کہنے پر آفرین کا معائنہ کر رہے تھے۔ ریحان نے ان کے پوچھنے پر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتی ہوئیں شمسہ بیگم کی طرف بڑھ گئیں۔
"آپ ان کو ہسپتال لے جائیں۔۔ کلوروفارم کافی مقدار میں سونگھا دیا گیا ہے جو ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید کچھ تفصیلی معائنے کی بھی ضرورت ہے جو یہاں ممکن نہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ آپ انہیں جلد از جلد کسی ہسپتال لے جائیں۔" ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد مژدہ سنایا۔
ریحان نے شکریہ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کو رخصت کیا۔
اب سارے اسی شش و پنج میں تھے کہ کیا کریں۔ احمد صاحب کی مرضی کے بغیر یہ قدم نہیں اٹھایا جا سکتا تھا اور وہ ابھی تک گھر نہیں پہنچے تھے۔
اس سے پہلے کہ کوئی فیصلہ لیا جاتا باہر دروازے کی گھنٹی بجی۔ اس بار آنے والے متوقع طور پر احمد صاحب ہی تھے۔
اندر داخل ہوتے ہی ان کی نظر سامنے تخت پر پڑے وجود پر پڑی تو ان کے قدم اپنی جگہ پر ساکت ہو گئے۔
انہوں نے خالی نظروں سے ریحان کی طرف دیکھا تو اس نے ہولے سے سر ہلا کے گویا آفرین کے ہونے کی تصدیق کی۔
"میری بچی۔۔" انہوں نے آگے بڑھ کر اُس کی پیشانی چُوم لی۔
"انکل! ڈاکٹر نے کہا ہے کہ انہیں فوراً ہسپتال لے کر جانا ہو گا۔" ریحان نے اشک بار ہوتے احمد صاحب کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
احمد صاحب نے گھبرا کر ریحان کی طرف اور پھر باقیوں کی طرف دیکھا اور ہاں میں گردن ہلا دی۔
اور پھر ریحان، احمد صاحب اور شمسہ بیگم کی سنگت میں آفرین کو لے کر ہسپتال روانہ ہوا۔

٭- - - ٭ - - - ٭

ہسپتال میں بروقت اور مناسب علاج کی دستیابی کے باعث آفرین احمد خطرے سے تو باہر آ گئی لیکن جو خبر ڈاکٹر نے اس کے گھر والوں کو سنائی تھی اس نے سب پر کیفیتِ مرگ طاری کر دیا۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے اور کیا کرے۔ لیڈی ڈاکٹر کمرے سے باہر جا چکی تھی۔ بیہوش پڑی آفرین کے علاوہ باقی تینوں نفوس پر بھی سکتہ طاری تھا۔۔ کاش کہ وہ بھی آفرین کی طرح ہوش و خرد سے بیگانے ہو سکتے لیکن ان کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کے ہوش و حواس قائم تھے اور انہیں اپنے ہوش و حواس سمیت اس حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
ریحان نے اس وقت دونوں میاں بیوی کو تنہا چھوڑ دینا مناسب سمجھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ وارڈ کے باہر دروازے پر اسے کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ گارڈ لوگوں کے ایک گروہ کو اندر آنے سے روک رہے تھے جبکہ دوسری طرف کچھ مرد اور خواتین اندر آنے کو بے تاب تھے۔ ریحان کے قدم اسی جانب اٹھ گئے لیکن اس سے پہلے کہ وہ ان تک پہنچ کر معاملے کی نوعیت معلوم کرتا، اس کی نظر ہاتھ میں مووی کیمرہ تھامے ایک آدمی پر پڑی اور اس کے قدم وہیں جم گئے۔۔
اسے یہ سمجھنے میں ایک پل سے بھی کم وقت لگا کہ احمد صاحب اور ان کی فیملی کے لیے ایک اور آزمائش تیار کھڑی ہے۔۔۔

٭- - - ٭ - - - ٭